عالمی معیشت کی بربادی…….. نئی جنگوں کو جنم دے گی۔

تحریر۔ قمرالزماں خاں
نوے کی دھائی میں وال سٹریٹ جنرل کے ایک شمارے کی سرخی تھی” ہم کامیاب ہوگئے“۔یہ دیوار برلن کے گرنے کے بعد ہیجانی سرشاری کا اظہار تھا۔انہی دنوں میں کبھی ”تاریخ کے خاتمے“ کی بڑھک ماری گئی اور کبھی ”ایک نئے جہان کا قیام“(NEW WORLD ORDER)کے نعرے پر دنیا میں امن ،برابری اور خوشحالی کی نوید سنائی گئی۔یہ سب مفروضے سویٹ یونین کے انہدام کی بنیادگھڑے جارہے تھے ۔جب یہ کہا گیا کہ تاریخ کا خاتمہ ہوگیا تو اس سے یہ باور کرایا جارہا تھا کہ دنیا سے طبقاتی کشمکش کا اختتام ہوگیا۔تحریکوں کے ختم ہوجانے اور انقلابات کو قصہ ماضی قرار دے دیا گیا تھا۔یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ اب دنیا پر امریکی سامراج کی سربراہی میں سرمایہ داری کی من مانی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گی۔امن کا قیام تو خیر کیا عمل میں لایا جانا تھا ،نیو ورلڈ آرڈر کے نعرے کی گونج ابھی فضاﺅں میں ہی تھی کہ پہلی عراق جنگ کا آغاز ہوگیا جو اپنے نتائج کی صورت میں دوسری عراق جنگ جتنی ہی خونریز اور بھیانک تھی اور پھر جنگوں کا ایک لاامتناعی سلسلہ تب سے اب تک جاری و ساری ہے۔اسی طرح جس نظام کی بنیاد ہی محنت کے استحصال پر ہو اس میں خوشحالی اور برابری کسی طور بھی ممکن نہیں ہوسکتی اور پھر سرمایہ داری نظام اپنا ترقی پسندانہ کردار کب سے ترک کرکے اپنے زوال کی طرف جب سے رواں دواں ہے اس میں لوٹ مار،شرح منافع کی غیر معمولی سطح،اوقات کار کو مخفی طور پر(مشینوں کی رفتار اور استعداد urdusky-writer-222بڑھا کر) بڑھایا جانا،غربت اور امارت کی تفریق میں ماضی کی نسبت کئی ہزار گنا اضافہ جیسے رجحانا ت نمایاں ہوچکے ہیں۔جن کا خاتمہ خود سرمایہ داری نظام کے خاتمے سے مشروط ہے۔
دیوار برلن کے انہدام کے بعدسامراجیوں نے یہ فرض کرلیا تھا کہ اب سیدھا سفر ہے جس میں کوئی رکاﺅٹ اور مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،ایسا اگرچہ سرمایہ داری کے اپنے قوانین کے مطابق بھی ممکن نہ تھا مگر ایسا فرض کرلیا گیا تھا۔مگر آنے والے سالوں اور عشروں میں سب کچھ سرمایہ دار دانشوروں کی سوچ اور منصوبوں کے برعکس ہوا۔ایک طرف انفرمیشن ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر دعوی کی گیا تھا کہ اب سرمایہ داری نظام سیدھی اٹھان سے اوپر جائے گا اور گراﺅٹ ،زوال یا انہدام جیسے معاملات ماضی کی اصطلا حیں ہیں،مگر اسی عرصے میں سرمایہ داری کا اصل میدان جائیدادوں کے نرخوں کے جوئے،بازار حصص اور قرضوں کے وسیع پھیلاﺅ پر محدود ہوکر رہ گیا۔اس عرصے کے عارضی عروج میں سرمایہ دار ماہرین اتنے مغرور ہوگئے تھے کہ انہوں نے عروج و زوال کے دائروں کو یکسر مسترد کرکے صرف عروج پر نظریں گاڑھ دی گئیں،تو دوسری طرف گلوبلائیزیشن کا نعرہ لگا کر قومی ریاست کے خاتمے اور تجارت،سرمایہ کاری اور منافعوں کے نہ ختم ہونے والے نظام کے خواب دیکھے گئے۔اگرچہ منافعوں میں بے پناہ اضافے کے مفروضے کا عمل ابھی تک جاری و ساری ہے اور رہے گا مگر باقی سب خواب جلد ہی ٹوٹ گئے۔
