URDUSKY || NETWORK

مراقبہءنور، اعتراضات ، سوال و جواب

131

مراقبہءنور، اعتراضات ، سوال و جواب

مراقبہ پر چند سوال و جواب -پاک نیٹ فورم
سوال: ہمارا اسلام ایسے کسی بھی مراقبے،کشف اور وجدان وغیرہ سے مبرا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
نہ آقا علیہ السلام نے کیا نہ اس کی تعلیم دی اور نہ ہی صحابہ کرام نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
سیدھے سادھے دین کو چھوڑ کر ان بھول بھلیوں میں گم ہونا اپنا دنیا اور آخرت دونوں کا نقصان کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا میں وقت ضائع ہوتا ہے اور آخرت میں اس جیسی سرگرمیوں کا کوئی اجر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ایک "ظاہر بین” ہوں،شاید "اہل باطن” اس پر کسی اور زاویے سے روشنی ڈال سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب:
سب سے پہلے تو آپ سب کا شکریہ کہ اس موضوع پر آپ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ وگرنہ مجھے اکثر یہی گمان ہوتا تھا کہ میری تحاریر یا تو بہت مشکل موضوعات پر ہیں کہ کوئی خاص بحث نہیں ہوتی یا پھر مدلل کہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
آپکی ہر بات کو جواب میرے پاس موجود ہے البتہ ایک ہی نشست میں ہو سکتا ہے کہ مکمل نہ کر پاوں ۔
وکیپیڈیا پر میری مکمل تحریر موجود ہے جیسا کہ
"مراقبہ انسان کا اپنی خودی (self) یا ذات میں گہرائی کی طرف ایک سفر ہے جس سے انسان اپنے اندر (باطن) میں اپنا اصلی گھر (awareness of self) یا فکر و سوچ کا ایک خاص مقام تلاش کر سکتا ہے۔ مراقبہ چونکہ ذہن کی ایک نفسیاتی کیفیت ہے اور اس کا انسانی شعور (consciousness) سے گہرا اور براہ راست تعلق ہوتا ہے، اس لیۓ کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق اور تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ ہونے کی مراقبہ میں کوئی قید نہیں ہے گویا مراقبہ سب کے لئے ایک جیسا فکری عمل ہے۔ مراقبہ ، مراقب (شخصیت) کی توجہ اس کے باطن (ماحول کے اثرات سے دور یکسوئی) کی طرف لے جانے کا موجب بنتا ہے اور اس طرح یکسوئی سے کی جانے والی فکر کے دوران انسان کی توجہ چونکہ مختلف خیالات میں بکھرے اور بھٹکے ہوۓ شعور (conscious) سے الگ ہوکر کسی ایک بات پر یکسوئی سے مرتکز ہو جاتی ہے لہٰذا ذہنی و نفسیاتی طور پر انسان ایک قسم کی حالتِ سکون پہ مقیم ہو جاتا ہے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ مراقبے سے انسان کی توجہ؛ مختلف خیالات میں منتشر شعور (مجازی مراکز) کے بجاۓ کسی ایک فکر پر مرتکز شعور (حقیقی مرکز) سے مربوط ہو جاتی ہے ۔ اگر تمام دنیاوی خیالات سے الگ ہوکر محض عبادت پر توجہ کی جائے تو عبادت میں خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہے جس سے انسان مادی تصورات سے جدا ہوکر دینی علم میں اضافہ کر سکتا ہے اور کم از کم اسلام میں اسے خاص طور پر مراقبہ کے نام سے تعبیر نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ یہ دنیاوی خیالات سے دور رہ کر خود کو اللہ کے سپرد (عبادت میں مشغول) کر دینے کی کیفیت ہے، عبادت میں طاری اس ذہنی کیفیت کو لغتی معنوں مراقبہ ہی کہیں گے لیکن اسلام میں مراقبہ (اپنے رائج تصور میں) نا تو عبادت کا حصہ ہے اور نا ہی عبادت کے لیۓ لازم ہے۔ اس کے برعکس ایسے مذاہب بھی ہیں کہ جن میں مراقبہ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے، جیسے بدھ مت اور ہندو مت وغیرہ۔ ۔حقیقی مراقبہ کا راز صرف ذہنی تصور (imagination) کے ساتھ منسلک ہے اور اس تصور سے مراد مراقبے کی ابتدائی اور انتہائی سطحوں پر شعور میں بیدار افکار سے ہوتی ہے۔ مراقبہ نفسیاتی علم کی وہ قسم ہے جو انسان کی شخصیت ، روح اور ذات کو آپس میں یکجا کر دے اور ان سب کو ایک نقطہ سے مربوط کر کے کثرت و دوئی سے آزادی کا احساس پیدا کر دے ۔ مراقبہ ، ظاہری زندگی کے مستقل نہ ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے اور زندگی کی حقیقت کو قریب سے سمجھنے اور اسکی ظاہری نا پائداری کے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔ مراقبہ کو ایک ذہنی ورزش کا نام دے سکتے ہیں جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں، جتنا زیادہ اس عمل (مشق / ریاض) کو کیا جائے اتنی زیادہ اس میں مہارت حاصل ہو گی۔”
