تازہ خبریںمنظر نامہ

وارنٹ تمام 188 ممالک کو فراہم کیے جائیں گے وکی لیکس کے بانی کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ریڈ وارنٹ جاری

لیون [ فرانس] ۔ ایجنسیاں بین الاقوامی پولیس” انٹرپول” نے خفیہ رپورٹوں کی اشاعت کے ذریعے شہرت پانے والی ویب سائٹ وکی لیکس کے سربراہ جولین اسانش کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیے ہیں۔
مسٹر اسانش کی گرفتاری کے لیے وارنٹ انٹرپول کے رکن ملک سویڈن کے مطالبے پر جاری کیے گئے ہیں۔ سویڈن نے انٹرپول سے مطالبہ کیا ہے کہ جنسی تشدد اور خاتون کی عصمت دری کے دو الگ الگ واقعات میں مطلوب جولین اسانش کو گرفتار کر کے اس کے حوالے کرے۔ وارنٹ گرفتاری کا وکی لیکس کی خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے کوئی تعلق نہیں۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی "اے ایف پی” کے مطابق انٹرپول پولیس نے جولین اسانش کی گرفتاری کے ریڈ وارنٹ اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کردیے ہیں، اس کے علاوہ عالمی پولیس کے دنیا بھر میں 188 رکن ممالک کو بھی وارنٹ گرفتاری پرعمل درآمد کے احکامات جاری کیے گیے ہیں۔
خیال رہے کہ فرانس کے مشرقی شہر”لیون” میں قائم انٹرپول کے دفتر کو 20 نومبر کو سویڈن کی ایک عدالت کی طرف سے درخواست دی گئی تھی جس میں جولین اسانش کو ایک خاتون کی عصمت دری اور ایک دوسرے مقدمے میں جنسی تشدد کے الزامات کے تحت گرفتار کرنے کو کہا گیا تھا۔
قبل ازیں جولین اسانش نے سویڈش عدالت سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ واپس لینے کے احکامات جاری کرے۔ تاہم عدالت نے جمعرات کی سماعت میں اسانش کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ کے اجرا کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں۔
گذشتہ برس اگست میں سویڈن کی دو خواتین نے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی ایک عدالت میں آسٹریلوی شہری جولین اسانش کے خلاف دو الگ الگ مقدمات دائر کیے تھے جن میں ایک خاتون کی عصمت دری اور دوسری پر جبرا جنسی تشدد کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
جولیان کے وکیل نے عدالت میں اپنے موکل کی گرفتاری رکوانے کے لیے عدالت سے اپیل کی تھی تاہم عدالت نے ان کی اپیل مسترد کردی تھی۔ اب جولیان کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
انٹرپول نے جولین اسانش کی گرفتاری کے وارنٹ ایک ایسے وقت میں جاری کیے ہیں جب اسی ہفتے اتوار کو وکی لیکس نے امریکا اور دیگر ممالک کے سفارت کاری کے اڑھائی لاکھ خفیہ پیغامات شائع کیے تھے جس سے پوری دنیا میں ایک بھونچال پایا جاتا ہے۔ امریکا نے وکی لیکس کے بانی کے خلاف سخت برھمی کا اظہار کیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button