عالمی معیشت کو ماحول دوست بنانے کی کوشش

 

اقوام متحدہ نے آج پیر کو کرہء ارض کے دیرپا مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کر دیا۔ اس حکمت عملی کے تحت عالمی معیشت کو زیادہ ماحول دوست بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

 

اس حکمت عملی کے تحت دنیا بھر کی مجموعی اقتصادی پیداوار کا دو فیصد حصہ یا قریب 1.3 ٹریلین ڈالر ہر سال کرہء ارض کی دیرپا اور ماحول دوست ترقی کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ سبز معیشت کہلانے والی اس پالیسی کے تحت دنیا سے غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ اس پالیسی کا اعلان اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرامUNEP کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں 100  سے زائد ملکوں کے وزرائے ماحولیات کے اجلاس کے موقع پر جاری کی گئی ہے۔

عالمی ادارے کی اس نئی حکمت عملی کے تحت مسقبل میں زمین پر انسانی آبادی کی فی کس آمدنی اُس سے زیادہ ہو جائے گی، جس کا  کہ روایتی اقتصادی منصوبوں میں تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ایک عام انسان کی طرف سے ماحول کو پہنچنے والے ان نقصانات میں کمی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا، جنہیں اصطلاحاﹰ انسانوں کے ’ماحولیاتی فٹ پرنٹ‘ کہا جاتا ہے۔

برلن میں ماحول دوست مظاہرے کا ایک منظر

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے اپنی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی معیشت کے حوالے سے اس نئی پالیسی کی وجہ سے مختلف ملکوں اور اداروں کے کاروباری مفادات کو چیلنج کیا جا سکے گا اور ساتھ ہی روزگار کی صورتحال میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے گا۔ تاہم ساتھ ہی اس پروگرام کے ذریعے اقتصادی ترقی کی اب تک کی شرح کے مقابلے میں زیادہ بہتر نتائج کا حصول ممکن ہو سکے گا۔

UNEP کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آخِم شٹائنر نے ایک تفصیلی مطالعاتی جائزے کے بعد تیارکردہ یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی سطح پر معیشت میں ترقی اور نشو و نما کا عمل ہر حال میں جاری رکھنا ہو گا۔ اس رپورٹ کو ’’سبز معیشت کی جانب ایک قدم، پالیسی سازوں کے لیے تجویز‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ترقیاتی عمل  کی تیاری ان حقائق کے پیش نظر کی جانی چاہیے کہ ترقی کا عمومی عمل زمینی سمندروں اور فضا میں زندگی کے تسلسل کے لیے ضروری نظاموں کو چیلنج کر رہا  ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق معاشی ترقی اس طرح ممکن بنائی جانی چاہیے کہ وہ زمین پر انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو، نہ کہ اس کے لیے کوئی خطرہ بنے۔

رپورٹ کے مطابق تیز رفتار ماحولیاتی تبدیلیاں، حیاتیاتی تنوع میں ڈرامائی کمی، اشیائے خوراک کی تشویشناک قلت، تازہ پانی کے وسائل میں طلب اور دستیابی کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اور جنگلات کی تباہی اس امر کے ثبوت ہیں کہ زمین کے وسائل کو موجودہ رفتار سے لامحدود انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔global-economy

عالمی ادارے کے ماحولیاتی پروگرام کی اس رپورٹ میں ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ سن 2008 میں بین الاقوامی مالیاتی نظام میں سامنے آنے والے بحرانی حالات نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ عالمی معیشت کے ڈھانچے میں پائے جانے والے موجودہ نقائص کتنے گہرے ہیں اور کتنے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اس ’گرین اکانومی‘ پالسی کے سربراہ جرمنی کے ڈوئچے بینک کے ایک ماہر اقتصادیات ہیں، جن کا نام پون سکھ دیو ہے۔ سکھ دیو نے کہا کہ موجودہ قوانین اور پالیسیوں میں تبدیلی کے حوالے سے مختلف ملکوں کی حکومتوں کا کردار انتہائی اہم ہے، جنہیں عوامی سرمائے کو بڑی دانشمندی کے ساتھ لیکن زیادہ سے زیادہ ماحول دوست انداز میں استعمال میں لانا چاہیے۔

اپنی تیارہ کردہ اس رپورٹ میں سکھ دیو نے کہا ہے کہ عالمی ادارے کی سبز معیشت سے متعلق حکمت عملی کے تحت عوامی شعبے میں کی جانے والی بہتر سرمایہ کاری کی وجہ سے نجی شعبے کی طرف سے بھی ہر سال کھربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری دیکھنے میں آ سکتی ہے، جو زمین کے بہتر ماحولیاتی مستقبل کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔

اس رپورٹ کے ذریعے اس عالمی کانفرنس کا ایجنڈا طے کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو اگلے سال منعقد ہو گی اور جس کا موضوع Rio+20 ہو گا۔ اس کا مطلب ہے ریو ڈی جینیرو کی عالمی کانفرنس تک کی صورتحال اور اس کے بیس سال بعد تک کے حالات۔

۔بشکریہ ڈی ڈبلیو ڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button