لیبیا ۔ ۔ ۔ ۔ سامراجی سازشوں کے نرغے میں

لیبیا ۔ ۔ ۔ ۔ سامراجی سازشوں کے نرغے میں

لیبیا…..اک نئے دور غلامی کی طرف گامزن


تحریر :۔محمد احمد ترازی

لیبیا کواب تک انقلابی رہنما کرنل معمر قذافی کے نام سے پہچاناجاتا ہے،چار دہائیوں سے لیبیا کا داخلی استحکام،تیل کی آمدنی کا انتظام اور انتظامی تقسیم کار صدر معمر قذافی کے ہاتھوں میں ہے،لیبیا تیل کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں17ویں نمبر پر آتا ہے اور تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی لیبیا کی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے،جو کہ اِس ملک کی چھ ملین سے زائد کی آبادی کی ضروریات زندگی کےلئے کافی سے بہت زیادہ ہے،لیبیا شمالی افریقہ کا سب سے امیر ملک ہے،جس میں دس بڑے قبائل آباد ہیں جن کی کئی ذیلی شاخیں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں،لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کا تعلق بھی ایک ایسے ہی قبیلے قذافہ سے ہے ۔

معمر قذافی1942ءمیں سِرت کے نزدیک ایک صحرائی علاقے میں پیدا ہوئے،اوائل جوانی میں وہ مصری رہنما جمال عبدالناصر کے شیدائی تھے،وہ 1956ءکے نہر سوئز کے بحران کے دوران مغرب اور اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بھی پیش پیش رہے،1969ءفوجی بغاوت کے بعد وہ لیبیا کے رہنما بن کر ابھرے،کرنل قذافی70کی دہائی میں عرب قوم پرستی کے علمبردار رہے،انہوں نے لیبیا کو اُس وقت کے مصری،شامی اور اردنی رہنماؤں کے ساتھ کئی معاہدوں میں بھی منسلک کیا،لیکن90 کی دہائی میں عرب دنیا کو اپنی قیادت میں متحد کرنے کی کوشش میں ناکام رہنے کے بعد انہوں نے اپنی ساری توجہ براعظم افریقہ پر مرکوز کردی اور افریقی ملکوں کےلئے ایک ریاست ہائے متحدہ کا تصور بھی پیش کیا ۔

کرنل معمر قذافی دنیا بھر میں مختلف آزادی پسند تنظیموں کے بھی پشت پناہ اور مددگار رہے ہیں،جن میں تنظیم آزادی فلسطین یا پی ایل او قابل ذکر ہے،عرب قیادت کے حوالے سے کرنل قذافی کے اکثر دیگر عرب رہنماؤں سے اختلافات بھی رہے ہیں،چند برس پہلے قاہرہ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے دوران تواُن کی سعودی بادشاہ عبداللہ سے سرعام توتومیں میں بھی ہوئی تھی،انہوں نے لیبیا کو ایٹمی قوت بنانے کی بھی کوشش کی لیکن اپنوں کی غداری نے اُن کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا ۔

اُن کے 42 سالہ دورِ اقتدار میں لیبیا نے بہت تیزی سے معاشرتی اور معاشی ترقی کی،عالمی بینک کے اعدادو شمار کے مطابق لیبیا کی فی کس آمدنی تقریباً بارہ ہزار ڈالر ہے،ناخواندگی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور ہر فرد کے پاس اپنا گھر ہے،کرنل معمر قذافی کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایسا نہیں تھا،حکومت ملازمت کے حصول اور دوسرے سرکاری کاموں میں مدد کرتی ہے،دیگر عرب ممالک کے مقابلے میں لیبیا میں عورتیں آزاد ہیں،وہ جو چاہے پہنیں اور جہاں چاہے نوکری کریں،بلاشبہ اپنے دور malaysia-libya-protest-2011-2-23اقتدار میں معمر قذافی نے لیبیا اور عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے اچھے کام کیے،مگر تیونس اور مصر کے حالیہ واقعات کو دیکھنے کے بعد اب لیبیا کے عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اُن کی اکثریت بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔

معمر قذافی عرب دنیا کے وہ واحد حکمران ہیں جو بادشاہ،سلطان یا خلیفہ کہلانے کے بجائے صدر کہلانا پسند کرتے ہیں،انہوں نے ملک کا آئین بھی خود ہی تصنیف کیا ہے جو گرین بک یا سبز کتاب کہلاتا ہے،اپنے بیالیس سالہ دور اقتدار کے دوران معمر قذافی نے لیبیا کو عرب سمیت دنیا بھرمیں ایک خاص مقام دلوانے میں بہت اہم کردار ادا کیا،لیکن آج یہی لیبیا تیونس اور مصر کے بعدشدید ہنگاموں اور عوامی مخالفت کی زد میں ہے اور عرب ریاستوں کی بادشاہتوں اور آمریتوں کیخلاف تبدیلی کی جو لہر تیونس میں شروع ہوئی تھی،وہ مصر سے ہوتی ہوئی اب لیبیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ پچھلے دو ماہ میں مشرق وسطی میں عوامی احتجاج کی لہر نے خطے کا سیاسی منظر نامہ ہی تبدیل کر دیا ہے،یمن،بحرین،اردن،الجزائر، مراکش، تیونس اور مصر سمیت دیگر عرب ممالک میں پھیلی ہوئی اِس احتجاجی لہر میں سب سے زیادہ تیزی لیبیا میں دیکھنے میں آرہی ہے،جہاں مظاہرین اور ریاستی اداروں کے درمیان تصادم جاری ہے،اس صورتحال نے عرب ممالک کے حکمرانوں کو پریشان اور خائف کردیا ہے اور انہیں اپنے پیروں کے نیچے سے اقتدار کا قالین کھسکتاہوا محسوس ہورہا ہے ۔

چنانچہ انہوں نے عوام کو مراعات اور سہولتیں دینے کے اعلانات شروع کردیئے ہیں، جس کی تازہ مثال سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی ہے جو گذشتہ تین ماہ سے بغرض علاج ملک سے باہر تھے،لیکن حالات کی سنگینی اور خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے وطن واپس آکرپیش بندی کے طور پر عوام کو اصلاحات دینے اور سہولیات زندگی فراہم کرنے کیلئے 35ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا اور حکام کو سختی نہ کرنے کی ہدایات جاری کیں،سرکاری ٹیلی ویڑن کے مطابق شاہ نے سوشل سکیورٹی، رہائشی منصوبوں اور بیرون ملک تعلیم کے حصول کےلئے اضافی رقم دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔

دوسری طرف یمن کے صدر علی عبداللہ صالح ملک میں بے روزگاری اور غربت کے نام پر حکومت کیخلاف ہونیوالے مظاہروں کو بیرونی اشاروں پر ملک کو غیرمستحکم کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں،یہی باتیں بن علی نے تیونس میں کی تھیں،اردن کے شاہ عبداللہ کو ہنگاموں کے پیچھے القاعدہ اور اخوان المسلمین کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے،بحرینی حکام کو شیعہ ابھار کے پیچھے حزب اللہ کا ہاتھ نظر آتا ہے،جبکہ حسنی مبارک کی طرح معمر قذافی بھی یہی اشارے دے رہے ہیں کہ موجودہ شورش کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے ۔

