مشرقِ وسطی تبدیلی کی زد میں

عبدالجلیل منشی
ساحل پر کھڑے ہوکر سمندر کی پرسکون ہلکورے لیتی لہروں کا نظارہ یقینا آنکھوں کوتراوٹ اور قلب کو سکون بخشتا ہے دیکھنے والی آنکھ خالقِ کائنات کی اس سربستہ رازوں سے آباددنیا کی بظاہر پرسکون سطح کو دیکھ کر ساحل پر سر پٹختی موجوں کے اضطراب ،بے چینی اور سمندر کی گہرائیوں میں پلنے والے بےشمار پوشیدہ طوفانوں کا اندازہ لگانے سے قاصر رہتی ہے پھروہ طوفان جب سر اٹھاتے ہیںتواپنے سامنے آنے والی تمام رکاوٹوں کو تہس نہس کرکے تباہی اور بربادی کی نئی داستانیں رقم کرتے چلے جاتے ہیں یہی پرسکون، دلآویزاور سریلے نغمے بکیھرنے والانیلا ساگر جب کسی طبعی یا غیر طبعی وجوہات کی بناءپر غضبناک ہو کر اپنی حدود پار کرکے سخت اور سنگلاخ زمین سے ٹکراتا ہے تو دھرتی بےشمار تبدیلوںاور انقلابات کی زد میںآکر اپنی لاتعداد نشانیاں گم کر بیٹھتی ہےurdusky-writer
یہی حال دھرتی پربکھرے کروڑوں انسانوں کے ٹھاٹھے مارتے سمندروں کا ہے جبتک وہ پرسکون رہتے ہےں ہر چیز کو اپنے اندر جذب کئے رہتے ہےں، بڑے سے بڑے صدمے جھیل جاتے ہیں وقت اور حالات کی سختیاں انکے پایہ استقلال میں جنبش پیدا نہیں کر پاتیں اپنوں اور غیروں کی چیرا دستیوںاور انکے لگائے ہوئے زخموں کی ہر ٹیس کو وہ اپنے دل پر محسوس کرتے ہیں مگر ضبط اور صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتےاور انسان کی اسی سلیم فطرت کے باعث معاشرے میں امن اور آشتی کا ماحول بنا رہتا ہے حکومتیں پھلتی پھولتی ہیں دنیا میں علوم کی ترویج ہوتی ہے، سائنس اور ٹکنالوجی کی تحقیقات کے نتیجے میں نت نئی ایجادات بنی نوع انسان کی زندگیوں میں مزید آسانیاں اور سہولتیںفراہم کرتی ہیںاور دینا کا کاروبار اپنے معمول کے مطابق جاری و ساری رہتا ھے۔
مگر جب کسی معاشرے میںطاقتور کمزور پر،مالک نوکر پر، اعلی کمتر پراور حکمراں رعایا پر شفقت ومحبت نچھاور کرنے کی بجائے ظلم وزیادتی، جبر و مشقت اورجوروستم کے زریعے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کرنے لگتے ہیں ، انہیں انکے بنیادی حقوق سے محروم کرتے ہیں اور حقوق کے لئے بلند کی جانے والی ہر آواز کو بزور بازوکچل دیا جاہے۔ حکمران خود عیش کرتے ہیں ،اپنی ذات کے لئے مال و دولت کے انبار لگا لیتے ہیںاورعام شہری روٹی کے ایک نوالے کو ترس جاتاہے اعلی طبقہ نہایت شاندار اور ہر قسم کی جدید سہولتوں سے آراستہ کوٹھیوں میں بڑی شان وشوکت کے ساتھ زندگی گزارتا ہے جبکہ نچلے طبقے کے ایک عام شہری کو سر چھپانے کے لئے ایک جھونپڑا تک میسر نہیں ہوتا
ظلم وستم کا یہ بازار جب پوری طرح گرم ہو جاتا ہے ، معاشرے میں پھیلی ہوئی بےچینی جب اپنی انتہاءکو پہنچ جاتی ہے تو لوگوں کے ضبط وبرداشت کے تمام بندھن ٹوٹ جاتے ہیںسینوں میں مقید کھولتا ہوا لا وابہنے لگتا ہے سرخ خونی آندھیاں چلتی ہیں، سمندر کی پرسکون سطح میں مدوجزر وقوع پذیر ہوتے ہیں، جوار بھاٹے اٹھتے ہیںجو بڑھ کر ایسے خوفناک طوفان کی شکل اختیار کرلیتے ہیںجس کے آگے کوئی بندنہیں باندھا جا سکتا انسانی سمندر کے قلب میں پیدا ہونے والے اس طوفان کی پرمہیب موجوں کے آگے اقتدار کے مضبوط اور ناقابل
