سائنس و ٹیکنالوجیصحت و تندرستیمنظر نامہ

غریب ممالک کے لیے سستی ادویات

 Somali-patients-await-tre-007

غریب ممالک میں بیشتر آبادی کو صحت کی بہتر سہولیات میسر نہیں

ادویات تیار کرنے والی متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے ترقی پذیر ممالک میں فروخت کے لیے زندگی بچانے والی کچھ ویکسینز کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

قیمتوں میں کمی عام ادویہ ساز کمپنیوں کے علاوہ گلیکسو سمتھ کلائن،مرک اور جانسن اینڈ جانسن جیسی بڑی کمپنیوں کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

جن ویکسینز کی قیمت میں کمی کی گئی ہے ان میں سے ایک ڈیفتھیریا اور ہیپاٹائٹس بی سمیت پانچ بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ ایک اور ویکسین اسہال کا مقابلہ کرتی ہے۔

دنیا میں ہر برس پانچ لاکھ سے زائد بچے جن میں سے بیشتر کا تعلق براعظم افریقہ اور ایشیا سے ہوتا ہے، اس بیماری کا شکار ہو کر ہلاک ہوتے ہیں۔

برطانوی دواساز کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن کا کہنا ہے کہ کمپنی ان ادویات کے پیٹنٹ تو اپنے پاس رکھے گی لیکن دنیا کے مختلف علاقوں کے لیے اس کی قیمت مختلف ہوگی۔

جی ایس کے کے سربراہ اینڈریو وٹی کے مطابق اب ترقی پذیر ممالک کو ان ویکسین کے لیے جو قیمت ادا کرنا ہوگی وہ ترقی پذیر ممالک میں اس کی قیمت کا پانچ فیصد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی اپنی طرز کا واحد واقعہ نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ادویہ ساز کمپنیوں کو معاشرے کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے فنڈ نے دوا ساز کمپنیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ غریب ممالک کے لیے اپنی دواؤں کی قیمت میں کمی کریں۔

ترقی پذیر اور غریب ممالک میں بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسینیشن کے لیے فنڈ جمع کرنے کی غرض سے ایک عالمی امدادی کانفرنس بھی منعقد ہونے والی ہے۔

BBC Urdu

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button