میرے خوابوں کے شہر “واں رادھا رام ” کو کس کی نظر کھاگئی

(اب میں شاید دوبارہ اسے دیکھنے نہ جاسکوں)
تحریر : محمد اسلم لودھی
واں رادھا رام ( حبیب آباد) کا قصباتی شہر اس لیے مجھے زندگی بھر نہیں بھولتا کہ زندگی کے ابتدائی چھ سال مجھے وہاں گزارنے کا موقع ملا بلکہ زمین پر پاﺅں رکھ کر ہاتھ میں الف ب کا قاعدہ لے کر پڑھنے کا آغاز یہیں سے ہوا ۔جبکہ میرے دو چھوٹے بھائی اشرف لودھی اور ارشد لودھی بالترتیب 1962 اور 1964 میں واں رادھا رام کے ریلوے کوارٹروں میں پیدا ہوئے ۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ 25 دسمبر 1954 کو میری پیدائش قصور شہر کوٹ مراد خاں میں ہوئی تھی بعد ازاں ریلوے ملازمت کے سلسلے میں والد گرامی ( محمد دلشاد خان لودھی ) قلعہ ستار شاہ   پریم نگر پھر 1958 میں واں رادھا رام بطور کانٹے والا تعینات ہوئے ۔اس وقت میری عمر بمشکل چار سال ہوگی لیکن شعور کی آنکھ واں رادھا رام میں اس وقت کھلی جب مجھے گورنمنٹ پرائمری سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔ یہ سکول واں رادھا رام ریلوے اسٹیشن کے بالکل پیچھے موجود تھا ۔ دو کمرے پختہ تھے ایک میں ہیڈماسٹر ابراہیم صاحب بیٹھتے تھے جبکہ دوسرا کمرہ پانچویں جماعت کے لیے مخصوص تھا میں چونکہ ابھی کچی جماعت میں تھا اس لیے میں نے گرمیوں میں سکول کے احاطے میں درخت کے نیچے اور سردیوں میں دھوپ میں بیٹھ کر پڑھنے کا آغاز کیا ۔سکول کے شمال میں سرسبزو شاداب کھیت   مغرب میں سنگتروں اور مالٹوں کا باغ موجود تھا۔ سکول سے ملحقہ مسجد میں کنواں بھی موجود تھا نماز کے وقت پانی نکال کر جہاں سے نمازی وضو کیا کرتے تھے ۔ مسجد میں نمازیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی گرمیوں کے موسم میں ہم اس مسجد کا رخ اس وقت کرتے جب باغ سے مالٹے اور شہتوت توڑ کر کھانے کو دل کرتا یا سکول میں دوڑ بھاگ سے پیاس کی شدت پریشان کرنے لگتی تو چمڑے کے بوکے سے کنویں سے پانی نکال کر پی لیتے۔ میں ابھی چھوٹا تھا اس لیے بڑا بھائی اکرم ہی پانی نکالنے کا فریضہ انجام دیاکرتا تھا ۔سکول سے کچھ ہی فاصلے پر وہ ریلوے کوارٹر تھے جہاں میرے والدین رہائش پذیر تھے ان کوارٹروں میں صرف ریلوے ملازمین ہی رہائش پذیر تھے کوئی اور رہائشی بستی دو ر دور تک موجودنہیں تھی بلکہ شہر کا مرکزی حصہ اسٹیشن کے بالمقابل مشرق کی سمت واقعہ تھا جہاں اس وقت بہت بڑے زمیندار ملک عاشق کی حکمرانی تھی اس کی مستقل رہائش گاہ تو لاہو ر   ساندہ کلا ں میں تھی لیکن واں رادھا رام میں وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی اس کی جاگیر اس کو دوسروں سے ممتاز کررہی تھی۔ بڑے زمیندار ہونے کی وجہ سے پورا شہر ملک عاشق کی عزت کرتا تھا بلکہ پولیس بھی اس شہر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوتی تھی ۔urdusky-writer
ایوب خان کے زمانے میں یہ قصباتی شہر   ضلع لاہور کی تحصیل چونیاں کا حصہ ہوا کرتا تھا اس کے باوجود کہ قصور اور پتوکی آبادی کے اعتبار سے چونیاں سے بڑے تھے لیکن زمانہ قدیم میں بطور خاص تحصیل کی حیثیت سے چونیاں کو بہت اہم مقام حاصل تھا۔پاکستان بننے سے پہلے واں رادھا رام ہندو دیوتا رام اور رادھا کے مسکن کے طور پر مشہورتھا جو کچھ عرصہ یہاں قیام پذیر رہے تھے انہی کی مناسبت سے اس قصبے کا نام واں رادھا رام مشہور ہوگیا ۔ انگریزوں نے اسی نام سے یہاں ریلوے اسٹیشن بھی قائم کیا جو گرد و نواح کے دیہاتوں کو سفری سہولتوں کی فراہمی کا باعث تھا ۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ واں رادھا رام لاہور سے 90 کلومیٹر اور پتوکی سے جنوب کی طرف 10 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔گندم اور مرچوں کی پیداوار کے حوالے سے یہ قصباتی شہر پنجاب میں بہت معروف تھا ۔سردار عارف نکئی کے وزارت اعلی کے دور میں واں رادھا رام کا نام تبدیل کرکے حبیب آباد رکھ دیا گیا لیکن جی ٹی روڈ پر واقع یہ شہر اب بھی اپنے پرانے نام ” واں رادھا رام “کے نام سے ہی مشہور ہے ۔