ِ تسخیر ایوان اور بڑی بڑی قد آور شخصیات خس وخاشاک کی مانند اس طرح بہہ جاتی ہیں کہ پھر تاریخ میں انکے انجام کی داستانیںآنے والی نسلوں کیلئے نشان عبرت بن کر رہ جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ۔ تمہاری داستانیں تک نہ ہونگی داستانوں میں ۔ کے مصداق انکے تذکرے تاریخ کے صفحات اور لوگوں کے اذہان سے محو ہوجاتے ہیں۔
شمالی افریقہ کے مسلم ممالک اور مشرقِ وسطی اور چند خلیجی ریاستوں میںپچھلے دو ماہ سے جاری حکومت مخالف احتجاجات کے نتیجے میں تونس اور مصر کے جابر اور مطلق العنان حکمرانوں کواپنا بوریا بستر گول کرنا پڑا عوامی سیلاب کی شدت اورطاقت کے آگے انہیں اپنا وہ اقتدارچھوڑنا پڑا جس سے وہ کسی آسیب کی طرح چمٹے ہوئے تھے جبکہ بقیہ ممالک میں جاری احتجاجی مظاہروں سے گھبرا کر وہا ں کی حکومتوں نے اپنی عوم کے لئے اصلاحات کے وعدوں کئے ہیں اور اپوزیشن رہنماوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھول دئے ہیں جن پر برسوں سے زنگ آلود قفل پڑے ہوئے تھے۔
تونس اور مصر میں مظاہرات کے دوران بےشمارلوگوں نے اپنے خون کے نذرانے پیش کئے ریاستی ظلم اوردباو کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے، گھر بار اور کام کاج چھوڑکر ایک مقصد کی تکمیل کے لئے باطل قوتوں کے آگے برسرِ پیکار ہوگئے اور بالاخر انکی یہ قربانیاں رنگ لائیں اور تونس کے صدر زین العابدین بن علی اور مصر کے صدر حسنی مبارک کو اقتدار کی دوڑ سے الگ ہونا پڑا
تونس کی گلی کوچوںسے اٹھنے والی احتجاجی لہر نے مصر کے بعدالجزائر،مراکش،لیبیااور مشرقِ وسطہ میں اردن،یمن،عراق،شام اور ایران جبکہ کویت اور بحرین کی خلیجی ریاستوںتک کو ہلا ڈالا ہےتونس کے لوگوں کے دلوں میں بن علی کی غاصب حکومت کے خلاف سلگتی چنگاریوں نے آتش فشاں کا رخ اس وقت اختیار کیا جب تونس کے ایک پسماندہ قصبے سیدی بوزیدکے رہائشی ۶۲ سالہ گریجویٹ محمد بوعزیزنے اس وقت خود سوزی کرکے خود کو ہلاک کرڈالا جب تونس پولس نے اسکے ٹھیلے کو قبضے میں لے لیا جس پر وہ پھل اور سبزیاں فروخت کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالا کرتا تھااور احتجاج کرنے پر ایک آفسر نے سب کے سامنے اسکے منہ پر طمانچہ رسید کیاتھا
محمد بوعزیز کے اس انتہائی قدم نے تونسی عوام کو خوابِ غفلت سے بیدار کردیا زین العابدین بن علی کے ۳۲ سالہ آ مرانہ اور جابرانہ دور حکومت میں شخصی اور صحافتی آزادی نہ ہونے کے برابر تھی اور ہر اس آواز کو کچل دیا جاتا جو اسکے اور اسکے اقتدار کے لئے خطرہ بن سکتی تھیہر اس شخص کو یا تو پابند سلاسل کردیا جاتا یا پھر ملک بدر کردیا جاتا جواسکے سامنے سینہ سپر کرتا۔برسوں سے بےروزگاری،جبرواستبداد، اورغیر مناسب معیارزندگی کے تسلسل نے بالاخر تونسی عوام کو سڑکوں پر لاکھڑا کیا اور انکے شدید اور مسلسل احتجاج کے باعث بن علی کوبالاخر ۴۱ جنوری ۱۱۰۲ئ کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ اسکا ارادہ فرار ہوکر فرانس جانے کا تھا مگر فرانس کے صدر نکولائی سرکوزی نے اسکے طیارے کو فرانس کی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں دی جسکے باعث اسے سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی بن علی کی اہلیہ لیلی بن علی ملک سے فرار ہوتے وقت ۵۳ ملین پاونڈ مالیت کے سونا کے ساتھ بآسانی ملک سے فرار ہوکر اپنے شوہر کے پاس سعودی عرب پہنچ چکی ہے
