گفتار کے غازی

طارق حسین بٹ( چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فورم)
جنرل پرویز مشرف کا دور حکومت اپنے پورے شباب پر تھا۔ وہ سیا ہ سفید کے ما لک تھے اور ان کی قائم کردہ سلطنت میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں تھی ۔ میاں برادران ملک چھوڑ کر سعودیہ عرب میں پناہ لے چکے تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹومتحدہ عرب امارات میں جلا وطنی کے دن گزار رہی تھیں۔ جاگیر داروں سرمایہ داروں صنعت کاروں اور مفاد پرستوں کا ٹولہ حسبِ معمول جنرل پرویز مشرف کے قائم کردہ اقتدار کے طواف میں مشغول تھا ۔ ان کے سارے مفادات جنرل صاحب کی ذات سے وابستہ تھے کیونکہ اقتدار جنرل پرویز مشرف کی مٹھی میں بند تھا ۔اقتدار کے نشے نے جنرل صاحب کی ذہنی کیفیت کو بدل کرکھ دیا تھا۔ کسی معاشرے کے اندر جب زردار طبقہ حکمر انوں کی قدم بوسی میں بازی لے جانے کی بیماری میں مبتلا ہو جا ئے تو پھر حکمرانوں کو بھی حق حاصل ہو تا ہے کہ وہ بھی تفاخر کا مظاہرہ کریں اور اپنے تفوق کا ڈرامہ رچا ئیں اور یہی سب کچھ جنرل پرویز مشرف نے بھی کیا تھا ۔ا بھی فضا میں جنرل صاحب کا پانچ نکاتی ایجنڈا عوامی توجہ کا مرکز بنا ہو اتھاکہ اچانک نائن الیون کے واقعہ نے پو ری دنیا کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا ۔ امریکہ کے سیکرٹری دفاع کولن پاول نے جنرل پرویز مشرف کو فون کیااورافغانستان کی ممکنہ جنگ میں پاکستان کی حمائت کا مطالبہ کیا۔جنرل پرویز مشرف نے خود کو جسطرح کولن پاول کے ایک فون کے سامنے سر نگوں کر دیا وہ ضرب المثل کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔جنرل صاحب نے سب سے پہلے پاکستان کا جذباتی اور دلفریب نعرہ ایجاد کر کے ایک مسلم ملک ا فغا نستان کے خلاف امریکی حمائت کا فیصلہ کر ڈالا۔۔
۷۲جنوری ۱۱۰۲ میں حالات نے ایک دفعہ پھر پلٹا کھا یا اور ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل نے ساری صورتِ حال کو بدل کر رکھ دیا۔امریکہ نے موقف اختیار کیا کہ جنیوا کنو ینشن کے تحت ریمنڈ ڈیوس کو استثنا حاصل ہے لہذا موجودہ حکومت ریمنڈ ڈیوس کے استثنا کا اعلان کر کے اسے امریکہ کے حوالے کر دے لیکن جمہو ری حکومت نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر امریکی دبا ﺅ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ صدرِ امریکہ بارک حسین اوبامہ، خارجہ امور کی کمیٹی کے چیر مین جان کیری اور سیکرٹری خارجہ ہیلری کلٹن ریمنڈ ڈیوس کی رہا ئی کو یقینی بنا نے کےلئے پورا زور لگا تے رہے لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی کیونکہ موجودہ حکومت نے امریکی مطالبات کے سامنے سر نگوں ہونے سے معذرت کر لی تھی حکومت کا موقف تھا کہ اس مقدمے کا فیصلہ معزز عدالت کرےگی اور آخر کار ایساہی ہوا لیکن عدالتی فیصلہ پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے۔
