موٹاپے سے پریشان ہیں؟

یہ غذائیں کھانا شروع کردیں

موٹاپا یقیناً آپ کی ظاہری شخصیت کو خراب کردیتا ہے جبکہ اس کے صحت پر بھی کئی منفی اثرات پڑتے ہیں۔

موٹاپے کے شکار افراد میں امراض قلب، ذیابیطس، بلڈپریشر اور فالج جیسی لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اکثر افراد کا ماننا ہے کہ کم کھانے سے انہیں موٹاپا دور کرنے میں مدد ملے گی، تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ موٹاپے میں کم کھانے کے بجائے صحیح کھانے کو فوقیت دینا زیادہ ضروری ہے۔

تلی ہوئی چیزوں سے دوری اور غذا میں سبزی و پھلوں کو حصہ بنانا موٹاپے کی روک تھام میں بہت حد تک فائدہ مند ہوگا۔

وزن میں کمی کسی جادوئی طریقے سے نہیں آسکتی، البتہ طرز زندگی کو تبدیل کرکے وزن کو کم کیا جاسکتا ہے۔

یہاں کچھ ایسی غذائیں مندرجہ ذیل ہیں جن کے استعمال جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

(گرین ٹی (سبز چائے

گرین ٹی پینے سے جسمانی وزن میں کمی میں مدد اس لیے ملتی ہے کیوں کہ اس میں موجود اجزاء میٹابولزم کو بہتر بناتے ہیں۔ گرین ٹی جسم میں موجود چربی کو گھلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

بادام

کیا آپ جانتے ہیں بادام کھانے سے پیٹ کی چربی کھلتی ہے اور اس سے جسم میں موٹاپے کی کمی فوری نظر آنے لگتی ہے، بادام کھانے سے بھول بھی کنڑول رہتی ہے جس سے جنک فوڈ کھانے سے بھی دور ریا جاسکتا ہے۔

دالیں

دالیں موٹاپے میں کمی لانے کا بہترین انتخاب ہوسکتی ہیں، اس میں کیلوریز اور فیٹ کی تعداد بےحد کم ہوتی ہے، دالیں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی روک تھام کے لیے بہترین غذا ہے۔

جو

ناشتے میں جو کے دلیے کو کھانا بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، اس میں شامل فائبر چربی کو گھلانے میں مدد دے کر میٹابولزم کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے۔

پانی

ویسے تو یہ بات بہت عام ہے کہ ہر روز دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی پینا اچھی صحت کے لیے بےحد ضروری ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پانی پینے کی صحیح شرح موٹاپے کو دور کرنے میں بھی فائدہ مند ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھوک کو پانی پی کر بھی دور کیا جاسکتا ہے۔

Junaid

Committed individual adept in efficiently utilizing available resources in completing assigned tasks. Seeking an entry-level position as a fresh graduate of English Literature & Software Engineering, providing a high end administrative duty for the company.

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button