تحقیقاتتعلیم و تربیتصنعت وتجارتنوجوان

اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ

اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ

سائبر ٹھگ؛موبائل ٹھگ؛لینڈ لارڈ ٹھگ؛فقیر نما ٹھگ؛ہینڈ فری ٹھگ؛کارپوریٹڈ ٹھگ؛سیاسی ٹھگ

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر
پرانے وقتوں میں سیدھے سادھے لوگوں کو کامیابی کے ساتھ لوٹنے والے افراد کو ٹھگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان میں کمال بات یہ ہوتی تھی کہ لوٹے جانے کے عمل میں موصوف سیدھے سادے لوگوں، یعنی شکار کی رضا مندی بھی شامل ہوتی تھی، کیونکہ ٹھگ کسی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں ہوتے بلکہ اسی دنیا کے باسی ،انتہائی چاپلوس اور گفتگو کے ماہر ہوتے ہیں جبکہ انکو چور ، ڈاکو اور رہزن کبھی بھی نہیں کہا جا سکتا ا لبتہ کسی نہ کسی طرح سے آپ انکو نوسرباز کہہ سکتے ہیں ۔ حضرت ٹھگ ایک معتدل قسم کی قوم ہے ، نہ تو یہ چوروں کی طرح بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ راتوں کو گھروں میں نقب لگاتے پھریں اور نہ ہی نڈر ڈاکوؤں کیطرح سر عام دندناتے ہوئے لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں بلکہ یہ دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے شکار کے ساتھ ہنسی خوشی کھاتے پیتے اور اسے لوٹ کر چلے جاتے ہیں کہ لٹنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔ انکے اس کمال کے باعث میں انہیں اس نوع کی اعلیٰ قوم کہو نگا جو نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں مگر اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں اور کامیابی کا گراف دوسروں کی نسبت سے کئی گنا زیادہ ہے۔آج اکیسویں صدی میں ٹھگوں کی قوم میں اگر ایک طرف جدت آئی ہے تو دوسری طرف انہوں نے اپنے اندر کلاسیفکیشن بھی کر رکھی ہے۔ جبکہ ان کی یہ تقسیم نہ تو طبقاتی نوعیت کی ہے اور نہ ہی نظریاتی بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق افراد تک رسائی اور ان کو اپنی قربت سے فیضیاب کرنا ایسا امر ہے جو ترجیحی بنیادوں پر اس قوم کو متقسم کرتا ہے۔ انکی تمام اقسام کی معلومات تو کوزے میں بند نہیں ہو سکتی البتہ چیدہ چیدہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں؛
سائبر ٹھگ
موبائل ٹھگ
لینڈ لارڈ ٹھگ
فقیر نما ٹھگ
ہینڈ فری ٹھگ
کارپوریٹڈ ٹھگ
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
پرانے وقتوں کے ٹھگوں کا طریقہ کار کچھ دقیانوسی سا ہوتا تھا ، صرف نفسیاتی حربے استعمال کرکے اپنا ہدف حاصل کرتے تھے ، بچارہ لٹنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا تھا اور وہ چلتے بنتے تھے ، مگر جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی ٹھگوں نے بھی ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کر کے وقت کے ساتھ کندھے سے کندہ ملانا شروع کر دیا۔ آج کل سائبر ٹھگوں نے انٹرنیٹ پر ایک بہت بڑا بزنس شروع کیا ہو ا ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ اپکے ای میل باکس میں ایک میل موصول ہوتا ہے ۔ کوئی صاحب، یا صاحبہ اپنا تعارف کروانے کے بعد ایک بہت بڑی ڈیل آفر کرتے ہیں ۔ اپنے فون نمبر اور روابط بھی دیتے ہیں اور ریفرنس بھی، کہ کسی فرد نے اپنا بہت سا روپیہ ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنا ہے لہذا قرع آپکے نام نکلا ہے کیونکہ آپ انتہائی معتبر شخصیت ہیں ۔ کرنا یوں ہے کہ اپنے مکمل کوائف ای میل کر دیں۔ اس طرح سے یہ لوگ دوسروں کے اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور آن لائن کی سہولت سے لوگوں کا سرمایہ اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لیتے ہیں یا پھر الجھا کر کچھ رقم بٹور لیتے ہیں۔
اسی طرح ایک دوسری قسم کا ٹھگوں کا گروہ انٹرنیٹ پر لوگوں کی لاٹریاں لگاتا پھر رہا ہے اور نہ جانے لاٹری نکالتے نکالتے کتنوں کا کباڑہ کر گیا ہے۔ ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بوگس ادارے وجود میں آتے ہیں ، کمال قسم کی ویب سائٹ بناتے ہیں اور لوگوں کو دوسرے ممالک سے منگوانے کے ورک پرمٹ آفر کرتے ہیں ۔ مزے دار بات یہ کہ ان پر کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایسے زبردست طریقہ سے لوٹتے ہیں کہ کسی کو شک ہی نہیں پڑتا ، اور کبھی شک پڑ بھی جائے تو ادارہ دو تین سو ڈالر لیجا چکا ہوتا ہے اور شکار ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔
اب اگر آج کل کے موبائل ٹھگوں کا تذکرہ نہ ہو تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ یہ جدید ٹھگ اپنا طریقہ واردات کچھ اس طرح سے شروع کرتے ہیں کہ کوئی بھی بھلا مانس ان کے جال میں آسانی سے پھنس جائے۔ اگر آپکے موبائل پر کسی انجانے فون نمبر سے کال موصول ہو اور یہ بتلایا جائے کہ آپکا دس لاکھ کا انعام نکل آیا ہے تو کیسا لگے گا؟ اس طرح کی کال موصول ہوتی ہے کہ میں فلاں کمپنی کے ہیڈ آفس سے کال کر رہا ہوں ، آج کمپنی نے ایک قرع اندازی کی ہے جس میں آپ خوش نصیب ٹھہرے ہیں ، آپکو بہت مبارک باد ، کیونکہ آپکا دس لاکھ کا کیش انعام نکلا ہے ، آپ ابھی فورا اسی نمبر پر کال بیک کریں تا کہ آپ کو مزید معلومات دی جا سکیں ۔ بچارہ خوش نصیب جو کہ سانس روکے ہوئے یہ سب کچھ سن رہا ہوتا ہے فورا بھاگم بھاگ ایک نیا کارڈ خرید کر اسے چارج کرتا ہے اور کال بیک کرتا ہے ، اب کسی نئے فرد سے بات ہوتی ہے جو کہ غالباً اپنا تعارف کمپنی کے منیجر کے طور پر کرواتا ہے۔ خوش نصیب ، بلکہ بیچارہ اس سے انعام وصول کرنے کے متعلق تفصیلات معلوم کرتا ہے اور اس طرح ان موبائل ٹھگوں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے ۔ اس تمام لے دے کے دوران اس خوش نصیب کو کافی سارے کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے اور انعام کی لالچ ، ، نہیں بلکہ، انعام کی تگ و دو میں اچھی خاصی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
