پی ایم لیگ (ن)کا ملازمین کی بحالی کے بل کے خلاف واک آوٹ..اور عوامی خدمت کے دعوے

خصوصی کالم: تمثیلِ سیاست
پی ایم لیگ (ن)کا ملازمین کی بحالی کے بل کے خلاف واک آوٹ..اور عوامی خدمت کے دعوے 
(ن)لیگ کیایہی زمانے میں پنپنے کے انداز ہیں……؟؟؟
(ن)لیگ کا بے مقصد مو¿قف!برطرف ملازمین کی بحالی سے معیشت پر17ارب کا بوجھ پڑے گا
ہر دور میںپی پی پی کی خاصیت رہی ہے کہ اِس نے لوگوں کو ملازمتیں دی ہیں…اور ن لیگ ملازمت دینے کے خلاف رہی ہے…کیوں..؟؟
محمداعظم عظیم اعظم[email protected]
دیکھو!دیکھو!یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے جو آج اپنا سینہ ٹھونک کر بڑے فخر سے خودکواصلی عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے پھر رہی ہے اور اپنا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے یہ کہہ کرکررہی ہے کہ عوامی دُکھ درد اور مسائل کا جتنااحساس آج پی ایم ایل (ن)کو ہے اِتنادرد توحکمران جماعت) پی پی پی کوبھی نہیں ہے اور یہ اپنے اِسی دعوے کو سچ کردِکھانے کے لئے نت نئے ڈراموںاور ہتکنڈوںسے بھی اپناکام چلارہی ہے اوربرسرِاقتدار جماعت کونہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی بدنام اور ناکام بنانے کے لئے ایسی ایسی سیاسی چالیںاستعمال کر رہی ہے کہ جس کی کوئی انتہانہیں اِس کے نزدیک صرف ایک کام سب سے زیادہ اہم ہے کہ بس کسی بھی طرح سے یہ حکومت ناکام ہوجائے اور اِسے عوامی سطح پر پزیرائی حاصل مل جائے۔
اور شائد یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جب قومی اسمبلی میں برطرف ملازمین کی بحالی کا بل پیش کیاگیاتو پاکستان پیپلزپارٹی سے عوامی خدمات کے میدان میں مقابلہ کرنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اِس بل کی منظوری کے خلاف اپنا بھرپور احتجاج کرتے ہوئے اِس بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کے پورے سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیاجو اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عوامی خدمت کے تمام دعوے جھوٹے ہیں اور اِس کو عوامی تکالیف کا کوئی احساس نہ تو پہلے کبھی تھا اور نہ آج ہے کیونکہ پاکستانی عوام آج بھی یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہے کہ 1992-1993کے عشرے میں یہی پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی تو وہ برسر اقتدار جماعت تھی جس نے اپنے دورِ اقتدار میں ملازمتوں پر پابندی لگائی تھی جو ہنوز اَب بھی قائم ہے اور یہی وہ واحد جماعت ہے جس نے ملک میں سب سے پہلے آئی ایم ایف کے کہنے پر ملازمین کو اِن کی نوکریوں سے برخاست کرنے اور کرانے کے لئے گولڈن ہینگ شیک کی پالیسی متعارف کرائی تھی جس کے ذریعے اَب تک بے شمار ملازمین کو زبردستی اور جبری طور پر اِن کی ملازمتوں سے برطرف کردیاگیاہے اور آج (ن)لیگ کا بویاہوایہ زہریلا پودا ایک قد آور درخت کی شکل اختیارکرگیاہے جس کے سائے میں آنے والا اپنی ملازمت سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے ۔
