URDUSKY || NETWORK

وہ نظام جو ایٹمی جنگ کے ممکنہ خطرے کا اندازہ لگاتا ہے

گذشتہ ہفتے جب میں سو کر اٹھا اور کھڑکی سے باہر دیکھا تو سورج اپنی آن بان سے چمک رہا تھا۔ نیویارک میں میرے علاقے میں کافی سکون تھا اور اسے دیکھ کر میں نے خود سے کہا ’بہترین ہو گیا۔ شکر ہے رات میں جوہری جنگ نہیں چھڑی۔‘

6

سیتھ بون
بی بی سی فیچر

میں امریکہ میں ’گلوبل کیٹاسٹروفک رسک انسٹیٹیوٹ‘ کے لیے کام کرتا ہوں جو ایک ایسا تھنک ٹینک ہے جو دنیا کو درپیش خطرات سے متعلق کام کرتا ہے۔

میرا کام انسانیت کو درپیش مستقبل کے سنگین خطرات پر نظر رکھنا ہے۔ شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ میں رات کو یہ سوچ کر سویا ہوں کہ شاید کل جوہری جنگ چھڑ جائے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے ابتدائی چند دنوں میں کشیدگی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا اور اس تنازعے کے جوہری جنگ میں تبدیل ہونے کا خدشہ تھا۔ میرا ملک امریکہ، یوکرین کا حمایتی ہے اور یہ حمایت اسے روس کی جانب سے جوہری حملے کا ممکنہ ہدف بناتی ہے۔ مگر شکر ہے ایسا نہیں ہوا۔

چاہے یوکرین پر حملہ ہو یا کسی اور واقعے کا نتیجہ جوہری جنگ کی صورت میں نکلے، یہ انتہائی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ایک عام انسان سوچتا ہے: کیا مجھے کسی محفوظ جگہ پناہ لینی چاہیے؟

ایک پورا معاشرہ سوچتا ہے کہ کیا خوراک کی پیداوار کے عالمی نظام کو ایسے وقت کی تیاری کر کے رکھنی چاہیے جس میں جوہری جنگ چھڑی ہوئی ہو؟

بدترین صورتحال میں ایٹمی جنگ عالمی تہذیب کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں مستقبل بعید میں بڑے پیمانے پر نقصان کا اندیشہ ہے۔ تاہم کسی واقعے کے بارے میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس کا نتیجہ جوہری جنگ کی صورت میں نکلے گا اور نہ ہی اس کے اثرات کے متعلق پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

جوہری جنگ کے خطرے کا اندازہ لگانے اور ایسا کرنے میں پیش آنے والی مشکلات۔۔۔ اس تناؤ کو آپس میں ہم آہنگ کرنا ہی میری تحقیق کا بنیادی مرکز ہے۔

تو غیر یقینی صورتحال کا کیا کریں؟ اور یہ ہمیں موجودہ دور کے واقعات سمجھانے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے؟

خطرے کو عام طور پر کسی برے واقعے کے پیش آنے کا امکان سمجھا جاتا ہے، اور واقعہ پیش آنے کی صورت میں اس کی شدت سے ضرب دی جاتی ہے۔

ماضی کے واقعات کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے عام خطرات کی شدت بھانپی جا سکتی ہے۔

مثال کے طور پر کار حادثے میں آپ کے مرنے کا کتنا خطرہ ہے، اس کا اندازہ ماضی میں ہونے والے کار حادثات کے ڈیٹا کو مختلف درجوں (جیسے آپ کی عمر، اور اپ کہاں رہتے ہیں) میں تقسیم کر کے لگایا جا سکتا ہے۔

اگرچہ آپ کی کار حادثے میں موت نہیں ہوئی لیکن باقی بہت سے لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں اور یہ ڈیٹا خطرے کی شدت بھانپنے کے لیے قابلِ اعتماد ہے۔ اس ڈیٹا کے بغیر انشورنس کی صنعت اپنا کاروبار چلا ہی نہیں سکتی۔

لیکن اسی طریقہ کار سے جوہری جنگ میں آپ کی موت کے خطرے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اب سے پہلے صرف ایک جوہری جنگ (دوسری عالمی جنگ) ہوئی ہے اور ایک ڈیٹا سیٹ کافی نہیں۔

اس کے علاوہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم دھماکے 77 سال پہلے ہوئے، اور وہ حالات آج سے بہت مختلف تھے۔

جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی اس وقت ایٹمی ہتھیار ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئے تھے اور جب جاپان میں بم دھماکے ہوئے تو امریکہ واحد ملک تھا جس کے پاس ایٹمی ہتھیار تھے۔

اس وقت کوئی جوہری ڈیٹرنس یعنی جوہر دفاعی صلاحیت نہیں تھی، اور ایک ملک کے جوہری جنگ چھیڑنے کی صورت میں دوسرے کے نقصان پہنچانے کا خطرہ بھی نہیں تھا۔ اس دور میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر کوئی ممانعت بھی نہیں تھی، اور نہ ہی ان ہی اس حوالے سے کوئی بین الاقوامی معاہدے موجود تھے۔