جوانی انجانی اور دیوانی نہ ہو تو اسکو جوانی کون کہے؟ آج کل کے موبائل معاشرے میں اگر آپ کسی پارک کے پاس، یا پارک میں ، یا پھر سڑک کنارے کسی شخص کو اپنے آپ سے باتیں کرتا ، کبھی ہنستا اور کبھی غصہ کرتا دیکھیں تو کہیں غلطی سے پا گل نہ سمجھ بیٹھئے گا کیونکہ وہ ہینڈ فری لگا کر کسی سے موبائل پر بات کر رہا ہو گا۔ چلیں چھوڑیں کام کی بات کرتے ہیں، اکثر اوقات کسی فون نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے اور کسی اچھی آفر کے ساتھ بیلنس ، یا کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے ، یا پھر کبھی مس کال، جو ابھی تک کسی کی نہیں ہوئی ، موصول ہوتی ہے اور بات اپنے انجام پر بیلنس بڑھانے اور کارڈ چارج کروانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
گلی محلوں میں ٹھگی کے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں ، باربر شاپ یعنی حجام کی دوکان یا اسی طرح کی بیٹھک والی جگہوں پر اکثر ہینڈ فری قسم کے ٹھگ پائے جاتے ہیں ، انکا دوکان میں کوئی کام نہیں ہوتا بلکہ ہر گپ شپ میں اپنا لقمہ شامل کرتے رہتے ہیں انکے ساتھ کچھ انکی تعریف کرنے والے اور نقلی ضامن بھی موجود ہوتے ہیں ۔ چند روز کی گپ شپ میں کچھ شکار تلاش کرکے ان سے دوستی بنا لیتے ہیں اور لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق آفر کرواتے پھرتے ہیں ، کسی کی نوکری کا بندوبست ، کسی کے گھر کے کام اور کسی کو باہر ممالک میں بھجوانے کی حامی ، اس طرح یہ ٹھگ چند ہی دنوں میں لوگوں سے مختلف کاموں کے کروانے کے بہانے رقم بٹور کر ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
چند ایک لینڈ لارڈ ٹھگ لوگوں میں سستے پلاٹ بانٹتے پھرتے ہیں ، ہوتا یوں ہے کہ ایک صاحب اچانک وارد ہوتے ہیں اور بڑے خوش مزاج انداز میں آپکو اپنا تعارف کرواتے ہیں اور ساتھ ہی مبارک باد دیتے ہیں کہ ڈیر آپ تو بہت خوش نصیب ہو، کیونکہ فلاں سکیم میں آخری چند ایک پلاٹ رہ گئے تھے لہذا قرع اندازی کی گئی ہے اور تین میں سے ایک پلاٹ آپکے نام نکلا ہے ، بہت بہت مبارک ہو!!! آپکو یہ پلاٹ صرف ایک ڈیڑھ لاکھ میں مل جائے گا اب خوش نصیب ، خوشی سے پھولے نہیں سماتا کہ اتنی مہنگائی کے دور میں پلاٹ اور ہو بھی صرف ڈیڑھ لاکھ میں اور آو بھگت میں لگ جاتا ہے ۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی جی میں تو آپکی فائل بھی لے آیا ہوں ، آپ فائل رکھ لیں اور فلاں دن آکر موقع دیکھ لیں ۔ اب فائل لینے والا جب فائل حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ صاحب کہتے ہیں کہ اس فائل کی معمولی سی قیمت صرف چار سو روپے ہے آپ ادا کر دیں ۔اور سلسلہ چل پڑتا ہے ، موقع پر جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مزید ایک ہزار روپے اور ادا کر دیں کیونکہ خوش نصیب کی تو ابھی تک رجسٹریشن بھی ہونی ہے، اسطرح سے پیسے بٹور نے والے ٹھگ پیسے بٹور تے رہتے ہیں اور آخر کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ جو پلاٹ انکے نام نکلا ہے کسی شورش زدہ علاقے میں شہری حدود سے باہر ہے اور اسکی قیمت ایک لاکھ بھی زیادہ ہے ۔
