ورلڈ کپ ہمارا ہے؟

ممتاز امیر رانجھا
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بڑی ہی جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے بالآخرورلڈ کپ2011میں اپنے دوسرے میچ میں سری لنکن ٹیم کو ان کے ہی ملک میں شاندار مگر یادگاری شکست سے دو چار کیا۔عمران خان نے اس سے پہلے ملکی تاریخ میں ایک دفعہ 1992کا ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی ملی جلی محنت سے پاکستان کا نام روشن کیا اور ملک کو فتحیاب کیا۔آج عمران خان کی شکل میں شاہد خان آفریدی یہی سہرہ سجانے کے لئے اپنی ٹیم کیساتھ میدان میں نمایاں ہیں۔پاکستان کا پہلا میچ جو کہ23فروری کو کینیا کے خلاف ہوا،اس میں پاکستانی ٹیم نے بہت ہی پیارے انداز میں یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ میچ اپنے نام کیا۔
سری لنکا کیخلاف میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بہت سی غلطیاں بھی دہرائیں۔ان غلطیوں میں کامران اکمل کی طرف سے اسٹمپ ہونے والے کھلاڑیوں کا چانس دینے کے علاوہ دو اہم کیچز کا ڈراپ کرنا بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ یونس خان نے بھی ایک اہم کیچ ڈراپ کیا۔ہماری فیلڈنگ میں بھی کئی ایسی خرابیاں ہیں جو کہ کئی سالوں سے روایتی ہیں۔مثلاًہمارے اچھے اچھے کھلاڑی ٹھیک سے تھرو بھی نہیں کر پاتے۔بہرحا ل ان ساری مذکورہ غلطیوں کے باوجود ہماری ٹیم نے قوم کی دعاﺅں اور اپنی کاوش سے وہ کر دکھایا جس کے لئے پاکستان کو بہت ضرورت ہے۔ابھی یہ دو میچز ابتدا ہیں،قوی امید ہے کہ ہماری ٹیم مستقبل میںاپنی پرفارمنس کو اور بہتر بنائے گی۔گروپ اے میں اس وقت ہماری ٹیم ماشا اللہ سب سے ٹاپ پوزیشن پر ہے،اس کے بعد دوسرا نمبر آسٹریلیا کا نمبر ہے۔
اس کے بعد ہمارے تمام میچز جن میں کچھ آسان ہیں اور کچھ مشکل سب میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنا نہایت ضروری ہیں۔ہماری ٹیم کی اوورآل پرفارمنس میں شاہد آفریدی کی باﺅلنگ نمایاں ہے۔ اس میچ میںاحمد شہزاد نے13،محمد حفیظ نے32،کامران اکمل نے39،یونس خان نے شاندار72،مصباح الحق نے یونس خان سے ایک قدم آگے83،عمر اکمل نے10،شاہد آفریدی نے16سکور بنائے۔اگر پاکستانی باﺅلنگ کاجائزہ لیا جائے تو شاہد خان آفریدی نے بہترین باﺅلنگ کراتے ہوئے اپنے 10اوورز میں34رنز دیکر 4کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔شعیب اختر کی اس دفعہ کی باﺅلنگ بھی کافی سود مند رہی انہوںنے اپنے 10اوورزمیں2کھلاڑیوں کو آﺅٹ کر کے42اسکور دیا۔
اس کے بعد کے تمام میچز جن میںاگلا میچ کینڈا کے ساتھ 3مارچ کوہے، اس میں کینڈا کو ایک اہم ٹیم سمجھ کھیلنا ہی عقلمندی ہو گی۔اگر ہماری ٹیم کینڈ ا کو ایک آسان ٹیم کے طور پر لیا تو شاید رزلٹ خطرناک ہو سکتا ہے۔نیوزی لینڈ کے ساتھ ہماری ٹیم کو 8مارچ کو نبردآزما ہونا ہے،نیوزی لینڈ میں افسوسناک زلزلے کی وجہ سے ان کی ٹیم ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے ان کے سابقہ میچ پر بہت اثر پڑا۔نیوزی کے مدمقابل ہونے کے لئے ہماری ٹیم کو سری لنکن ٹیم کے ساتھ کی گئی حکمتِ عملی نبھانا ہو گی۔اگر ہماری بیٹنگ پہلے آ گئی تو ہم آسانی سے جیت سکتے ہیں لیکن دوسری بیٹنگ کی صورت میں محنت بہت کرنا پڑے گی۔urdusky-writer
14مارچ کو ہمارا میچ زمبابوے کی ٹیم کے ساتھ ہے جوکہ بنگلہ دیش ٹیم کی طرح پانسہ پلٹنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔19مارچ کو آسٹریلیا ٹیم کے ساتھ ہمیں اور ہماری ٹیم کو ایسا سمجھنا ہو گا کہ جیسے ہمارا فائنل میچ ہو۔اس کی وجہ یہ ہے آسٹریلین ٹیم ایک ایسی ٹیم ہے جو زیادہ دفعہ ورلڈ کپ جیت چکی ہے ۔اگرچہ ان کے پاس اس دفعہ میچ ونر کھلاڑی بہت کم ہیں لیکن پھر بھی آسٹریلیا کی ٹیم باﺅلنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ میں پیشہ ورانہ طور پر دنیا کی سب سے نمایاں ٹیم ہے۔اس لئے اس میچ میں جان کی بازی کھیلنا بہت ضروری ہے۔
اس کے بعد جب ہماری ٹیم کوارٹر فائنل میں پہنچے گی تو وہاں پر کسی بھی غلطی کا کوئی چانس نہیں۔سیمی فائنل میں ہماری ٹیم قوم کی دعاﺅں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ضرور جائے گی۔ہمارا یقین کامل ہے جب ہماری ٹیم سیمی فائنل جیت جائے گی تو فائنل میں ہماری ٹیم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھرپور معجزے کا چانس ہوتا ہے۔پچھلی دفعہ ہماری ٹیم نے برا کھیل کر باب وولمر کا نہ صرف دل توڑا بلکہ انکی جان تک چلی گئی۔لوگوں نے اپنے گھروں میں ٹی وی الگ توڑے۔
اس دفعہ شاہد خان آفریدی ،یونس خان،مصباح الحق ،عبد الرزاق ،محمد حفیظ،عمر اکمل،عمر گل اورشعیب اختر ایسے کھلاڑی ہیں جوپاکستانی ٹیم کے لئے کسی بھی وقت اپنی کارکردگی سے ٹیم کو اس دفعہ ورلڈ کپ جتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہماری ٹیم دنیا کی تمام ٹیمز سے اس وقت باﺅلنگ اور بیٹنگ کے لحاظ سے نمبرون ہے ،ہماری ٹیم میں کامران اکمل کو کیچز اور ٹیم کو فیلڈنگ میں جان لڑانا ہوگی۔اگر ہم کوئی میچ ہارے تو اس میں کامران اکمل کی طرف کیچ ڈراپ کرنے کی غلطی اور فیلڈنگ میں فیلڈرز کی کوتاہی ضرور نمایا ں گی۔گُڈ لک پاکستانی ٹیم گُڈ لک پاکستان۔انشا ءاللہ یہ ورلڈ کپ ہمارا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button