یہ نا ممکن بھی نہیں،کیونکہ امریکہ ترقی پذیر ممالک میں شورش برپا کرانے اور حکومتوں کے تختے الٹانے کا کھیل کھیلتا رہتا ہے، حافظے کی کمزوری کے باوجود دنیا ابھی تک نہیں بھولی کہ انڈونیشیاءکے صدر سوئیکارنو سے نجات حاصل کرنے کیلئے کس نے کم و بیش پانچ لاکھ انڈونیشی قتل کرواڈالے،عراق میں دودھ اور خوراک سے بلکتے بچوں کے پیچھے کس کی قاہری کام کررہی ہے،کون ہے جس نے جھوٹ اور منافقت کا سہارا لے کر صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کیا،کس نے لبنان کی گلی کوچوں کو خون سے نہلایا،کس نے معمر قذافی کی اقامت گاہ کو بمباری کا نشانہ بناکر اُس کی منہ بولی بیٹی کی جان لی،کون ہے جس نے اپنے پروردہ شاہ ایران کے تحفظ کیلئے ایران میں لاکھوں انسانوں کی گردنیں کٹواڈالیں،ویتنام ،کمبوڈیا اور لاؤس کی دیواروں پر کس کے سیاہ خونی کارنامے رقم ہیں، کون ہے جو صومالیہ میں خون کی ہولی کھلتا رہا،کون ہے جس نے الجزائر کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اپنے چہیتوں کو تخت پر بیٹھایااور وہ کون ہے جو آج بھی افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رقص ابلیس کر رہاہے ۔

لہٰذا اِس تاریخی تناظر میں عرب ریاستوں میں شروع ہونیوالے پرتشدد مظاہروں میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کیاجا سکتا،خاص طو پر لیبیا میں،یہ درست ہے کہ معمر قذافی گزشتہ بیالیس سال سے لیبیا پر حکمران ہیں،یہ بھی ممکن ہے کہ عرب دنیا کے دیگر حکمرانوں کی طرح انہوں نے بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ظلم و جبر کے آمرانہ ہتھکنڈے اپنائے ہوں،لیکن اس کے باوجوداس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لیبیا کے حالات تیونس اور مصر کے حالات سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتے ۔

کیونکہ لیبیا کی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود اور لیبیا کی ترقی و خوشحالی کیلئے دیگر عرب ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کیا ہے،وہاں غربت،بھوک و افلاس اور بے روزگاری نہیں ہے،نہ ہی وہاں جہالت،لاقانونیت اور بدامنی کا دور دورہ ہے،خود عالمی بینک کے اعدادوشمار اِس بات کے گواہ ہیں،لیکن اِس کے باوجود اِس وقت لیبیا میں موجود بے چینی کا فائدہ اٹھاکر جو فضا بنائی جارہی ہے،وہ قذافی حکومت کیلئے تیونس اور مصر سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔

ہماری نظر میں اِس کی اصل وجہ خود لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی ہیں جو آج بھی دنیا میں استعمار کے خلاف نفرت اور مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے ہیں،انہوں نے ہمیشہ سامراجی اور استعماری قوتوں کو ٹف ٹائم دیا،وہ عرب دنیا کو متحد کرنے میں ناکامی کے بعد افریقی یونین بنانے کیلئے سرگرم رہے،2000ءمیں عراق میں صدام حکومت کے خاتمے تک انہوں مزاحمت جاری رکھی،لیکن عرب ممالک کی بے وفائی اور عالمی تنہائی نے انہیں مجبور کردیا کہ وہ کسی حد تک حالات سے سمجھوتہ کرلیں ۔

مگراس کے باوجود انہوں نے لیبیا کو امریکی مفادات کی چراہ گاہ نہیں بننے دیا،آج لیبیا کو ایٹمی قوت بنانا،اسرائیل کے خلاف فلسطین اور دیگر حریت پسند تنظیموں کی مدد کرنا،اتحاد امت کی خواہش اور کوشش کرنا، صلیبی و صہیونی قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا اوراُن کے خلاف بھر پور مزاحمت و جدوجہد کرنا،معمر قذافی کے وہ ناقابل معافی جرائم ہیں جن کی سزا دینے کیلئے یہ قوتیں لیبیا میں تبدیلی کی خواہاں اور اس مقصد کیلئے وہ لیبیا میں شورش کو بڑھاوا اور عوامی بغاوت کو فروغ دے رہی ہیں ۔