۶۱ مارچ ۱۱۰۲ کا دن پاکستانی سیاست میں ہمیشہ انتہائی اہمیت کا حا مل رہے گا کیونکہ اس دن فہیم اور فیضان کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو پاکسانی عدالت نے دیت کے قانون کے تحت بری کر د یا ہے اور اس طرح یہ انتہائی اہم مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ میڈیاکے شہ زور اینکرز،ایک مخصوس لابی،سیاسی اداکاروں اور کچھ حکومت مخالف حلقوں کا اصرار تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کے واقعے میں امریکہ کو آنکھیں دکھا ئی جائیں اور اس کے سا تھ ٹکر لی جا ئے تا کہ امریکہ کو احساس ہو کہ پاکستان کو ئی تر نوالہ نہیں جسے آسانی سے ہضم کر لیا جائے۔ انھوں نے غیر ت و حمیت کے نام پر ایک فضا تخلیق کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا اور ہر وہ حربہ urdusky-writer-12استعمال کرنے کی کوشش کی جس سے حکومت کی سبکی ہو،پاک امریکہ تعلقات متاثر ہوں اور حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے ۔وہ اس فیصلے کو سیاسی ایشو بنا کر اپنی سیاسی دوکان چمکانے کی کوشش کر تے رہے اور اس فیصلے سے انھیں شدید د ھچکہ لگا ہے ۔ وہ بزعمِ خویش یہ سمجھ رہے تھے کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں پاک امریکہ تعلقات بری طرح سے متاثر ہو نگے جو کہ حکومت کی برخاستی پر منتج ہونگے اور یوں اقتدار کا ہما ان پر مہربان ہو جائےگا لیکن الٹی ہو گیئں سب تدبیریں دل نے کچھ نہ کام کیا کے مصداق انھیں منہ کہ کھا نی پڑی حتی کہ عوام نے بھی انکی کال پر کان نہیں دھرا بقولِ شاعر۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔
رازِ خسروی خسر واں دانند کے مطا بق ریاست کو اپنی بقا کےلئے ہمیشہ اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ اسی طرح کے بہت سے اہم فیصلوں میں ایک انتہائی اہمیت کا فیصلہ تھا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ جذبات سے با لا تر ہو کر فیصلے کرے تا کہ اسکی سالمیت اور بقا پر کوئی حرف نہ آنے پائے۔ ریاست کی بقا کےلئے کبھی کبھی بڑے بڑے قائدین کی قربا نی بھی دینی پڑ تی ہے اور ریاست ایسا کرنے سے بالکل نہیں ہچکچا تی ۔ ریمنڈ ڈیوس کسی عام ملک کا نہیں بلکہ اس کرہِ ارض کی سپر پاور امریکہ کا انتہائی اہم عہدیدار تھا اور اسکی رہائی امریکہ کو ہر حال میں مطلوب تھی اور اسکی رہا ئی کےلئے اس نے اس آپشن کواستعمال کیا جو سب سے زیادہ محفوظ تھا۔ جسکی لاٹھی اسکی بھینس آج بھی پوری توانائیوں کے ساتھ رو بعمل ہے۔لوہے کو ریشم سے نہیں لوہے سے کاٹا جاتا ہے اور ہمارے ہاتھ تو بالکل خالی ہیں لہذا ہم ریمنڈ ڈیوس کو سزا دینے سے قاصر تھے ۔ا گر میں تاریخِ اسلام سے مثالیں دینے لگوں گا تو کالم طویل ہو جائےگا لہذ اتناکہنے پر ا کتفا کرونگا کہ خان لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، ذولفقار علی بھٹو،محترمہ بے نظیر بھٹو، عمران فاروق، عظیم طارق ، جنرل ضیا الحق اور ان کے طیارے میں فوجی جرنیلوں، نواب اکبر بگٹی ، جنرل فضل ا لحق اور غلام حیدر وائیں کے قاتل کیا ہم نے پکڑ لئے گئے تھے اور کیا انھیں سزا دے دی گئی ہے جو ہم رٹ لگائے ہو ئے ہیں کہ فہیم اور فیضان کے قاتل بچ کر نہ جانے پائیں کہ یہ ہماری قومی غیر ت و حمیت کا معاملہ ہے کیا یہ قتل ان زعما سے زیادہ اہم ہے ؟ کیا دوبیٹوں کا انتقا م پاکستان کی سالمیت پر فوقیت رکھتا ہے؟۔
