زہر یا تریاق

طا رق حسین بٹ (چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فو رم۔)
کہتے ہیں کہ سیا ست کے سینے میں دل نہیں ہو تایہ انتہا ئی بے رحم اور سفاک ہو تی ہے ۔ حصولِ اقتدار کی خا طر بڑے بڑے اصو لو ں کا بلیدان دے دیتی ہے لیکن اقتدار کی د یو ی کو کسی بھی حالت میں نا را ض نہیں کرتی اس کے اندر نہ احسان مندی کے جذبا ت ہو تے ہیں اور نہ ہی ستا ئیش کا مادہ ۔سیا ست کے اپنے اندا ز ، ضا بطے اور روایات ہیں۔اگر کسی کو میری بات کی صدا قت میںرتی برابر بھی شک ہو تو ہ ہو تو اقتدا ر کی خا طر محلا تی سا زشو ں سے جنم لینے وا لی بے رحم داستا نو ں سے میری بات کی صدا قت تک بہ آسانی پہنچ سکتا ہے۔ جب ذا تی مفا دات کو ضرب لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو عدو دو ست بن جا تے ہیںاور محسن عدو کی صفو ں میں نظر آتے ہیں گویا دوستی اور دشمنی کسی جو ہرِ خاص کی وجہ سے نہیں بلکہ مفادات کی یکجا ئی کی بدولت جنم لیتی ہے۔ سارے سکے ذاتی مفادات کی ٹکسال سے ڈھل کر نکلتے ہیں اور اپنا جلوہ دکھاتے ہیں ۔پا کستانی سیا ست میں جنرل ضیا ا لحق اور جنرل پر ویز مشرف اسکی بڑی وا ضح مثا لیں ہیں ۔ جنرل ضیا ا لحق کو ذولفقا ر علی بھٹو نے آرمی چیف کے عہدے پر ترقی دی جبکہ جنرل پر ویز مشرف میا ں محمد نوا ز شریف کے ہا تھوں آ رمی چیف کے عہدے پر فا ئز ہو ئے لیکن د و نو ں جنر لو ں نے اپنے محسنو ں کے ساتھ جو سلو ک روا رکھا وہ تاریخ کے صفحا ت میں ہمیشہ ہمیشہ کےلئے محفو ظ ہوکر سیا ست کی بے رحمی کا سب سے بین ثبو ت بن چکا ہے۔urdusky-writer
یہ دنیاہے یہا ں ہر لمحہِ تقدیر ظالم ہے۔۔۔مرے افسانہِ بے نام کی تحریر ظالم پے
غمِ ہستی کی زنجیروں سے انساں کو کہاں فرصت۔۔کبھی حالات ظالم ہیں کبھی تد بیر ظالم ہے (ساغر صدیقی)
۸۱ اکتو بر ۷۰۰۲ کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے فقید ا لمثا ل استقبال نے میا ں محمد نوا ز شریف کو وطن وا پسی کے لئے نیا حو صلہ عطا کیا لیکن دس سا لہ معا ہد ہ پا ﺅ ں کی زنجیر بنا ہوا تھا مگر یہ تو شہید بی بی کی آمد کا اعجازتھا،اس کی فہم و فراست کا کمال تھا، سعودی حکومت کا دبا ﺅ تھا اور امریکہ بہا در کا اصرار تھا جس کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف کو ا پنی سوچ میں تبدیلی لانا پڑی اور اس نے میا ں صا حب کو واپس آنے کی اجا زت دے دی حا لا نکہ اس سے قبل میاں صا حب دو دفعہ پاکستان آنے کی کو شش کر چکے تھے جو نا کا می پر منتج ہو ئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کسی صورت میں میاں برادران کو وطن آنے کی اجا زت دینے کےلئے تیار نہیں تھے۔ بی بی کے جنرل پرویز مشرف سے خفیہ مذاکرات جنھیں میاں صاحب نے اکثر و بیشتر تنقید کا نشانہ بنایا یہ انہی مذاکرات کا نتیجہ تھا کہ دونوں راہنما ﺅں کی وطن واپسی کی راہیں کشادہ ہوئیں لہذا دو بڑے را ہنما ﺅ ں کی وطن وا پسی نے جنرل پر ویز مشرف کے اقتد ار کو متز لز ل کر کے رکھ دیا۔چیف جسٹس کی بحا لی کی تحر یک پہلے ہی عوا می حلقو ں میں بیدا ری کی لہر پیدا کر چکی تھی لہذا عو ا می دبا ﺅ کے سا منے ٹھہر نا جنرل صا حب کےلئے ممکن نہیں تھا۔ ۸۰۰۲ کے انتخابی نتا ئج نے رہی سہی کسر پوری کردی اور جنرل پرویز مشرف کی آمریت کو زمین بو س کرکے رکھ دیا اور یوں اپنے وقت کا آمر اگست ۸۰۰۲ کو قصرِ صدا رت خا لی کر کے ملک سے فرار ہو گیا۔۔۔
