URDUSKY || NETWORK

انڈین ڈراموں اور فلموں کے شوقین ایک طلسم ہوشربا ملاحظہ کریں، روح پرور اورآنکھیں کھول دینے والی ویڈیو حاظر خدمت ہے

671

کب سمجھو گے؟indian-girl-speach

انڈین ڈراموں اور فلموں کے شوقین ایک طلسم ہوشربا ملاحظہ کریں، روح پرور اورآنکھیں کھول دینے والی ویڈیو حاظر خدمت ہے

جنکا کنکشن سلو ہیں انکے لیے اس میں موجود شاعری لکھ دیتا ہوں ۔کوئی غلطی ہو تو معاف کر دینا
ارے آپ شیر ہیں شیر
اور شیر تو جنگل کا راجہ ہوتا ہے
اور شیروں کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا
بتا دو ان لوگوں کو
ان پاکستانیوں کو،عیسائیوں کو
کہ ہم ڈرتے نہیں ان بموں سے وسپوٹوں سے
ہم ڈرتے ہیں تاشقند اور شملہ جیسے سمجھوتوں سے
سیاہ بھیڑیوں سے ڈر سکتی نہیں ہم سنگھوں کی اولاد نہیں
بھرت ورن کے اس پانی کی ہے تم کو پہچان نہیں
ایتم بم بنا کر کے تم اسکو چلانا بھول گئے
65،71 اور 99 کی یدھوں کو بھول گئے
تم یاد کرو عبدالحمید نے پیٹن تینک جلا ڈالا
ہندوستانی فوجوں نے پاکستان کا امریکی جیٹ جلا ڈالا
تم یاد کرو غازی کا بیڑہ ایک جھٹکے میں ہی ڈبو دیا
ڈھاکہ کے جنرل نیازی کو دودھ چھٹی کا یاد دلا دیا
تم یاد کرو ان توے ہزار بندی پاک جوانوں کو
تم یاد کرو شملہ میں اندرہ کے احسانوں کو
پاکستان یہ کان کھول کر سن لے
یا پھر جنگ چھڑی تو سن لے
نام و نشان نہیں ہوگا
کشمیر تو ہوگا لیکن پاکستان نہیں ہوگا
لال کر دیا تم نے خون سے سری نگر کی سوہنی گھاٹی کو
کس غفلت پر کھیل رہے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گھاٹی کو
زہر پلا کر مذہب کا ان کشمیری پروانوں کو
روپیہ لالچ دکھلا کر تم بھیج رہے نادانوں کو
کُھلے کیمپ، کھلی ٹریننگ اور ہتھیار دئیے ، یہ کھلی ہوئی شیطانی ہے
پوری دنیا جان چُکی یہ حرکت پاکستانی ہے۔
بہت ہو چکی مکاری، بس بہت ہوچکا جھوٹ
اپنے لوگوں کو سمجھا لو ورنہ
تمہارے دیس کا ہر کونہ بھبھک اٹھے گا
دیش اگرہو گیا کھڑا تو
تار تار مچ جائے گی
پاکستان کے ہر کونے میں مہا بھارت مچ جائے گی
کیا ہوگا انجام تمہیں اس کا انومان نہ ہوگا
کشمیر تو ہو گا لیکن پاکستان نہیں ہوگا
یہ ایٹم بم پر ہمت کون دکھلائے گا
انہیں چلانے کو بھلا باپ تمہارا آئے گا
اب کی فکر نہ کر
چہر کا خول بدل دیں گے
تاریخ کی کیا بات ہے
اتہاس (جغرافیہ) بدل دیں گے
دھارا اپنا بدل کر لاہور سے گزرے کی گنگا
اسلام آباد کی چھاتی پرلہرائے کا بھارت کا جھنڈا
راولپڈی اور کراچی تک سب غارت ہو جائے گا
سندھو ندی کے آر پار پورا بھارت ہو جائے گا
پھر صدیوں صدیوں تک جناح جیسا شیطان نہیں ہوگا
کشمیر تو ہوگا لیکن پاکستان نہیں ہوگا
بدرالزمان بلوچ
کوئٹـہ ۔ پاکستان