ایک اور قسم کے ٹھگ جنکو آپ فقیر نما ٹھگ کہ سکتے ہیں ان کا حال سنیں، کئی بار بڑے بڑے دفتروں میں جہاں کہ بڑے مرتبے کے لو گ بیٹھتے ہیں اچانک ملنگ نما لوگ دفتر میں گھس آتے ہیں ، بڑے بڑے منکے پہنے ہوئے ہٹے کٹے ملنگ صاحب آتے ہی اپنا تعارف کچھ اس طرح سے کرواتے ہیں ، ” مستان شاہ کا پھرا ہے ، غصہ تھوک دو ، تمہارے زندگی میں بہت کامیابی ہے صرف غصہ نہ کیا کرو “، اور ساتھ ہی ایک عدد آٹو گراف بک آپکی خد مت میں پیش کر دیں گے جس میں بڑے بڑے لوگوں کے کمنٹس لکھے ہوتے ہیں ، اب اپنے شکار کو مرغوب کرنے کیلئے انکے پاس کچھ شبدے بھی پائے جاتے ہیں ، اکثر اوقات اپنا کرشمہ دکھانے کیلئے آ پنے شکار سے پانچ سو کا نوٹ لیکر اور اسے مٹھی میں بند کرکے اس میں سے پانی کے قطرے نکالتے ہیں اور اسی طرح سے کچھ اور شبدے دیکھا کر کمزور عقیدہ لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے بٹور تے ہیں ۔
اسی طرح ان ٹھگوں میں ایک انتہائی معتبر طبقہ بھی موجود ہے ۔ یہ لوگ شاہانہ انداز میں اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں ، آپ انکو کارپوریٹڈ ٹھگ کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ یہ کارپوریٹ لیول پر کام کرتے ہیں ، انکا طریقہ واردات سب سے مختلف ہے ، کسی بھی بڑے بزنس مین کو اچانک ایک فون کال موصول ہوتی ہے اور ایک بہت بڑا آرڈر بک کروایا جاتا ہے یعنی بڑی تعداد میں اشیا ء خریدنے کی دلچسپی ظاہر کی جاتی ہے ۔ مگر بزنس مین کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت بھی دی جاتی ہے ۔ اب بچارہ بزنس مین اتنے بڑے خریدار کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ، وہ کسی بھی کمٹ منٹ کے تحت گاہک کے پاس جا پہنچتا ہے ۔ کارپوریٹڈ ٹھگ اپنے اڈے شہروں سے کچھ فاصلے ہر بناتے ہیں جیسے لا ہور کے ساتھ بھائی پھیر و وغیرہ، تاکہ ڈیل میچور کر سکیں ۔ انکا ڈسا ہو ا بزنس مین ہمیشہ کیلئے برباد ہو جاتا ہے۔ اب بزنس کی غرض سے آئے ہوئے فرد کو باس سے ملوا نے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر پہلی ملاقات میں باس کی بجائے چند ایک اور آئے ہوئے مہمانوں سے کروائی جاتی ہے جو کہ لفظوں کے جال میں پھنسانے کے ماہر ہوتے ہیں، اور اس طرح آنے والے بزنس میں کو جوا ء کھیلا جاتا ہے جس میں پہلی بار کچھ رقم کی جتوا دی جاتی ہے مگر بزنس میں کو پیسے دیے نہیں جاتے بلکہ امانتاً رکھوا لیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ابھی کھیل نامکمل ہے ، آپ جتنی رقم لاوء گے، یعنی شو کرواوء گے اتنی یہاں سے لیجا سکتے ہو۔ اب بزنس میں اپنی پھنسی ہوئی رقم رکھوا کر اور مزید پیسے لا کر اس کھیل کا حصہ بن جاتا ہے اور اس طرح سے جوئے میں اپنی پونجی ہار بیٹھتا ہے مگر واپس نہیں لے سکتا کیونکہ یہ وہ سب کچھ اپنی مرضی سے ہار چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے اسٹام پیپر تک سائین کروا لئے جاتے ہیں۔ اسطرح سے ہارا ہوا بزنس مین کسی کو بتانے کے قابل بھی نہیں رہتا کہ اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ۔