1964 میں میرے والد کا تبادلہ کیبن مین کی حیثیت سے لاہور کینٹ ہوگیا تھا اس لیے ہم بھی والد کے ساتھ لاہور میں کچھ اس طرح شفٹ ہوگئے کہ دوبارہ واں رادھا رام جانے کا اتفاق نہ ہوا ۔ ساہی وال یا ملتان جاتے ہوئے ٹرین یا بس کے ذریعے جب وہاں سے گزر ہوتا تو نہایت تجسس اور حسرت کے ساتھ ہم ریلوے اسٹیشن اوران کوارٹروں کو دیکھا کرتے جیسے وہ کوارٹر نہیں کوئی مقدس مقام ہو ۔یہ درست ہے کہ ہمارے لیے ریلوے اسٹیشن   کوارٹروں اور واں رادھا رام شہر کی حیثیت کسی مقدس مقام سے کم نہیں تھی ۔بطور خاص جب بھی میں آنکھیں بند کرکے واں رادھا رام کا تصور کرتا تو مجھے اصلی حالت میں قطار در قطار بنے ہوئے کوارٹرز   ان کے سامنے پیپل کا بہت بڑا درخت نظر آنے لگتا پھر جب تصور ہی تصور میں میری نگاہ کوارٹروں کے پیچھے جاتی تو کوارٹروں کے عین پیچھے ٹانگوں کا ایک اڈہ اس کے ساتھ چارہ کانٹے والا ایک ٹوکہ نظر آتا ۔ ٹانگوں کے اس اڈے کے ساتھ ہی وہ پرائمری سکول دکھائی دیتا جہاں چوتھی جماعت تک میں نے ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی تھی ۔کبھی ریلوے اسٹیشن کے بالمقابل تنگ سی گلی (جسے ریل بازار کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے)   اشیائے خورد و نوش  کپڑے اور جنر ل سٹور کی دکانیں سجی نظر آتیں ۔جی ٹی روڈ کے اردو گرد مکان اور دکانوں کی پیشانیاں بھی ذہن میں ابھی تک محفوظ تھیں۔ پیلی سی حویلی جس میں یونین کونسل کا دفتر ہوا کرتا تھا شہر کی سب سے نمایاں عمارت تھی پھر آٹا پیسنے والی چکی کا منظر جب بھی مجھے یاد آتا تو بیری کے درخت پر لگے ہوئے بیر توڑکر کھانے کو دل للچاتا۔ریلوے لائن کے بالکل قریب دو بڑے بڑے تالاب یاد تو مجھے تھے لیکن ان کی گہرائی ہمیشہ مجھے خوفزدہ رکھتی۔پھر ریلوے کے شمالی پھاٹک کی جانب راستے میں پڑنے
والا بوہڑ کا درخت ہمیشہ خوف کی علامت بن کر میرے قلب و ذہن میں ابھرتا ۔یہ تمام جگہیں اور مقامات 46سال بعد بھی آ ج تک اپنی حقیقی شکل میں میری آنکھوں میں محفوظ تھے ۔میں اپنے کئی دوستوں کو کہتا کہ میرے خوابوں کے شہر” واں رادھا رام “کو ایک پینٹنگ کے شکل میں بنا دو تاکہ میں زندگی کی آخری سانس تک اسے دیکھ کر اپنے قلب و ذہن کو تسکین دیتا رہوں ۔اگر میں مصورہوتا تو یقینا یہ فریضہ خود انجام دیتا لیکن قدرت نے مجھے لکھنے کی صلاحیت تو دی ہے لیکن اپنے تصورات کو تصویر کی شکل دینے کی اہلیت عطا نہیں کی۔
بہرکیف جب بھی دل “واں رادھا رام” دیکھنے کو کرتا تو یہ کہہ کر خاموش ہوجاتا کہ وہاں اب مجھے جاننے والا کون ہوگا میں کس کے پاس جاکر اسے بتاﺅں گا کہ میں وہی بچہ ہوں جو 46 سال پہلے پرائمری سکول کے ٹاﺅٹوں پر بیٹھ کر پڑھاکرتا تھا میں وہی ہوں جو کھلونوں سے کھیلنے کی بجائے ریلوے لائن کے درمیان میں دور تک بچھے ہوئے پتھروں اور کیبن میں لوہے کے لیوروں سے کھیلا کرتا تھا ۔جس والہانہ محبت کا اظہار میں واں رادھا رام کے حوالے سے اپنے دل میں کرتا تھا۔ آج کی مصروف دنیا میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ماضی کی یادوں کو تازہ کر نے کے لیے 90 کلومیٹر کا سفر کرے ۔یہی سوچ کر میں بھی خاموش ہوجاتا ۔
جب میرا ایک بہت ہی اچھا دوست سید ندیم احمد کوئٹہ سے ٹرانسفر ہوکر چھ ماہ پہلے بطور پوسٹ ماسٹر پتوکی تعینات ہوا تو اس نے مجھے یہ کہتے ہوئے پتوکی آنے کی دعوت دی کہ کوئٹہ کی نسبت پتوکی لاہور سے زیادہ دور نہیں ہے اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا آپ کو پتوکی میں میرے پاس آنا ہی پڑے گا ۔دراصل ندیم میرا ایسا دوست ہے جس کی وجہ سے دوستی کا بھرم ہمیشہ قائم رہتا ہے وہ باکردار   پاکیزہ سوچوں کا حامل شخص ہے اس سے دوستی کا آغاز 25 سال پہلے ہوا تھا اب وہ بھی ماشا اللہ تین پیار ی پیاری بچیوں کا باپ اور ایک خاندان کا سربراہ بن چکا ہے ۔چنانچہ پتوکی میں اس کے قیام نے واں رادھا رام دیکھنے کی آرزو میں مزید شدت پیدا کردی ۔ کبھی موسم کی شدت تو کبھی ناسازی طبع آڑے آتی رہی لیکن چند ماہ پہلے جب وہ لاہور آیا تو اس نے ایک بار پھر اپنے اصرار کو دوہرایا میں نے اس کا دل رکھنے کے لیے وعدہ کرلیا کہ اللہ نے اگر چاہا تو مارچ کے تیسرے ہفتے میں ہم دونوں میاں بیوی پتوکی آئیں گے اور وہاں سے واں رادھا رام بھی دیکھنے جائیں گے ۔ندیم میری یہ بات سن کر مسکرایا لیکن کوئی ردعمل دیئے بغیر خاموش ہوگیا ۔شاید اس نے دل میں نہایت آہستگی سے کہا ہو کہ وعدہ تو آپ کوئٹہ بھی آنے کا کرتے رہے ہیں لیکن وہاں آنے کی نوبت نہیں آئی دیکھتے ہیں ۔پتوکی آپ کی تشریف آوری ہوتی بھی ہے یا یہ بھی طفل تسلیاں ہی ہیں۔ اس مرتبہ میں پہلے کی نسبت زیادہ سنجیدہ تھا کہ پتوکی جاکر اپنے خوابوں کے شہر ” واں رادھا رام ” کودیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔
بہرکیف درمیان میں کچھ رکاوٹیں بھی آئیں   طبیعت کی خرابی نے بھی قدم روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن 19 مارچ 2011کی صبح دس بجے ہم لاہور سے پتوکی پہنچ گئے ۔
