Ultimate magazine theme for WordPress.

پاکستانی نوجوان کو امریکہ میں جرمانہ ہو گیا جج فرینک کیپریو کی عدالت

11

امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے شہر ” پروویڈنس “ میں ماڈل عدالت کے جج ” فرینک کیپریو “ پوری دنیا میں شہرت رکھتے ہیں اور مہربان ہونے کے ساتھ ساتھ لوگ انہیں رحم دل بھی کہتے ہیں جہاں شہری اپنے مسائل لے کر جاتے ہیں اور فوری حل پاتے ہیں ۔

فرینک کیپریو کی عدالتی کارروائی ٹی وی چینل پر بھی دکھائی جاتی ہے جس کے باعث ان کے پاکستا ن میں بھی کئی مداح موجود ہیں جو ان کی پذیرائی کرتے ہیں ۔ امریکہ میں زیر تعلیم پاکستانی نوجوان کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا جو کہ بہت زیادہ ہونے کے باعث وہ جج کیپریو کی عدالت میں پیش ہوا ۔عدالتی کارروائی کے دوران جج کے تاریخی فیصلے نے نوجوان کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے بھی دل جیت لیے ہیں ۔

جج نے عدالتی کارروائی شروع کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پارکنگ پر تین ٹکٹس دی گئی ہیں جس پر پاکستانی نوجوان نے کہا کہ ” جی میں قصور وار ہوں “ ۔جج نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ طالبعلم نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ” میں یہاں پر سکول میں سائبر سیکیورٹی کی تعلیم حاصل کر رہاں ، میرا تعلق پاکستان سے ہے اور مجھے یہاں تین سال ہو گئے ہیں ۔

نوجوان نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سارے لوگ آپ کو پسند کرتے ہیں ، آپ کی ویڈیو زکو پسند کرتے ہیں ، پاکستان سے مجھے بہت سارے لوگوں نے فون کر کے کہا کہ میں آپ کی عدالت میں جاﺅں ۔ جج کیپریونے خوشگوار ماحول میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” اچھا توآپ مجھے مکھن لگا رہے ہیں “ ۔

جج نے پاکستانی نوجوان سے استفسار کیا کہ ” مجھے اس جرمانے کے بارے میں بتائیں ، کیا یہ سکول کے قریب کیا گیا ، لڑکے نے بتایا کہ دراصل بد قسمتی سے مجھے یہ جرمانہ اس وقت کیا گیا جب شدید برفباری کے دن چل رہے تھے ۔جج کیپریو نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ” میں ایک نہایت مہربان خاندان کو جانتاہوں ، جن کا تعلق مڈلینڈ ٹیکساس سے ہے ، سٹیو اور ان کی اہلیہ کا نام ” ٹیمی “ ہے ۔

جج کیپریو نے کہا کہ انہوں نے مجھے کچھ پیسے بھیجے ہیں جن سے ان کی مدد کی جائے جو کہ مدد کے مستحق ہیں ، آپ طالبعلم ہیں ، آپ مدد کے اصل حقدار ہیں ،میرے خیال میں آپ اس کیلئے کوالیفائی کرتے ہیں ، میں آپ کو جرمانہ نہیں کرنے جار ہا ، بلکہ میں سٹیو اور ٹیمی کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہا ہوں، دراصل یہ سٹیو ن اور ٹیمی کیلئے اعزاز کی بات ہو گی کہ آپ و ہ آپ کا جرمانہ ادا کریں تو اس طرح آپ کو کچھ بھی ادا نہیں کرنا پڑے گا ، میری خواہش ہے کہ آپ اپنی تعلیم مکمل کریں۔

عدالتی کارروائی کے دوران جج نے پوچھا کہ آپ امریکہ میں رکنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ جس پر نوجوان نے جواب دیا کہ میرے پاس گرین کارڈ ہے اور میں امریکہ کا شہری بھی ہوں ۔ جج نے کہاکہ آپ کی یہاں پر فیملی ہے ، نوجوان نے بتایا کہ نہیں میری اس طرح کی کوئی فیملی نہیں ہے ۔جج کیپریو نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کسی دن آپ رہیں گے اور آپ کی بھی فیملی ہو گیاور آپ بچوں کی پرورش کریں گے ۔

پاکستانی نوجوان نے جج فرینک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی میری فیملی ہیں ۔ طالبعلم کی بات سن کر جج کو خوشی ہو اور انہوں نےک ہا کہ میں اس کی قد ر کرتاہوں ، آپ نے جو کہا یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے ، یہ ہی امریکہ کی کہانی ہے ۔جج فرینک کیپریو نے کہا کہ وہ دیکھیں انسپکٹر کرینگٹن ، ان کے رشتہ دار آئرلینڈ سے آئے ہیں ، میرے خاندان اور میرے والد کی پیدائش اٹلی میں ہوئی ، دیگر لوگ بھی پوری دنیا سے یہاں آتے ہیں ، یہ ہی امریکہ ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.