سوال: اسلام میں‌ کوئی باطن نہیں‌ ہے، خدا نے کہا ہے کہ میں‌ نے اپنی آیتیں‌ کھول کھول کر بیان کی ہیں۔ ان میں اگر کوئی پیچیدہ مطلب یا باطن تلاش کرتا ہے تو وہ لوگوں‌ کو گمراہ کر رہا ہے۔ جو دعوٰی عشق کا کرتے ہیں تو اسلام کی سادہ تعلیمات اور فرائض کو من وعن ماننا اور ان سے لگاؤ ہی عشق ہے۔ یہ نہیں‌ کہ آپ ناچیں اور نام عشق خدا اور عشق رسول ص کا لیں۔
جواب:
غور فکر اور علم سے متعلق چند حوالہ جات :-
اِنَّمَا یَخْشَی اللہ مِنْ عِبَادِہ الْعُلَمَآئُ (فاطر 28/35)
ترجمہ: اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے علم والے ہی ڈرتے ہیں (جوصاحب بصیرت ہیں)
قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَایَتَذَکَّرُ اُوْلُوالْاَلْباَبِ (الزمر 9/39)
ترجمہ: آپ فرمادیجیے کہ علم والے اور بے علم کہیں برابر ہوسکتے ہیں؟ تحقیق سوچتے وہی ہیں جو صاحب عقل ہیں۔
وَالَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ دَرَجَاتِ -المجادلۃ 11/58-
ترجمہ: اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے (اللہ) ان لوگوں کے درجے بلند کرے گا۔
فَسَئَلُوْا اَہْلَ الذِّکْرَ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (الخل 43/16)
ترجمہ: سو تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو۔
کائنات میں غور و فکر کی ترغیب
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰت وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ والنَّہَارِ والْفُلْکِ الَّتیْ یَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا انْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمآئِ مِنْ مَّآء فَاحْیَا بِہٖ الْاَرْضَ بَعْدَ موْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃِ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ والسَّحَابِ المُسَخّرِ بَیْنَ السَّمآئِ والْاَرْضِ لَاٰیاتٍ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (البقرہ 164/2)
ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کی گردش میں اور ان جہازوں اور (کشتیوں) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں اٹھاکر چلتی ہیں اور اس (بارش) کے پانی میں جسے اللہ آسمان کی طرف سے اتارتا ہے، پھر اس کے ذریعے زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کرتا ہے (وہ زمین) جس میں اس نے ہر قسم کے جانور پھیلا دیے ہیں اور ہواؤں کے رخ بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (حکم الٰہی) کا پابند (ہوکر چلتا) ہے (ان میں) عقلمندوں کے لیے (قدرت الٰہیہ کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔
إِنَّ فِی اخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا خَلَقَ اللّہُ فِی السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَّقُون(یونس 6/10)
ترجمہ: بے شک رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور ان (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو تقویٰ رکھتے ہیں۔
وَھُوَ الَّذِی مَدَّ الأَرْضَ وَجَعَلَ فِیہَا رَوَاسِیَ وَأَنْہَارًا وَمِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیہَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّہَارَ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ0وَفِی الأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیلٌ صِنْوَانٌ وَغَیْرُ صِنْوَانٍ یُسْقَی بِمَاء وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ فِی الأُکُلِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (الرعد 4.3/13)
