تحقیقاتمنظر نامہ

مائنڈ سائنس اور اسماءالحسنٰی

تحریروتحقیق: محمد الطاف گوہر
ذہن انسانی کے کمالات کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس نے قوانین قدرت کو نہ صرف سمجھا بلکہ اپنی سوچوں کی نہج کو ان سے ہمکنار بھی کیا اور انسانیت کیلئے عظیم راہنما اور محسن ثابت ہوا۔ اگر آج ہم کسی تپتی اور آگ برساتی دھوپ میں ایک راحتوں ، سہولتوں سے بھرے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہیں تو کس کے باعث؟ آج asma-ul-husnaاگر ہم صدیوں پر محیط فاصلے چند گھنٹوں میں طے کر لیتے ہیں تو کیسے؟ آج اگر اذیت میں مبتلا کوئی فرد اپنی تکلیف سے بچ کر صحت کی طرف لوٹتا ہے تو کیسے؟ اس مسیحائی کا صلہ کس کیلئے؟ قدرت کے رازوں سے شناسائی اور تسخیر کی راہوں پر گامزن انسان کے انکشافات کے باعث نہ صرف ذہن کے بند دریچے کھولنے شروع کردئے بلکہ ذہنی پستی کی آنکھیں چکا چوند کر دیں۔
کمپیوٹر سائنس کے دور میں الفاظ کی قوت کا اندازہ آج کے اس ا نٹرنیٹ کے دورسے بہتر پہلے کبھی نہ لگایا گیا ہوگا، کیونکہ تلاش کے الفاظ ، کی ورڈز کے باعث سائبرسپیس کی اس عالمگیر سلطنت میں اس فرد کیلئے کامیابی کا راز ہے جو اسکی حقیقت کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ اس کو بہتر طور استعمال بھی کرتا ہے ۔ہر کوئی اپنے کاروبار، خدمات ، پرڈکٹس یا تحاریر کو اس پوری دنیا پر محیط ، گلوبل ولیج میں سب سے بہتر اور سب سے پہلے پیش کرنے کا خواہاں ہے جبکہ سرچ انجن اس کاوش میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، البتہ اس طلسماتی تلاش کی چابی  ’ تلاش کے الفاظ ‘ یعنی کی ورڈز keywordsہیں جو کہ کسی بھی انٹرنیٹ سرچ انجن کیلئے ایک حکم ، کمانڈ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسی کے باعث سرچ انجن معلومات کا انبار لگا دیتے ہیں ۔ مگر اس معلومات کی دوڑ میں درجہ اول اسی کو حاصل ہوتا ہے جو الفاظ کی طاقت کو بہترا ستعمال کرتا ہے اور سبقت لے جاتا ہے ، جبک ہر ویب سائٹ کسی بھی ایک لفظ یاچند الفاظ کے دھاگے سے بندھی ہوئی ہے۔جبکہ کوئی تلاش کرنے والا کسی بھی سرچ انجن پر مطلوبہ الفاظ لکھ کر جب تلاش کرتا ہے تو اسی تلاش سے ملتی جلتی معلومات کا ڈھیر لگ جاتا ہے جوکہ اس بات کا علمی نمونہ پیش کرتا ہے کہ الفاظ کس قدر طاقت رکھتے ہیں اور کس طرح سے اپنی مماثلت کو دنیا کے کونے کونے سے کھینچ لاتے ہیں ۔
آج طعبیاتی سائنس ، فزکس اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ اس دنیا کی اساس الےکٹران ہے جوکہ اس دنیا میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیںاور ہر شے کی بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر شے کے وجود کا باعث بنے ہوئے ہیں ، جبکہ الیکٹران صرف اور صرف اےک کمترےن توانائی کا ذرہ (Energy Particle)ہے اور ےہ توانائی ہی کی خصوصےت ہے جو کہ اپنے آپ کو الےکٹران مےں تبدےل کرتی ہے اور بعد مےں مادے مےں تبدےل ہوجاتی ہے۔ مشہور سائنسدان البرٹ آئنسٹائن کی مساوات  بھی تمام مادہ اور توانائی کے اےک دوسرے مےں تبدےل ہونے کے عمل کہ تقوےت دےتی ہے۔ سائنسدانوں کی تمام تحقےق اب تک ہمےں ےہاں تک لانے مےں ےقےنی طور پہ کامےاب ہوئی ہے کہ ےہ درخشاں توانائی اپنے بنےادی درجہ پر اس کائنات مےں جاری و ساری ہے، جبکہ ہر چےز اےک مخصوص جگہ گھےرتی ہے اورپھر توانائی مےں تبدےل ہو سکتی ہے۔ جبکہ اس توانائی کا عمل دخل ہماری زندگی کو محیط کئے ہوئے ہے۔ الفاظ بھی توانائی کامنبع ہیں ، اوراگر کسی لفظ کوتصور کے ذریعہ ذہن کی تلاش کا حصہ بنا دیا جائے تو یہ بات کس طرح ممکن نہیں کہ وہ کسی ردعمل سے عاری رہے؟ اور اگر کسی لفظ کو زبان سے ادا کیا جائے اور اس کا کوئی ردعمل نہ ہو؟
راز جو از لوں سے پنہاں رہا اور ہر دور کے دانشور اسکی تلاش میں سر گرداں رہے مگر اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے والے بہت کم لوگ ہوئے۔ وہ راز اگر کسی دنیا کے متلاشی نے حاصل کیا تو اس کو دفن کر گیا ، کسی نے اس کی حرص کی اور کوئی اس پر طاقت سے غلبہ پانے کا خواہشمند رہا اور وہ سربستہ راز صدیوں سے عالم انسانیت کیلئے موضوع تجسس بنا رہا۔ اس کو پانے کی تگ و دو میں انسان نے نہ جانے کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھائیں مگر ماسوائے چند ایک خوش نصیبوں کے کسی پہ بھی آشکارہ نہ ہو سکا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس راز کے کرشمے اکثر انسانی زندگی کا حصہ بنتے رہے مگر انسان آج تک اس گتھی کو سلجھا نہ پایا۔ اس تگ و دو میں نہ جانے کتنی زندگیاں صرف ہوئیں ؟
اگر کسی کوا سکا ادراک ناآشنائی کے دور میں ہوا تو وہ حیرت کے سمندر میں غرق ہو گیا مگر آشنائی کی لذت کا کیا کہنا جسکی منزل بھی واضع اور سفر بھی خوب کہ ہر شے کی حقیقت کی سوجھ بوجھ بھی آسان ، اس پہ آشکارہ ہوا تو اس نے دلوں پر بلکہ زندگیوں پر حکومت کا سماں باندھ دیا اور باقی خالی ہاتھ رہ گئے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس حقیقت کا اظہار ازل سے ادیان سلامتی کرتے آئے ہیں مگر انکو اہمیت دینا اور زندگیوں میں شامل کرنا تو کجا ، بند اک مقدس طاق میں رکھ دیا اور کھول کر سمجھنا گوارہ نہ کیا گیا۔ اس راز کو سمجھنا ہی اس کے آشکار ہونے کیلئے کافی ہے۔ کوانٹم فزکس ،میٹا فزکس اور روحانیت کے موضوعات اب قلا بیں ملانی شروع کر چکے کیونکہ سچائی از لوں سے ایک ہے ، ہر سچائی کے متلاشی کی منزل ایک ہوتی ہے مگر اصل راستہ تو وہی اچھا ہے جو کم از کم وقت میں طے ہو؟ آج کا دور پتھروں کا دور نہیں مگر پھر بھی کچھ پتھر موجود ہیں جو سچائی سمجھنا نہیں چاہتے ، ایک انسان کی نظر اب محدود نہیں رہی بلکہ لا محدود ہے حتی کہ وہ گھر بیٹھے نہ صرف اس کی رسائی کرہءارض تک محیط ہے بلکہ کہکشاوں کی خبر رکھتا ہے اور سارے یہ کمالات اس کی دسترس میں ہیں جو علم نافع سے فیض یاب ہے۔