جب ذاتی خوا ہشات کے آبگینے ٹو ٹتے ہیں تو ان کی کرچیاں جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی لہو لہان کردیتی ہیں ۔ انسان کےلئے انھیں برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور پھر وہ پندارِ نفس کی شکست سے سراپا انتقام بن کر کسی دوسری جانب بھٹک جاتا ہے۔ اس کا فہم اور ادراک اسکا ساتھ نہیں دیتا اور اسکی فکر تخریب کاری کی نئی راہیں کھولتی چلی جاتی ہے اور وہ اس میں آگے ہی بڑ ھتا چلا جاتا ہے ۔ اس واقعہ کے ابتدائی ایام ے ہی میڈیا نے حکومت کے خلاف جسطرح کی زبان استعمال کی اس نے میڈیا کی جانبداری پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ حکو مت کے خلاف ایسی ایسی کہانیاں تراشی گئیں کہ با شعور آدمی ششدر رہ جائے۔کونسا الزام ہے جو کہ حکومت پر نہیں لگا یا گیا تھا ۔ پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی جیسا منجھا ہوا سیاستدان بھی میڈیا کے غچے میں آگیا اور استثنا کے ایشو پر حکومت سے ٹکر لینے کی ٹھان لی وہ بھی حقائق کا مکمل ادراک کرنے سے قاصر رہا اس نے بھی استثنا کے سوال پر حکومت کو ننگا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی لیکن افسوس کہ ریمنڈ ڈیوس استثنا کے قانون کے تحت نہیں بلکہ اسلام کے قانونِ دیت کے تحت بری ہوا ہے اور یہی فیصلہ حکومت مخالفین کےلئے صدمے کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے حکومت کو زیر کرنے کےلئے جو بساط بچھا ئی تھی حکومت اس سے صاف بچ کر نکل گئی ہے۔سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹا کرو والی صورتِ حال ہے۔۔
اسلام میں انسانی زندگی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اسلام نے بحثیتِ دین انسانی جان کی حرمت تقدس اور اسکی بقا کےلئے ا یسی راہیں کشادہ رکھی ہیں جس سے انسانی جان کے تقدس اور بچا ﺅ کا راستہ نکلتا ہو اسلام کا یہ اعلان کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا انسانی تقدس کی انتہائی واضح مثال ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ مختلف تعزیرات کی موجودگی اور سزاﺅں کے اعلانات کے درمیان خون بہا کا قانون بھی رکھ کر زندگی کے بچا ﺅ کے راستے کو بھی کھلا چھوڑ دیا تا کہ زندگی کی عظیم نعمت ہو نے کا بھر پور احساس انسان کے اندر ہمہ وقت موجود رہے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ ناک کے بدلے ناک ،کان کے بدلے کان اور خون کے بدلے خون اسلام کا ہی قانون ہے لیکن اسکے اندر خون بہا کا قانون بھی تو مالکِ ار ض و سما کا ہی عطا کرتا ہے لہذا اسے بھی تسلیم کیا جانا ضروری ہے اور اگر پاکستانی عدالت نے ریمنڈ ڈیوس کے مقدمے کا فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا ہے تو پھر قانونِ خدا سے بغاوت انتہا ئی نا پسندیدہ فعل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ کچھ حلقوں کی خواہشات کے عین مطابق نہ ہواور اس پر کچھ تحفظات بھی ہوں لیکن یہ فیصلہ بہر حال اسلام کی عطا کردہ حکمت کے دائروں کے اندر رہ کر ہوا ہے لہذا اسے من و عن تسلیم کیا جا نا ضروری ہے۔ ذاتی پسند و ناپسند کو اسلام کی حکمت کی راہ میں مزاحم نہیں ہو ناچائیے۔۔۔
