کھیل و صحت

پاکستان کو آسٹریلیا میں لگاتار پانچویں کلین سوئپ سے بچنے کا چیلنج درپیش

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا اور آخری میچ کل سے ایڈیلیڈ میں شروع ہو رہا ہے جہاں پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا میں لگاتار پانچویں کلین سوئپ سے بچنے کا چیلنج درپیش ہے۔

آسٹریلیا نے برسبین میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے میچ میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد اننگز اور 5 رنز سے شکست دی تھی۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں بیٹنگ لائن کی جانب سے چند اچھی پرفارمنسز دیکھنے کو ملیں لیکن باؤلنگ لائن مکمل ناکامی سے دوچار ہوئی جس کے سبب میزبان ٹیم نے 580 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجا کر پاکستان کو میچ سے باہر کردیا تھا۔

اگر پاکستانی ٹیم ایڈیلیڈ میں بھی شکست سے دوچار ہوتی ہے تو یہ گرین شرٹس کا آسٹریلین سرزمین پر لگاتار پانچواں کلین سوئپ ہو گا جہاں فتح تو دور پاکستانی ٹیم گزشتہ 20 سال میں کوئی ٹیسٹ میچ ڈرا بھی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

پاکستان نے آخری مرتبہ 1995 میں سڈنی کے مقام پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں 74رنز سے کامایبی حاصل کر کے میزبان ٹیم کے خلاف فتح سمیٹی تھی لیکن اس کے بعد سے آسٹریلین سرزمین پر فتح کا حصول دیوانے کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔

1999 میں وسیم اکرم کی قیادت میں جانے والی ٹیم کو 0-3 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا حالانکہ ہوبارٹ ٹیسٹ میں قومی ٹیم فتح کے انتہائی قریب پہنچ گئی تھی لیکن پھر جسٹن لینگر اور ایڈم گلکرسٹ نے شاندار کارکردگی دکھا کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرا دیا۔

انضمام الحق کی قیادت میں 2005-2004 میں آسٹریلین سرزمین پر قومی ٹیم کو تمام میچوں میں یکطرفہ مقابلوں کے بعد تینوں ٹیسٹ میچوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

2010-2009 میں محمد یوسف کی قیادت میں بھی پاکستان کو سڈنی ٹیسٹ میں فتح کا نادر موقع میسر آیا لیکن شکوک و شبہات سے بھرپور خراب فیلڈنگ خصوصاً وکٹ کیپر کامران اکمل کی ناقص کارکردگی کے سبب پاکستان نے ناصرف یہ میچ جیتنے کا موقع گنوایا بلکہ 0-3 سے ایک اور وائٹ واش ان کا مقدر ٹھہرا۔

پھر پاکستان کی ٹیسٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان مصباح الحق کی قیادت میں ٹیم آسٹریلیا پہنچی تو امید تھی کہ شاید اس بار تقدیر بدل جائے لیکن میزبان ٹیم نے یہاں بھی پیشہ ورانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پاکستان کو تینوں میچوں میں شکست دے کر اپنا شاندار ریکارڈ برقرار رکھا۔

اب برسبین ٹیسٹ میں بدترین کارکردگی کے بعد قومی ٹیم کو ایڈیلیڈ میں ایک مرتبہ پھر کلین سوئپ سے بچنے کا سخت چیلنج درپیش ہے اور قومی ٹیم کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی شکست سے بچنا مشکل نظر آتا ہے۔

قومی ٹیم کے کپتان اظہر علی نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم میں تین تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد عباس اور موسیٰ خان کے ساتھ ساتھ امام الحق یا عابد علی میں سے کوئی ایک شان مسعود کے ہمراہ اننگز کا آغاز کرے گا۔

پہلے ٹیسٹ میچ سے فاسٹ باؤلر محمد عباس کو ڈراپ کرنے کے حیران کن اقدام پر ٹیم مینجمنٹ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد ان کو دوسرے میچ کے لیے ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اظہر نے اڈیلیڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمد عباس بہترین کنٹرول کے ساتھ باؤلنگ کرتے ہیں اور وہ اپنے بہترین ردھم میں واپس آ گئے ہیں جس کے بعد ہمیں ان سے دوسرے ٹیسٹ میچ میں اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں حارث سہیل دونوں اننگز میں بری طرح ناکام ہوئے جس کے بعد ان کو میچ سے ڈراپ کر کے امام الحق یا عابد علی سے اننگز کا آغاز کرایا جائے اور کپتان اظہر علی خود نمبر تین پر بیٹنگ کریں گے۔

تاہم پاکستان کے لیے سب سے بڑا لمحہ فکریہ 16سالہ نسیم شاہ کا پہلے ہی ٹیسٹ میچ کے دوران انجری کا شکار ہونا ہے جس کے سبب وہ دوسرا میچ نہیں کھیل سکیں گے اور ان کی جگہ موسیٰ کو ڈیبیو کرایا جائے گا۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ نسیم شاہ بہت باصلاحیت باؤلر ہیں لیکن وہ بھی صرف 16 سال کے ہیں، ہم ان کی صلاحیتوں کو احتیاط کے ساتھ ااستعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ طویل عرصے تک پاکستان کرکٹ کی خدمت کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل نسیم کے ساتھ ایک بڑا حادثہ پیش آیا جہاں ان کی والدہ وفات پا گئی تھیں لیکن اچھی چیز یہ تھی کہ انہوں نے مکمل اعتماد اور رفتار کے ساتھ ٹیسٹ میچ میں باؤلنگ کی۔

اظہر نے موسیٰ کی صلاحیتوں پر بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا قد چھوٹا ہے لیکن وہ جس رفتار کے ساتھ باؤلنگ کرتے ہیں، اس سے امید ہے کہ وہ میچ میں اچھا تاثر چھوڑنے میں کامیاب رہیں گے۔

آسٹریلیا کی ٹیم میچ کے لیے پہلے ہی کوئی تبدیلی نہ کرنے اور گزشتہ میچ کی فاتح الیون برقرار رکھنے کا اعلان کر چکی ہے۔

Junaid

Committed individual adept in efficiently utilizing available resources in completing assigned tasks. Seeking an entry-level position as a fresh graduate of English Literature & Software Engineering, providing a high end administrative duty for the company.

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button