یہ وہی قوتیں ہیں جو کبھی فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ پر کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھاتیں،جو گزشتہ دنوں سلامتی کونسل میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد مذمت 14کے مقابلے میں صرف ایک ووٹ سے مسترد کردیتی ہیں،انہیں بھارت کے زیر اثر مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں اور کہیں بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی،ظاہر ہے”دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے“ والی بات ہے ۔

اب جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے لیبیا کی رکنیت معطل کرنے اور تشدد کی عالمی تحقیقات کی سفارش کی ہے،امریکہ پہلے ہی اپنے نام نہاد عالمی اصولوں اور خود ساختہ شائستگی کی مروجہ اقدار کی پاسداری میں لیبیا پر پابندیاں عائد کر چکا ہے،دوسری طرف امریکہ،برطانیہ،فرانس اور جرمنی کی حمایت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل لیبیا کے رہنما معمر قذافی، اُن رفقاءاور خاندان کے اثاثے منجمد کرنے،بین الاقوامی سفر اور لیبیا کے اسلحہ خریدنے پر پابندیاں عائد کرنے اوراُس کا کیس جرائم کی عالمی عدالت کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔

سامراجی قوتوں کے اِن سب اقدامات کا مقصد لیبیا کے گرد گھیرا تنگ کرکے معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کرنا اور امریکہ نواز ایجنٹوں کا برسر اقتدار لانا ہے، تاکہ عراق کی طرح لیبیا کے بھی تیل کے وسائل پر قبضہ کیا جاسکے،امر واقعہ یہ ہے کہ عوامی احتجاج کے نتیجے میں تیونس اور مصر میں آنے والی تبدیلوں کو پہلے ہی سامراجی قوتیں ہائی جیک کرچکی ہیں اورامریکہ تیونس اورمصر میں انقلاب کو سبوتاژ کر کے کٹھ تیلی حکومت لانے میں کامیاب ہوچکا ہے ۔

اس وقت اِن ممالک کی متبادل قیادت امریکی حمایت یافتہ فوجی جرنیلوں،کرپٹ بیوروکریٹس،نااہل سیاستدانوں،پاکٹ اپوزیشن اور اقوام متحدہ میں اِن کے ایجنٹوں پر مشتمل ہے،بظاہران ممالک میں جو تبدیلی آئی ہے،وہ حقیقی نہیں بلکہ وہ مصنوعی تبدیلی ہے جس میں نظام نہیں صرف چہرے بدلتے ہیں،جبکہ کھیل،کھلاڑی اور شطرنج کی بساط وہی رہتی ہے،جس طرح تیونس اور مصر میں فوج نے اقتدار سنبھال کر حقیقی انقلاب کا راستہ روک دیا،کیاوہی کچھ لیبیا میں ہونے جارہا ہے،یہ دیکھنا ابھی باقی ہے ۔

لیکن ایک بات طے ہے کہ امریکہ لیبیا میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو امریکہ کی وفادار اور حلیف بن کر کام کرسکے،اگر خداناخواستہ سامراجی قوتیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوجاتی ہیں اور معمر قذافی کو اپنے اقتدار کا بوریا بستر لپیٹنا پڑتا ہے تو قذافی کے بعد لیبیا کا مستقبل کیسا ہوگا،کیا لیبیا اپنی گروہی اور قبائلی عصبیت سے دامن بچاکر اپنی وحدت اور سالمیت کو قائم رکھ سکے گااور کیا لیبیا دیگر عرب ممالک کی طرح امریکی کالونی نہیں بنے گا،یہ وہ سوالات ہیں جو اُن لیبیا ئی عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہیں،جن کا احتجاج لیبیا کو ایک نئے دور غلامی کی طرف لے جانے کیلئے متحرک ہے ۔

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی

یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشہ ختم ہوگا

٭٭٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button