ترجمہ: اور وہی ہے جس نے (گولائی کے باوجود) زمین کو پھیلایا اوراس میں پہاڑ بنائے اور ہر قسم کے پھلوں میں (بھی) اس نے دو دو (جنسوں کے) جوڑے بنائے۔ (وہی) رات سے دن کو ڈھانک لیتا ہے۔ بے شک اس میں تفکر کرنے والے کیے (بہت) نشانیاں ہیں۔ اور زمین میں (مختلف قسم کے) قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جھنڈدار اور بغیر جھنڈ کے۔ ان (سب) کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور (اس کے باوجود) پھر ذائقہ میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشتے ہیں۔ بے شک اس میں عقلمندوں کے (بڑی) نشانیاں ہیں۔
ھُوَ الَّذِی أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء لَّکُم مِّنْہُ شَرَابٌ وَمِنْہُ شَجَرٌ فِیہِ تُسِیمُونَ0یُنبِتُ لَکُم بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُونَ وَالنَّخِیلَ وَالأَعْنَابَ وَمِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (النحل 11,10/16)
ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان کی جانب سے پانی اتارا، اس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اسی میں سے (کچھ) شجر کاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں اگتی ہیں) جن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہو، اسی پانی سے تمہارے لیے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہرقسم کے پھل (اور میوے) اگاتا ہے۔ بے شک اس میں غور فکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِی الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِی الکِتَابِ مِن شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ ۔(الانعام38/6)
ترجمہ: اور (اے انسانوں) کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جانور) اور پرندہ جو اپنے دو بازوؤں سے اڑتا ہو (ایسا) نہیں ہے مگر یہ کہ (بہت سی صفات میں) وہ سب تمہارے ہی مماثل طبقات ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحۃ یا اشارتاً بیان نہ کردیا ہو) پھر سب (لوگ) اپنے رب کے پاس جمع کیے جائیں گے۔
نوٹ: تمام حوالہ جات، قرآنی آیات تعلیم و تدریس کے مقصد کیلئے لکھی گئی ہیں ، اگر کہیں لکھنے میں کوئی غلطی نظر آئے تو بر آئے کرم تصحیح فرما دیجئے گا، اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف فرمائے-آمین
مراقبہ نور کا متبادل طریقہ کار:-
شاکر القادری – القلم فورم
بہت خوب لیکن میں ہمیشہ مراقبہ نور کرتے وقت یہ منظر بناتا ہوں کہ آسمان پر ایک چمکدار اور روشن چاند ہے جس پر لفظ اللہ لکھا ہوا ہے اور اس کی کرنیں براہ راست میری پیشانی پر پڑ رہی ہیں اور پھر میں بتدریج اس نور کو پورے سر میں پھیلانے کے بعدریڑھ کی ہڈی کے ذریعہ پورے جسم میں منتقل کرتا ہوں میں اپنے احباب کو بھی اسی طرح اس کی مشق کرواتا ہوں
مجھے نور کی کرن کا پائوں میں داخل کرنے کا تصور کچھ اچھا نہیں لگا.
اردوپوائنٹ پر مراقبہ نور سے متعلق ای میلز:-
Wed, May 5, 2010 6:35:37 AM
Response-Maraqaba e NooR" published on UrduPoint.com.
Name : Noor ur Rahman
Location: Peshawar
Message: Salam Gohar sb,
A good attempt on maraqib-e-noor.
I am a color therapist and maraqiba-e-noor is my favorite subject. If you allow me to say some thing abt maraqiba-e-noor.
Before one goes for such meditation he/she must know what is the purpose of his/her meditation. Not every person can meditate in any color. i-e if a person with cancer meditates with blue color will die sooner but on the other hand if it meditates with red color will get healthier and yes it can cause constipation and cough or chest congestion as well. IF a healthy man meditates with red light he may observe a high blood pressure and anger as well and vice-versa. Every color has advantages and disadvantages. I see many patients every sunday and my personal opinion is that maraqiba-e-noor is a very sensitive issue this should be done under the auspices of a well trained teacher. Hope my words didnt make you un-easy.
personal regards
noor.