یہ وہ عوام دشمن اقدام ہے جِسے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے پہلے دورِاقتدار سے جاری رکھاہواہے اور آج بھی یہ اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود اِس پر پوری طرح عمل پیراہے اور اِس پراِس کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ملک کی وہ واحدجماعت ہے جو عوام کے مسائل حل کرنے اور ملک سے بیروزگاری اور غربت کو ختم کرنے کی استداعت رکھتی ہے اگر یہی زمانے میں پنپنے کے اندازاور باتیں ہیں تو پھر (ن)لیگ سے تعلق رکھنے والے ایوان میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اپنی چوہدراہٹ کا بیدریغ استعمال کرتے ہوئے اپنے اِس بے مقصد مو¿قف کے ساتھ”برطرف ملازمین کی بحالی سے معیشت پر17ارب روپے کا بوجھ پڑے گاملازمین کی بحالی کا یہ بل خلافِ آئین اور خلافِ قانون ہے“ اُنہوں نے قطعاََ اِس بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کردیا۔
یہاں میراخیال یہ ہے کہ کیا قائدحزب اختلاف چوہدری نثار علی خان یہ بتاسکیں گے…..؟؟ کہ ملک کے عوام کو اِن کی اپوزیشن ہوتے ہوئے کیا ریلیف ملاہے ….؟؟اور اِن کی پارٹی موجودہ حکومت کی فرینڈلی اپوزیشن ہوتے ہوئے ملک اور قوم کے لئے کتنے اچھے کام کرسکی ہے…..؟؟؟ اور حکومت سے کروانے میں کامیاب ہوپائی ہے ……؟؟جو اِنہوں نے برطرف ملازمین کی بحالی کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہہ ڈالا ہے کہ اِ ن کی بحالی سے معیشت پر سترہ ارب روپے کا بوجھ پڑے گا اَب اگر اِس بل کی بحالی سے برطرف ملازمین کو دوبارہ اِن کی ملازمتوں پر بحال کیاجارہاہے تو اِس میں بھلاکیاحرج ہے….؟اور اِس میں (ن)لیگ کیوں روڑے اٹکارہی ہے…..؟؟؟اور اِسے سیاسی رنگ دے کر کیوں ایشوبنارہی ہے…..؟؟؟
اَب اگر پاکستان پیپلز پارٹی اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سیاسی یا کسی اور انتقامی کارورائی کی وجہ سے برطرف کئے گئے ملازمین کی بحالی کے لئے اسمبلی سے قانونی طور پر کوئی بل منظور کروارہی ہے تو اقتدار جماعت کے اِس عوام دوست اقدام پر پاکستان مسلم لیگ (ن)کو بھی اِس کا ہر حال میں ساتھ دیناچاہئے تھا ناںکہ اِس عوام دوست حکومتی اقدام پر اسمبلی کے پورے سیشن سے بائیکاٹ کاہی اعلان کرکے موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے حوالوں اورملک کے حالات اور واقعات کی روشنی میں عوامی سطح پر(پی ایم ایل نون)کو اپنے جیسے تیسے بڑھتے ہوئے گراف کو گرانے کی بھلاکیاضرورت تھی …..؟؟شائد چوہدری نثار علی خان اور اِن کی پارٹی کے سربراہ کو اِس بات کا احساس نہ ہو کہ اِن کا ملازمین کی بحالی کے حوالے سے بل کی منظوری کے خلاف واک آوٹ کرنے کے اعلان کو ملک بھر کے برطرف ملازمین نے کس شدت سے محسوس کیا ہے اور پی ایم ایل (ن) کے اِس اقدام کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف اور اِن کی پارٹی سے شدید نفرت کا اظہارکررہے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف اور اِن کی جماعت کی ایسی ہی عوام اور مزدور دشمن پالیسی ہے تو خدانوازشریف کو اَب کبھی بھی اقتدار نہ دے۔جس کے لئے نوازشریف اور اِن کی پارٹی کے اراکین لاکھ لاکھ جتن کئے ہوئے ہیںاور اِن سب کی یہی ایک کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے اقتدار پھسل کر جلد ازجلد اِن کے ہاتھوں میں آجائے تاکہ یہ بھی قومی خزانے سے دولت لوٹ سکیں اور مزے لیں۔
