نواز لیگ تنہا پرواز کرنا چاہتی ہے؟

عثمان حسن زئی

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بالآخر اپنی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی سے جان چھڑالی، یہ اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ صورتحال میں نواز لیگ تنہا پرواز کرنا چاہتی ہے۔ن لیگ کے ماضی قریب کے اقدامات پر غور کریں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جس سیاسی جماعت نے بھی میاں نواز شریف کے قریب ہونے یا انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے انہوں نے بڑی بے دردی سے اسے دھتکاردیا۔ مسلم لیگیوں کو اکھٹا کرنے کی آڑ میں ن لیگ کو پھانسنے اور انہیں اپنے جال میں لانے کے لیے میدان سجایا گیا مگر میاں صاحب کسی کے بہکاوے میں نہیں آئے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لیگی دھڑوںکو اتحاد کا درس دینے والے بھی اپنی کوشش میں ناکامی کے بعد خاموشی رہنے پر مجبور ہیں اور اب متحدہ مسلم لیگ بھی منظر عام سے غائب نظر آرہی ہے۔ آپ غور کریں! اکثر ایشوز پر میاں نواز شریف اور عمران خان کا موقف تقریباً یکساں ہے، دونوں ہی انقلاب کے نعرے لگارہے ہیں لیکن پھر بھی تحریک انصاف کو اپنے ساتھ ملانے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی تو کیوں؟ جماعت اسلامی جو کبھی نواز لیگ کی اہم اتحادی ہوا کرتی تھی جتنی یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب تھیں آج ان میں اتنی ہی زیادہ دوریاں نظر آرہی urdusky-writer-00ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چودھری برادران نے میاں صاحب کی قربت حاصل کرنے کے لیے کئی مرتبہ سنجیدہ کوشش کیں مگر انہیں بھی ہر بار منہ کی کھانا پڑی۔ مرکز، خیبر پختونخوا اور سندھ میں حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی کئی مرتبہ یہ اشارے دیے کہ وہ پیپلزپارٹی سے مطمئن نہیں ہے ن لیگ نے اس کی بھی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی یا یوں کہیے کہ اسے بھی لفٹ نہیں کرائی۔ اس پورے ماحول میں نواز شریف اکیلے ہی چل رہے ہیں، جن صوبوں یا علاقوں میں ن لیگ مضبوط نہیں ہے جیسے سندھ و بلوچستان ،وہاں بھی ن لیگ نے کسی پارٹی سے اتحاد کی بجائے شخصیات پر انحصار کرنے کو ترجیح دی اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے انفرادی طور پر ملاقاتیں کیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب کے تنہا پرواز کرنے کی وجہ کیا ہے؟ بعض مبصرین اس کا جواب یوں دےتے ہیں کہ نواز شریف آیندہ انتخابات میں کلین سویپ کے خواب دیکھ رہے ہیں اور انہیں اپنا مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگی قائددیگر سیاسی جماعتوں کی بلیک میلنگ میں آنے اور ان کا بوجھ اٹھانے سے کترارہے ہیں۔ میاں برادران کو اگلا دور اپنا نظر آرہا ہے اور موجودہ حالات میں انہیں اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں کی ایسی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں کہ وہ انہیں اپنے ساتھ ملاکر خود کو آزادانہ قوت فیصلہ سے محروم کریں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ن لیگ عوامی ہمدردیوں کا فائدہ اکیلے ہی اٹھانا چاہتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے نواز لیگ ہی واحد پارٹی ہے جو عوام سے مخلص ہے اور ملک و قوم کو بحرانوں کے بھنور سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ غالباً اسی سوچ کے تحت میاں نواز شریف نے پیپلزپارٹی کی پنجاب حکومت سے چھٹی کرادی ہے۔ اس فیصلے کے باوجود ملکی سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوتی نظر نہیں آرہی۔ بعض مخالفین کا اصرار ہے کہ میاں صاحب نے صدر زرداری کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی جدائی کا فیصلہ کیا اس اقدام کو نورا کشتی کے مترادف قرار دیا ہے تاکہ تنقید کی توپوں کا رخ کسی اور جانب موڑا جاسکے۔
دوسری طرف وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کراچی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران سخت لب و لہجہ اور دھمکی آمیز زبان اختیار کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں پیپلزپارٹی پر غیر جمہوری وار کیا گیا تو کراچی سے کشمور تک مسلم لیگ نواز کا ایک بھی دفتر باقی نہیں بچے گا۔ اس کے بعد میاں نواز شریف کو اگر کوئی پروگرام کرنا ہوا تو حیدرآباد کے پاگل خانے جانا ہوگا۔ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے نواز شریف اور عمران خان سے اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بدمعاش نہیں لیکن ملک کے لیے بدمعاشی کرنی پڑی تو کریں گے۔
ملک کی دو بڑی قومی جماعتوں کے درمیان تین سال سے الفاظ کی جنگ جاری ہے اس سے ان جماعتوں کے ملک و قوم سے ”مخلص“ ہونے کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ایک جانب صدر اور وزیراعظم مسلم لیگ (ن) کو مذاکرات کی دعوت دے رہے تھے تو دوسری طرف صدر زرداری کے دست راست سمجھے جانے والے ذوالفقار مرزا سندھ میں ن لیگ کے دفاتر جلانے کی بات کررہے تھے۔ جو یقینا انتہائی نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے ایک ایسا شخص جس کی ڈیوٹی ہی صوبے میں امن و امان کا قیام یقینی بنانا ہوا گروہی اپنے مخالفین کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی بات کرے گا تو پھر امن و استحکام کی کیا ضمانت باقی رہے گی۔ اس سے ان کی حکومت و سیاست کے معیار کا اندازہ ضرور ہوتا ہے جو اتنے اہم عہدے پر فائز رہتے ہوئے بھی خود کو بدمعاش قرار دیتے ہوں اور جنہیں اپنی زبانوں پر قابو نہ ہو وہ حکومت کی باگ ڈور کیسے سنبھالے ہوئے ہیں؟
اس سے قبل بھی ذوالفقار مرزا متحدہ قومی موومنٹ کو مخاطب کرکے کئی مرتبہ خود کو بدمعاش کہتے رہے ہیں مگر اس کے باوجود وہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک کے ساتھ نائن زیرو پر حاضری لگاکر بزبان حال معافی مانگ چکے ہیں!
اس قسم کے بیانات سے ملک میں سیاسی ماحول کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی، لہٰذا ایسے بیانات سے احتراز برتنا چاہیے اور ہمارے سیاسی لیڈروں کو اس تاثر سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ سیاسی جماعتیں ملکی مسائل کو حل کرنے اور قوم کی قیادت کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتیں، اگر مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر ملک کو 90 کی دہائی کی سیاست میں دھکیلنے کی کوشش کی تو کیا یہ کسی طالع آزما کو خود دعوت اقتدار دینے اور اپنے پاﺅں پر کلہاڑے چلانے کے مترادف نہیں؟

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button