سوپر مون یا عذاب الہی

عبدالجلیل منشی ۔کویت

اللہ رب العزت نے اس حسین دنیا کو ایک گھر کی مانند تخلیق کیا اور پھر اس گھر کی حفاظت کے لئے آسمان کی صورت میںاس پر ایک چھت قائم کی اور پھر اس چھت کا حسن اور رونق بڑہانے اور اس دنیا میں بسنے والی مخلوق کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے تاریک آسمان کو چاند ، سورج اور ستاروں سے سجا کر روشن اور منور کردیا اور انہیں اس طرح مسخر کردیا کہ وہ قیامت تک اپنے مخصوص محور اور مدار کے گرد گردش کرتے رہیں گے جس کے سبب زمین پر دن رات میں اور رات دن میں تبدیل ہوتی رہے گی اور رتیں اپنے وقت پر بدلتی رہیں گی
روز اول سے زمین سورج کے گرد اور چاند زمین کے گرد اللہ کے قائم کردہ محور کے مطابق گردش میں ہے اور اسی طرح یہ سیارے گردش کرتے کرتے برسوں کے بعد کچھ لمحات کے لئے ایک دوسرے سے کچھ قریب آجاتے ہیں اسطرح کہ ان کی یہ قربت زمینی حیات کے لئے کسی بہت بڑے خطرے کا سبب نہیں بنتی اور نہ ہی انکے تصادم کا کوئی خطرہ رہتا ہے البتہ اس گردش کے سبب سورج اور چاند کے زمیں کی سطح سے کچھ قریب آجانے کی وجہ سے زمین پر کچھ تبدیلیاں ضرور واقع ہوتی ہیںجنکی توضیح مختلف ماہرین ارضیات اور فلکیات نے مختلف انداز میں کی ہے
چاند اور سورج کے زمین سے اقتراب کے زمانے میں زمین پر ہونے والی کچھ تبدیلوں کو فلکیات کے ماہرین کا ایک گروہ محض اتفاق سے تعبیر کرتا ہے جبکہ انکا دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اس زمانے میں زمین پر ہونے والی تبدیلیاں محض اتفاقات کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ چاند اور سورج کا زمین سے اپنے معمول سے ہٹ کر قریب آنا ان تبدیلوں کا سبب بنتا ہے جو اس زمانے میں زمین پر وقوع پذیر ہوتی ہیںاو راسکے نتیجے میں زمین پر زلزلے، سمندری طوفان، آتش فشاں کا پھٹنا، زمیں کا درجہ حرارت کا بڑھ جانا وغیرہ جیسے واقعات کا ظہور ہونے لگتا ہے
سورج روزانہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور شام کو اپنا دن بھر کا سفر پورا کر کے مغرب میں غروب ہوجاتا ہے مگر ہماری آنکھیں اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی یا اسکا گھٹنا بڑھنا نہیں دیکھ پاتیں جبکہ چاند کے گھٹنے اور بڑہنے کا مشاہدہ ہر آنکھ بغیر کسی دور بین یا خوردبین کی مدد کے کر سکتی ہے ہر ماہ کا پہلاپہلا چاند بہت باریک ہوتا ہے اور کھلی آنکھوں سے اسکا مشاہدہ ایک مشکل امر ہے مگر جوں جوں وہ نمایاں ہوتا ہے ہر آنکھ اسے باسانی دیکھ سکتی ہے یہاں تک کہ چودہویں کی رات کو وہ مکمل ہوجاتا ہے اور پھر اسی طرح ہر گزرتی رات گھٹتے گھٹتے آخری رات کو پھر نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے
چاند کی لیل ونہار کی یہ گردش جاری و ساری رہتی ہے یہاں تک کہ بقول ماہرین کے ہر اٹھارہ سالوں کے بعد چاند کی گردش کے نتیجے میں اسکا فاصلہ زمیں سے کم ہوجاتا ہے جسکی وجہ سے ماہرین کے دوسرے گروہ کے مطابق زمین پر تباہیاں آتی ہیں زمیں سے قربت کی وجہ سے چاند مکمل ہونے کی صورت میں عام چودہویں کے چاندوں کی نسبت کچھ بڑا دکھائی دیتا ہے جسکا عام انسان کو شعور اور ادراک نہیں ہوسکتا مگر فلکیات کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین باسانی اس تبدیلی کا پتہ لگا لیتے ہیںاور جسے سائنسی اصطلاح میں   ۔سوپر مون۔ کے نام سے جانا جاتا ہےsuper moon
فلکیاتی گوشواروںکے مطا بق سوپر مون کا ظہور ۹۱ مارچ ۱۱۰۲ ءکو متوقع ہے جو کہ چودہوں کی رات ہوگی اس رات اگر آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا نہ ہوا تو ہر آنکھ عام سائز سے بڑے چودہویں کے چاند کا مشاہدہ کر سکے گیاس روزچاند اٹھارہ سالوں کے بعدزمیں سے ۷۶۵۱۲۲ میل (دو لاکھ اکیس ہزار پانچ سو سڑسٹھ میل) یا ۷۷۵۶۵۳ (تین لاکھ چھپن ہزار پانچ سو ستتر کیلو میٹر) کے فاصلے پر ہوگا اس سے پیشتر چاند زمین سے اتنے قریب ۳۹۹۱ ءمیں آیا تھا