ایسے کئی اور اقسام کے ٹھگ گلی محلوں میں دندناتے پھر رہے ، جیسے گھروں میں عورتوں کا آکر پیسے ڈبل کرنے کی آفر کے بعد پیسے اور زیور بٹور لینا وغیرہ، آئیے ایک جدید انتہائی تعلیم یافتہ ٹھگ سے ملاقات کا آنکھوں دیکھا حال آپکی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ہوا یوں کہ 2اگست2008 شام تقریباً 6 بجے ایک صاحب میرے آفس میں تشریف لائے اور آتے ہی اتنی بے تکلفی سے ملے اور سلام کیا جیسے مدتوں سے جاننے والے ہیں۔ پھر گفتگو کی سلائس پر مکھن کے دو کوٹ کئے اور اپنا تعارف کروایا کہ “میں راولپنڈی کے ایک کالج میں پروفیسر ہوں، کیمسٹری پڑھاتا ہوں اور کچھ طلبا کو وظیفے پر مختلف ملکوں میں تعلیم کی غرض سے بھجوانا ہے لہذا اس غرض سے لاہور صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ ہمارے کالجز کا پورے پنجاب میں ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور اس لحاظ سے ہر ایک سیشن میں کم از کم ایک سو طلبا و طالبات کے داخلے آپکو مل جا یا کریں گے”
وہ صاحب گفتگو اور لباس سے قطعی طور پر مہذب انسان لگ رہے تھے جبکہ معلومات کا ایک گنجینہ بھی تھے ۔ مجھے کاروبار سے بڑھ کر انکی شخصیت نے زیادہ متاثر کیا۔ اپنی مسحور کن گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں بھی انکے کالجز ہیں ۔ اور اتنے بڑے نیٹ ورک کے بیرون ممالک تعلیم کے معاملات نبٹا نے کیلئے کسی اچھے اور تجربہ کار ایڈوائزر کی ضرورت ہے ۔ اتنی مرنجا مرنج گفتگو کہ کوئی قربان ہی ہوجائے ، مجھے احساس ہوا کہ ایک اچھی کاروباری ڈیل اور اچھی شخصیت کی مسحور کن ماحول میں انکو کچھ کھلانا پلانا بھول ہی گیا ہوں۔
میں نے فورا ان صاحب کیلئے چائے اور کھانے کا انتظام کیا ۔ کاروباری معاملات پر مزید بات چیت جاری رہی ، ان صاحب سے میری بھی بے تکلفی سی ہونے لگی ، میں نے ان سے انکا وزٹنگ کارڈ مانگا جو فورا انہوں نے پیش کر دیا
Fahim Asad Jaral
M.Sc Chemistry
M.BA Marketing
Cell: ………..
انکے گلابی رنگ کے کارڈ پر نہ تو کسی ادارے کا نام اور نہ ہی ایڈریس لکھا ہوا تھا مگر کمال کی شخصیت اور کمال کی معلومات کہ جو بات کرو جواب حاضر ۔ لہذا میں نے انکے کام کیلئے حامی بھر لی اور باہمی شرائط طے کرنی شروع کر دیں ۔ مگر فہیم اسد جرال صاحب بولے کہ یہ شرائط تو طے ہوتی رہیں گی ، آپ کیونکہ ایک تعلیمی ادارہ بھی چلا رہے ہیں ، لوگوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں اور آپ سے دوستی بھی ہو گئی ہے لہذا میں آپکو ایک اور بزنس بھی دلا دیتا ہوں ، آپ ایک عدد درخواست ہمارے ڈائریکٹر صاحب کے نام لکھ دیں ۔ یہ درخواست ایک ٹینڈر سے متعلق ہے جسکی آخری تاریخ کل ہے ۔