__________________

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ،آج تک آپ اس طرح کی معرکہ آراء باتیں قصے کہانیوں میں سنتے آئے ہیں ، مگر یہ ہوشربا مناظر اب آپ کو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آج کے دور میں ٹیلی ویژن نہ صرف گھریلو تفریح کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کی حیثیت گھر کے ایک فرد جیسی ہو چکی ہے جس کے بغیر گھر نامکمل سا لگتا ہے۔ ایک طرف اگر دنیا جہاں کی معلومات گھر بیٹے ملتی ہیں تو دوسری طرف اس کے تفریحی پروگرام کسی طرح بھی طلسم ہوش ربا سے کم نہیں۔ خاص طور پر مختلف چینلز کے کبھی نہ ختم ہونے والے طلسمی جال نے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو جکڑ رکھا ہے۔ گھریلو خواتین کیلئے ان کی اہمیت ایک وقت کا کھانا تیار کرنے کے مترادف ہے۔ ان ڈراموں کے موضوعات زیادہ تر گھریلو مسائل، رشتوں کے اقدار، محبت و نفرت کی جنگ اور خواہشوں کے نت نئے انداز کے اردگرد گھومتے ہیں۔ ان کہانیوں میں روایتی ہیرو، ہیروئن کے انجام سے ہٹ کر ایک نئی روش اختیار کر گئی ہے کہ ڈرامہ کی کہانی تمام کرداروں کا باری باری طواف کرتی ہیں اور اس طرح سے ایک لامتناہی سلسلہ سالہا سال سے چلتا آ رہا ہے۔ روز مرہ کے عام موضوعات سے لے کر کٹھن مراحل زندگی کو سلجھانے کی کوشش اور نت نئے موضوعات کی دلفریبی نے ناظرین کو اُلجھا کر رکھ دیا ہے اور اس طرح اس طلسم ہوش ربا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پروگرام بچوں کے ہوں یا بڑوں کے زمانے کی رنگینی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آزادی و لذت کے وہ سارے سامان میسر ہیں جو ہر آج کو رنگین بنا رہے ہیں اور ہر کل سے بے خوف کر رہے ہیں۔
اگر اس سراب نظر سے توجہ ہٹائی جائے تو کچھ اہم باتیں توجہ طلب ہیں جہاں یہ ڈرامے اعلیٰ تفریح اور سبق آموز کہانیوں کا مسکن سمجھے جاتے ہیں وہیں ہندوانہ مذہبی شعائر کے اعلیٰ تربیتی مراکز بھی ہیں۔ ان میں نہ صرف ہندو مت کے نظریات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے بلکہ گھر بیٹھے لوگوں کو مفت ہندوانہ مذہبی رسومات کی تربیت دی جا رہی ہے۔ ان ڈراموں کے طلسم میں جکڑے ہوئے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر نئی قسط میں ایک نیا مذہبی سبق (Course)حاصل کرتے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سبق کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس تربیتی پروگرام کو کبھی نہ بھولنے والے خوبصورت مناظر میں قلم بند کیا جاتا ہے۔ ایک بچے کے پیدا ہونے سے لیکر مرنے کے بعد تک کی تمام ہندو مذہبی رسومات کو اعلیٰ ڈرامائی شکل دے کر جو اسباق مرتب کئے گئے ہیں ان کے شاندار نتائج سے رو گردانی نہیں کی جا سکتی۔ اب اگر ایک مسلمان بچے کی تربیت ایسے ماحول میں کی جائے جہاں کا اوڑھنا بچھونا ہندوانہ ہو تو اس سے کس مستقبل کی اُمّید کی جا سکتی ہے؟ ایجادات اور تفریح کے اس دور میں کہیں ہم اپنا وجود تو نہیں کھو چکے؟ آج احساس نام کی کوئی چیز میسر آ جائے تو غنیمت جانئے اور صرف ایک بار تفریح کی عینک اُتار کر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ کیبل و انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ من پسند زندگی گزارے۔ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ رسل و رسائل کے ذرائع کو کسی معیار کا پابند بنایا جائے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افراد کی تربیت اس طرح سے کی جائے کہ وہ حقیقت سے شناسا ہوں۔ آج اگر ایک ناپختہ ذہن بچہ ہندوانہ مذہبی رسومات کو معمولات زندگی سمجھ کر سیکھ رہا ہے تو کل کو وہ کس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اپنا ”اسلامی تشخص“ تلاش کرے گا؟