سرمایہ داری کا موجودہ بحران حقیقت میں 1929-33کے اس بحران کا زیادہ گہرا اظہار ہے جس میں دوسری عظیم جنگ کے بعد (1945-1973)ایک لمبا وقفہ یا عروج کا سائیکل آیاتھا۔ 1950ءاور60ءکی دہائیوں میں تےز رفتار معاشی ترقی اور محنت کی عالمی تقسیم کی بدولت سرمایہ دار سرمایہ داری کے بنیادی تضادپر جزوی طور پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ،جو کہ پےداواری قوتوںکی ترقی اور قومی ریاست اور ذرائعِ پےداوار کی ذاتی ملکیت کا تضادہے۔ 1974 ءمیںپہلے بڑے عالمی معاشی بحران کے وقت سرماےہ دارانہ نظام گہری مشکلات میںگر چکا تھا۔ عالمی جنگ کے بعد کے دور کے غالب معاشی پالیسی کے نظرےے کےنشئن ازم کوحکمران طبقے نے اب ترک کر دیا اور افراطِ زر کو کم رکھنے (DEFLATIONAEY) پر مبنی مانٹرازم کی پالیسیاں اختیار کیںجو در حقیقت ان کے مسائل کے حل کی ایک گھبرائی ہوئی کوشش تھی۔
اس سے محنت کش طبقے پر بے رحمانہ حملوں کا ایک نیا دور شروع ہواجس کے ساتھ مالیاتی منڈی کی لا محدود آزادی(DEFLATIONAEY)شامل تھی۔سرمایہ داری کی کبھی نہ دیکھی گئی ”سب کے لیے آزادی “ کی پالیسی کے ساتھ ”عالمگیریت “تمام حلقوں میں تکیہ کلام کی شکل اختیار کر گئی۔اس سے عالمی عروج کو طوالت بھی ملی اور ساتھ ہی ایک عظیم الجثہ زوال کو بنیادیں بھی۔1990ءاور2000ءکی دہائیوں کی بہت سی خصوصیات’ وال سٹریٹ کے عظیم زوال‘ سے قبل کی ’دھاڑیں مارتی ہوئی دہائی‘ سے مشابہ تھیں۔اس وقت بھی قیاس آرائیاں زمین اور حصص کی قرضوں کے نام پر ’زیادہ شرحِ منافع پر خریداری ‘ پر مبنی تھیں۔اس مرتبہ بھی قرضوں اور قیاس آرائیوں کا اتنا ہی بڑا حجم تھا خاص طور پر جائیداد کی منڈی میں تاریخ کا سب سے بڑا قرضوں کا بلبلہ نظر آیا۔یہ صورتحال زیادہ عرصے تک چل نہیں سکتی تھی۔
اگر چہ سٹہ بازی ہر معاشی عروج کا لازمی حصہ ہوتی ہے لیکن اس د فعہ جب سرمایہ داری کو ہر طرح کی بندش سے آزاد کر دیا گیا تو یہ پہلے کبھی نہ دیکھی گئی بلندیوں پر جا پہنچی۔شرح ِسود کو انتہائی کم کر دیا گیا اور ہر طرح کی سرمایہ کاری کے لیے سستا پیسہ دستیاب تھا۔ سٹہ جیسا کہ مارکس نے وضاحت کی تھی ،بے پناہ قرضوں کے سہارے سرمایہ داری اپنی حدود سے بہت زیادہ تجاوز کرنے کے قابل تو ہو گئی اور عارضی طور پر اپنے تضادات سے بچنے میں بھی کامیاب رہی لیکن یہ تضادات کریش کے وقت سو گنا زیادہ شدت سے سامنے آگئے۔
“جواریوں کے اس گروہ” نے کاغذی دولت کے انبار لگا لیے۔ 1980ءمیںعالمی مالیاتی لین دین عالمی جی ڈی پی کے حجم کے برابر تھا۔ 2007 ءمیں یہ پوری دنیا کے جی ڈی پی کے تین گناتک پہنچ گیا۔ بڑے پیمانے پر جعلی سرمایہ پیدا کیا گیا اور اس سے دنیا بھر میں کرنسی ، بانڈ اور سرمائے کی منڈی میں تجارت کی گئی، جس سے عدم استحکام پیدا ہوا اور نظام کی بنیادوں کو ضرب لگی۔ وہ اسی شاخ کو کاٹ رہے تھے جس نے نظام کو سہارا دیاہوا تھا۔ لیکن اس میں کیا مسئلہ ہے، امیر ترین لوگوں کے لیے تو اس سے بہتر وقت کبھی نہیں رہا تھا۔
جیساکہ کارل مارکس نے اپنی عظیم الشان تصنیف ”سرمایہ“ میں وضاحت کی تھی، حقیقی دولت صرف صنعتی پیداوار  یعنی اشیاءاور قدرِ زائد کی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ خدمات کا شعبہ جس میں بینک بھی شامل ہیںاےک اہم کردار ادا کرتاہے لیکن یہ صرف صنعت کے معاون کے طور پر ہی رہتا ہے۔ صرف خدمات کے شعبے کی بنیاد پر ایک بڑے پیمانے کی جدید معیشت کونہیں چلایا جا سکتا، جیسا تھےچر کے پےروکارسمجھتے تھے۔ایسی ترقی بالآخر سماج کی بنیادوں کو برباد کرنے کا موجب بنتی ہے۔ شیخ چلی کے خوابوں کے جیسی یہ ترقی سرمایہ دارانہ نظام کی بیماری، اس کے سٹھیا جانے اور سرمایہ داروں کی کم نظری کا واضح اظہار تھی۔
