Ultimate magazine theme for WordPress.

فٹ بال ورلڈ کپ2018 کی میزبانی روس، 2022 کی قطر کے حوالے

76

فٹ بال کی عالمی تنظیم  “فیفا” نے 2018 اور 2022 ورلڈ کپ  کے میزبان ممالک کا اعلان کردیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر 2018 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کا تاج روس  کے سر سجا ہے جبکہ 2022 ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز قطر حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

دونوں ممالک تاریخ  میں پہلی بار  فٹبال ورلڈکپ ٹورنامنٹ کی میزبانی کرینگے۔

“فیفا” کے ہیڈکوارٹر واقع زیورخ میں تنظیم کے گزشتہ دو روز سے جاری اجلاس کے اختتام پر  جمعرات کے روز تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی نے خفیہ رائے دہی کے ذریعے دونوں ورلڈ کپ کے میزبان ممالک کا انتخاب کیا۔ جس کے بعد “فیفا” کے صدر سیپ بلاٹر نے ایک پرہجوم کانفرنس میں فاتح ممالک کے ناموں کا اعلان کیا۔

فٹبال ورلڈ کپ  کو دنیائے کا کھیل  کا سب سے  اہم اور مقبول  مقابلہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے میزبان کے انتخاب کو کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیا جاتا ہے۔  2018 اور 2022 کے عالمی کپ کے میزبان ممالک کے ناموں کا اعلان ہوتے ہی  روس اور قطر میں جشن  کا آغاز ہوگیا اور عوام  سڑکوں پر نکل آئے۔

2018 کے ورلڈ کپ کیلیے  کل چار امیدوارن میں سخت مقابلہ تھا جن میں سے انگلینڈ اور روس کو ایونٹ کی میزبانی کیلیے فیورٹ قرار دیا جارہا تھا۔  مذکورہ ورلڈ کپ کیلیے نیدرلینڈ اور بیلجیم  اور اسپین اور پرتگال نے بھی  مشترکہ میزبانی  کی پیشکشیں کر رکھی تھیں۔

تاہم حیرت انگیز طور پر انگلینڈ رائے شماری کے پہلے ہی مرحلے میں میزبانی کی دوڑ سے باہر ہوگیا اور روس تاریخ میں پہلی بار ایونٹ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ امیدوار ممالک میں سے انگلینڈ   اور اسپین پہلے ہی بالترتیب  1966 اور 1982  کے ورلڈ کپ کی میزبانی  کرچکے ہیں۔ جبکہ روس ، نیدر لینڈ، بیلجیم  اور پرتگال کی سرزمینوں پر اب تک فٹبال کا کوئی عالمی کپ منعقد نہیں ہوا۔

2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کیلیے کل پانچ امیدواران میدان میں تھے جن میں آسٹریلیا، جاپان، قطر، جنوبی کوریا اور امریکہ شامل تھے۔ تاہم فیورٹ قرار دیے جانے والے امریکہ اور آسٹریلیا جیسے بڑے ممالک کے مقابلے میں “فیفا” ایگزیکٹو کمیٹی کی رائے شماری میں ایک چھوٹی خلیجی ریاست قطر   کو 2022 کے عالمی کپ  کی میزبانی کا اعزاز دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

امیدوار ممالک میں سے آسٹریلیا کو اب تک کسی ورلڈکپ کی میزبانی کا  اعزاز نہیں ملا  جبکہ امریکہ 1994 اور جاپان  اور جنوبی کوریا 2002 کے عالمی کپ کی مشترکہ میزبانی کرچکے ہیں۔

حتمی رائے شماری سے قبل  2018 کے ورلڈ کپ  کی میزبانی کیلیے چاروں امیدوار ٹیموں کی طرف سے “فیفا” ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان  کو آدھا، آدھا گھنٹہ طویل  پریزینٹیشنز دی گئیں جن میں ان ممالک نے 2018 کے عالمی کپ کے انعقاد کے حوالے سے اپنی اپنی صلاحیت، تجاویز اور تیاریوں کا جائزہ پیش کیا۔ 2022 کے عالمی کپ کے امیدواران ممالک کی جانب سے “فیفا” حکام کو گزشتہ روزپریزینٹیشنز دی گئی تھیں۔Football

اپنے اپنے ملک کی پیشکش  کیلیے حمایت کے حصول کی غرض سے میزبانی کے امیدوار ممالک  سے تعلق رکھنے والی کئی  اہم اور عالمی شخصیات بھی زیورخ پہنچی تھیں جن میں سرِ فہرست برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون، سابق امریکی صدر بل کلنٹن،آسٹریلیا کے گورنر جنرل کوئنٹن برائس،  قطر کے نائب امیر  شیخ محمد بن حماد الثانی اور وزیرِ اعظم شیخ حماد بن جاثم، آسٹریلوی نژاد ہالی ووڈ اداکار ہف جیک مین اور ماڈل ایلی میک فرسن، انگلش فٹبال اسٹار ڈیوڈ بیکھم  اور دیگر شامل تھے۔

2010 کا ورلڈ کپ جنوبی افریقہ میں ہوا تھا جس کا فاتح اسپین قرار پایا تھا  جبکہ 2014 کے فٹبال کپ کے میزبانی کا تاج برازیل پہلے  ہی اپنے سر سجا چکا ہے جہاں آج کل  آئندہ ورلڈ کپ کیلیے اسٹیڈیمز کی تعمیر کا کام اور دیگر تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

بشکریہ VOA

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.