Ultimate magazine theme for WordPress.

محبت، رقص اور عبادت

66

محبت، رقص اور عبادت

اور جب کبھی بے خبر لمحوں کو میں self کی قدروں کا ادراک ہوا، تو وہ آشنائی کی لذت میں محو ہوکر قیام پذیر ہو گئے جبکہ زندگی بھی اپنا سفر تبدیل کر کے اسکے گرد رقص کرنے لگی ۔ معاملات کی تگ و دو اپنے اختتام کو پہنچی اور زندگی نے اپنی خواہ مخواہ کی دوڑ ختم کر کے اپنا سر محبت چوکھٹ پہ رکھ دیا اور کائنات کے رقص دائمی کا حصہ بن گئی

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

خیر اگر ایک سانس لیتی ہے تو شر ایک سانس چھوڑتا ہے ، جبکہ انکا جنگ و جدل ازل سے جاری ہے البتہ لمحے انکے درمیاں اٹکے ہوئے رہتے ہیں، مگر زندگی کے متوازی اور کندھے سے کندھا ملائے کبھی خیر کے دامن میں پناہ لیتے ہیں تو کبھی شر کے، لمحوں کو اپنا سفر جاری رکھنے کیلئے اک سواری کی احتیاج ہے لہذا وہ کبھی خیر کے دامن میں اور کبھی شر کا بازوؤں میں سمٹے رہتے ہیں ۔
زندگی کی کلی نے محبت کی گود میں جنم لیا تو اسکی مہک بقا (سلامتی) کا پیغام لیکر ہر سو پھیل گئی جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ نا صرف اس سے مامور ہوا بلکہ محو رقص ہو گیا ۔ لمحوں نے بھی رخت سفر باندھا ، مگر نا آشنائی کا دور دورہ ہے اور آگاہی سے بھی قربت نہیں لہذا کبھی خوابیدگی کا عالم ہے اور کبھی آشنائی کا ۔ جبکہ بقا کی لذت سے سرشار لمحوں نے قیام کیا اور خوابیدہ لمحے سیل رواں کے تھپیڑوں میں بہتے کسی کائی کیطرح عدم سدھار گئے۔
میں کا بار عزیز اٹھا ئے ہوئے خیرو شر کی راہوں پہ چلتے ہوئے لمحے اکثر اس کے لازوال حسن سے نا آشنا رہے ۔ کبھی تو اس گراں قدر میں کا جلوہ معاملات کی تگ و دو میں پنہاں رہا اور کبھی نیم خوابی کے عالم میں یہ جلوہ اک رنگیں خواب کیطرح سراب بن کے رہ گیا۔ اور جب کبھی بے خبر لمحوں کو میں کی قدروں کا ادراک ہوا، تو وہ آشنائی کی لذت میں محو ہوکر قیام پذیر ہو گئے جبکہ زندگی بھی اپنا سفر تبدیل کر کے اسکے گرد رقص کرنے لگی ۔ معاملات کی تگ و دو اپنے اختتام کو پہنچی اور زندگی نے اپنی خواہ مخواہ کی دوڑ ختم کر کے اپنا سر محبت چوکھٹ پہ رکھ دیا اور کائنات کے رقص دائمی کا حصہ بن گئی۔ اگر پھولوں میں خوشبو ،پھلوں میں رس، موسم میں انگڑائی، ہواؤں کی اٹھکھیلیاں ،زمین میں جاری چشمے اور سبزہ ،آسمانوں پہ بادل اور چہروں پہ انجان مسرت ہے تو محبت کے مرہون منت ہے۔جبکہ معاملات زندگی میں محبت کا جذبہ انسانیت کیلئے سب سے عظیم تحفہ ہے، اس کے باعث تمام دراڑیں اور خلا پر ہو جاتے ہیں اور خیر و شر کی جنگ جو کہ ازل سے ابد کی طرف گامزن ہے، ا س میں بھی اعتدال واقع ہوتا ہے ۔ یہی وہ منزل ہے جہاں لذت بیکراں کا وصل حاصل ہوتا ہے اور کائنات سے مربوط ایک دائمی رقص سے شناسائی ہو جاتی ہے۔
