DO I LOVE INTERNET???

فوزیہ بھٹی
جس زمانے میں ہم جی رہے ہیں اسے اکیسویں صدی کہا جاتا ہے ماڈرن ایج ۔بہت سی ایجادات بہت سی ٹیکنالوجی بے تحاشہ آلات اور بے جا آسائشات۔اتنے کہ میرے جیسے عام انسان کے لئے ان کے نا یاد رکھنا خاصہ مشکل اور کسی حد تک تکلیف دہ عمل بھی ہے۔آج کا کالم لکھنا شاید میری مجبوری ہے۔جب ہم ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیںجہاں ہر طرف انارکی پھیلی ہوئی ہے بے چینی کا دور دورہ ہے تو کیوں نہ دو گھڑی رک کر یہ سوچیں کہ ہماری سمت اصل میں ہے کیا۔یہ جن حالات سے ہم آج کل گزر رہے ہیں ان سے نمٹنا ہے یا آنکھیں بند کر کے اس انٹرنیٹ کی تخیلاتی دنیا کا حصہ بنے رہنا ہے۔

internet
Internet

خدارا یہ نہ سمجھئے گا کہ مجھے انٹرنیٹ سے کوئی عداوت ہے۔بلکہ میںاس کی ممنون اور مشکور ہوں کسی حد تک۔بلاشبہ ےہ غضب کی ایجاد ہے۔بلکہ بہترین۔
انسان کا ایک بہت بڑا المیہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ سہولت اور ضرورت میں بعض اوقات بلکہ بیشتر فرق کرنا بھول جاتا ہے۔کبھی جان بوجھ کر کبھی انجانے میں۔یہیں سارا خسارہ اور سارا فائدہ شروع ہوتا ہے اور ان کے انجام سے بے خبرہم اندھا دھندہر نئی چیز کی پیروی کرنے میں جت جاتے ہیں۔یہ انسانی فطرت ہے کہ اسے تجسس محسوس ہوتا ہے۔ہر نئی آنے والی چیز میں اسے کشش محسوس ہوتی ہے۔بہت سے ذی شعور اس اہمیت کو جانتے بھی ہیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔اور بے شمار لوگ دور سے بھڑکتی آگ کو سونا کی چمک سمجھ کر اس کی جانب لپکتے ہیں۔انٹرنیٹ نے جہاں بہت سی اچھی باتوں کا سہرا اپنے سر لیا ہے۔وہیں یہ آگ کی طرح رشتوں کو جھلسانے کا باعث بھی بنا ہے۔لوگ ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔وقت کی کمی پہلے بھی تھی۔اب دھیان کی کمی بھی ہو گئی ہے۔رشتے صرف بتانے لائق رہ گئے ہیں نبھانے لائق نہیں رہے جنریشن گیپ پہلے بھی تھا ۔اب اس کی جگہ ہیومن گیپ نے لے لی ہے۔اس تخیلاتی دنیا نے انسان کو عجیب مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان کہیں کھو رہے ہیں لوگ۔آپ نہیں جانتے کے آپ کہاں جا رہے ہیں۔بس بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔گھر ٹوٹ رہے ہیں۔رشتوں میں نا انصافیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔بہن بھایﺅں کے پاس وقت نہیں ایک دوسرے کے لئے۔بیٹے کے پاس ماں باپ کے لیئے۔شوہر کے پاس بیوی کے لئے۔اور ماں کے پاس بچوں کے لئے۔
انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا رجحان اور ہم سب کا اس میں غرق ہو جانا لمحہءفکریہ ہے۔اس کا صیح اسعتمال ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا سکتا ہے۔اور غلط استعمال جہاں لے جا رہا ہے بخوبی نظر آرہا ہے۔یہ ساری ایجادات ہمارے لئے بنی ہیں نہ کہ ہم ان کے لئے۔اور ہمیں ان کو استعمال کرنا ہے۔نہ کہ ان کو ہمیں اپنے استعمال میں لانا ہے۔خدارا دھوکوں سے بچیئے۔جو زندگی آس پاس ہے اس کی قدر جانئے۔اگر آپ درست سمت میں ہیں تو کیا کہنا ۔اور اگر نہیں تو اپنی سمت درست کر لیجیئے۔وقت ابھی ہاتھ میں ہے۔
جب ہم اسلامی نقطہءنظر سے دیکھتے ہیںجو میانہ روی کا جوپیمانہ ہمارے لئے تجویز کیا گیا ہے تو وہ بہت ہی بہترین ہے۔ہر وہ بات جو آقائے دو جہاںﷺ نے ارشاد فرمائی وہ حکمت سے خالی نہیں۔ہر ایک چیز کے اوقات مقرر اسی لیئے کئے گئے ہیں۔کے حد باندھی جائے ۔جو چیز بھی حد سے بڑھے گی نقصان دے گی۔ تو اگلی بار جب آپ اپنے آپ سے پوچھیںکہ do i love internet??? well think twice اللہ سبحان وتعالی پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button