غیرت کی تلاش

تحریر: سید فرزند علی   -لاہور

”مجھے انصاف چاہیے خون کا بدلہ خون چاہیے “”حکمران میرے شوہر کے قاتلوں کو رہاکرنا چاہتے ہیں مجھے انصاف ہوتانظر نہیں آرہا“
یہ الفاظ امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے فہیم کی بیوہ نے اپنی موت سے چند گھنٹوں قبل دہرائے تھے ےقےنا وہ یہ خدشات دیکھ رہی تھی جوکہ پورے ہوگئے ۔
کیا خوبمیرے شہر میں انصاف ہو اہے
اک خون بھابھی ہے تو پھر معاف ہو اہے
اے قوم تیری قسمت میں عزت نہ غیرت
یہ رازبڑی دیر سے اب صاف ہو اہے
ّ    آج میرے کانوں مےںاےمل کانسی کے وکیل رچرڈ جےومن کے و ہ الفاظ گردش کررہے ہیں جو اس نے امریکی عدالت میں ایمل کانسی کی وکالت کرتے ہوئے کہے تھے کہ پاکستانی قوم 20ڈالرزکی خاط  اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں ۔
آج سچ ثابت ہورہاہے کہ ہم اتنے گر چکے ہیں کہ چند ڈالروں کی خاطر اپنی عزت کا بھی سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے یہی وجہ دنیا میں مسلمانوں کے زوال کا باعث بنی کہ ہمارے اندر ہی غدار موجودہوتے ہیں جو کہ ماضی کے زمانے میں اشرفیوں سے اورآج ڈالروں سے اپنی عزت کو فروخت کرتے ہیں ۔urdu-columinst
چند روز قبل امریکی دہشت گرد رےمنڈ ڈےوس کو امریکہ کے حوالے کرکے ہم نے ایک بار پھر اپنی غیرت کا جوسودا کےااس سودے میں کچھ مزید چہرے بے نقاب ہوئے ماضی میں یہ الزام نام نہاد جمہوریت کام نام لینے والوںاور آمروں پر لگتے تھے آج ہماری عدلیہ نے بھی اس شرمناک کردار میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے خود پر سوالیہ نشان لگالےاہے کیا ہم نے ایک آمر اور نام نہاد جمہوریت کے ادوار میں ایسی عدلیہ کیلئے قربانیاں دی تھی جو ابھی تک معلوم نہیں کس کے ہاتھوں قید ہیں اور انہیں کسطرح کی آزادی چاہتی ہے ؟
جب امریکی دہشت گردرےمنڈ ڈےوس کو جیل کے اجالے میں رہائی کا فیصلہ سنانے کے بعد شام کی تاریخی میں پاکستان سے باہرنکالاگےاتو پاکستان میں موجود چند غیرت مند لوگ آنکھو ں میں آنسوں لئے سوال اٹھارہے تھے کہ ہماری غیرت کو کےاہوگےا ؟کےا اس ملک میں کبھی انصاف نہیں مل سکے گا ؟کیا پاکستان کبھی آزاد نہیں ہوگا؟اس امرےکی دہشت گرد کی رہائی پر راقم الحروف کو ساری رات نےند نہےں آسکی اور بے بسی کے عالم مےں خود پر سوال اٹھاتارہاکہ تم نے اپنا کیا حصہ ڈالا؟اللہ تعالٰی نے تمہےں قلم کی طاقت دی ہے کےا اس قوم کو شعور دینے کیلئے تم نے بھی کوئی کردار اد اکےا ؟جس پر میرا جواب تھاکہ کچھ عرصہ صحافتی اخلاقیات میں رہتے ہوئے موجودہ سسٹم کے خلاف آوازتو اٹھارہاتھالےکن قوم اتنی بے بس ہربھجے غیرت ہوچکی ہے شاید ان کے اندرکا ضمیر جاگ ہی نہیں رہا جس پر میرے ضمیر نے آوازدی کہ صحافتی اخلاقیات اب اےک طرف اب ضمیر کی آواز کو بلند کرنا ہے ےہ سوچ ہی رہاتھاکہ مجھے ایک عظیم شاعر حبیب جالب کی ”ہاں میں باغی ہوں “نظم یاد آنے لگی جس میں حبیب جالب ظالم سماج اور بے غیرت حکمرانوں کے سامنے آوازکو بلند کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
اس دور کے رسم ورواجوں سے
ان تختوں سے ان تاجوں سے
جو ظلم کی کوک سے جمتے ہیں
انسانی خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں اور خونی کھیل کی کھادیں ہیں
وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے
وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
ان دھوکے باز وڈیروں اور سرداروں سے
جوقوم کے غم میں روتے ہیں اور قوم کی دولت کو لوٹتے ہیں
ان چوروں وچکاروں سے اور انصاف کے پہرہ داروں سے
ہاں میں باغی ہوں ہاں میں باغی ہوں
میرےہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرےسر پر ظلم کا پھندا ہے
میںمرنے سے کب ڈرتاہوں
میںموت کی خاطر زندہ ہوں
میرےخون کا سوج چمکے گا تو بچہ بچہ بولے گا
ہاں میں باغی ہوں ہاں میں باغی ہوں
آج تک مےڈےا میں قومی مفاد کے پیش نظر یہی لکھتارہاکہ امرےکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دونوں نوجوان فہےم اور فےضان عام شہری تھے جو مقامی سطح پرذاتی دشمنی کے باعث اپنے پاس اسلحہ رکھتے تھے لےکن اصل حقائق ےہ ہے کہ وہ دونوں نوجوان آئی اےس آئی کے سول اےجنٹ تھے اور خفےہ مشن کے تحت اس امرےکی سی آئی اے کے اےجنٹ رےمنڈ ڈےوس کا پےچھا کر رہے تھے لیکن جب اس بارے رےمنڈ ڈےوس کو خفےہ آلات کے ذرےعے معلوم ہواتو اس نے مہارت کے ساتھ آئی اےس آئی کے ان دونوں سول اےجنٹوں کو بے دردی کے ساتھ شہےد کردےا ےقےنا ےہ دونوں شہےد ہےں جو اپنی پاک سرزمےن کو امرےکی اےجنٹوں سے پاک کرنے کےلئے پاکستان کی خفےہ اےجنسےوں کے ساتھ تعاون کررہے تھے لےکن انہےں کےاپتہ کہ ہمارے ملک مےںجہاں محب وطن لوگ بےٹھے ہےں وہاں غےرملکی اےجنٹ کی بھی کمی نہےں ہے جو چند ڈالروں کے عوض اپنی خدمات پےش کرتے ہےں اور انہی لوگوں کی وجہ سے اےک بار پھر پاکستان کی غےرت کا سوداکرلےاگےا مےں مبارکباد پےش کرتاہوں آئی اےس آئی کے ڈائرےکٹر لےفٹےنٹ جنرل احمد شجاع پاشاکوجنہےں رےمنڈ ڈےوس کی حوالگی کے بعد مدت ملازمت مےں توسےع کی اجازت مل گئی مےں غےرت مند فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پروےز کےانی کو بھی مبارکباد پےش کرتاہوں کہ جن پر امرےکی پرےشر اترگےا اب انکی فوجی امداد بھی بحال ہوجائے گی مےں ان پےپلزپارٹی کے حکمرانوں کو مبارکباد پےش کرتاہوں جنہےں غےرت کا سوداکرنے پرانکی عےاشی کےلئے اب ملک مےں مزےد ڈالرزآجائےں گے مےں ان سب کے ساتھ ساتھ مسلم لےگ (ن) کی قےادت مےاں نوازشرےف اور وزےراعلیٰ پنجاب مےاں شہبازشرےف کو بھی مبارکباد پےش کرتاہوں جن کے خصوصی تعاون کے بعد آئندہ سال انہےںملک کی حکمرانی کےلئے کلےئرنس مل گئی مےں مبارکباد پےش کرتاہوں ان سب سےکولر انتہاپسند قوتوں اور نانہاد دانشوروں کو جو اپنے قلم اور بےانات سے قوم کو گمراہ اور فوج کو کمزورکررہے تھے کہ اگر امرےکہ ناراض ہوگےاتوخدانخواستہ پاکستان نہےں رہے گا لےکن مےں ان سب کو کہناچاہتاہوں کہ ابھی اس پاک سرزمےن پر غےرت مند موجود ہےں جو بدلہ لےں گے ان ظالم حکمرانوں اور خود کو سپر پاور کہنے والے امرےکہ سے ……………
میں آخر میں جناب حبیب جالب کی ایک اور نظم کی طرف جاو¿ں گا جس مےں وہ کہتے ہےں کہ
دیپ جسکا محلاتی میں ہی جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لیکر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسےدستور کو صبح بے نور کو
میںنہےں مانتا میں نہیں جانتا
وہ بھی خائف نہیں تختہ دار سے
مےں بھی منصور ہوں کہہ دواغےار سے
کےوں ڈراتے ہوزنداں کی دےوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میںنہےں مانتامےں نہیں جانتا
تم پھول ہوشاخوں پر کھلنے لگے