’اگر ہمیں جوہری جنگ کے خطرے کا اندازہ دوسری عالمی جنگ سے لگانا پڑے تو ہماری سمجھ میں بہت محدود چیزیں آئیں گی۔‘

تاہم صرف اس ایک ڈیٹا سیٹ میں بھی بہت سی ایسی معلومات ہیں جو ہمارے کام آ سکتی ہیں اور مستقبل کے خطرے کو سمجھنے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال ایسے واقعات ہیں جو ایٹمی جنگ کا باعث بنے، جیسے کیوبا کا میزائل بحران۔

امید ہے کہ یوکرین پر روس کا حملہ بھی ایک اور ڈیٹا سیٹ فراہم کرے گا۔ لیکن اگر یہ جنگ واقعی جوہری جنگ میں تبدیل ہو جائے تو پھر ایسا ممکن نہیں۔

74 ’پارٹ وے‘ ایونٹس: جن میں سے 59 میرے گروپ کی جانب سے جوہری جنگ کے امکان پر کی گئی تحقیق پر مبنی تھے، میں ان سے واقف ہوں۔ اس کے علاوہ ایک اور تحقیق سے بھی واقفیت رکھتا ہوں جس میں سیارچوں میں ہونے والے دھماکوں کو غلطی سے جوہری حملے سمجھا گیا۔

یقینی طور پر اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں، جن میں کچھ ایسے ہیں جن کا کوئی عوامی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

ایک اور طریقہ جوہری جنگ چھڑنے کے ممکنہ منظرناموں کی تصوراتی نقشہ سازی ہے، اس سے بھی ہمیں کافی معلومات مل سکتیں ہیں۔

اس میں دو قسم کے منظرنامے ہو سکتے ہیں: جان بوجھ کر شروع کی جانے والی جوہری جنگ جس میں ایک فریق پہلے جوہری حملہ کر دے، جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران ہوا۔ اور نادانستہ طور پر چھڑنے والی جوہری جنگ جس میں ایک فریق خود کو جوہری حملے کی زد میں سمجھتے ہوئے دوسرے پر جوہری ہتھیار چلا دے۔

اس کی مثالوں میں ایک تو سنہ 1983 کا ایبل آرچر واقعہ ہے جس میں سابق سوویت یونین نے نیٹو کی جنگی مشقوں کا غلط مطلب نکالا اور دوسری مثال 1995 میں ناروے کا راکٹ حادثہ جب سائنسسی تجربے کو میزائل سمجھا گیا۔

بلاخر اب ان خاص واقعات کے بارے میں ایسی معلومات موجود ہے جو رہنما گائیڈ کا کام کر سکتی ہے۔ خاص طور پر روس اور یوکرین کی جنگ میں ایک اہم پیرامیٹر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ذہنی حالت ہے۔

اگر تو پوتن کو غصہ آ گیا، ان کا ذہن الجھ گیا، انھوں نے خود کو شرمسار محسوس کیا یا اگر ان کے ذہن میں خودکشی کے خیالات آنے لگے تو اس صورت میں جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے۔

دوسرے اہم عناصر میں یہ شامل ہے کہ آیا یوکرین روسی فوج سے لڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، یا نیٹو براہ راست فوجی کارروائیوں میں شامل ہو جائے، یا فالس الرٹ جیسا کوئی اور واقعہ ہو جائے۔

اس طرح کے واقعات کی تفصیلات جوہری جنگ کے متعلق اندازہ لگانے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔

اوپر دیے گئے تمام عناصر جوہری جنگ کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مددگار ہیں۔ خطرے کا اندازہ لگاتے ہوئے ہمیں اس کی شدت کا اندازہ لگانے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔

پہلے جنگ کی تفصیلات، کتنے جوہری ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں، ان ہتھیاروں میں کتنا دھماکہ خیز مواد تھا، یہ ہتھیار کتنی بلندی سے اور کس کس مقام پر داغے گئے، جنگ کے دوران اور کون کون سے غیر جوہری حملے ہوئے وغیرہ۔ یہ تفصیلات ابتدائی نقصان کا تعین کرتی ہیں۔

دوسری حصے میں ہم جوہری حملے کے بعد کے نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا بچ جانے والوں کو خوراک، لباس، چھت جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی تک رسائی ہے؟

ثانوی اثرات کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے، جیسے جوہری حملے کے بعد موسم سرما کتنا شدید ہو گا، کیا زندہ بچ جانے والے جدید تہذیب کی کوئی جھلک برقرار رکھنے کے قابل ہوں گے؟ اگر تہذیب مکمل طور پر ختم ہو جائے تو کیا زندہ بچ جانے والے یا ان کی اولاد اسے دوبارہ تعمیر کر پائے گی؟ یہ تمام عوامل ایٹمی جنگ کی وجہ سے ہونے والے طویل مدتی نقصانات کا تعین کرتے ہیں۔

