جاپان زلزلے کے بعد

عبدالجلیل منشی ۔ کویت
 حالیہ جاپانی زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں ٹوکیو الیکٹرک کمپنی کے تحت چھے ایٹمی ریکٹروں پرمشتمل کوشیما پاور پلانٹ میں دوسرے بڑے دہماکے کے اطلاعات موصول ہوئیں ہیںزلزلے کے نتیجے پاور پلانٹ کو بند کردیا گیا تھا مگر سونامی کے باعث اس پلانٹ کے کولنگ یونٹس کو چلانے والے ڈیزل جنریٹروں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کے باعث پلانٹ کے ایندہن کے ٹینکوں کا درجہ حرارت بڑہنا شروع ہوگیا تھااور کچھ تابکاری کا اخراج بھی ہو ا تھا
  پہلے اور دوسرے ریکٹر کی حرارت بڑھنے کے باعث ہفتے کو ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پلانٹ کی دیواریں اور چھت منہدم ہو گئیں تھی مگر پلانٹ کے ارد گرد موجود حفاظتی سیل محفوظ رہی تھی پلانٹ میں موجود ایٹمی ریکٹروں کی بڑہتی ہوئی حرارت کو اعتدال پر لانے کے لئے یہ ضروری تھا کہ پلانٹ کے کولنگ یونٹس کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ ریکٹروںتک پانی کی سپلائی بحال کی جاسکے مگر کولنگ پلانٹس کوبجلی فراہم کرنے والے ڈیزل جنریٹروں کے ناکارہ ہوجانے اورعلاقے میں مکمل بلیک آو¿ٹ ہونے کے باعث کسی اور زریعے سے بھی کولنگ پلانٹس کو بجلی کی سپلائی ممکن نہ تھی لہذہ حرارت بڑہنے کی وجہ سے جوہری راڈز پگھلنے اور تابکاری کے اخراج کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا
  پیر کے روز تیسرے ریکٹر میں ہونے والے دھماکے نے پلانٹ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جس کے باعث گیارہ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیںearthquake-next-one-photo جبکہ آگ اور دہویں کے کثیف بادل آسمان پر چھاگئے ٹوکیو الیکٹرک کمپنی کے پلانٹ آپریٹروں کا کہنا ہے کہ دوسرے ریکٹر میں پانی کی سطح میں کمی آنے کے باعث حرارت کی زیادتی کے سبب جوہری راڈ کے پگھلنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس سے قبل جاپان کے اعلی سرکاری ترجمان نے پلانٹ میں ایک بڑا دہماکہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ چالیس سال پرانے ایٹمی ریکٹروں کو بجانے کی آخری کوشش کے طور پر انجینئر سمندر سے پانی کھینچ کر پلانٹ تک پہنچانے کی کوششیں کررہے ہیں تاکہ ایٹمی ریکٹروںکا بڑھا ہوا درجہ حرارت قابو میں کیا جاسکے اور متوقع دھماکے اوراسکے نتیجے میںہونے والی ممکنہ تابکاری کے اخراج سے بچا جا سکے
  کوشیما پلانٹ سے متوقع تابکاری کے اخراج کے خطرے کے پیش نظر پلانٹ کے اطراف کے بیس کیلومیٹر کے علاقے کو خطرناک زون قرار دیتے ہوئے وہاں سے دولاکھ دس ہزار لوگوں کا انخلاءعمل میں لایاگیا تھا ا مریکی بحریہ کا ایک طیارہ بردار جہاز جو جاپان میں جاری امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں کوشیما پاور پلانٹ سے سومیل کی دوری پر لنگر انداز تھا اس نے دوسرے درجے کی تابکاری کے اثرات کا انکشاف ہونے پر اپنی سمت بدل لی ہے اور ساتویں فلیٹ سے جاری شدہ ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ تابکاری کی منکشف ہونے والی سطح انسانی صحت کے لئے کسی قسم کے خطرے کا باعث نہیں ہے
  زلزلے اور اسکے نتیجے میں آنے والے سونامی کے باعث ابتک ہزاروں ہلاکتوں کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے شمال مشرقی اقلیم میاگی جہاں سونامی اپنی پوری طاقت کے ساتھ ٹکرایا تھا وہاں کی پولس کے سربراہ نے کہا ہے کہ صرف انکے زیر کنٹرول علاقے میں ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرجانے کا اندیشہ ہے امدادی کارکنان کو میاگی میں دو ہزار سے زیادہ لاشیں مل چکی ہیںجبکہ لاکھوں افراد پانی، بجلی ، ایندھن ، مناسب خوراک اور گھروں سے محروم ہوگئے ہیں
 ایشیا ۔پیسیفک ریڈکراس کے ترجمان پیٹرک فلر کا کہنے ہے کہ زلزلے اور سونامی سے شدید ترین متاثرہ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار آبادی کے قصبے ایشینومیکا میں امدادی کام تیزی سے جاری ہے جہاںملبے تلے بےشمار افراد کے دب جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اور ریڈ کراس کے قائم کردہ اسپتال میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہے اور تھکا ماندہ عملہ زخمی مریضوں کے پہلو میں لیٹ کر اپنی تکان دور کرتا ہے
  جاپان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے امور کے ادارے کی آفس کے نگران نے کہا ہے کہ چودہ لاکھ جاپانی پینے کے پانی سے محروم ہیں اورپانچ لاکھ افراد نے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں پناہ لی ہوئی ہے
 دنیا بھر سے رضاکارامدادی کارکنان اور تلاش کرنے والی ٹیمیں جاپان کے ایک لاکھ فوجیوں کے ہمقدم امدادی کاموں کو آگے بڑھانے میں جٹے ہوئے ہیں جبکہ آفٹر شاکس اور انکے نتیجے میں سونامی وارننگوں کا سلسلہ جاری ہے
 زلزلے اور سونامی سے متاثرہ اقلیموں میں بجلی کی عدم فراہمی کے باعث صنعتیں بند ہوچکی ہیں بندرگاہیں، ایرپورٹ، ہائی ویز اور صنعتوں کی بندش کے سبب جاپان کی معیشت کو شدید جھ ٹکا لگا ہے اور اسکی برآمدات بھی شدیدمتاثر ہوئی ہیں جس کے اثرات دنیا کی تیسری بڑی ٹوکیو سٹاک ایکس چنج پر انتہائی منفی انداز میں مرتب ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں اسٹاک کا انڈیکس چھے فیصد نیچے آگیا ہے
 دیناکی معروف رسک انالیسس فرم ائر ورلڈوائڈ نے اپنے ایک تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صرف زلزلے کے باعث جاپان کوساڑھے چودہ بلین ڈالر سے ساڑھے چونتیس بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ سونامی کے کے نتیجے میں ہونے والے اقتصادی نقصانات اسکے علاوہ ہونگے
  کوشیما پاورپلانٹ کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں موجود کئی پاور پلانٹوں کے بند ہوجانے اور آئل ریفائنری میں آگ لگنے کے سبب بجلی اور توانائی کوبچانے کی کوشش کے طور پر پوری قوم کو بلیک آو¿ٹ کا سامنا ہے گیس اور بجلی کی سپلائی کا معاملہ نازک صورت اختیا ر کر گیا ہے جنکہ آنے والے دنوں میں جاپان میں شدید بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کی جاچکی ہے جس کے دوران درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے چلاجاتا ہےبجلی اور گیس کی عدم فراہمی کے باعث متاثرہ افراد میں امراض پھیلنے کا خطرہ ہے جسکی وجہ سے ہلاکتوں میںاضافے کا امکان ہے

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button