میثاقِ جمہو ریت کے تحت ملک کی دونوں بڑی سیاسی جما عتوں نے مفاہمتی سیاست کی نئی بنادیں استوار کیں اور مرکز اور پنجاب میں کو لیشن حکو متیں قائم کیںلیکن جلد ہی میاں محمد نواز شریف نے مرکزی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی اور پی پی پی حکومت کو عد مِ استحکام سے ہمکنار کرنے کا آغاز کر دیا۔ہچکولے کھاتی ا قتدار کی یہ کشتی بے رحم موجوں کے تھپیڑے سہتی علا قائی جماعتوں کے ہاتھوں یر غمال بن گئی جو جمہو ری روایات اور قدروں کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ مفاہمتی سیا ست کے نام پر میاں شہباز شریف کی وزارتِ اعلی میں پنجاب میں پی پی پی کے ساتھ جس طرح کاہتک امیز سلو ک روا رکھا گیا وہ ایک علیحدہ داستان ہے لیکن بہر حال کسی نہ کسی طرح سے مفاہمتی سیاست کی یہ گاڑی پنجاب میں رو بعمل رہی کیونکہ اس میں دونوں جماعتوں کے باہمی مفادات تھے لیکن جیسے ہی میاں برادران نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ(ق) کے لوٹوں کی مدد سے پنجاب میں حکومت سازی کے مراحل با آسانی طے کئے جا سکتے ہیں تو انھوں نے پنجاب سے پی پی پی کو حکومت سے بے دخل کر کے ایک دفعہ پھر ملک کو سیاسی عدمِ استحکام کے حوالے کر دیا ۔
عام تاثر یہی تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں رسو ا ئی اور جلا وطنی کی سختیاں سہنے کے بعد میاں برادران میں بہت بڑی تبدیلی جنم لے گی اور وہ جمہو ری قدروں کے محافظ بن کر سامنے آئیں گے لیکن عوام کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب میاں برادران نے لوٹوں کی مدد سے پنجاب میں اپنی حکومت کو استحکام بخشنے کی نئی راہ دریافت کر لی۔ میاں صاب کی یہ بقراتی منطق سمجھ سے بالا تر ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر منتخب ہو نے والے ممبران ان کی جماعت کے پرانے وفادار تھے لہذا یہ لوٹا ازم نہیں بلکہ اپنی اصل کی جانب مراجعت ہے۔ ان ممبران کو جنرل پرویز مشرف نے بزورِ قوت اپنے ساتھ ملا لیا تھا لہذا آج وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کر کے اپنی اصلی جماعت میں واپس آگئے ہیں۔ اس اصول کا اطلاق اگر خود میا ں صاحب پر کیا جا ئے تو پھر کیسا رہے گا میاں صاحب کو بخوبی علم ہو گا کہ کبھی وہ خود بھی مسلم لیگ (جونیجو) گروپ کا حصہ تھے جسے جنرل ضیا الحق نے تتر بتر کر کے نئی مسلم لیگ تشکیل دی تھی اور میاں صاحب کو اس کی صدارت پر فائز کیا تھا۔ اس مسلم لیگ کی تشکیل میں جس شخص نے سب سے نما یاں کردار ادا کیا تھا وہ را و لپنڈی کا شیخ رشید تھا ۔ آج وہ سارے کے سارے راہنما اپنی اپنی جما عتوں میں اپنی سیاست کے جوہر دکھا رہے ہیںاور سیاسی نظام کو تقو یت پہنچا رہے ہیں۔ پرانے ممبرز اور ساتھی کا نعرہ لگا کر لوٹوں کو گلے لگا نے کا نیا فلسفہ حقا ئق کو مسخ کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور میاں برادران کو اس غلط روش سے اجتناب کرنا چا ئیے کیونکہ ان کی اس غلط روش کے نتا ئج بڑے مہلک ہوں گے۔۔