کرہِ ارض پر قومیں نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے اپنی عظمتوں کا لوہا منواتی ہیں۔ شعور آگہی اور فہم و فراست سے ہی قوموں کے عزت و وقار کا فیصلہ ہوا کرتا ہے۔جب قومیں کرپشن ،لوٹ مار، کاہلی، بے علمی ،بدد یا نتی اور جہالت کا شکار ہو جاتی ہیں تو دوسری اقوام کے سامنے سر اٹھا کر چلنے سے معذور ہو جاتی ہیں ۔پاکستانی معاشرہ اس وقت جتنا زوال پذیر ہے شائد اس سے قبل کبھی ایسا نہیں تھا۔ ڈاکے قتل نقب زنی اور دن دھاڑے معصوم لوگوں کا قتل اور اغوا برائے تا وان روز مرہ کے معمولات ہیں۔ عورتوں کی بے حرمتی کرنا ،دوکا نوں اور بینکوں کو لوٹ لینا معمولی جرائم تصور کئے جاتے ہیں ۔ پیسوں کے لالچ میں کبھی کبھی اپنے انتہائی قریبی دوستوں اور رشنہ داروں کو بھی دھر لیا جا تا ہے جسکی واضح مثال جہلم کا مشہورِ زمانہ واقعہ ہے۔ چین کے انجینئروں کو اغوا برا ئے تاوان میں ہم نے ہی دھرا تھا اور مطلوبہ رقم نہ ملنے پر انکے قتل سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ خود کش حملے اور کراچی میں خون کی ہولی ہم ہی تو کھیلتے ہیں اور بے گنا ہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے ہیں ۔ وکلا تحریک کے درمیان معصوم اور نہتے لوگوں کو کس نے آگ میں زندہ جلا یا تھا ۔پاکستان میں ہر قسم کے جرائم اور قتل کی واردا تیں ہوتی ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والی بھی اسی دعرتی کے سپوت ہیں۔ ہماری روز مرہ زندگی کے جھگڑوں میں جانوں سے ہاتھ دھونے والے اور ذاتی انتقام کا نشانہ بننے والے بھی کو ئی غیر نہیں اس د ھرتی کے بیٹے ہو تے ہیں لیکن اس وقت تو ہماری غیرتِ ملی بیدار نہیں ہو تی کیونکہ وہ مکروہ فعل ہم خود ہی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں لہذا احتجاج کی کو ئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اگر ہمارا مطمعَ نظر یہ ہے کہ ہم اقوام ِعالم میں اعلی و ارفع مقام پر فائز ہوں تو پھر ہمیں اتحاد تنظیم اور ایمان کی روح کو زندہ کرنا ہوگا ، عمل کی شمشیر سے کردار کی عظمتوں کو رو بعمل لا نا ہو گا اور جراتوں سے اسے مہمیز دینا ہو گا۔ علم و ادب کی درسگا ہیں قائم کرنی ہوںگی ، تحقیق کی بازی کھیلنی ہو گی، نئی ایجادات کےلئے تجربہ گاہیں بنا نی ہو ںگی اور جدید علوم سے خود کو اراستہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم ایمانداری کو اپنا شعار بنا لیں ۔ ایثارو قربانی کے جذبوں کا برملا اظہار کر لیں، کرپشن سے توبہ کر لیں،۔ کمزوروں پر ظلم و ستم سے ہاتھ روک لیں، اپنے خزانوں کے منہ عوام کےلئے کھول دیں، منافع خوری اور حرام خوری سے توبہ کر لیں، ادنی و اعلی کی تفریق کو ختم کر دیں، انصاف اور مساوات کا علم بلند کر دیں، غریبوں کو زندہ رہنے کا حق عطا کر دیں، بے حدو حساب دولت کے انبار بیت المال میں جمع کروا دیں،۔تفاخر اور نسلی امتیاز کی دیواروں کو مسمار کر دیں، اور انسان ہو نے کی جہت سے کردار کی عظمت کو انسانی احترام کی بنیاد بنا لیں تو پھر دنیا کی امامت خود بخود ہمارے قدموں میں ہو گی لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستانی قوم ایسا کچھ نہیں کرےگی کیونکہ ہم نے خود کو حرص و طمع کا غلام بنا رکھا ہے اور لہو لعب میں خود کو مستغرق کر رکھا ہے۔ ہم ایک قوم نہیں چند افراد کا ہجوم ہیں لہذا ہماری کوئی سمت نہیں چند دن نعرے لگیں گے اور پھر کو ئی اور ایشو میڈیا کے ہتھے چڑھ جا ئےگا اور ریمنڈ دیوس ایک بھولی بسری داستان بن جائےگا ۔ کو ئی تبدیلی وقوع پذیر نہیں ہو گی کیونکہ ہم بحثیتِ قوم اپنی شناخت کھو چکے ہیں ۔آئیے دیکھیں کہ دیدہ ور نے کئی سال قبل ہماری موجودہ حالت کو کس خوبصورت انداز میں بیان کیا تھا۔