دوپہر کا پر تکلف کھانا کھانے کے بعد میں اور ندیم بھائی بذریعہ کار پتوکی سے واں رادھا رام کے لیے روانہ ہوگئے ۔جوں جوں گاڑی واں رادھا رام کی طرف بڑھ رہی تھی دل کی کیفیات اور احساسات میں مدو جزر کا طوفان اٹھ رہا تھا میں اپنی آنکھوں میں موجود ان تصورات کو حقیقت کے روپ میں دیکھنے کے لیے بے تاب تھا ۔سہجووال کے قریب جس ریلوے پھاٹک پرمیں اوائل عمر ی میں مالٹے اور سگریٹ بیچا کرتا تھا وہاں پھاٹک کی بجائے ایک پل تعمیر ہو چکا تھا جس کے نیچے پٹرول کے بڑے بڑے ٹینکروں کا سلسلہ دور تک دراز ہوتا ہوا دکھائی دے رہاتھا۔ ریلوے لائن عبور کرتے ہی میری نگاہ بوہڑ کے اس درخت کو تلاش کررہی تھی جس کے بارے میں مشہور تھاکہ اس پر جنات قابض ہیں جو شخص بھی اس کے قریب جاتا وہ خوف کے مارے بے ہوش ہوجاتا تھا ایک سخت دل انسان نے کہلواڑے سے اس درخت کو کاٹنے کی جستجو کی لیکن جونہی کہلواڑہ درخت پر لگا تو چیخ کے ساتھ خون کی ایک دھار نمودار ہوئی جسے دیکھ کر وہ شخص گر کر مر گیا ۔مشہور یہی ہوا کہ جنات نے اس شخص کو مار دیا ہے ۔ ہم کوارٹروں سے ریلوے لائنوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جب پھاٹک کی طرح پھل بیچنے کے لیے جایا کرتے تو ہمیں اس درخت کی طرف دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی تھی چونکہ ریلوے کیبن کا فاصلے اس درخت سے زیادہ نہیں تھا اس لیے والد گرامی بتایا کرتے تھے کہ رات کے وقت درخت سے رنگ برنگی روشنیاں جلتی بچھتی دکھائی دیتی ہیں ۔اس درخت کے کچھ ہی فاصلے کھلا میدان تھا جو اکثر کرکٹ میچوں کے لیے استعمال ہواکرتا تھا اس میدان میں اباجی کی شاندار اور جارحانہ بیٹنگ کے بہت چرچے تھے لیکن میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اب نہ وہاں کوئی میدان ہے اور نہ ہی بوہڑکا درخت ۔ انسانی آبادی کا پھیلتا ہوا سمندر یہ سب کچھ ہڑپ کرچکا تھا ۔ شہر کے آغاز میں ہی ایک چکی تھی جہاں ہم آٹا پیسانے جاتے اسی بہانے وہاں موجود بیری کے درختوں سے بیر توڑنے کا شوق بھی پورا کرلیتے۔ اب وہاں نہ چکی تھی نہ ہی بیریاں دکھائی دیں بلکہ اس جگہ پر گندے پانی کا بہت بڑا جوہڑنظر آیا یہ جوہڑ کیسے بنا اور کس نے بنایا یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے لیکن گندے پانی کا یہ جوہڑ میں مکھیوں اور مچھروں کی افزائش کا مرکز بن کر پورے شہر اور اس میں رہنے والوں کو اپنی اہمیت کا احساس ضرور کروا رہا ہوگا ۔
بائی پاس روڈ سے ہٹ کر ہماری گاڑی مین بازار” واں رادھا رام” کی طرف رواں دواں تھی۔ یونین کونسل کی پیلی حویلی کا کچھ حصہ تو نظر آیا لیکن اس پر پولیس والوں کا قبضہ تھا اس کے ساتھ ہی شہر کی جامع مسجد پوری آب و تاب سے نظر آئی۔ اس مسجد میں لاہور آنے سے والے عید کی ایک نماز (1964)پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔
مسجد کو دیکھ کی طبیعت خوش ہوئی لیکن مین بازار میں جگہ جگہ گندگی   پھیلا ہوا کوڑا کرکٹ  مکھیوں اور مچھروں کی یلغار نے واں رادھا رام کے حوالے سے میرے خوابوں کو چکنا چور کردیا تھا۔ اس گندے ماحول کو دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا کہ شاید اس شہر میں صفائی کرنے کا رواج نہیں ہے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ہر مقامی شخص جابجا پھیلی ہوئی گندگی میں اضافہ کرنے کے لیے اپنا اپنا حصہ مزید ڈال رہا تھا ۔
میں اس جستجو میں تھا کوئی ایسی جگہ نظر آئے جو اپنی اصلی حالت میں ہو لیکن میری یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی بلکہ مین بازار سے گزرنے والی وہ سڑک جسے پہلے جی ٹی روڈ کا درجہ حاصل تھا دونوں اطراف سے مٹی کی ناہموار تہوں کے نیچے دفن ہوچکی تھی سڑک کا جو معمولی حصہ درمیان میں دکھائی دے رہا تھا وہ موسم برسات میں یقینا نالے کی صورت دھار لیتا ہوگا چند ایک کے علاوہ ہر دکان آلودہ دیہاتی ماحول کی نمائندگی کررہی تھی ۔ پوسٹ آفس کی تلاش میں ہم ایک ایسی مارکیٹ میں داخل ہوگئے جہاں موبائل   سی ڈی اور کمپیوٹر کی خوبصورت دکانیں سجی ہوئی نظر آئیں اسی مارکیٹ کے آخری حصے میںایک دکان کے اندر ڈاکخانہ مل گیا جہاں کے پوسٹ ماسٹر محمد سردار پہلے سے ہمارے منتظر تھے۔ گرمجوشی سے استقبال کرنے کے بعد انہوں نے کینو اور گاجر کے جوس سے ہماری ضیافت کی ۔ اسی اثنا میں ایک اور شخص محمد اکرم خان سائیکل سے اترتا ہوا دکھائی دیا۔ قریب آکر اس نے ہم دونوں سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا ۔ ندیم بھائی نے بتایا کہ یہ واں رادھا رام کا سب سے پرانا ڈاکیا ہے جو 30 سال سے واں رادھا رام اور گردو نواح کے دیہاتوں میں ڈاک کی تقسیم کا کام کررہا ہے ۔ اسے مل کر مجھے اس لیے بھی خوشی ہوئی کہ یہی وہ شخص ہوسکتا ہے جو ہمیں مطلوبہ جگہیں دکھا سکتا ہے ۔