اقوامِ متحدکی تابع ایک انسانی حقوق کی ٹیم کے سربراہ بکری ندیائی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ تونس میں خونی احتجاجات کے دوران تقریبا ۷۴۱ افرادمظاہروں کے دوران ہلاک ہوئے جبکہ ۲۷ افراد ملک کی مختلف جیلوں میںجاں بحق ہوئے ٹیم کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ۰۰۵ سے بھی زیادہ ہے
تونس کی عوام کے اس کامیابی کا سب سے زیادہ اثر مصر کی عوام نے لیا جو سابق صدرحسنی مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار میںبری طرح پس چکے تھے۵۲ جنوری ۱۱۰۲ئ کو شروع ہونے والے ملک گیر پر امن احتجاجات کا سلسلہ ۸۱ روز جاری رہا جس نے ملک کی پوری معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا لاکھوں افراد اپنے گھروں سے نکل کر قاہرہ کے میدان آزادی میں جمع ہوگئے اور اٹھارہ دن تک مسلسل دھرنا دئے رکھا قاہرہ کے علاوہ مصر کے تمام بڑے شہروں میںمظاہروں کا سلسلہ ۱۱ فروری ۱۱۰۲ء تک حسنی مبارک کے اپنے عہدے سے استعفے کااعلان کرنے اور صدارت سے سبکدوش ہونے تک جاری رہا
مصر کے طول وعرض میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ۶۱ فروری ۱۱۰۲ ئ تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق۵۶۳تک پہونچ گئی تھی جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔مظاہریں نے پولس تشدد،ملک میں نافذ ایمرجنسی ،، پابندیءاظہارِ رائے ، کرپشن ،بےروزگاری،اشیاءخورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ اور تنخواہوں کی کم ترین شرح کے خلاف شدید ترین غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے صدرحسنی مبارک سے اقتدار سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا اور بالاخر مصری فوج نے مداخلت کرتے ہوئے مظاہرے شروع ہونے کے اٹھارویں روز حسنی مبارک سے استعفی لے کر ایک عبوری مدت تک کے لئے ملک کی باگ دوڑ فوج کی اعلی قیادت کے ہاتھوں سونپ دی۔مبارک اپنے اہل خانہ کے ساتھ مصر کے تفریحی شہر شرم الشیخ میںاپنی شاندار رہائش گاہ میں منتقل ہوگئے ہیں
انکے اقتدار سے علیحدگی کے بعداس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مبارک نے اپنے تیس سالہ دور اقتدار کے دوران کروڑوں ڈالرزفارن بنکوں میں جمع کروائے ہیں۔ ۱۱ فروری کو مبارک کے استعفے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر سوئس بنکوں نے انکے کروڑوں سوئس فرانکس کے اثاثے منجمد کردئے تھے سوئس وزیر خارجیہ اسٹیفن وون بیلو کا کہناہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ اثاثے حسنی مبارک کی جائز ملکیت ہیں یا نہیںبہرحال عدالتیں اس بات کافیصلہ کریں گی کہ ان اثاثوں کا درحقیقت کون مالک ہےیوروپی یونین کے ۷۲ رکن ممالک نے بھی اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے مصری عوام کے حق میں مبارک کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔علاوہ ازیں موجودہ عبوری ملٹری حکومت نے مبارک اور اسکے اہل خانہ کی مصر سے باہر سفر پر پابندی عائد کر دی ہے اور مغربی ممالک سے مبارک کے اثاثے منجمد کرنے کی سرکاری درخواست کردی ہے ایک اندازے کے مطابق مبارک کے غیر ممالک میں موجود اثاثوں کا تخمینہ ۰۷ بلین ڈالر لگایا جارہا ہے جبکہ مصر کے سرکاری جریدے الاہرام کی رپورٹ کے مطابق مبارک کے مصر کی بنکوں میں موجود خفیہ اکاونٹس میںاسکی اہلیہ کے نام ۷۴۱ ملین ڈالرز کی رقم خطیر رقم جمع ہے جبکہ اسکے ہر بیٹے کے نام ۰۰۱ ملین ڈالر ز ڈپازٹ ہیں