کوئی بھی جوہری جنگ خواہ وہ کتنی ’چھوٹی‘ کیوں نہ ہو، متاثرہ علاقوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔ تاہم جو چیز جوہری ہتھیاروں کو اتنا پریشان کن بناتی ہے وہ ایک دھماکے سے ہونے والا نقصان نہیں۔ یہ نقصان اپنے طور پر بہت بڑا ہو سکتا ہے لیکن اس کا موازنہ روایتی، غیر جوہری دھماکہ خیز مواد سے نہیں کیا جا سکتا۔

اس کی مثال دوسری جنگِ عظیم ہے: اس تنازعے میں مرنے والے تقریباً 75 ملین افراد میں سے صرف دو لاکھ جوہری ہتھیاروں سے ہلاک ہوئے۔ برلن، ہیمبرگ اور ڈریسڈن جیسے شہروں میں کی گئی بمباری کی وجہ سے نسبتاً زیادہ تباہی ہوئی۔ اگرچہ جوہری ہتھیار خوفناک ہیں، لیکن روایتی ہتھیار بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف پابندی بہت اہم ہے۔ یہ پابندی جوہری طاقت کے حامل ممالک کو کسی بھی آزمائش میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرنے سے روک سکتی ہے۔

اگر ایک جوہری ہتھیار استعمال کرنا ٹھیک ہے، تو شاید دو، یا تین، یا چار، اور اسی طرح کئی مزید ہتھیار استعمال کرنا بھی ٹھیک ہے۔۔۔جب تک کہ بڑے پیمانے پر تباہی نہ ہو۔

خطرے کی بنیاد پر ’چھوٹی‘ اور ’بڑی‘ ایٹمی جنگ کے درمیان فرق ضروری ہے۔ صرف ایک جوہری ہتھیار کے مقابلے میں اگر 1000 جوہری ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں تو آپ کے اور میرے جیسے لوگوں کے مرنے کا امکان زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ انسانی تہذیب دوسری جنگِ عظیم کی طرح ایک جوہری ہتھیار یا کم تعداد میں جوہری ہتھیاروں کا مقابلہ تو کر سکتی ہے لیکن اگر یہی ہتھیار زیادہ تعداد میں استعمال ہوں تو تہذیب کے بچنے کی صلاحیت کو جانچنا ابھی باقی ہے۔

اگر عالمی تہذیب ناکام ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات بنیادی طور پر زیادہ سنگین زمرے میں آتے ہیں، ایسی صورت حال جس میں انسانیت کا وسیع تر مستقبل اور طویل مدتی مفادات۔۔۔۔ سب داؤ پر لگ جاتا ہے۔ کتنے جوہری ہتھیار چلائے جائیں تو تہذیبیں اس سنگین زمرے میں آ جاتی ہے، اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اس تمام غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے خطرے کا پہلے سے اندازہ کرنا ہی بہتر ہے۔ اسی تناظر میں جوہری جنگ کے خطرے سے متعلق میرے گروپ کی جانب سے کی گئی تحقیق پر دو قسم کی تنقید کی جاتی ہے۔

کچھ لوگوں کو جوہری ہتھیاروں کی مقدار پر اعتراض ہے تو دوسرے یہ کہتے ہیں کہ اس تحقیق میں زیادہ مقدار کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ جن کا خیال کہ مقدار زیادہ ہے وہ کہتے ہیں کہ جوہری جنگ ایک ایسا خطرہ ہے جس میں درست مقدار کے متعلق اندازہ نہیں لگایا جا سکتا لہذا کوشش کرنا بھی غلط ہے۔

جبکہ ’کافی مقدار نہیں‘ والے گروپ کا کہنا ہے کہ درست فیصلہ سازی کے لیے خطرے کا صحیح تخمینہ لگانا ضروری ہے۔ اور کچھ نہ ہونے سے کچھ نہ کچھ مگر ناقص اور اور غیر یقینی تخمینہ ہی بہتر ہے۔

میری نظر میں ان دونوں نقطہ نظر میں کچھ خوبیاں ہیں، اور میں نے جوہری جنگ کے خطرے کا تجزیے کرنے والوں کو اپنی رائے سے آگاہ کیا ہے۔ بہت سے ایسے اہم فیصلوں کا انحصار جوہری جنگ کے خطرے پر ہے۔۔۔ جیسا کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کو اپنے ہتھیاروں کا انتظام کیسے کرنا چاہیے اور اسلحے کی تخفیف کیسے کرنی ہے۔

اس سے ہمیں خطرے کو کم کرنے کی مضبوط وجہ ملتی ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ اس کوشش میں ہم عاجزی اپنائیں اور عام حالات کے برعکس خطرے کے بارے میں زیادہ جاننے کا دعویٰ نہ کریں۔

خطرے کا غلط اندازہ لگانا اپنے آپ میں ایک خطرہ ہے۔۔۔ اس سے غلط فیصلہ سازی کا خطرہ ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم خطرے کا جتنا ممکن ہو درست اندازہ لگائیں۔

پھر موجودہ صورت حال یعنی یوکرین پر روسی حملے کے بارے میں کیا اندازہ ہے؟ کیا اس جنگ کے جوہری جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے؟

غیر یقینی اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے میں آپ کو قطعی طور پر کوئی جواب نہیں دے سکتا۔۔۔ ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بشکریہ: بی بی سی