فن و فنکار

‘جو رقم میں نے آفر کی اس میں ٹیکس شامل تھا’

نامور اداکار عدنان صدیقی کو اس وقت اپنے ڈرامے ‘میرے پاس تم ہو’ کی وجہ سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔

ڈرامے میں ویسے تو مرکزی کردار ہمایوں سعید اور عائزہ خان کا ہے البتہ عدنان صدیقی نے بھی ‘شہوار’ نامی بزنس مین کا اہم کردار نبھایا ہے۔

اس ڈرامے کی 2 نومبر کو نشر ہونے والی قسط کو سوشل میڈیا پر خوب پسند کیا گیا تھا جبکہ تینوں اداکاروں عائزہ خان، عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید کی اداکاری کو بھی خوب سراہا گیا۔

البتہ اس ڈرامے کی قسط میں دکھائے گئے کچھ سین پر کئی میمز بھی بنائی گئیں، جن میں سے ایک عدنان صدیقی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی۔

اس مزاحیہ میم میں ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی کے کرداروں کا کارٹون بنایا گیا ہے، جس پر ڈرامے کا ڈائیلاگ ہی تحریر کیا گیا لیکن اس میم کو ایک دلچسپ انداز کے ساتھ بنایا گیا۔

میم میں ہمایوں سعید، عدنان صدیقی سے پوچھتے ہیں کہ ‘اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے آپ مجھے 50 ملین دے رہے تھے، جس پر عدنان صدیقی کے کچھ کہنے سے قبل ہی پیچھے سے وزیر اعظم عمران خان سامنے آجاتے اور عدنان صدیقی کو یاد دلاتے کے اس رقم کے ساتھ انہیں ‘ٹیکس بھی دینا پڑے گا’۔

اس مزاحیہ میم کو شیئر کرتے ہوئے عدنان صدیقی نے لکھا کہ ‘اچھی میم ہے لیکن جو رقم میں نے دانش کو آفر کی اس میں ٹیکس شامل تھا، جیسا کے سب جانتے ہیں میں عقلمند بزنس مین ہوں’۔

فوٹو/ اسکرین شاٹ
فوٹو/ اسکرین شاٹ

اداکار نے ‘میرے پاس تم ہو’ ڈرامے کو پسند کرنے پر مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ڈرامے کے ڈائیلاگ پر دیگر میمز بھی سامنے آئیں۔

خیال رہے کہ اب تک اس ڈرامے کی 12اقساط نشر کی جاچکی ہیں۔

‘میرے پاس تم ہو’ ڈرامے میں ہمایوں سعید متوسط طبقے (مڈل کلاس) سے تعلق رکھنے والے ‘دانش’ کے کردار میں نظر آئے ہیں، جنہوں نے عائزہ خان کے کردار ‘مہوش’ سے پسند کی شادی کی تھی۔

تاہم مہوش کی لالچ ان کے اس رشتے کو ختم کردیتی ہے اور وہ عدنان صدیقی کے کردار سے تعلق جوڑ لیتی ہیں۔

اس ڈرامے کی ہدایات ندیم بیگ دے رہے ہیں جبکہ اس کی کہانی خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کی ہے۔

Junaid

Committed individual adept in efficiently utilizing available resources in completing assigned tasks. Seeking an entry-level position as a fresh graduate of English Literature & Software Engineering, providing a high end administrative duty for the company.

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button