فطری حسن کو کیمروں میں قید کرنے کے شائقین کے لئے یقینا یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ وہ ان یادگار لمحوں کو محفوظ کرلیں اور اسی طرح فطرت کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے شائقین بھی ان لمحات کو ضائع کرنے کی بجائے اپنی یادواشتوں میں امر کرنے سے نہیں چوکیں گے مگر ماہرین فلکیات کاایک گروہ آنے والے دنوں میں ظہور پذیر ہونےوالے اس کائناتی حسن کا جو دوسرا رخ دکھلا رہا ہے وہ بے حد خوفزدہ کردینے والا ہے اور جو پیشنگوئیاں وہ کر رہے ہیں انکی حقیقت کا پتہ تو آنے والا وقت ہی دیگا کہ آیا سیاروں کی لمحاتی قربت تباہی اور بربادی لاتی ہے یا ماضی میں ہونے والے واقعات محض اتفاقات پر مبنی تھے
انٹر نیٹ پر سپر مون کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر ایسے مضامین کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آئے گا جس میں سپر مون کو ماضی میں زمین پرہونے والی تباہیوں کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے اور آنے والے سپر مون سے بھی ممکنہ تباہیوں کو جوڑا گیا ہےاس ضمن میںعام قاری کے لئے یہ امر بھی باعث تشویش بن سکتا ہے کہ سپر مون کے تعلق سے زلزلوں کی آمد کی پیشنگوئی جاپان میں آنے والے ہولناک زلزلے اور سونامی سے چند روز پیشتر ہی شائع ہوئی تھی اور اسکے فورا بعد جاپان کی تاریخ کے بدترین زلزلے نے لوگوں کے خدشات بڑھا دئے ہیں
رچرڈنول جو کہ ایک معروف ماہر فلکیات ہیں اور جنہوں نے پہلی بار سوپر مون کی اصطلاح کااستعمال کیا تھا اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ماضی میں جب بھی چاند زمین کے اتنے قریب آیا ہے سمندروں میں طوفان اور زلزلے ساتھ لایا ہےانکے ہم خیال ستارہ شناسوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ ماضی میں جب بھی سپر مون کا ظہور ہوا ہے زمین پر زلزلے اور ہولناک طوفان آئے ہیںانکے کہنے کے مطابق تباہی کا سلسلہ سپر مون کے ظاہر ہونے سے ایک ہفتہ پہلے سے شروع ہوتا ہے اور ایک ہفتہ بعد تک جاری رہتا ہے
علم فلکیا ت کے ماہرین کا پہلا گروسپر مون سے جڑی تباہی کی داستانوں کو رد کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ستارہ شناسوں نے چاندسے جڑے اس نظریہ کو بہت زیادہ اہمیت دیدی ہےان کے کہنے کے مطابق چاند کی کشش کی قوت صرف سمندرکی امواج پر اثر انداز ہوسکتی ہے جسکے نتیجے میں اونچی موجیں پیدا ہوسکتی ہیں مگر وہ کسی طور بھی زیر زمین پلیٹوں کو حرکت نہیں دے سکتیں جس کے نتیجے میں زلزلے آتے ہیں
بین الاقوامی مرکز برائے ریڈیو اسٹرونومی کے رکن پیٹر ویلر کا کہنا ہے کہ سپر مون کے موقع پر اگر زلزلے آتے ہیں یا آتش فشاںپھٹتے ہیں تو انکا تعلق سپرمون کے ظہور کے ساتھہ نہیں ہوگا بلکہ انکا ہونا پہلے سے ہی مقدر کر دیا گیا ہوگا اور وہ محض ایک اتفاق ہوگاایڈیلیڈ یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹروکٹر گوسٹن کا کہنا ہے کہ فلکیاتی اجزائی ترتیب کو سامنے رکھتے ہوئے موسم ، زلزلے ، آتش فشاں او ر دیگر قدر تی آفات کے متعلق پیشنگوئیاں کرنا درست نہیں ہے ہا ں یہ ممکن ہے کہ چاند کی کشش کے باعث ہونے والی زمینی حرکت زلزلے کا باعث بن سکتی ہے