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے۔ من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے۔۔ گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا  ( ڈاکٹر علامہ محمد اقبال )
کیا پاکستانی قوم ا پنے حلیفوں اور دوستوں کے بغیر اقوامِ عالم میں اپنا تشخص قائم رکھ سکتی ہے ؟ کیااسکی سلامتی دوستوں کے بغیر یقینی بنا ئی جا سکتی ہے؟ اس اہم سوال کے جواب کےلئے ہمیں سب سے پہلے اپنی طاقت کا اندازہ لگا نا ہوگا ، اپنی دفا عی صلاحیت اور اپنی مالی استحکام کا تجزیہ کرنا ہو گا۔ اپنے دوستوں کی فہرست مرتب کرنی ہو گی۔ موجودہ دنیا میں اپنے مقام کو تلاش کرنا ہوگا۔اپنے دشمنوں سے ممکنہ ٹکرا ﺅ کی صورت میں اپنی دفاعی صلا حیتوں کا جائزہ لینا ہو گا۔میری ذاتی رائے ہے کہ چاروں طرف سے مکار دشمنوں میں گرا ہوا پاکستان کسی بھی پہلو سے کسی ایسے مقام پر کھڑا نہیں ہے جہان سے وہ اپنے دیرینہ دوستوں کے بغیر اپنے وجود کی حفاظت کر سکے۔ جذباتی فیصلوں سے قومیں تشکیل نہیں پا یا کرتیںبلکہ قومیں دانش ، برداشت، عملِ پیہم اور حکمت سے ترقی کی شاہراہ پرمحوِ سفر ہو تی ہیں۔ نعرے، خوش فہمیاں، بھڑکین، شور شرابہ، کوتاہ نگاہی اور ہٹ دھرمی اسکی تبا ہی اور بربادی کے شا خسانے بنتے ہیں۔عراقی قیادت نے چند سال قبل یہی سب کچھ کیا تھا۔ بڑے بڑے دعووں کے درمیان عمل سے عاری قوم کا حشر ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔ ۱۷۹۱ میں ہم نے بھی ایسے ہی کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔ ا لبدر اور الشمس جیسی مذہبی تنظیموں نے بنگالیوں کو کچلنے کی جسطرح سے پیشن گو ئی کی تھی اور اسٹیبلشمنٹ کو بنگالیوں کے خلاف فوجی اپریشن پر مجبور کیا تھا سب کے علم میں ہے۔ یہی ہیں وہ لوگ جو پچھلے چالیس سالوں سے کیمپوں میں ازیت ناگ زندگی گزار رہے ہیںاور کوئی انکا پرسانِ حال نہیں ۔جنرل یحی کی تقریر ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے جس میں وہ جنگلوں بیا بانوں پہا ڑوں کھیت کھلیانوں اور دریاﺅ ں میں جنگ جاری رکھنے کی بھڑکیں ماررہا تھا لیکن دوسرے ہی دن شرمناک طریقے سے بھارتی فوج کے سامنے پاک فوج نے ہتھیار بھی پھینک دئے تھے اگر ہم نے اسی طرح کی رٹی رٹا ئی بھڑکیں مارنی ہیں تو پھر ٹھیک ہے سپر پاور سے دوستی اور تعلقات کو آج ہی خیر آباد کہہ دو لیکن اگر پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنا نا ہے تو پھر ہمیں فہم و فراست کا مظا ہرہ کرنا ہو گا تحمل برد باری اور دانش سے حالات کا تجزیہ کرنا ہو گا ۔ آتش فشاں صورتِ حال میں اگر ہم نے بالغ نظری کا مظا ہرہ نہ کیا اور اپنے دوستوں کو دشمنوں کی صف میں دھکینے کی بیو قوفی کی تو پھر ہماری سلامتی اور استحکام پر سوالیہ نشان لگ جا ئےگا ۔۔
تم اپنے بچوں کو آدمیت کے خون سے رنگین نصاب دو گے۔تم آنے والے عظیم کل کے حضور میں کیا حساب دو گے
کبھی تو اندھی عقیدتوں کے حصار مسمار کر کے دیکھو۔ ۔ بتا ﺅ صبحِ وطن کو کب تک گہن زدہ آفتاب دو گے
(سید سبط علی صبا)
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button