جبکہ قومی اسمبلی میں برطرف ملازمین کی بحالی کے بل کی منظوری کے خلاف پی ایم ایل (ن)کے احتجاج اور بائیکاٹ کے اعلان کے بعد وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے کہاکہ ”ہمیں کسی کا کوئی ڈر نہیں، ملازمتیں دینے کا یہ جرم ہم ہر حال میں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے رہیں گے،اِس میں کسی معاہدے کی کوئی نفی نہیں ہوئی ہے سارے کام جوں کہ توں ہی ہورہے ہیں“ یہاں میں یہ سمجھتاہوں کہ ملازمین کی بحالی کے بل کی منظوری کے خلاف (ن)لیگ کے واک آوٹ کئے جانے کے جواب میںوزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران جس جرائتمندی اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اگر یہ عوامی مسائل جن میں ملک سے مہنگائی اور کرپشن جیسے ناسوروں کے خاتمے کے لئے اِسی طرح سے جرا¿ت اور بہادری کا مظاہرہ صرف ایک بارہی کردیں تو پھر دنیادیکھے گی کہ ملک سے مہنگائی اور کرپشن کسیے نہیں ختم ہوتی ہے…..مگر شائد یہ ایسانہ کرسکیں کیونکہ اِن ہی کے سہارے تو اِن کی حکومت قائم ہے اور اِن کی دال اور دلیہ بھی چل رہی ہے۔
بہرکیف !یہ مانا کہ موجودہ حکومت نے اپنے دو ڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں اتنے اچھے کام قطعاََ نہیں کئے ہیں جن سے عوام کا اِس حکومت پر اعتبار قائم ہومگر دوسری جانب یہ بھی ایک کُھلی حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی یہ تاریخ گواہ ہے اوریہ ملک کی وہ واحد جماعت ہے کہ کہ اِس جماعت کوجب بھی حکومت ملی ہے اِس نے بلارنگ و نسل اور زبان وسرحد سمیت بغیر کسی سیاسی وابستگی کے لوگوں کوقومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑنے کی پرواہ کئے بغیر اپنے ہر دورِ حکومت میں ہزاروں ضرورت مندوں کوملازمتیں دی ہیں اور شائد یہی وہ خاصیت ہے جس کی وجہ سے پی پی پی کو اپنے ہر دورِحکومت میں زبردست عوامی حمایت حاصل رہی ہے اور آج جبکہ مہنگائی کا طوفان سرچڑہ کربولاہے موجودہ حکمرانوں کواِن حالات میں بھی یہی خوش فہمی کھائے جارہی ہے کہ اِنہیں اَب بھی بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے جس کا اظہارصدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور حکومتی وزرا¿ سمیت برسرِ اقتدار جماعت کے سینئر عہدیدار اور کارکنان بھی بے شمار مرتبہ اپنے اپنے عوامی رابطوں اور اسمبلی فلورز سے بھی کچھ یوں کرچکے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہماری حکومت ملک میں مہنگائی کو کم کرنے اور اِسے ختم کرنے میںبری طرح سے ناکام رہی ہے مگر اِس کے باوجود بھی ہماری حکومت کے کچھ کارنامے عوام کے لئے ایسے ہیں جن کی وجہ سے عوام کا ہماری حکومت پر بھرپور اعتماد ہے جس میں ضرورت مندوں کو ہم نے پانی کی طرح ملازمتیں مہیاکیں ہیںمیں یہ سمجھتاہوں کہ موجودہ حکومت کا صرف یہ ہی وہ واحدکارنامہ ہے جس کی وجہ سے عوام آج بھی اِس ساتھ ہے ورنہ تو اِس حکومت میں ایسی بھی کوئی خاص بات نہیں کہ اِسے عوام کا اندھااعتماد حاصل ہے۔عوام کو نوکریاں بٹانے کا اِس ناکام حکومت کا یہ صرف واحد اور اچھا عمل بھی اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی آنکھ میں کھٹک رہاہے جس کے لئے بھی اِس نے طرح طرح کی مکاریاں شروع کررکھی ہیں۔
اور اِس کے ساتھ ہی میں اپنے آج کے کالم کے اختتام سے قبل یہ بتاتاچلوں کہ میراتعلق ملک کی کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت سے نہ تو پہلے کبھی رہاہے اور نہ اِس سطور کے رقم کرنے تک ہے میں صرف ایک پاکستانی ہوں اورایک ایسا پاکستانی جو پاکستان سے محبت کرتاہے میں نے ہمیشہ اپنے کالم میں وہی لکھاجو دیکھااور سمجھاہے میں نے کبھی کسی کو ذاتی مفادات کے حصول کے خاطر تنقید کا نشانہ نہیں بنایامیراآج کا کالم بھی ایساہی ہے مگر اِس کے باوجود بھی اگر میری کوئی بات کسی کو بڑی لگے تو میں معذرت خواہ ہوں ۔
محمداعظم عظیم اعظم[email protected]

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button