اگرچہ وہ نظام میں مزید پیسہ جھونک کر بہت بڑے بحران سے بچنے میں کامیاب ہو تے رہے لیکن یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی نشے کا عادی ہر دفعہ نشے کی مقدار بڑھا کر چلتا رہتا ہے، لیکن تب یہ سب بہت پائیدار سمجھا جا رہاتھا۔ سرمایہ دار ماہرین معیشت موجودہ حالات سے آگے نہیں سوچ سکتے۔چین، معیشت میں بڑے پیمانے پر پیسہ ڈال کر اس بحران سے بچنے میں کامیاب توہو گیا لیکن اب بڑھتے ہوئے افراطِ زر سے پرےشان ہے۔ مجبوراً اسے شرحِ سود میں اضافہ ،طلب میں اضافے کو آہستہ اور درآمدات میں کمی کرنا پڑ رہی ہے،اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب اس کے بڑے معاشی حریف اسے اپنی اندرونی منڈی کو وسعت دینے کا کہہ رہے ہیں۔اس کا بہت بڑا تجارتی فائدہ (TRADE SURPLUS) عالمی سطح پر اور خصوصاً امریکہ کے ساتھ موجود تناﺅ کو ہوا دے رہا ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک مرحلے پر جا کر دنیا کو ایک نئی جنگ میں دھکیل سکتی ہے جس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔ 2008-09ءکا عالمی بحران سرمایہ داری کے زوال میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔”اس بحران سے معیشت اور سیاست کے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ دو دہایﺅں کی “خوشحالی” کا لبادہ انتہائی بے رحمی سے چاک ہو رہا ہے۔ سرمایہ داری کا عمومی بحران1930 ءکی دہائی کے بعد سے لے کر اب تک کے سب سے گہرے بحران کی شکل میں ایک دفعہ پھر سے انتقام لےنے آن پہنچا ہے۔ نظام ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے۔ مارکس نے وضاحت کی تھی کہ ” کسی پرانے سماج کی کوکھ سے نیا سماج اس وقت تک جنم نہیں لیتا جب تک اس میںموجود ترقی کی تمام گنجائش ختم نہ ہو جائے”۔ اس وقت ایک ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ سماجی نظام ایک بند گلی میں پھنس چکا ہے جو اقوام اور طبقات کے مابین د یو ہیکل ٹکراﺅ کو جنم دے گا،دنیا کی تیسری بڑی معیشت جاپان کو سونامی اور زلزلے نے جس بربادی سے دوچار کیا ہے اس سے نہ صرف کمزور معاشی حالات اور سیاسی ابتری کے شکار جاپان پر بلکہ عالمی معیشت پر اسکے وسیع پیمانے پر اثرات ہوں گے اور اسکے انہدام کا عمل مزید تیزی اختیار کرجائے گا۔ مارکس نے کہا تھا کہ سیاست مرتکز شدہ معیشت کا عکس ہوتی ہے،موجودہ عالمی سیاسی صورتحال اپنے عہد کی معیشت کا عکس ہے۔آج عالم عرب،ایران،لاطینی امریکہ ،شمالی افریقہ اور یورپ میں سیاسی بے چینی اور تحریکوں کے آغاز کا ابتدائی مرحلہ اپنی جدوجہد کے نتائج اخذ کررہا ہے۔مسئلہ کسی ایک سرمائے کے غلام حاکم کی کسی دوسرے میں تبدیلی کا نہیں ہے اور نہ ہی لوگوں کا مسئلہ جمہوریت ہے جیسا کہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ تحریکیں ”جمہوریت کی بحالی “ کے لئے ہیں۔جمہوریت اگر لوگوں کی بھوک مٹانے میں کامیاب نہ ہوسکی اور نہیں ہوگی تو لوگوں کی سوچ انکو آگے بڑھنے کی طرف لے جائے گی۔جلد یا بدیر یہ تحریکیں معاشی نعروں سے مزیں ہوں گی ،یہ معاشی نعرے موجودہ نظام اور اسکے نظریات سے ٹکرائیں گے اور پھر یہیں سے سیاسی مطالبات روائتی(جمہوریت ،انتخابات اور حکومتوں کی تبدیلی کے) مطالبات کی جگہ لے کر حقیقی انقلابی راستوں پر چلنا شروع کردیں گے۔ آنے والے وقتوں میں پوری دنیا کابالآخر ایک عالمی انقلابی تحریک کے ساتھ جڑنا ناگزیر ہے ۔مرتی ہوئی منڈی کی معیشت جو اپنی نقاہت میں بھی نسل انسان کو گہرے گھاﺅ لگا کر بے حال کررہی ہے ،کو کرہ ارض سے مٹانے کی جدوجہد شروع کرکے اسکو منطقی انجام تک پہنچانے سے ہی زمین نامی اس سیارے کا مقدربدلے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button