فیصل صالح حیات ریاض حسین پیرزادہ اور پی پی پی پیٹریاٹک گروپ کے ممبرانِ اسمبلی کبھی پی پی پی کے جان نثا روں میں شمار ہو تے تھے لیکن آجکل وہ مسلم لیگ (ق) کا سرمایہ ہیں۔اسی طرح پی پی پی میں بہت سے ممبران مسلم لیگ سے وارد ہو ئے ہیں اور سیا سی جما عتوں میں آمدو رفت کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری ہے کیونکہ انتخابی سیاست میں امیدوار اس جماعت کا انتخاب کرتے ہیں جس کے جیتنے کے امکا نات زیادہ روشن ہو تے ہیں۔ شاہ محمود قریشی اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی مسلم لیگ (جو نیجو )سے چھلانگیں مار کر پی پی پی کی کشتی میں سوار ہو ئے تھے تو پھر ان دونوں راہنما ﺅں پر کونساقانون اور ضابطہ لاگو کیا جا ئے گا ۔ سچ تو یہی ہے کہ یونیفکیشن گروپ کے ممبران مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں لہذا وہ اسی جماعت کی قیادت کو جواب دہ ہیں اور اگر اس سے انحراف کر کے وہ مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیتے ہیں تو وہ لوٹے ہیں اور لوٹے کبھی بھی جمہوری روایات کو مضبوط نہیں کر سکتے۔لوٹوں کا ڈوبنا تو اٹل ہے لیکن ڈوبتے ڈوبتے میاں برادران کی شہرت اور اصولی سیاست کو بھی داغدار کر کے چھوڑیں گے ۔۔
میاں محمد نواز شریف کی سیاسی تربیت جنرل ضیا الحق کے زیرِ سایہ ہو ئی لہذا جنرل صاحب کی بہت سی خصوصیات میاں صاحب کی ذات کا حصہ ہیں۔ جمہوری رویوں سے ا جتناب اور ذاتی مفاد کی تقدیم اسکاسب سے واضح ثبوت ہیں۔ لوٹوں کی مدد سے عددی اکثریت ثابت کر نے کا عظیم ا لشان کارنامہ میاں برادران ہی سر انجام دے سکتے ہیں کیومکہ وہ اس میں بڑے ماہر ہیں۔کمال یہ ہے کہ دوسروں کی ٹکٹ پر منتخب ہو نے والوں کو اپنا کہہ کر ساری دنیا کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ بے شمار دلائل بھی جھوٹ کوسچ کا جامہ نہیں پہنا سکتے کیونکہ سچ ایک ایسی روشنی کی مانند ہو تا ہے جو اپنی دلیل خود ہو تا ہے۔ لوگوں کا وجدان سچ کا ادراک اور اسکی پہچان رکھتا ہے لہذا انھیں دھوکہ دینا آسان نہیں ہے۔میڈیا کے حیرت انگیز دور میں حقائق کا چھپا نا ممکن نہیں رہا میڈیا نے لوگوں کو اتنا شعور عطا کر دیا ہے کہ وہ کھوٹے اور کھرے میں تمیز کر سکتے ہیں لہذا میاں صاحب کا لوٹوں کی مدد سے جمہو رہیت پر شب خون آ ئینی، قانونی اور اخلاقی سند حاصل نہیں کر سکتاانھیں جلد اپنی غلطی کا احساس ہو جائےگا لیکن اس وقت تک بازی ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہو گی۔۔
جنرل پرویز مشرف لوگوں کو وردی کے زور پر وفا داریاں تبدیل کرنے پر مجبو ر کرتا تھا ۔ دھونس دھاندلی اور طاقت سے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا تا تھا اور دن دھاڑے اس قبیح فعل کا ارتکاب کرتا تھا موجودہ پاکیزہ لوٹے اسی دور کی یادگار ہیں ۔یہ وہی لوگ ہیں جو جنرل پرویز مشرف کو سو بار وردی میں صدر منتخب کر نے کے ڈرامے کا حصہ تھے لیکن جنرل پرویز مشرف کی اقتدار سے رخصتی کے بعد ان ضمیر فروش ممبرانِ اسمبلی کی کفالت کی ذ مہ داری میاں برادران کے مقدس ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے کیونکہ یہ ان کے اقتدار کے سنگھاسن کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں ۔میاں صاحب ذرا آنکھیں کھو لئے اور پہچا نیے ان چہروں کو یہ وہی چہرے ہیں جو کل تک جنرل پرویز مشرف کے خاشیہ بردار تھے، چوہدریوں کے نمک خوار تھے اور آپ کی مخالفت میں سر پر آسمان اٹھا ئے رکھتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جمہور یت کی خوبصورت پیشا نی پر کلنک کا ٹیکہ ہیں خدا را ان سے دور ر ہیے یہ وفا اور دوستی کی جو قسمیں کھا رہے ہیں یہ سب سراب ہے کیونکہ ذاتی مفادات کے علاوہ یہ کسی کے بھی دوست نہیں ہیں لیکن یہ بات ابھی آپ کو سمجھ نہیں آئی گی کیونکہ اس وقت اقتدار آپ کی کمزوری بنا ہوا ہے اور اس اقتدار کو بچا ے کےلئے آپ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے جس ڈگر کا انتخاب کیا تھا آپ تو اس ڈ گر سے پر ہیز کریں۔ آمریت اور جمہوریت میں کوئی تو حدِ فاصل رکھیں۔ میاں صاحب آپ نے جلا وطبی کا زہر پیا ہوا ہے اگر جلا وطنی بھی آپ کی ذات میں بڑی تبدیلی نہیں لا سکی تو پھر اس ملک میں جمہوریت کامستقبل بالکل تاریک ہے۔۔
