پاکستان کیا ہے?

تحریر: فوزیہ بھٹی
ہم پاکستان کی اہمیت اپنے تیئں جانتے ہیںیہ اور بات ہے کہ ہم سمجھتے نہیں۔سمجھنے کے اس عمل کو آسان بنانا اصلی جیت ہے۔پاکستان کا مطلب کیا لاالاہ اللہ۔ےہ نعرہ ایک تہائی صدی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔چلیئے آج پاکستان کی تلاش میں نکلیں اور ےقین مانیئے پاکستان کے اتنے ہی مطلب نکلیں گے جتنے پاکستانی ہیں۔اتنے ہی مفہوم ہونگے جتنے اس میںبسنے والے سوال۔پاکستان کو سمجھنے کے لیئے ہمیں اس کو پہچاننا ہو گا۔پاکستان کو جاننا ہو گا۔ےہ سمجھنا ہو گا کہ اس کی اہمیت کےا ہے۔ےہ urdusky-writer-0101سمجھنا ہو گا کہ یہ اصل میں ہے کیا ۔یہ زندگی کا حصہ ہے۔۔۔زندگی کا محرک ہے۔۔۔یا یہ زندگی ہے۔۔۔
کہا جاتا ہے جتنے لوگ ہوتے ہیں اتنی ہی سوچیںسانس لیتی ہیں۔مندرجہ بالا سوالات ہمیں ہر ایک مختلفschool of thought کے تحت سوچ کے پیرائے میں لے آتے ہیں۔اگر پاکستان زندگی کا حصہ ہے تو بات اور رخ اختیار کرے گی۔اگر زندگی کا محرک ہے تو تصویر کا رخ اور ہوگا۔اور اگر یہ زندگی ہے تو کہانی ہی بدل جائے گی۔سوچ کے سائے میں سستانے کے بعدہم پہچان کا سفر طے کریں گے۔اور پہچان کے راستے میں ہی ہر سوال کا مکمل جواب ہمار منتظر ہو گا۔ہر ایک زاویہ ہر ایک راز سے پردہ اٹھ جائے گا۔
 اپنی سوچ عیاں ہونے کے بعداب ےہ دیکھیے کہ آپ پاکستان کو کتنا own کرتے ہیں۔اور اگر آپ اس کو سچ میںown کرتے ہیںتو یہ احساس کیجیئے کہ باقی لوگ اس کہ کیا سمجھتے ہیں۔یہ سمجھئےے کہ لوگ اور ارباب اختیار اس کو کیا سمجھتے ہیں؟جن لوگوں کے ہاتھ میںہم اس ملک کی قسمت تھما دیتے ہیں۔وہ پاکستان کا مطلب بھی جانتے ہیں؟؟؟واقف ہیں اس کی اہمیےت سے؟؟؟اس ملک کو بے رحمی سے لوٹنے والے اس کو آخر کیا مقام دیتے ہیں۔کیا اپنی زندگی کوئی ےوں بھی اجاڑتا ہے؟کیا زندگی ساے جڑی حقیقت کو کوئی یوں بھی پامال کرتا ہے؟کیا اپنے گھر آنگن کا کوئی یوں بھی سودا کرتا ہے؟پاکستان کیا ہے انکے لیئے یہ سمجھنا اتنا مشکل نہیں۔ہم کیوں بار بار ایسے لوگوں کو منتخب کرلیتے ہیں۔بار بار ہر بار ایسا کیوں کرتے ہیں۔کیوں سوچ کو ووٹ نہیں دیتے۔کیوں چہرے منتخب کرنے پر بضد ہیں۔کیوں ہمیں احساس نہیں کہ ہمارا گھر لٹ چکا ہے۔۔۔ویرانی برس رہی ہے۔۔۔لوگ بھوکوں مر رہے ہیں۔۔۔نوکرےاں نہیں ہیں۔۔۔گندم چھپا دی جاتی ہے۔۔۔اپنے محل بچانے کو غریبوں کے کھیت ان کے مویشی ان کے بچے بہا دیئے جاتے ہیں۔کیوں یہ سادہ سی بات ہمارے لیئے اتنی پیچیدہ ہے۔آنکھوں کے باوجود بصارت سے عاری ہیں ہم۔جب ہم ےہ جان جاتے ہیں کے وہ شخص وہ ارباب اختیار اس قابل ہی نہیں کیوں بارہا ان کو چن لیتے ہیں۔وہ جنہیں اس ملک سے سروکار ہی نہیں جو صرف بادشاہ بننے کی غرض سے یہاں ایک مقررہ وقت گزارتے ہیں اور پھر باہر بنائی گئی جایئدادوں پر عیاشی کرتے ہیں یہ جانے بغیر کے اس میں کتنے غریبوں کی بے بسی ان کی بھوک ان کے بچوں کا بچپن ان کی تعلیم دفن ہے۔یہ ہے پاکستان انکے نزدیک۔ایک پیسہ چھاپنے کی مشین۔ایک بڑے محل میں نوکر کا سکھ۔ایک ایسی جگہ جہاںوہ لوگوں کو بیوقوف بنا کر جوابدہ بھی نہیں ہیں۔
اٹھئے سوچیئے سوال کا حق استعمال کیجیئے۔جواب مانگئے تب تک مانگیئے جب تک مل نہ جائے۔خود سے جواب ڈھونڈیئے۔پاکستان ہمارا ہے۔ہمارے لیئے ہے۔اسکا حق ہے ہم پر اور ہمارا اس پر۔اٹھیے سوال کیجیئے جواب نہ بھی ملے سوال کرتے رہیے۔اور دیکھئے جواب کس کے پاس ہے۔یہ دیکھئے جواب کس کے پاس ہے اور غور کیجیئے وعدہ کس کے پاس ہے۔وعدوں کے لالی پاپس بہت آزما لیئے۔اب جواب کا وقت ہے۔پرانے وعدوں کے حساب کا وقت ہے۔پاکستان آپ کے لیئے کیا ہے یہ سب کو بتا دیجیئے۔اپنے ووٹ کو پاکستان کا محافظ جانیئے۔اپنی پہچان پر فخر کیجیئے۔اللہ سبحان وتعالی پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button