جواب:
نور کے تصور میں کسی بھی خاص رنگ کو خصوصیت سے شامل نہیں کیا جاتا بلکہ ایک روشنی کی کرن کا تصور ہے اور روشنی ہمیشہ تمام رنگوں کو مجموعہ ہوتی ہے لہذا کسی طرح سے بھی اس مراقبہ سے کسی کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جبکہ نور کا تصور تو ہمیشہ سے پاکیزگی ، فرحت ،صحت اور محبت کا رحجان پیدا کرنے والا رہا ہے.
اردوپوائنٹ پر مراقبہ نور سے متعلق ای میلز:-
Here is the feedback from a user in response of your column "Maraqaba e NooR" published on UrduPoint.com.
Name : shahnaz
Location: holland
Message: salaam.ur colum is really good.how can i take u advice about muraqba.do u have any contact nr?thanks
جواب:
آپ مراقبہ شروع کرنے سے قبل میری کتاب لذتِ آشنائی کا مطالعہ کرلیں تو بہت سی مفید معلومات بآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں البتہ اگر آپ مجھ سے رابطہ کرنا چاہیں تو میرا فون حاضر سے:
4700092-0300
اردوپوائنٹ پر مراقبہ نور سے متعلق ای میلز:-
Here is the feedback from a user in response of your column "Maraqaba e NooR" published on UrduPoint.com.
Name : Mohammad Shoaib
Location: Dammam KSA
Message: Dear Sir,
Asalam o Alakum, Ap ka artical bot acha laga, app sy sirf yh khna chata hun k mrakba e noor main deger rangoun ya chezoun k alawa ager us Noor a Rehmat ka tasawar ho JO SYED A ALAM (PBUH) k Qadmain pak sy nikl kar pori dunya ko apni lipate main liyah howy hi, to kasi mehsoos hota ho ga,
Zarour Jawab digye ga,
ALLAH HAFIZ
اردوپوائنٹ پر مراقبہ نور سے متعلق ای میلز:-
Here is the feedback from a user in response of your column "Maraqaba e NooR" published on UrduPoint.com.
Name : Shireen Islam
Location: Lahore, Pakistan
Message: AoA, i read your article and i wanted to start this exercise. i just wanted to know the period one should give to it?
Regards
Shireen
جواب:
مراقبہ شروع کرنے سے قبل اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ مشق صبح ، شام یا رات کسی بھی وقت سر انجام دی جاسکتی ہے البتہ اسکا دورانیہ 15 منت سے لیکر 30 منٹ یا اس کچھ زیادہ بھی ہو سکتا ہے مگر یہ سب کچھ افراد کی سہولت پر منحصر ہے۔ مراقبہ کھانا کھانے کے بعد فورا نہیں کرنا چاہے بلکہ کھانے سے قبل یا پھر 2 گھنٹے بعد مراقبہ کرنا ایک اچھی عادت ہے ،
اردوپوائنٹ پر مراقبہ نور سے متعلق ای میلز:-Here is the feedback from a user in response of your column "Maraqaba e NooR" published on UrduPoint.com.
Name : hina
Location:
Message: assalam alaikum… i want some more further steps for marakiba an also want to know about its advantages….how we can spiritually contact to someone via this process… kindly inform me … rest information i really like….
جواب:
مراقبہ اور روحانی رابطہ یا ٹیلی پیتھی میں کچھ بنیادی فرق ہے، البتہ مراقبہ کی مشق کرنے سے تصور میں جو پختگی آتی ہے اس سے روحانی رابط آسان ہوجاتا ہے ۔ جبکہ مراقبہ کے فوائد تو بہت زیادہ ہیں مگر چیدہ چیدہ ، روحانی صلاحیت کی بیداری، ذہن کی بحالی، اعصابی نظام کی چستی ،نفسیاتی صحت مندی ،قوت حافظہ کی بہتری ، خود اعتمادی ، ڈپریشن سے نجات ، ٹینشن سے بچاﺅ اور قوت ارادی کی مضبوطی کیلئے مراقبہ نور کی مشق انتہائی اعلیٰ نتائج کی حامل ہے( البتہ مراقبہ کے موضوع پر مکمل تفصیلی معلومات آپ میری کتاب "لذتِ آشنائی” سے حاصل کرسکتے ہیں)
امید ہے کہ اس سلسلہ سوال و جواب سے اضافی معلومات حاصل ہوئی ہونگی ۔ آپکے مزید سوالات کا انتظار رہے گا۔
وسلام
محمد الطاف گوہر