اس میں کسی کو کو ئی شک و شبہ نہیں ہو نا چا ئیے کہ زہر مہلک بھی ہو تا ہے موت کی علامت بھی ہو تا ہے ۔ زہر کو لاکھ دلکش رنگوں میں پیش کیا جا ئے خوبصورت چمکتے گفٹ پیپر میں لپیٹا جا ئے جاذبِ نظر اور رنگین انداز سے سنوارا جائے زیبائی اور دلکشی کے پیکروں میں سجایا جائے اور اسے روح افزا اور حیات بخش مشروب کے خطاب سے نوازا جائے اس کی خاصیت میں پھر بھی کو ئی فرق نہیں پڑے گا ۔یہ اپنی جگہ قائم و دائم رہے گی کیونکہ دلکش اور پر فریب انداز اس کی خا صیت کا خاتمہ نہیں کر سکتے ویسے ہی جیسے لوٹوں کو گلے لگانے کےلئے افلا طونی منطق اور موشگا فیاں جمہوریت کےلئے اس کے سمِ قاتل ہونے کی حقیقت کو زائل نہیں کر سکتیں ۔ کو ئی بھی ذی شعور شخص لوٹوں کو جمہوریت کے استحکام ا ، مضبوطی اور فروغ کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتا، ان کے سینے پر جمہو ریت کو بچانے کا کا تمغہ نہیں سجا سکتا کیونکہ لوٹوں کی بنیاد ہی مفادپرستی، جھوٹ، بلیک میلنگ، بد دیانتی اور دھوکہ دہی پر رکھی گئی ہو تی ہے۔جب لوگ زہر کو تریاق کا مقام عطا کرنے کا عہد کر لیں تو انھیں موت سے کوئی نہیں بچا سکتا انکی ہلا کت یقینی ہو تی ہے لیکن انھیں اسکا شعور نہیں ہوتا۔۔
سیاست دانوں کو اس حقیقت کا ادراک ہو نا چا ئیے کہ کچھ نادیدہ ہاتھ جمہوری بساط کو لپیٹ دینے کے در پہ ہیں ۔سیاسی اداکار سیاسی یتیم یونیفکیشن گروپ اور اسٹیبلشمنٹ کے ہر کارے اس کارِ خیر میں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ ان کی اتہا ئی کوشش ہے کہ کسی طرح سے سیاست دانوں کو جمہوریت کش اور نا اہل ثابت کر کے غیر جمہوری قوتوں کےلئے راہ ہموار کی جائے۔ فوجی بوٹوں کی صدا بڑی وا ضح سنا ئی دے رہی ہے کیونکہ با ہمی سر پھٹول اور انتشار کا منطقی انجام یہی ہوا کرتا ہے۔ ایک اور شب خون ایک اور جلا وطنی سامنے نظر آرہی ہے لیکن اب کی بار جلا وطنی کسی محل میں نہیں ہو گی کیونکہ اس دفعہ مشرقِ وسطی میں عوامی تحریکیوں نے خوف و ہراس کی فضا نے سے سعودی عرب کو بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا میاں برادران کےلئے ممکن نہیں ہے ۔ آہنی زنجیرو ں کے بوجھ اور سختیوں کو جھیلنا ان کے بس میں نہیں ہے لہذا ان کےلئے ضروری ہے کہ وہ جمہوری رویوں کو پروان چڑھانے کی جنگ لڑ یں ۔لو ٹوں کو خریدنے اور انکی قوت پر حکومت بنانے کی روش کا باب ہمیشہ کےلئے بند کر دیں ۔عوام با شعور ہیں اور وہ حق اور سچ کا نتا رہ خود ہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہذا بہتر ہا گا کہ ۸۰۰۲ کے انتخابات میں دی گئی عوامی رائے کا احترام کرتے ہو ئے لوٹوں کو دریا برد کر دیا جائے۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔
ہم نے چرغِ عشق جلا یا تو کیا ملا ۔۔ہر طرف سے طلاطمِ موجِ ہوا ملا
ہم کو خدا کے روپ میں بہرو پئے ملے۔وہ اور ہوں گے جن کو بتوں میں خدا ملا
( ڈاکٹر مقصود جعفری )
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button