معمر قذافی کے خاندان کا ایک تعارف

لیبیا کے صدر معمر قذافی نے اپنی بیشتر بچوں کو ملک کے سیاسی ، سکیورٹی اور معاشی منظر نامے پر کئی اہم عہدوں پر تعینات کر رکھا ہے۔

 

1970ء میں صفیہ فرکاش نامی خاتون سے شادی کے بعد جو پیشے کے لحاظ سے ایک نرس تھیں، قذافی کے سات بچے ہیں۔ قذافی کی یہ دوسری شادی تھی۔ اس سے پہلے بہت کم عرصہ برقرار رہنے والی ان کی شادی سے ان کا ایک اور بیٹا بھی ہے۔

قذافی کے خاندان کا ایک تعارف:

محمد قذافی: معمر قذافی کی پہلی شادی سے ان کے سب سے بڑے بیٹے محمد قذافی 1970ء میں پیدا ہوئے۔تعلیم کے لحاظ سے کمپیوٹر سائنسدان ہیں اور اس وقت حکومت کے زیر کنٹرول جنرل پوسٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے علاوہ قومی اولمپک کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لیبیا کے ہی دو موبائل فون مہیا کرنے والی کمپنیوں کے بھی مالک ہیں۔

سیف الاسلام قذافی: قذافی کے دوسرے بیٹے سیف السلام 1972ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے معیشت اور فن تعمیر کی تعلیم طرابلس، ویانا اور لندن سے حاصل کی۔ سن 1999ء میں انہوں نے رسمی طور پر آزاد، قذافی انٹر نیشنل چیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ وہ کئی کمرشل کاروبار کے مالک ہیں۔ اپنے والد کی طرز رہنمائی پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے انہوں نے 2006ء میں عارضی طور پر لیبیا سے ہجرت کر لی تھی۔ مغربی دنیا کی نظر میں وہ لیبیا کے ممکنہ ترقی پسند جانشین ہیں۔

سیف الاسلام قذافی

السعدی قذافی: قذافی کے یہ بیٹے سن 1973ء میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے لیبیا کی عسکری اکیڈمی سے تربیت حاصل کی اور اپنے والد کی طرح کرنل کے عہدے پر فائز ہیں۔  ایلیٹ یونٹ کے کمانڈر کی حیثیت سے ملک میں اسلامی عسکریت پسندوں سے لڑنے کے بعد 2003ء میں وہ پیشہ ور فٹبالر کی حیثیت سے اٹلی بھی گئے۔ اس دوران ان کو کئی اعلٰی ٹیموں نے اپنے ساتھ کھیلنے کی دعوت دی تاہم ان کی جانب سے کھیلنے سے قبل ہی ممنوع ادویات استعمال کرنے کے الزام کے باعث انہیں فٹبال چھوڑنی پڑی ۔ آج کل وہ ملک کی فٹبال فیڈریشن کے صدر ہیں۔

معتصم باللہ قذافی : سن 1975 میں پیدا ہونے والے قذافی کے اس بیٹے نے لیبیا اور مصر سے عسکری تربیت حاصل کی۔ اپنے والد سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر مصر منتقل ہو گئے تھے تاہم کچھ عرصہ بعد انہیں لبیا واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔ اب وہ لبیا کے صاحب اختیار صدارتی گارڈز کے کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند برسوں سے اپنے والد کے لیے وہ سیاسی اور سفارتی سطح پر خدمات بھی انجام دیتے آئے ہیں۔

عائشہ قذافی: معمر قذافی کی اکلوتی صاحبزادی عائشہ 1976 میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم انہوں نے طرابلس اور پیرس سے حاصل کی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ وکیل ہیں اور سابق عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری کے بعد ان کا دفاع کرنے والے وکیلوں کے گروپ میں بھی شامل تھیں۔ سن 2006 میں اپنی شادی کے بعد اب وہ لبیا کی فلاحی تنظیم کی سربراہی کر رہی ہیں۔

عائشہ قذافی، نیلسن منڈیلا کے ہمراہ

ھنیبال قذافی : 1977ء میں پیدا ہونے والے قذافی کے صاحبزادے لیبیا کی عسکری اکیڈمی سے گریجویٹ ہیں۔ اپنی پُر تعیش طرز زندگی اور پُر تشدد برتاؤ کے باعث خبروں کی شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ سن 2005ء  میں پیرس کے ایک ہوٹل میں ان پر اپنی خاتون دوست پر تشدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے دو برس بعد انہیں سوئٹزرلینڈ میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے الزام میں بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

سیف العرب: قذافی کے ان صاحبزادے کے بارے میں زیادہ معلومات منظر عام پر نہیں ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جرمنی کے شہر میونخ سے تعلم حاصل کی ہے۔ جہاں مختلف مواقعوں پر انہیں اعلٰی درجے کے نائٹ کلبز میں ہنگامہ کرنے اور نہایت اونچی آواز رکھنے والی کار فیراری استعمال کرنے کے باعث اکثر پولیس کا سامنا کرنا پڑا۔

خامس قذافی، الجیریا کے صدر سے مصافحہ کرتے ہوئےخامس قذافی، الجیریا کے صدر سے مصافحہ کرتے ہوئے

خامِس قدافی:میڈیا رپورٹس کے مطابق طرابلس میں قذافی کے گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں جان بحق ہونے والے قذافی کے یہ سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور زندگی بھر عوام کی نظروں سے دور رہے۔ روس سے انہوں نے عسکری تربیت حاصل کر رکھی تھی اور اب لیبیا کی سکیورٹی کے لحاظ سے اہم عہدے پر تعینات تھے۔

میلاد ابوضتایہ قذافی: بنیادی طور پر یہ قذافی کے بھانجے ہیں تاہم ان کو قذافی نے گود لے لیا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1986ء میں امریکہ کی جانب سے طرابلس پر کی جانے والی بمباری کے دوران قذافی کی جان بچائی تھی۔

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button