تحقیقاتنوجوان

آنکھوں کے مردہ خلیوں کیلئے نئی زندگی ؛ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز کرشمہ

آنکھوں کے مردہ خلیوں کیلئے نئی زندگی ؛ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز کرشمہ

قرآن مجید میں ارشاد بار ی تعالیٰ ہے ؛
“وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ”
اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے (26:80)

برطانیہ سے تعلق رکھنے والا ایک باشندہ آنکھوں میں حادثاتی طور پر تیزاب پڑنے سے بینائی سے مکمل طور پر محروم ہوگیا تھا، لیکن ایک نئے طریقہ کار کی ایجاد سے اب اس کی بینائی مکمل طور پر بحال ہوگئی ہے۔ برطانیہ کی ایک مشہور سائنسی لیبارٹری نے ایسا علاج ایجاد کیا ہے جس کے تحت آنکھوں کے خراب خلیوں کو نئے خام خلیوں سے تبدیل کرکے بینائی مکمل طور پر واپس حاصل کی جا سکتی ہے۔اس علاج میں آنکھ کے قرنیہ چشم پر آئی جھلّی کو صاف کرنے کے لیے آنکھ کو ایک ملی میٹر کاٹ کر اس میں سے خام خلیے حاصل کیے جاتے ہیں۔ حاصل کیے گئے نا پختہ اور خام خلیوں کو لیبارٹری میں400 فی صد مزید نشوونما پانے کے بعد خراب بینائی والی آنکھ کے خراب خلیوں پر سِی دیا جاتا ہے، جس سے آنکھ کے قرینے پر آئی جھلّی جڑ سے ختم ہوجاتی ہے۔اس نئے طریقہ ِعلاج کے ذریعے بینائی سے محروم اور دھندلی یا جزوی بصارت کے حامل افراد نہایت مستفید ہو پائیں گے۔
اسی بار ے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جدید طبی تحقیق ماہرین مستقبل میں انسانی اعضاء بنا سکیں گی آئندہ چند سالوں میں اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی اعضاء بنائے جا سکتے ہیں جبکہ اس ٹیکنالوجی مدد سے ہر جاندار کے اعضاء کی مرمت بھی کی جا سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار اتوار کو لیاقت نیشنل اسپتال کے چھٹے سمپوزیم سے مختلف طبی ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع ڈاکٹر قاسم مہدی نے اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کے حوالے سے کہا کہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی پر ہونے والی جدید تحقیق نے طبی سائنس کے ماہرین کو اس قابل بنا دیا ہے کہ کسی بھی جاندار کے جسم میں پائے جانے والے اسٹیم سیل میں خصوصی جینس کے افعال اور ان کے نتیجے میں اسٹیم سیل کے مختلف اقسام کے اعضاء کے بننے کے عمل کو سمجھانا آسان ہو گیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button