آئیے آج اس راز عظیم کے گل فشانیوں سے پردہ اٹھائیں اور زندگیوں کو اس لذت آشنائی کی مہک سے لبریز کر دیں۔ اس پنہاں راز کو آشکار کرنے میں لاتعداد انسانی زندگیاں صرف ہو گئیں مگر کبھی تو معمولات زندگی نے اسے نظروں سے اوجھل رکھا اور کبھی تفکرات بے معنی اس پر چھائے رہے۔ یہ ایسا راز ہے کہ اسکا افشاں ہونا انسانی زندگی میں ایک نئی کھڑکی ، ایک نیا چینل کھلنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا بیج ہے اگر انسانی ذہن میں بو دیا جائے تو کائنات کی تمام خوبصورتیاں اور کامیابیاں ہاتھ باندھے استقبال کیلئے کھڑی ہوں۔
اس فطرت کا حسین شہکار اور راز جو آشکار ہونے کو ہے ، وہ ہے قدرت کا قانون جاذبیت، قانون کشش، قانون مقناطیسیت، جس کا عمل دخل نہ صرف انسانی زندگی کے ہر لمحہ پر محیط ہے بلکہ اس کائنات کے کا ذرہ ذرہ اس میں جکڑا ہو ا ہے۔ ہمارے ذہن جو کچھ ہمارے لئے محفوظ کرتے رہتے ہیں ہماری زندگی اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ یعنی ہم اپنی زندگی کو یا تو کامیابیوں کے راستے پہ ڈالتے ہیں یا پھر ناکامیوں کے جو صر ف اسی کے باعث ہے جو ہم پہلے سے ہی ذہن کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔یعنی ہمارے ذہن میں بسے رہنے والے وہ خیالات جو ہم فراموش نہیں کر سکتے وہی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہماری زندگی کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ قدرت کا قانون کشش اس طرح سے کام کرتا ہے جیسے بہتے پانی کو معلوم ہے کہ بلندی سے نیچے کیطرف بہنا ہے ، جیسے سیب کی بیج کو معلوم ہے کہ میرے ساتھ آم نہیں لگ سکتا۔ آج اگر آپ کو یہ راز معلوم ہوگیا تو یقین جانے زندگی کسی سایہ دار درخت کی گھنی چھاوں میں آجائے گی۔ ہماری انفراد ی زندگیاں اکثر مسائل میں الجھی رہتی ہیں اور ہم سمجھ نہیں پاتے کہ الجھنیں سلجھ کیوں نہیں رہیں ، اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ مسائل اور پریشانیوں کا حل کس طرح سے ہو سکتا ہے تو یقیناً ہم لذت بیکراں سے ہمکنار ہو جائیں گے۔ کوشش کروں گا کہ ان کیفیتوں کو الفاظ کے احاطہ میں لے آوں جن کے باعث زندگی قرار پائے۔ آج دنیا کے بہت سے خطوں میں انتہائی خاص اور مہنگے سیمینار میں اگر شمولیت کا موقع ملے تو پتہ چلے گا کہ اس قانون قدرت کو کس طرح سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے طریقے بتلائے جاتے ہیں، اگر دولت مند ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر ذہن کا دولت مندی کا تھرمو سٹیٹ بحال کریں اور اسکو سو درجہ پر لیجائیں۔ اگر لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں تو اپنے اندر محبت کا بیج بو دیں کیونکہ اندر کے خیالات کسی بھی مقناطیس کی خصوصیت سے کم نہیں۔ ہماری زندگیوں کے راستے ہمارے ذہن میں بیٹھے ہوئے خیالات کے مرہون منت ہیں ، جیسی سوچ ہوگی ویسے ہی حالات سے واسطہ رہے گا۔ اور اگر کوئی اپنے اندر نفرت ، کدورت ، کینہ اور لالچ پالے ہوئے ہے تو کیا خیال ہے اسکے اثرات بدل سکتے ہیں؟ اور پھر شکوہ کریں کہ ہماری قسمت ہی ایسی تو کیا خیال ہے کی ہم صحیح کہ رہے ہیں ؟ مائنڈ سائنس کی تحقیقات اور طریقہ کار میں جو عوامل شامل ہیں ان میں بھی اس بات کو اہمیت حاصل ہے کہ انسانی ذہن ایک مقناطیس کیطرح سے کا م کرتا ہے اور ہر وہ شے اپنی طرف کھینچتا ہے جس کا عکس پہلے سے ہی اس کے اندر موجود ہو۔
یعنی جیسی سوچ و فکر میں مگن ہونگے ویسے ہی حالات سے پالا پڑے گا، لہٰذا اپنے آپ کو محبت ، ہمدردی ، الفتوں اور مثبت سوچوں سے سیراب کر دیں تاکہ وہی کچھ ہمیں زندگی واپس لوٹا سکے۔ یہی وہ بیج ہیں جو اپنا پھل دیئے بغیر رہ نہیں سکتے۔ جائیے اور کسی بھی چمن کی راہ لیجئے اور ذرا دیدہ دل وا کرکے چمن کا نظارہ کیجئے جو قدرت کے اس شہکار کا شاندار نظارہ پیش کر رہا ہے۔ ایک ہی جیسی زمین پر ایک ہی جیسے ماحول میں کہیں گلاب ہے تو کہیں نرگس اور کہیں موتیا، اور کہیں آم ، اور کہیں سیب اس بات کی گواہی سے رہے ہیں کہ ہم تو صرف اک اظہار ہیں اپنے اس بیج کا جو اس زمیں میں بویا گیا۔ اور یہ ممکن نہیں کہ گلاب کے ساتھ نرگس لگے اور موتیے کے ساتھ سورج مکھی ، تو ہم کس راہ کی تلاش میں ہیں؟
آج اگر کوانٹم فزکس ، میٹا فزکس شعوریت کی جھل ملوں میں کامیابی، صحت اور سکون تلاش کرنے میں سرگرداں ہو کر آشکار کرتی ہے کہ انسان جس سوچ کو ذہن میں بٹھا کر زندگی کی تگ و دو کرے گا نتیجہ میں وہی حاصل ہوگا جس سوچ کا بیج بو چکا ہوگا ، تو اللہ کی رحمت اور مہربانی کا اندازہ کریں کہ اس نے ہمیں سوچنے کے انتہائی اعلیٰ رستے بتا دئے کہ درحقیقت تمام توانائیوں ، کامیابیوں ، صحت اور سکون کا مرکز صرف اللہ کی ذات ہے ، وہیں سے ہر شے کی بازگشت آتی ہے۔ جبکہ اللہ نے اپنے بہت سے خوبصورت نام بھی بتائے ہیں یعنی اس ذات تک رسائی کیلئے اسکے پہلو ، اب اگر ایک انسان محبت کے چینل کو اپنے لےے کھولنا چاہتا ہے تو ” الودود” کے چینل سے اپنا ناطہ جوڑ لے اور ودود کے تصور سے اپنے ذہن کے گوشے روشن کردے یا پھر اپنی زبان اس کے ورد سے تر کر لے اور پھر دیکھے کی کس طرح ہر طرف سے محبت کی راہیں کھل جاتی ہیں ، اور اگر صحت و سلامتی کا متلاشی ہے تو اسکے لئے ” السلام ” کا راستہ اپنا لے ، اور کائنات سے سلامتی کو اپنی طرف دعوت دے کہ ہر طرف سے سلامتی کے دروازے کھل جائیں ۔ سبحان اللہ!!! یعنی ایک مرکز سے فیض یاب ہونے کے مختلف زاویئے بتائے ہیں پھر ایک بار اللہ کا شکر ادا کریں جو “ الرزاق” بھی ہے کہ اس بابرکت نام کے طفیل رزق کی فراوانی ہوجاتی ہے ، جبکہ وہ ذات باری تعالیٰ ” التواب ” بھی ہے اور ” الرحمن” بھی۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button