تم تو درندوں کو ملنے لگے چاک سینوں کے سلنے لگے
اس کھلے جھوٹ کو ذہین کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
تم نے لوٹا ہے صدےوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمارافسوں
چارہ گرمےںتمہےںکسطرح سے کہوں
مےں نہےں مانتا مےں نہےں جانتا
رےمنڈ ڈےوس تو چلاگےااور شاےد فہےم اور فےضان کے اہلخانہ بھی دےت کی رقم لےنے کے بعد مطمئن ہوکر کہےں آرام سے بےٹھے ہونگے لےکن اس بے گناہ ضےاءالرحمن کے خون کاحساب کون دے گا ؟ اس کے اہلخانہ انصاف کی تلاش مےں مارے مارے پھےر رہے ہےں اور اس مسےحا کو ڈھونڈ رہے ہےں جو انہےں انصاف دلائے اور شاےد انہےں وہ مسےحانہ مل سکے جن امرےکی اےجنٹ رےمنڈڈےوس کی وجہ سے ضےاءالرحمن کا قتل ہوا اسے تو ہمارے حکمرانوںاور عدلےہ نے باعزت چھوڑ دےا اور وہ واپس اپنے ملک امرےکہ چلاگےالےکن ضےاءالرحمن کو گاڑی کے نےچے کچلنے والا اس سے پہلے ہی پاکستان سے بھاگنے مےں کامےاب ہوگئے تھے اور انہےں کسی کو گرفتار کرنے کی جرات نہ ہوئی پنجاب اسمبلی کے رواں اجلاس کے آغاز مےں عوامی خادموں نے رےمنڈڈےوس کی رہائی کے خلاف احتجاج کی صدا بلند کی تھی لےکن ان کی نظر مےں وقت کے ساتھ اب رےمنڈ ڈےوس کی کہانی ماضی کاقصہ بن چکی ہے لےکن رےمنڈڈےوس کی رہائی کے بعد ڈرون حملے کے ذرےعے پاکستان کو اور قرآن پاک کی بے حرمتی کرکے اہل اسلام کو امرےکہ کا جو تازہ تحفہ ملاہے ان واقعات نے رےمنڈڈےوس کی ےاد تازہ کردی ہے اور حکمرانوں کی بے بسی کی ذکر آتاہے تو رےمنڈڈےوس کا تزکرہ بھی ضرورکےاجاتاہے اسوقت تمام دےنی جماعتےںاور چند سےکولر سےاسی جماعتےں امرےکہ مےںقرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف سڑکوں پر آچکی ہےں اور جہاں اس لعنتی امرےکی پادری کے خلاف احتجاج کےاجارہاہے وہاں اپنے حکمرانوں کوبھی غےرت دلائی جارہی ہے کہ وہ بھی اسلامی جمہورےہ پاکستا ن کے حکمران ہونے کے ناطے قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف کوئی مذمتی بےان جاری کرےں لےکن تاحال حکومتی سطح پر بے حسی کا مظاہرہ کےاجارہاہے گذشتہ اتوار کے روز حکمران جماعتوں کو چھوڑ کر دےگر تمام دےنی وسےاسی جماعتوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف ےوم احتجاج مناےا ان مظاہروں مےں تحرےک انصاف کے چےئرمےن عمران خان کااعلان سامنے آےاکہ اگر اےک ماہ کے اندر ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو وہ اپنے جماعت کے کارکنوں کے ہمراہ مسلسل تےن دن نےٹو(امرےکہ)کی سپلائی لائن پر دھرنا دےں گے ےقےنا ا نکا ےہ اعلان خوش آئندہے لےکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دےگر جماعتو ں کو بھی اس موقع پر تحرےک انصاف کی پےروی کرےں اور متحد ہوکر صرف تےن دن نہےں بلکہ اس وقت تک امرےکہ کی سپلائی لائن کو بند کردےنا چاہےے جب تک امریکہ پاکستان میں اپنے اڈوں کو بند نہیں کردےتا اورحکمران نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کرتے اگر تمام جماعتیں متحد ہوکر پاکستان کے قومی پرچم کے سائے تلے یہ اقدام اٹھائےں توےقےنا پاکستان کا بچہ بچہ انکا ساتھ دے گا اور جب جماعتوں سے وابستگی سے بالاتر ہوکر پوری قوم باہر نکل آئے تو ےقےنا وہ جو چاہیے جس سے چاہیے اپنا لوہامنواسکتی ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button