۵۱ فروری سے لیبیا کے صدر معمر قذافی اور انکی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک تاحال جاری ہے اور قذافی کی ریاستی فوج اور پولس احتجاج کرنے والے نہتے عوام پر نہ صرف اسلحہ کا بےدریغ استعمال کر رہے ہیں بلکہ جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سے فضائی بمباری کرکے خطرناک جنگی جرائم کے بھی مرتکب ہو رہی ہے لیبیا کے شہر بن غازی میں ملٹری اکیڈمی کے طلبہ محض اس لئے گرفتار کرلئے گئے کہ انہوں نے فوج کے ساتھ مل کر عوام کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قذافی اپنی حکومت کو بچانے کے لئے آخری حربے کے طور پر لیبیا کی نہتی عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کریگا
ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کا کوئی اندازہ نہیں ہے اور ان میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ لیبیا سے فرار ہوکر پڑوسی ممالک تیونس اور مصر پہنچنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہےاقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ۰۲ فروری سے لیکراب تک لیبیا سے فرار ہو کر تیونس پہونچنے والے افراد کی تعداد ۰۰۰۵۷ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مصری حکام کے مطابق ۹۱ فروری سے ابتک لیبیا کی سرحد پار کرکے مصر پہنچنے والو ں کی تعداد ۰۰۰۹۶ تک ریکارڈ کی گئی ہے
ایک اطلاع کے مطابق امریکا نے اپنے بحری اور فضائی بیڑے کو لیبیا کی سرحد سے قریب تعینات کردیا ہے اور بوقت ضرورت لیبیا کی عوام کوقذافی کی فضائیہ سے تخفظ فراہم کرنے کی خاطرلیبیا کی فضائی حدود میںنو فلائی زون تشکیل دے کر امریکی فضائیہ کا گشت شروع کئے جانے کا امکان بھی موجود ہے
ادھرگزشتہ دنوں مراکش کی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہرا ت میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور ۰۳۱ کے قریب زخمی ہونے کی اطلاعات ہیںاس دوران ملک کے مختلف شہروںمیں مظاہروں کے دوران مشتعل لوگوں نے سرکاری عمارتوں، بنکوںاور پولس سٹیشنوں پر حملے کئے اور املاک کو آگ لگادی
مراکش جہاں جمہوریت برائے نام ہے اورپارلیمانی اور حکومتی ادارے شہنشاہیت سے جڑے ملک کے اعلی سماجی اور اقتصادی طبقے کے ہاتھوں میں ہیں سیاسی اور اسلامی جماعتوں کی انتخابات میں حصہ لینے پر مکمل پابندی عائد ہے کنگ محمدپنجم خود حکومتی وزراءکا تقرر کرتا ہے اور پارلیمنٹ کو کسی قسم کے کوئی اختیارات حاصل نہیں ہیںاور بادشاہ دفاع،سیکیوریٹی،خارجہ اور ملک کے دیگر امور سے متعلق اہم پالیسیاں
خود وضع کرتا ہے اور ملکی اہم اصلاحات کے منصوبوں کی تکمیل کے سلسلے میں اسکا فیصلہ حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے
مراکش میں مظاہروں کے دوران مظاہرین اور اپوزیشن پارٹیوں نے موجودہ شاہ محمد پنجم کی حکومت کی ان عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مستعفی ہونے اورزمام حکومت عبوری انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہےدیکھنا یہ ہے کہ مراکش میں حکومت مخالف اور جمہوریت کی بحالی کے سلسلے میں کئے جانے والے مظاہرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور کیا مراکش کے لوگ بھی تونس اور مصر کے عوام کی طرح اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرپائیں گے یا نہیں
اسی طرح یمن، اردن، شام،ایران، عراق میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان ممالک میں لوگ اپنی اپنی حکومتوں سے اقتصادی اور سیاسی اصلاحات ۔اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں کمی، بےروزگاری کے خاتمے اور معیشت کی بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ یمن میں شہری صدر علی عبداللہ صالح کے استعفے کی مطالبہ کر رہے ہیں اور صدر ااس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی وہ عوامی مظاہرات پر لبیک کہتے ہوئے نہیں کرینگے بلکہ رائے دہندگان کا جو فیصلہ ہوگا اسکے مطابق عمل کرینگے
۴۱ فروری سے بحرین میں جاری مظاہروں میں کمی نظر نہیں آرہی ہے بحرینی حکومت نے فی خاندان ۰۰۷۲ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا مگر اس کے باوجود مظاہرین مطمئین نظر نہیں آتے بحرین کی اکثریتی شیعہ آبادی اقلیتی سنی حکومتی پالیسیوں سے مطمئین نظر نہیں آتی اور حکومت سے مزیدسیاسی حقوق ،مساوات کامطالبہ کررہی ہے ا نکا کہنا ہے کہ وہ موجودہ حکمرانوں کی تختہ نہیںالٹنا چاہتے ۔ انکا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کو فیصلہ سازے کے زیادہ اختیارات دئے جائےں اور کلیدی حکومتی مناصب کو شاہی خاندان کی گرفت سے آزاد کیا جانا چاہئے
بحرینی حکومت نے اپوزیشن رہنماوں سے ریاست کے بہترین مفادات میں بات چیت پر رضامندی کا اظہار کیا تھا اور کہاتھا کہ ملک میں حالات سازگار ہوتے ہی گفت وشنید کا عمل شروع کر دیا جائےگا۔ مگر اپوزیشن نے بات چیت سے انکار کرتے ہوئے دارالحکومت منامہ کے مرکزی اسکوائر پر اپنا دو ہفتوں سے جاری دہرنا برقرار رکھا ہے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں
گزشتہ دنوںاحتجاجات کی لہرنے کویت کا بھی رخ کیا اور سٹیٹ لیس عربوں نے اپنے حقوق کے حق میں مظاہر ہ کیا جس میں مظاہرین نے کویتی حکومت سے اپنے جائز مطالبات منظور کرنے کی مانگ کی اور انہیں کویتی نیشنلٹی دینے کا مطالبہ بھی کیا کویت میں تقریبا ایک لاگھ کے قریب سٹیٹ لیس عرب آباد ہیں جنکے پاس کوئی نیشنلٹی نہیں ہےحکومت کا یہ کہنا ہے کہ سٹیٹ لیس عربوں کے آباءواجداد قریب وجوار کے علاقوں سے ہجرت کرکے کویت آئے تھے اسلئے وہ نیشنلٹی کے حقدار نہیں ہیں حکومت ان سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنی اصل قومیت کی دستاویز حکومت کو فراہم کرے تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جاسکے کہ آیا وہ کویتی نیشنلٹی کے حقدار ہیں یا نہیں
دوسر ی طرف بیشتر سٹیٹ لیس اس بات کا دعوہ کرتے ہیں کہ وہ اصل میں کویتی ہیں کیونکہ انکے آباءواجدادصحراءنشین بدو تھے جنہوں نے کویت کی آزادی کے بعد شہریت کی حصول کے لئے اس وقت درخواست نہیں دی تھی جب حکومت نے پہلی بار ۹۵۹۱ء میںشہریت کا قانون متعارف کرایا تھا