اسی بحث کی معمولی نفی کرتے ہوئے سیتل میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اور شمال مغربی پیسیفک زلزلے کے نیٹ درک کے ڈائریکٹرجون ویڈیل کہتے ہیں کہ سمندری جوار بھاٹا خصوصیت کے ساتھ ڈرامائی انداز میں زلزلوں کا محرک بن سکتا ہےاور چاند اور سورج جب ایک خط پر آتے ہیں تو زمین پر بہت معمولی سا دباو  بڑہاتے ہیں جسکے نتیجے میں زمین کی ٹیکٹوپلیٹس کی حرکت میںبے حد ہلکی سرگرمی دکھائی دیتی ہے مگریہ بھی سپر مون کو زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کاسبب نہیں سمجھتے
اسی یونیورسٹی کے ایک اور ماہر ارضیات ولیم ولکوک کا کہنا ہے کہ بحر الکاہل کی شمال مغربی پٹی جیسے خطوںمیں مد و جزر سمندر کی تہہ میں ارضیاتی سرگرمیوں پر خصوصیت سے بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے جہاں ایک ٹیکٹو پلیٹ دوسری پلیٹ کے اندر پھسل رہی ہے جزر کی صورت میں سمندری کی تہہ پر کم دباو  ہوتاہےاور مد کی صورت میں زیادہ زیادہ دباو¿ کے نتیجے میں پلیٹیں ایک دوسرے کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھتی ہیں مگرکم تر دباو  کے نتیجے میں انکی گرفت کمزور ہوجاتی ہے اور پلیٹیں باسانی پھسل سکتی ہیں جسکے نتیجے میں زیر سمندر زلزلہ آسکتا ہے انکے کہنے کے مطابق بحر الکاہل کے اس قسم کے زون میں جزر کی صورت میںزلزلے کے امکانات دن کے کسی بھی حصے کے مقابلے میں دس فیصد بڑھ جاتے ہیں مگر انہوں نے ابتک مکمل چاند اور نئے چاند نکلنے کے اوقات میں جزر اور اس کے نتیجے میں زیر زمیں زلزلے کی سرگرمیوں میں اضافے کے باہمی تعلق کا مشاہدہ نہیں کیا
امریکی جولوجیکل سروے کے ایک ماہر جون بلینی کا کہنا ہے کہ سروے کے سائنسدانوں اور دیگر ماہرین ارضیات و فلکیات نے اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق کی ہے مگر اسکے نتیجے میں کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جو چاند کے زمینی قربت کے نتیجے میں ہونے والی مفروضہ تباہکاریوں کی تصدیق کرسکے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سپر مون کی کشش اسکی عام دنوں کی کشش کے مقابلے میں اتنی زیادہ نہیں ہوگی کہ وہ سمندر کو الٹ پلٹ دے اور قدرتی آفات کا پیش خیمہ ثابت ہو اس بحث سے یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ سطح سمندر کے اندر جہاں ٹیکٹو پلیٹس کی حرکت زیادہ ہوتی ہے یا جہاں انکے دوسرے فالٹس سے ٹکرانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے وہاں زلزلے آنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں اور اسکے لئے کسی سپر مون کی ضرورت نہیں ہوتی کیوںکہ جوار بھاٹا اس کا سبب بنتا ہے اور سائنسدانوں نے اس تاثر کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے کہ کہ سپر مون کے وقت اسکی کشش عام دنوں کے مقابلے میںاتنی بڑھ جاتی ہے کہ جس کی وجہ سے قدرتی آفات زمیں پر تباہی لاتی ہیں
۹۱ مارچ بھی دور نہیں ہے اورسپر مون کا اٹھارہ سال کے بعد ظہور ہونے والا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ستارہ شناسوں کی پیشنگوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں اور خدانخواستہ سپر مون واقعی زمین پر تباہی اور بربادی لاتا ہے یا سائینسدانوں کی تحقیق درست ثابت ہوتی ہےبحر حال ہم مسلمانوں کا تویہ ایمان ہے کہ یہ طوفان ، یہ سیلاب، یہ زلزلے اور دیگر قدرتی آفا ت اللہ رب العزت کی جانب سے اپنے بندوں کو جھنجوڑنے
اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے آتے ہیں تاکہ ہم توبہ استغفار کریں اور شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے رحمان کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کریں تاکہ ہماری دنیا اور آخرت سنور جائے اور ہم آخرت کے دردناک عذاب سے محفوظ رہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button