چنانچہ ندیم بھائی   پوسٹ ماسٹر واں رادھا رام محمد سردار اور پوسٹ مین محمداکرم خان   ڈاکخانے سے نکل کر واں رادھا رام بازار کی اس تنگ گلی میں داخل ہوگئے جس کو ریل بازار بھی کہا جاتا ہے ۔ اس بازار کا عکس آج بھی میری آنکھوں میں محفوظ تھا ۔اس بازار میں چاچا موج دین کپڑے والے کی دکان بھی ہوا کرتی تھی جہاںسے ہم سال میں ایک دو مرتبہ کپڑا ادھار لے لیتے تھے پھرسارا سال تھوڑے تھوڑے پیسے دے کر ادھار اتار دیتے ۔یوں محسوس ہورہا تھا کہ چاچا موج دین کی دکان کی جگہ کسی نے جنرل سٹور کی دکان کھول لی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگاکہ صرف یہ ریل بازار پرانے وقتوں سے بھی زیادہ رونق افروز اور کاروباری اعتبار سے منفرد دکھائی دے رہا تھا وگر نہ واں رادھا رام شہر کی حالت اس قدر نہ گفتہ بہ دکھائی دی جسے دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا ۔
ریل بازار سے جب ہم نکلے تو میری آنکھوںکے سامنے ” حبیب آباد” کا تاریخی ریلوے اسٹیشن تھا ۔ اسٹیشن کی عمارت کا کچھ حصہ تو موجود تھا لیکن پلیٹ فارم سمیت مسافر خانہ صفحہ ہستی سے مٹا دیاگیا تھا یہ منظر یقینا میرے لیے تشویش ناک تھا میں نے دور کھڑے ٹکٹ کلکٹر ماموں خورشید شاہ کا کوارٹر اور اس سے ملحقہ کنواں تلاش کیا لیکن وہاں بھی مجھے ملبے کا ڈھیر ہی دکھائی دیا ۔ سب پلیٹئر کی بہت بڑی کوٹھی جو ہمیشہ ہم جیسے ناسمجھ بچوں کے لیے خوف کی علامت بنی رہتی تھی   موجود تو آج بھی تھی لیکن شاید ہی اس کا کوئی گوشہ ایسا ہو جس پر ویرانی نہ چھائی ہو وہ حقیقت میں ایک بھوت بنگلے کی صورت اختیار کرچکی تھی چند ایک بچے اس وسیع و عریض حویلی میں دور کھیلتے دکھائی دیئے جو غالبا گینگ مینوں کے ہی ہوں گے۔ جن کی رہائش اس حویلی کے کسی خستہ حال کوارٹر میں ہوگی ۔ ایک حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ جس سکول میں چوتھی جماعت تک میںزیر تعلیم رہا تھا وہ سکول ایک خوبصورت عمارت کی شکل میں دکھائی دیا پہلے کی نسبت اس کا رخ یکسر تبدیل ہوچکا تھا اس کے مین دروازے پر گورنمنٹ انگلش میڈیم سنٹر پرائمری سکول واں رادھا رام لکھا ہوا تھا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ 46 سال بعد بھی سکول پرائمری سطح تک ہی محدود ہے لیکن اردو کی بجائے انگلش میڈیم بن چکا ہے ۔پروگرام یہی تھا کہ سکول ہیڈ ماسٹر اور دیگر اساتذہ کرام کے ہمراہ ایک یاد گار تصویر بنائی جاتی لیکن تاخیر سے پہنچنے کی بنا پر سکول میں نہ صرف چھٹی ہوچکی تھی بلکہ چوکیدار بھی تالہ لگا کر کہیں جاچکا تھا ۔ میری خواہش تھی کہ داخل ہوکر سکول کے اس احاطے کو ایک بار پھر اپنی آنکھوں سے دیکھوں جہاں 46 سال پہلے ایک بچے کے روپ میں کچی  پکی   پہلی   دوسری   تیسری اور چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا ۔ سکول کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے میں وہ جگہ نہ دیکھ سکا لیکن میرے سامنے سکول سے ملحق وہ مسجد بالکل صحیح حالت میں تھی اس کے کنویں میں بھائی اکرم کا کتا غلطی سے گر گیا تھا لوگوں نے کتے کو تو کنویں سے نکال لیا لیکن کنویں کے پانی کو پاک کرنے کے لیے ڈیڑھ سو بوکے پانی نکالنے کا ٹارگٹ ہمیں پورا کرنا پڑا۔ بھائی اکرم تو لوگوں سے آنکھ بچا اور سردی کا بہانہ بنا کر وہاں سے رفو چکر ہوگیا کوشش کے باوجود میں وہاں سے فرار نہ ہوسکا اور پانی کے کچھ بوکے مجھے بھی نکالنے پڑے ۔اس وقت میری عمر بمشکل نو   دس سال ہوگی اتنی چھوٹی عمر کا بچہ ڈیڑھ سو پانی کے بوکے کیسے نکال سکتا تھا ۔ بہرکیف اس مسجد کو دیکھ کر وہ سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگا اور میں ماضی کی یادوں میں کھو گیا کہ اسی اثنا میں ندیم بھائی نے مخاطب ہوکر مجھے ماضی کے دریچوں سے باہر نکالا۔پہلے مسجد سے مغرب کی جانب کچی مٹی کی چھوٹی سی دیوار کے اندر وسیع رقبے پر پھیلا ہوا باغ ہوا کرتا تھا جس میں ریڈبلڈ مالٹے  شہتوت   جامن اور آم کے درخت بہت بڑی تعداد میں موجود تھے چونکہ یہ باغ ہمارے گھر سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا اس لیے سکول سے چھٹی کے بعد دیگر بچوں سمیت میں بھی دیوار پھاند کر باغ میں چلا جاتا اور موقع پر جو پھل بھی میسر ہوتا وہ توڑ کرکھانے لگتا ۔باغ کی رکھوالی کے لیے ایک مالی وہاں ہر وقت موجود ہوتا لیکن ہماری خوش قسمتی یہ تھی کہ مالی