خیر و شر کے سوار زندگی کے ہمسفر لمحے معاملات پر دو اقسام کی رسائی رکھتے ہیں ، مثبت اور منفی اور اگر یہ کسی شے تک منفی زاویہ یا رویہ سے پہنچ کرتے ہیں تو یہ عمل میں لئے ایک برا بیج ثابت ہوتا ہے اور اگر اس کو ختم نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ ایک تنا آور درخت بن کر انسان کو پریشانی کے تاریک غار میں پھینک دیتا ہے جبکہ علاوہ ازیں بدعملیاں اور منفی جذبے اور رویے (حسد، لالچ، مکر، فریب، دھوکہ دہی، نفرت اور خوامخواہ کے خوف وغیرہ) وہ زنگ ہیں جو قلوب پہ ملمع کاری کی طرح تہہ در تہہ چڑھتے رہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ باہر کی روشنی اندر دکھائی نہیں دیتی اکثر اوقات خوش بختی، سکون اور راحت باہر سے دستک دیتے ہیں اور اندر آنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں مگر اندر کے یہ دشمن اِنہیں گھسنے نہیں دیتے۔ لمحوں کو محفوظ کرنے کا عمل اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ آپ کا علم کتنا ہے؟ یعنی جتنا علم زیادہ ہو گا اتنی دنیا بڑی ہو گی اور علم کے مطابق عمل پذیر ہوگا۔البتہ اگر علمِ نافع ہو تو عمل صالح ہو گا اور اگر علم اس کے تضاد میں ہو گا تو عمل بھی بد عملی کی شکل اختیار کر جائے گا۔ تمام وہ بداعمال جو ایک انسان سے وقوع پذیر ہوتے ہیں ان سے وہ طرح طرح کی پریشانیوں اور بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ عبادات میں دراصل میں اپنے گذشتہ لمحات کے اندر لکھنے اور پڑھنے کے عمل گزر رہی ہوتی ہے، اگر ایک طرف توبہ گناہوں اور بد عملیوں کے اثرات کا قلع قمع کررہی ہوتی ہے تو دوسری طرف مثبت جذبے اور رویے اپنے اعلیٰ درجوں پہ قیام پذیر ہو رہے ہوتے ہیں۔اور ان کے ثمرات ہماری زندگی کو حالت مثبت کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں۔ انسان کی تمام پریشانیاں اور تکالیف اسکے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں جبکہ عبادت ایک ایسا عمل ہے جو کہ انسان کو واپسی کی طرف لانے کا موجب بنتا ہے جس کے باعث ایک انسان اپنے قلب و سوچ کو شفاف کرتا ہے جو کہ منفی سوچ اور عمل کے باعث زنگ آلودہ ہو چکا ہوتا ہے۔ جب زندگی کے تسلسل کا عمل چلتا ۔ہے تو انسان خیر و شر دونوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے اور عبادات جو کہ اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں ایک انسان کو اس کے زندگی کے تسلسل کو قدرتی انداز میں رکھنے کا باعث بنتی ہیں.جبکہ بندہ اپنے ربّ کے سامنے عجزو انکساری کررہا ہوتا ہے اور اس کے اندر کی حالت بھی تبدیل ہورہی ہوتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ انسان اپنے ربّ کی نعمتوں کا شکر ادا کرکے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر تا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اللہ بندے کے گناہوں کو بخش دے ، صالحین میں شامل کرے اور د نیا میں خاتمہ ایمان پہ ہو اور آخرت میں بخشش عطا فرما دے۔

Bookmark and Share

1 تبصرہ
  1. arifkarim کہتے ہیں

    اچھی تحریر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.