انہوں نے مجھے لکھوانا شروع کر دیا ، بہترین انگلش کے الفاظ کا چناﺅ اور پیراگراف کہ میں حیران ہو گیا۔ درخواست مکمل کر نے کے بعد انہوں نے اس پر میرے دستخط کروائے اور اپنے پاس رکھ لی۔اب گفتگو کسی اور موضوع پر چل پڑی کہ اچانک جرال صاحب نے کہا کہ مجھے ایک ہزار روپیہ عنائیت فرما دیں جو کہ درخواست کے ساتھ بطور فیس جمع کروانا ضروری ہے۔ میں کیونکہ ان کو ایک معتبر اور قابل اعتماد شخصیت مان چکا تھا لہذا کسی اچنبھے کا اظہار نہ کیا اور ایک ہزار روپے کے دینے کی فورا حامی بھر لی۔ پھر بات چیت اپنی دلچسپیوں کی ڈگر پر چل پڑی کہ چند ہی لمحوں میں فہیم جرار صاحب نے یاد دہانی کروائی کہ مجھے انہیں ایک ہزار روپیہ دینا ہے۔
انکے اتنی معمولی رقم کیلئے دوبارہ تذکرے پر کچھ حیرانی ہوئی مگر میں نے بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا۔ جرار صاحب نے بھی گفتگو جاری رکھتے ہوئے تیسری بار مجھ سے ایک ہزار روپے کا تذکرہ کیا جو کہ اب واقعی اہمیت کا حامل تھا کہ ایک چھوٹی سی رقم کیلئے اتنا زور کیوں دے رہے ہیں۔ مجھے انکی شخصیت اور کاروباری معاملہ کی نوعیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ہزار روپیہ دینا کوئی مشکل کام تو نہیں لگا مگر کچھ شک گزرا کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔
بات کا پانسا پلٹتے ہوئے میں نے کہا جناب جرار صاحب آپ کیوں فکر کرتے ہیں ، یہ تو معمولی سی رقم ہے ، ہم نے تو ابھی بہت سے بزنس کے معاملات میں آگے چلنا ہے ، آپ ایسے کریں کہ اتنی سی رقم آپ خود سے جمع کروا دیں ۔ یہ سننا تھا کہ جیسے ان کو کرنٹ لگ گیا ہو، انکے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا جو کہ میرے لیے اور بھی حیرت کی بات تھی ۔ اب میری آنکھیں کھلنے لگیں کہ نہ جان نا پہچان اور میں تیرا مہمان ، میں کس شخص سے وقت ضائع کر رہا ہوں جو کہ صرف ایک ہزار کے کھیل میں آسمان کی قلا بیں ملا رہا ہے ۔
جرار صاحب کا طلسم ٹوٹ چکا تھا مگر میں نے محسوس نہیں ہونے دیا ، میرا یہی اصرار تھا کہ وہ خود ہی سے درخواست اور اسکی فیس جمع کروا دیں ۔ اب اس بچارے کی حالت دیکھنے والی تھی ، چہرہ پہ پسنے کے قطرے نمودار ہونے لگے کہ ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور بو کھلائے ہوے بولے کہ مجھے دیر ہو رہی ہے ، پھر ملاقات ہوگی ۔ اور اپنی فائلیں سنبھالے نکل گئے جبکہ میں انکی آنیاں اور جانیاں ملاحظہ کرتا رہا۔ انکے نکلتے ہی میں نے سوچا کہ دیکھوں موصوف کے پاس کونسی گاڑی ہے لہذا کھڑکی سے ملاحظہ کیا تو جناب سڑک کنارے کھڑے ایک موڑ بائک والے سے لفٹ مانگ رہے تھے ، حالانکہ گپ شپ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انکے پاس ایک عدد گاڑی کا بھی ہے ۔ اب میں نے سوچا انکے وزٹنگ کارڈ پر لکھے ہوئے موبائل تو دیکھوں کہ کسی اور کا نہ ہو،جب فون کیا تو جناب کا فون بند تھا ۔ اس واقع کے بعد کبھی گمان ہوتا تھا کہ میں سمجھنے میں غلطی کر گیا اور کبھی خیال ہو تا کہ ایک ٹھگی سے بچ گیا ، اسی شش و پنج میں ایک روز پھر فون ملایا تو مل گیا ، حضرت موجود تھے اور بولے یار آپ بھی کمال کے شخص ہیں، آجکل میں پنڈی میں موجود ہوں پھر کبھی ملاقات ہوگی خدا حافظ، مختصر سی بات کی اور ۔۔۔ اور پھر کبھی ملاقات نہ ہوئی ۔۔ آج وزٹنگ کارڈز کو ترتیب میں لگاتے ہوئے مجھے پھر وہی کارڈ نظر آیا اور ذہن میں وہی پرانی تصویریں اور واقعات گھومنے لگے کہ جسے میں اکیسویں صدی کا ٹھگ ہی کہوں تو بجا ہوگا۔
انکی تفصیلات اس لئیے لکھ دیں ہیں کہ اگر آپ ان سے مل چکے ہیں تو آپ میری شش و پیج ختم کر دیں اور اگر کبھی شرفِ ملاقات حاصل ہو تو کسی کاروباری دھوکے میں نہ آجائے گا۔۔۔ایسی شخصیات سے ملاقات نصیبوں والوں کو ہی ہوتی ہے اور جن کو یہ شرف حاصل ہو وہ کسی سے تذکرہ بھی نہیں کرتا بلکہ تذکرہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ لہذا اپنے اردگرد نظر دوڑایں اور شک کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیں تو ممکن ہے نظر آجائے کہ ایسا ہی کوئی معاملہ درپیش ہو؟
یہ سارا عمل ایک اصول پر قائم ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ، لہذا لوگ تھوڑا سا پیسا لگا کر بہت سا حاصل کرنے کی لالچ میں تھوڑے سے بھی جاتے ہیں، جیسے پہلے وقتوں میں ایک شخص ایک بڑی سی دوکان کے باہر اپنے ہاتھ میں ایک سکہ لیے کھڑا تھا،دوکاندار نے دیکھا اور نظر انداز کر گیا۔ اب کافی دیر بعد وہ شخص جانے لگا مگر اس نے سکہ دوکاندار کی طرف اچھال دیا تو دوکاندار اسے روک کر پوچھنے لگا ، بھئی یہ کیا ہے ، تو وہ شخص بولا سنا تھا پیسا پیسے کو کھینچتا ہے لہذا میں اپنا سکہ لیکر تمہاری دوکان کے باہر گلے کے پاس کھڑا رہا اور دیکھتا رہا کہ کب میرا سکہ تمہارے گلے سے پیسے کھینچے گا ، مگر کافی دیر کھڑا رہنے کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی لہذا مایوس ہو کر میں نے اپنا سکہ بھی تمہارے گلے میں پھینک دیا ۔ اب دوکاندار مسکرایا اور بولا بھئی بات تو ٹھیک ہے کہ پیسہ پیسیے کو کھنچتا ہے مگر زیادہ پیسہ کم پیسے کو کھینچتا ہے نہ کہ کم زیادہ کو ، دیکھو میرے پیسوں نے تمہارے سکے کو کھنچ لیا!!
ان سب معاملات میں کسی قانونی تحفظ کی تو بات دور ، ان معاملات کی گرداب سے بچ نکلنا ہی غنیمت جانئے ۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی لالچ میں اندھا ہو جاتا ہے ہمیشہ اپنا نقصان کرتا ہے ۔ اسی طرح سے جلدی کے تمام معاملات اور انجان لوگوں سے مراسم ہمیشہ کسی اندھے کنوئیں میں لا پھینکتے ہیں۔ یہاں افراد کی تربیت بہت ضروری ہے کہ وہ اس خواہ مخواہ کی پریشانی سے بچ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ٹھگوں سے بچائے رکھے البتہ اگر آپ اسی طرح کے کسی معاملہ سے گزر چکے ہیں تو امید ہے کہ اسکو دوسروں سے شیئر کریں گے تا کہ آپکے دوست و احباب کسی ناقابل تلافی نقصان سے بچے رہیں ۔

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Check Also
Close
Back to top button