بڑھاپے اور گھٹنوں میں درد کی وجہ سے تیز نہیں بھاگ سکتا تھا اس کے برعکس تیز بھاگنے میں اللہ تعالی نے ہمیں ملکہ دے رکھا تھا ۔لیکن اب نہ وہ باغ نظر آیا نہ پیچھے بھاگتا ہوا مالی ۔ باغ کی جگہ پر کچے پکے دیہاتی طرز کے مکانات بنے ہوئے تھے جن کے درمیان میں ایک کچا ناہموار مگر کشادہ راستہ موجود تھا یہاں ہمیں ایک نیم حکیم کی دکان بھی نظر آئی جس پرلکھا تھا یہاں موت کے علاوہ ہر مرض کا شافی اور یقینی علاج کیا جاتا ہے ۔کان میں سماعت کی کمی اور گھٹنوں کے درد نے مجھے بہت سالوں سے پریشان کررکھا ہے جب لاہور جیسے شہر کے ماہر ڈاکٹروں   مستند حکیموں اور ہیومیوپتھک ڈاکٹروں سے یہ بیماریاں ٹھیک نہیں ہوسکےںتو ایک دور دراز قصباتی شہر میں بیٹھاہوا یہ نیم حکیم خطرے جان کیسے ان امراض کا شافی علاج کرسکتا ہے ۔
بہرکیف مقامی لوگ ہمارے ساتھ پرانا پوسٹ مین محمد اکرم خان دیکھ حیران اور تجسس کا شکار ہورہے تھے شاید وہ مجھے محکمہ ڈاک کا کوئی افسر سمجھ رہے ہوں لیکن نہ ہم سے کسی نے پوچھا اورنہ ہی ہم نے کسی کو اپنا تعارف کروایا چلتے چلتے ہم دانے بھوننے والی ایک ایسی بھٹی پر آ رکے ۔ جہا ں ایک ادھیڑ عمر عورت سر اور چہرے کو ڈھانپے دھواں دار ماحول میں دانے بھون رہی تھی ۔پوسٹ مین محمداکرم نے اس مائی سے بھونے ہوئے کچھ دانے خریدے اورہم سب کو کھانے کے لیے دیئے ۔میں بھی اپنے آبائی شہر کی سوغات تصورکرکے انہیں کھانے لگا لیکن پانی کے بغیر وہ چنے گلے میں کچھ اس طرح پھنس گئے کہ بولنا بھی محال ہوگیا اندر کا سانس اندر اور باہر کا باہر رک گیا آنکھیں باہر نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگیں اتنی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی کہ میں اپنے ساتھ چلنے والوں میں سے کسی سے پانی ہی مانگ لوں ۔بہرکیف عافیت اسی میںجانی کہ گلے میں پھنسے ہوئے چنوں کو نگلنے کی بجائے باہر پھینک دوں۔ اس چھوٹی سی آبادی کے ساتھ ہی ہمیں گندم کے لہلہاتے ہوئے کھیت دور تک سبز قالین کی طرح بچھے ہوئے دکھائی دیئے ۔ جو ہلکی ہلکی ہوا سے مستی کے عالم میں جھوم رہے تھے گندم کے ان ننھے منے پودوں کو دیکھ کر یاد آیا کہ بچپن میں   میں بھی انہیں کھیتوں میں اگی ہوئی برسین کے پٹھے درانتی سے کاٹا کرتاتھا لیکن اب نہ ہمت رہی اور نہ ہی عمر کے اس حصے میں برسین کے پٹھے کاٹے جاسکتے تھے ۔سکول کے ساتھ ہی ٹانگوں کا جو پرانا اڈا تھا وہ یکسر ناپید ہوچکا تھا یعنی وہ جگہ ریلوے کوارٹروں کی طرح ویرانے میں تبدیل ہوچکی تھی ۔میں نظر دوڑا کر ریت کے ان ٹیلوں کو دیکھ رہا تھا جہاں تھپ تھاپ کر میں ریت کے گھروندے بنایا کرتا تھا اور شرارتی لڑکے میرے ان گھروندوں کو پاﺅں کی ٹھوکر سے توڑ دیا کرتے تھے ردعمل کے طور پر میں بھی ایسا ہی کرتا ۔ ریت کے ان ٹیلوں کے کچھ فاصلے پر اور سرسبزو شاداب کھیتوں سے کچھ پہلے ایک قطعہ زمین پر گھاس موجود ہوا کرتی تھی اس زمانے میں جب ہم دو دو پاجامے اور تین تین قمیض پہن کر ماں کی نظر سے بچ کر گھر سے باہر نکلتے تو گھاس پر جمی ہوئی برف کی تہہ ہمیں اپنی کشش کا احساس کرواتی اور ہم چھوٹے چھوٹے بچے وہاں پہنچ کر برف کی تہہ کو توڑ کر ایک دوسرے کو مارتے اس دھینگا مستی میں کپڑے بھی خراب ہوجاتے اور کبھی کبھی گرنے سے چوٹ بھی لگ جاتی تھی ۔ہماری اس حرکت پر ماں ڈانٹتی اور پیار بھی کرتی تھی ۔ آج مجھے نہ وہ گھاس کا قطعہ اراضی نظر آیا اور نہ ہی ریت کے ٹیلے ۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ نصف صدی کا یہ سفر اپنے ساتھ بہت کچھ بہاکر لے گیا ہے ۔مجھے گینگ مینوں کے وہ کوارٹر بھی دکھائی نہیں دیئے جہاں سب عورتیں اکٹھے ہوکر تندور جلایا کرتی تھیں پھر اس پر بار ی باری روٹیاں پکاکر اپنے اپنے گھروں کو لے جاتیں ۔ ذائقے کے اعتبار سے یہ روٹیاں اس قدر مزے دار ہوتیں کہ پسی ہوئی مرچوں یا مرچوں میں پسے ہوئے پیاز سے بھی کھانے کا اتنا مزہ آتا جتنا آج چکن روسٹ میں بھی نہیں آتا ۔بے رحم ریلوے حکام کی لاپرواہی سے میرے بچپن کی وہ تمام یادیں ماضی کے دریچوں میں دفن ہوکر قصہ پارینہ بن چکی تھیں ۔ گہرے اور خوفناک تالابوں کے کنارے دو ریلوے کوارٹر بھی موجود نہیں تھے جہاں والد گرامی کی لاہور ٹرانسفر کے بعد ہم نے ایک دو مہینے انتہائی خوف کے عالم میں گزارے تھے ۔ان کوارٹروں کے دروازوں اور کھڑکیوں میں اتنے سوراخ تھے کہ باہر سے کوارٹر کے اندر باآسانی دیکھا جاسکتا تھا چونکہ اس دور میں شام ہوتے ہی چور  چوری کے لیے اور اچکے راہ گیروں کو لوٹنے کے لیے سرگرم ہوجاتے ۔ ہمارے کوارٹر کے پیچھے سے ایک کچا راستہ گاﺅں کو جاتا تھا دوسرے لفظوں میں رات بھر چوروں اور اچکوں کی دوڑ بھاگ واضح سنائی دیتی تھی گھر میں ماں کے علاوہ مجھ سے چند سال بڑے دو بھائی موجود تھے جن کی عمریں بالترتیب گیارہ اور پندرہ سال ہوںگی ۔ چونکہ پورا شہر کرکٹ کے حوالے سے میرے والد کی اس حد تک عزت کرتا تھا کہ انہیں استاد جی کے لقب سے پورا کیا جاتا تھا گویا وہ پورے شہر کے استاد تھے ۔ عزت کرنے والوں میں شہر کے تمام لوگ شامل تھے جو شام کو چوری اور لوٹنے کا کام بڑے اہتمام سے کرتے تھے اسی وجہ سے سارے شہر کے لوگ والد گرامی کو استاد جی کے لقب سے پکارتے تھے ۔پورے شہر کو اس بات کا علم تھاکہ دلشاد خان لودھی کے بیوی بچے اجاڑ بیابان میں موجودکوارٹر میں اکیلے ہیں دور دور تک کوئی آبادی نہیں اس کے باوجود کسی نے بھی ہمارے ویران کوارٹر کی طرف بری نظر سے جھانک کر نہیں دیکھا ۔اسی لیے کہاجاتا ہے کہ پرانے زمانے کے چور اور اچکوں کے بھی کچھ اصول ہوا کرتے تھے وہ وارداتیں ضرور کرتے لیکن کسی کی عزت سے کھیلنے یا روایت سے ہٹ کر کسی کو تکلیف دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے ۔ویران کوارٹر کے پاس ایک چھوٹی سی مسجد ضرور نظر آئی جو 46 سال پہلے اینٹوںکا ایک تھڑا ہواکرتا تھا چند نمازی گینگ مین اس تھڑے پر اپنی اپنی نماز پڑھا کرتے تھے ۔مجھے جب علم ہوا کہ یہ اینٹوں کا تھڑا اللہ کا گھرہے تو میں دن میں کئی مرتبہ جھاڑو سے اس کی صفائی کیاکرتا تھا ۔ یہ تھڑا کیکر کے درخت کے نیچے تھا اس لیے کیکر کے پتے مسجدمیں اکثر گرتے جنہیں صاف کرنے کی
ذمہ داری از خود میں نے لے رکھی تھی بلکہ کنویں سے پانی لا کر یہاں مٹی کے ایک مٹکے میں وضو کے لیے محفوظ کرلیتا ۔میری یہ کاوش نمازیوں کے قابل تحسین اور باعث سہولت ٹھہرتی۔ پھر میرے قدم اس مقام پر آکر ٹھہر گئے جہاں ہمارے کوارٹر کے بالکل سامنے پیپل کا ایک بہت بڑا درخت ہوا کرتا تھاپیپل کے کچھ آگے بہت گنجان اور بلند گلاباسی موجود تھی ۔ماں سمیت چند دیگر خواتین بھی بطور خاص گرمیوں میں پیپل کے نیچے بیٹھ کر گھریلو کاج میں مصروف ہوجاتیں ۔کوئی عورت ازار بند بنتی اور کوئی بچوں اور اپنے شوہر کو سردیوں سے بچانے کے لیے سویٹر اور جرسیاں اون سے تیار کرتی۔ ساتھ ساتھ گپ شپ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ۔اس کے باوجود کہ ہر گھر میں مرغیوں کے کھڈے اور خونچے موجود تھے چند آوارہ مزاج مرغیاں گلاباسی میں بھی انڈے دے آتیں۔ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ہماری پالتو مرغی نے بھی اپنے مخصوص کھڈے میں کئی دنوں سے انڈہ نہ دیا۔ ماں کو شک گزرا کہ مرغی ہم سے دھوکہ کررہی ہے دانہ دنکا تو ہمارے پاس آکر کھاتی ہے لیکن انڈے کسی اور جگہ دے آتی ہے ۔ تفتیش کے لیے یہ کیس میرے سپرد کیا گیا میں نے کئی دن اس مرغی کا پیچھا کیا لیکن اس مقام تک نہ پہنچ سکا جہاں وہ انڈہ دے کر غائب ہوجاتی تھی بالاخر ایک دن مرغی جب انڈہ دے کر کوکڑ کڑ کرتی اور پر جھاڑتی ہوئی گلاباسی سے باہر نکلی تو میں نے اسے دیکھ لیا وہاں پہنچا تو ایک کی بجائے کئی انڈے وہاں موجود تھے ۔ہوسکتا ہے مرغی کی بغاوت اس وجہ سے ہو کہ اس کے دیئے ہوئے انڈوں کو ہم کبھی سالن کی جگہ پکا کر کھا جاتے تو کبھی آملیٹ بنا کر ماں بڑے بھائیوں کو کھلا دیتی ۔ بے زبان مرغی دیکھتی تو ضرور ہوگی لیکن بے بس تھی۔ اسی لیے اس نے انڈے دینے کے لیے گھر سے باہر ایک محفوظ مقام کا تعین کرلیا تھا۔
یہ دیکھ کر شدید صدمہ ہوا کہ اب وہاں نہ وہ پیپل کا درخت تھا اور نہ ہی وہ گلاباسی ۔سب کچھ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا ۔ محمد علی کیبن مین کا کوارٹر پلیٹ فارم کے بالکل ساتھ تھا جس کی کھڑکی پلیٹ فارم کے جانب کھلتی تھی جبکہ اس کے ساتھ ہی ایک گہرا کنواں تھا جہاں کوارٹروں والے پینے کا پانی حاصل کرتے تھے ۔سردیوں میں یہ پانی اس قدر ٹھنڈا ہوجاتا کہ نہانا تو دور کی بات ہے منہ دھونا بھی محال ہوجاتا ۔پھر گھر میں پانی سٹاک کرنے کے لیے مٹی کے مٹکے ہی استعمال ہوا کرتے تھے جو پانی کو مزید ٹھنڈا کرنے کا باعث بنتے۔ سردیوں میں نہانے کے لیے صرف ریلوے اسٹیم انجن کا انتظار ہوتا جہاں سے ہم سب کو اس کے بوائلر سے مطلوبہ گرم پانی میسر آجاتا اور ہفتے دو ہفتوں کے بعد ہمیں بھی نہانے کا موقع میسر آجاتا ۔گرمیوں میں والد ہمیں لے کر کنویں پر پہنچ جاتے اور پانی نکال کر باری باری ہم سب بھائیوں کو نہلاکر گھر بھیجتے جاتے ۔ماں ہماری آنکھوں میں سرمہ ڈالتی   سراور جسم پر سرسوں کا تیل لگاتی اور دھلے ہوئے کپڑے پہنا کر گھر کے دیگر کاموںمیں مصروف ہوجاتی ۔ہم لکیروں والا پاجامہ اور سفید کرتہ پہن کر اسٹیشن کے مسافر خانے میں جاکر بیٹھ جاتے جہاں اردگرد کے دیہاتوں سے گاڑی پر سفر کرنے والے مسافرموجود ہوتے ۔والد گرامی کی وجہ سے ہم ریلوے کو اپنے باپ کی جاگیر ہی تصور کرتے تھے ایک دن مجھے جھولے لینے کا شوق پیدا ہوا ۔ ٹکٹ گھر کے باہر ایک ٹیوب لائٹ نصب تھی میں سمجھا کہ یہ بہت مضبوط ہوگی لیکن جب میں کسی نہ کسی طرح ٹیوب لائٹ کو پکڑ کر جھولنے لگا تو وہ دھڑام سے نیچے آگری اور ٹوٹ گئی ۔یہ دیکھتے ہی میں بھاگم بھاگ گھر پہنچا اور ماں کی آغوش میں چھپ گیا ۔غیر متوقع طور پر گھر پہنچ کر آغوش میں چھپنے سے ماں کو شک ہوا اس نے نہایت پیار سے پوچھا کہ کیا کر آئے ہو  کسی کا نقصان تو نہیں کردیا   میں نہایت معصومیت سے بولا نہیں امی جی ۔ میں تو ویسے ہی آیا ہوں لیکن آغوش میں چھپے ہوئے بھی میری نگاہیں گھر کے دروازے کو بار بار دیکھتیں جیسے کسی کا انتظار ہو ۔ ماں نے پوچھا تم خوفزدہ بھی ہو اور کسی کے آنے سے ڈر بھی رہے ہو   آخر ہوا کیا ہے ۔ مجھے کچھ بتاﺅ گے تو میں اس خطرے کا ازالہ کرسکوں گی اگر میرے بس میں نہ ہوا تو تمہارے باپ کی مدد حاصل کروں گی ۔حوصلہ پاکر میں نے کہا امی جان مجھ سے ریلوے کی ٹیوب لائٹ ٹوٹ گئی ہے ماں نے پوچھا وہ کیسے  وہ تو خاصی اونچی لگی ہوتی ہے …میں نے کہا جھولے لینے کے شوق میں   میں وہاں تک پہنچ گیا تھا لیکن ابھی میں جھولا لینے ہی لگا تھا کہ وہ دھڑم سے نیچے گر گئی اس کی آواز سن کر مسافرخانے میں موجود سب مسافر غصے سے مجھے گھور رہے تھے اور میں ان سے بچ بچا کر آپ تک پہنچ گیا ہوں امی جان اب تم ہی مجھے بچا سکتی ہو ۔ابا جی کو نہ بتانا ورنہ وہ بھی مجھے بہت ماریں گے ۔میری بات سن کر ماں پریشان ہوگئی اب کیا کیا جاسکتا ہے ۔ کہیں پولیس کیس ہی نہ بن جائے ۔ گورنمنٹ کا نقصان تو بہت مہنگا پڑ سکتاہے ۔مجھے بھی یہی ڈر تھا کہ سرکاری ٹیوب لائٹ توڑنے کے جرم میں کہیں مجھے پولیس پکڑنے نہ آجائے اسی لیے میں بار بار بند دروازے کے طرف دیکھ رہا تھا ۔لیکن شام تک کوئی نہ آیا تو دل کو سکون ملا۔
وہ مسافر خانہ  وہ پیپل کا درخت  وہ گلاباسی   وہ کنواں  محمد علی لوٹے کا وہ کوارٹر نہ جانے کس نے گرا دیا تھا ۔ اب وہاں ہر طرف ملبے کے ڈھیر ہی دکھائی دے رہے تھے ۔جس کی اینٹوںسے مجھے اپنائیت کااحساس تو ہورہا تھا لیکن وہ لطیف جذبات اور حسین یادیں نہ جانے کہاں دفن ہوکر رہ گئی تھیں ۔سچی بات تو یہ ہے کہ بربادی اور جابجا پھیلاہوئے کھنڈرات کا یہ منظر میرے دل پر گہرے زخم لگا رہا تھا ۔ میں چلتا چلتا پیچھے مڑ کر دیکھتا کہ شاید ابھی ماں کی آواز میری قوت سماعت سے ٹکرائے اور میں دوڑتا دوڑتا ماں کی آغوش میں جا چھپوں۔تصورات کی آنکھوں سے دیکھا تو مجھے اپنے والد ریلوے کی وردی پہنے اسٹیشن سے ریلوے کوارٹروں کی طرف آتے دکھائی دیئے ۔تصورات کی دنیا کا یہ خوبصورت منظر اس وقت ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا جب میرے پاﺅں ایک پتھر سے ٹکرائے اور میں 1964 سے نکل کر واپس 2011 میں آگیا ۔اب میرے سامنے واں رادھا رام ریلوے اسٹیشن کی
آدھی ادھوری اور نامکمل عمارت تھی جس کا پلیٹ فارم اور عمارت کا آدھا حصہ مسمار کردیاگیا تھا ۔ سوچا کہ اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں جاکر چند پرانی یادوںکو تلاش کروں۔ ہوسکتا ہے وہاں مجھے کچھ تسکین مل جائے ۔وہاں مجھے دو نوجوان بیٹھے ہوئے دکھائی دیئے ان میں سے ایک نوجوان انتہائی خوبصورت اور سفیدوردی میں ملبوس تھا بیجز پر اے ایس ایم لکھا ہوا تھا جبکہ دوسرا شلوار قمیض میں تھا ۔ا سسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر جس کانام محمد حنیف تھا اس کی خوبصورت اور صاف ستھری وردی دیکھ کر میں نے کہا ریلوے کی معاشی بدحالی اور املاک کی بربادی کے جو کھنڈرات میں ابھی دیکھ کر آیا ہوں اس سے دل بہت غمگین تھا لیکن آپ کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا ہے۔ اس نے بتایا کہ یہ وردی اس نے از خود کپڑا لے کر اپنے ماپ کی سلوائی ہے اسی لیے آپ کو اچھی لگ رہی ہے ریلوے کی جانب سے وردیوںکا جو کپڑا ملتا ہے وہ اس قابل نہیںہوتاکہ اسے سلوا کر پہنا جائے ۔ میرے استفسار پر بتایا گیا کہ اے ایس ایم کی تنخواہ 13 ہزار اور کانٹے والے کی تنخواہ 8ہزار روپے ماہوار ہے ۔اتنی کم تنخواہ میں جبکہ نہ انہیں رہائشی  طبی اور تعلیمی سہولتیں حاصل ہیں وہ کس طرح گزارا کرتے ہوں گے ۔یہیں پر اچانک اور ایک شخص کی آمد ہوئی ۔ اے ایس ایم محمد حنیف نے بتایا یہ یہاں کے بہت پرانے کیبن مین ہیں میں نے نام پوچھا تو اس نے بتایا کہ میرا نام محمد حسین ہے ۔ نام سنتے ہی میرے لاشعور میں ایک آواز اٹھی کہیں تم حسینی تو نہیںہو ۔ اس پروہ قہقہہ لگا کر اٹھا اور یہ کہتے ہوئے اس نے مجھے گلے لگا لیا کہ کہیں تم اسلم تو نہیں ہو ۔ میں نے کہاہاں میں ہی اسلم ہوں جو 46 سال پہلے آپ کے ساتھ مسافر خانے میں لکڑی کے بینچوں پر بیٹھ کر کھیلا کرتا تھا ۔تمہارے اباجی شرف دین میرے والد کے ساتھی ہواکرتے تھے ۔چند منٹ تک خوب گرمجوشی کا اظہار دونوں جانب سے ہوا پھر پرانی یادوںکو تازہ کرنے کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا ۔ میرے ساتھ آئے ہوئے ندیم بھائی   پوسٹ ماسٹر واں رادھا رام محمد سردار اور پوسٹ مین محمداکرم نہایت خاموشی سے بیٹھے ہوئے ہمیں دیکھ رہے تھے ۔گھڑی پر نظر دوڑائی تو پانچ بجے رہے تھے حسن اتفاق سے تیزگام کی آمد کا سلاٹر بج اٹھا ۔اے ایس ایم کے حکم پر سگنل ڈاﺅن کردیئے گئے ۔اب ہم چاروں ٹریک پر دوڑتی ہوئی تیز گام کو تجسس بھری نگاہوں سے دیکھنے کے مشتاق تھے جبکہ اے ایس ایم محمد حنیف ہاتھ میں سبز جھنڈی تھامے اپنے کمرے سے باہر نکل آئے اور سبز جھنڈی کو کچھ اس انداز سے استوار کیا کہ ٹرین ڈرائیور اور گارڈ دونوںکو باآسانی نظر آسکے ۔ہم لکڑی کے بینچ پر بیٹھ کر ان طلسماتی لمحات کے منتظر تھے جبکہ وسل بجاتی ہوئی تیزگام ہمارے سامنے سے ایک ایسا مدھر میوزک بجاتی ہوئی گزرے یہ میوزک بطور خاص ریلوے ملازمین اور ان کے بچوں کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ قرار پاتا ہے ۔چند ہی لمحوں بعد تیزگام کا انجن وسل بجاتا ہوا تیز رفتاری سے گاڑی کو کھینچتا ہوا واں رادھا رام کے ریلوے اسٹیشن سے گزر گیا اور ہم اسے دور تک جاتے ہوئے دیکھتے رہے حتی کہ وہ گاڑی ایک نشان بن کر ہماری آنکھوں میں سما گئی ۔
یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ 19 مارچ 2011 کی سہ پہر ہم ایک گھنٹہ واں رادھا رام اسٹیشن کے ٹکٹ گھر میں بیٹھے رہے لیکن کوئی ایک مسافر بھی ٹکٹ خریدنے کے لیے اس لیے نہیں آیا کہ ریل گاڑی کا نہ تو چلنے کا کوئی ٹائم مقرر ہے اور نہ ہی منزل مقصود پر پہنچنے کا ۔کبھی وہ وقت بھی تھا جب لوگ صرف ٹرین کے انتظار میں کئی کئی گھنٹے سردیوں اور گرمیوں میں پلیٹ فارم پر گزار دیا کرتے تھے ۔آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ٹائم ٹیبل کی عدم پیروی  ٹرانسپورٹروں سے ملی بھگت   انجنوںکی خرابی   مسافر ڈبوں کی خستہ حالی اور ڈیزل کی کمیابی کی وجہ سے ریل کا سفر بہت بڑا رسک اور پریشانی کا سبب بن چکا ہے ۔ میری رائے کے مطابق ریلوے کی بربادی اور بدحالی کا یہی ایک وجہ ہے ۔
اس کے ساتھ ہی خوابوں کے شہر” واں رادھا رام” کو 46 سال بعد دیکھنے کا عمل ناخوشگوار اور تلخ یادوں کے ساتھ اختتام کو پہنچا ۔ بے شک دور حاضر کو جدید اور ترقی یافتہ کہا جاتا ہے لیکن کم ازکم واں رادھا رام کے حوالے سے 46 سال پہلے والا دور آج سے کہیں زیادہ اچھا   دلکش اور محبتیں بانٹنے والا تھا ۔ شہر ریلوے اسٹیشن   کوارٹرز   کنویں اور سکول ہر جگہ اپنی اصل حالت میں رواں دواں تھی لیکن اب وہاں کھنڈرات   بربادی   جا بجا پھیلی ہوئی گندگی  مکھیوں اور مچھروں کے قافلے محو پرواز دکھائی دیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے میرے خوابوں کا شہر تنکا تنکا کرکے میرے تصورات اور ذہن و دل سے تقریبا اتر چکا ہے نہ وہ حسین یادیں رہیں نہ وہ لوگ رہے اور نہ وہ باتیں رہیں ۔میری ان حسین اور خوبصورت یادوں کا قاتل کون ہے جب یہ تصور کرکے اسے تلاش کرنے لگتا ہوں تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور اس وقت سے آج تک جتنے بھی عوامی نمائندے   تحصیل پتوکی کے متعلقہ انتظامی افسر اور ریلوے حکام عہدوں پر فائزہوئے ان میں سے کسی ایک نے بھی واں رادھا رام شہر کی ترقی اور دور جدید کی سہولتیں فراہم کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کی لا پرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے واں رادھا رام ایک صحت مند شہر کی بجائے بیماریوں اور مسائل کا گڑھ بن چکا ہے ۔ اب یہ سوچ بار بار میرے ذہن سے ابھرتی ہے کہ کاش میں وہاں نہ جاتا اورمیرے ذہن و دل میں اس شہر کے بارے میں جوخوبصورت تصورات تھے وہ ہمیشہ قائم رہتے اور انہی تصورات کے سہارے میں زندگی کے باقی سال بھی گزار لیتا لیکن واں رادھا رام کو دیکھنے کی جو غلطی مجھ سے سرزد ہوچکی ہے اب سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ۔بطور خاص ریلوے اسٹیشن اور کوارٹروں کو جس درندگی اور وحشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صفحہ ہستی سے مٹا دیاگیا ہے وہ ہو بہو ہزاروں سال پرانے شہر ہڑپہ  ٹیکسلا اور موہنجوداڑو کا منظر پیش کررہے ہیں ۔میں کسی اور کی بات نہیں کررہا لیکن میں یہ منظر زندگی میں دوبارہ نہیں دیکھ سکتا ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button