۷۲ فروری سے اومان میں جاری مظاہرات کے دوران اب تک ۷ ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور مظاہریں ملک میںسیاسی اصلاحات کامطالبہ کر رہے ہیںسلطان قابوس بن سعید جو کہ گزشتہ چار دہائیوں سے اس خلیجی ریاست کے مطلق العنان حکمرا ں ہیں انکی حکومت نے مظاہرین سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے اور شہریوں کوفوری طور پر پچاس ہزار ملازمتیں دینے کے احکامات جاری کر دئے ہیں ستائیس لاکھ نفوس پر مشتمل اس خلیجی ریاست کی۰۷ فیصدآبادی اومانی شہریوں پر مشتمل ہے اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں بےروزگاری کی شرح ۵۱ فیصد ہے
اب دیکھنا یہ ہے کہ احتجاجات کہ یہ لہر ان ملکوں تک ہی محدود رہتی ہے یا اسکا دائرہ مزید علاقائی ریاستوں اور حکومتوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے اور جو ممالک اور ریاستیں انکی لپیٹ میں ہیں وہ ان سے کس طرح نبردآزما ہوتی ہیں اور کسطرح اپنے شہریوں کو مطمئین کرتی ہیںکیا اس بات کا امکان ہے کہ تبدیلی کی یہ ہوا پاکستان کا رخ کرے اور وہاں کے بے چین اور موجودہ نظام سے بےزار عوام سڑکوں پر نکل کراہلیان تونس اور مصرکی پیروی کرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں کو اپنابوریا بستر لپیٹ کرامریکا، برطانیا یاکسی یورپی یا خلیجی ریاست میں پناہ لینے پر مجبور کردیں
یہ سارے واقعات جو ایک تسلسل کے ساتھ مختلف ممالک میں ایک شدید رد عمل کے نتیجے میں ظہور پذیر ہو رہے ہیںدراصل ہمارے حکمرانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں اور انہیں اس بات کا کھلا پیغام دے رہے ہیں کہ سنبھل جاواب بھی وقت ہے پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی اور ہم بےخبری میں مارے گئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے حالیہ دورہ کویت میں پاکستانی کمیونیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے حالات کو مصر یا تونس کے تناظر میں نہ دیکھا جائے ہمارے ملک کے حالت ان ممالک سے مماثلت نہیں رکھتے یہ یقیناانکی خوش فہمی ہے کیوںکہ تونس اور مصر کے حکمرانوں نے کبھی خواب میں بھی یہ نہ سوچا ہوگا کہ برسوں کا قائم شدہ اقتدار
یوں یکلخت انکے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل جائےگا اور وہ بے سرو سامانی کے عالم میں اپنی اور اپنے اہل و عیا ل کی جان بچانے کے لئے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جہاں منہ اٹھا وہاں بھاگتے نظر آئیں گے ممکن ہے کل اہل پاکستان بھی یہ سوچ کر سڑکوں پر نکل آئیں کہ انکی نجات کا واحد راستہ شمالی افریقہ کی ان قوموںکی تقلید میں پنہا ءہے جنہوں نے اپنے عزم اور استقلال سے اپنی راہ کا خود تعین کیا ہےکاش ہمارے حکمراںاور سیاستدان سبق لیں اور پاکستان اور اہل پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اپئے تمام اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریںتاکہ اقوام عالم میں وطن عزیز کی ساکھ بہتر ہو اور ہم امریکہ کی غلامی اور محتاجی سے نکل کر صحیح معنوں میں ایک آزاد اور خودمختار قوم اور مملکت کی حیثیت سے اپنا تشخص بہال کر سکیں

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button