ہم جس بھی رنگ میں رنگے جا رہے ہیں اس کا تو اب احساس بھی ختم ہوتا جا رہا ہے روزمرہ معاملات اب اس تربیت کے باعث ہمیں مختلف دکھائی دیتے ہیں ہمارے رسم و رواج کے اندر جو کچھ ملاوٹ ہو چکی ہے شاید اس کا خمیازہ آئندہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نئے دور کی نئی تہذیب کے جو ثمرات ہمیں مل رہے ہیں اس کا credit  کریڈ ٹ اس ذہن کو دینا چاہیے جس نے کامیابی کے ساتھ اپنا رنگ ہمارے اوپر رنگ دیا ہے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلنے دیا۔ اُمید یہ ہے کہ ہم ، جو کہ اس دلدل میں بُری طرح پھنس چکے ہیں اور بچنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، اگلے مرحلے (Stage) پہ اپنا وجود کھو چکے ہوں گے۔
جہاں ہمارے پاس دوسروں کی برائیاں کرنے کیلئے بہت وقت ہے وہاں ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی جرات نہیں کرتے۔ اپنے آپ کو احساس (Realize) دلانے کا وقت بھی نہیں یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا تو نامعلوم کتنی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج اگر ہم کم از کم اتنی ہمت کر لیں کہ اپنی آنکھوں کی پٹی اُتار کر غیر جانبدار ہو کر اپنے ارد گرد بدلتے ہوئے زندگی کے رنگوں کو اپنی ”ذاتی“ آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کریں کہ آیا ہم سب کچھ صحیح کر رہے ہیں یا کچھ غلط بھی ہو رہا ہے؟ آیا ہم اتنے لاپرواہ ہیں اور کیا ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں؟ ہم کب تک معاملات سے پہلو تہی کرتے رہیں گے۔
آج اگر میں ایک بھی فرد کو اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو جاؤں گا تو سمجھوں گا کہ میں نے اس قلم کا حق ادا کر دیا ہے جو میرے ذمہ تھا۔ تحریریں لکھنے کا یہ مقصد نہیں کہ کوئی مفاد حاصل کیا جائے بلکہ اپنے اندر سے اٹھنے والی وہ آواز جو کہ نوشتہ دیوار کی طرح وارد ہو رہی ہو سب کے سامنے رکھ دینا چاہیے تا کہ کوئی تو راہ پائے۔ میری قوم کا مجھ پہ فرض ہے کہ میں ہر وہ سچ جو ملاوٹوں (Impurities)سے متاثر ہو رہا ہے اس کو جھوٹ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کروں۔ آج ہماری قوم کے نوجوان بچے جس رنگ کو اپنا رہے ہیں کیا وہ ہمارا اپنا رنگ ہے؟ کیا ہمارا یہی ورثہ ہے کہ اگر ایک طرف ہم امپورٹڈ (Imported) اشیائے صرف پسند کرتے ہیں تو کیا دوسری طرف امپورٹڈ لائف اسٹائل کو بھی اپنا لیں جو چاہے ہماری تہذیب کی کمر میں چھرا ہی گھونپ رہا ہو؟ میری گزارش ہے کہ جو کچھ بھی آپ نے اِن تحریروں میں پڑھیں اپنی روز مرہ کی گپ شپ میں کم از کم دو تین دن تو ضرور اس کو شامل کریں، ہو سکتا ہے کسی کا بھلا ہو جائے اور آپ اپنے حصے کی ذمہ داری سے عہدہ برآں ہو سکیں۔
خیر اندیش
محمد الطاف گوہر
آپکی آرا کا انتظار رہے گا

C