URDUSKY || NETWORK

ایک بار دیکھا ہے ، بار بار دیکھنے کی خواہش ہے، حصہ دوم

117

ایک بار دیکھا ہے ، بار بار دیکھنے کی خواہش ہے،
حصہ دوم

تحریر : محمد الطاف گوہر

واقعی آج کی رات دیدار کی رات ہوگی؟ مجھے اپنی سماعت پر شک ہونے لگا اور والہانہ انداز میں پوچھا ، تو جواب میں ایک مہکتا خوشبو کا جھونکا میری سانسوں کو گرماتا ہوا اور باد صبا کی لے پر تھرکتا تھرکتا دریا کی مست موجوں کا ہمراہی ہو گیا۔ ایک ہلکی سی سرگوشی میں جواب ملا” ہاں ، آج کی رات دیدار کی رات ہوگی” ، اس مدھر آواز نے، جو ابھی کسی نام اور رشتے کی ڈوری سے نہ بندھی تھی ، مجھے چونکا دیا۔ اک انجانی خوشی کے احساس سے میرے خوابوں کا آنگن لبریز ہوگیا۔
وقت تو جو جیسے تھم گیا تھا اور ایک ایک پل گھنٹوں پر بھاری لگ رہا تھا، ابھی تو شام نہیں ہوئی رات کب ہوگی؟ انہی سوچوں میں مگن تھا کہ اچانک اک سرگوشی نے چونکا دیا ” میرا انتظار کرو گے؟ ” ، کیوں نہیں ، اسے کیا بتلاتا کہ انتظار کی کشتی پر تو کب کا سوار ہو چکا تھا ، “ضرور کروں گا” ۔ پھر ایک خاموشی سی چھا گئی ایک طویل وقفے کے بعد میں گویا ہوا” چلتا ہوں ” آج کی شام بہت بوجھل ہے ، پل پل بھاری ہو گیا ہے ، اب مجھے چلنا چاہیے ، اور اسطرح شام سے پہلے ہی گھر کی راہ لی۔
رات کے کھانے پر بے چین طبعیت نے سیر ہوکر کھانے بھی نہ دیا اور نیند تو کوسوں دور بھاگ چکی تھی ، ہر آہٹ پر آنکھ کھول کر بے تاب نظریں نظارہ جاناں کیلئے تڑپ جاتیں ،جبکہ بے قرار قلب کو پہلی بار انتظار کی لذت کا احساس ہوا اور دھڑکن تھی کہ بے قابو ہوئی جارہی تھی۔ رات کا پہلا پہر ہوا جبکہ اس نئی کیفیت سے پہلی بار شناسائی ہوئی اور بے قراری کے عالم میں بستر چھوڑ کر کمرے کا دروازہ کھولا اور صحن میں آ گیا، گھر کے آنگن کو موتیا ، گلاب اور رات کی رانی نے مہکا یا ہوا تھا ، اور کھلے آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب سے دمک رہا تھا۔
انتظار کی گھڑیاں طویل ہوا چاہ رہی تھیں مگر نہ کوئی صبا اور نہ کوئی سرگوشی ، یہ کیسا امتحان ہے؟ وقت پر لگا کر اڑ کیوں نہیں جاتا؟ وہ کب آئے گی؟ رات تو بیتی جارہی ہے ، دیدار کب ہوگا؟ نہ جانے کس کس طرح خدشات پانی پر کسی بلبے کی طرح ظاہر ہوتے اور خود ہی دم توڑ جاتے ، اگر ایک طرف فضا میں چاندنی نے اک جال سا تان رکھا تھا تو دوسری طرف خشبو کے جھونکے مجھے نیند کی وادیوں کیطرف دھکیل رہے تھے۔ آخر نیند نے آ لیا اور شب کے بیتنے کا ملال ہونا شروع ہو گیا ، کیا اس نے دھوکا دیا؟ اگر نہیں آنا تھا تو مجھے کیوں کہا تھا ” آج کی رات دیدار کی رات ہے؟” ، انہی سوچوں میں گم مایوسی سے اداسی کا رخت سفر باندھا ؛
؎ اے چاند ڈوب جا کہ طبعیت اداس ہے
آخر اس انتظار کی طوالت کو راہ میں چھوڑ کر نیند کے جھونکوں کی ہمراہی کی اور بستر پر دراز ہو گیا کہ ” اب وہ نہیں آئے گی”، ابھی سوئے کچھ دیر ہوئی تھی کہ تقریباً رات اڑھائی بجے اچانک آنکھ کھل گئی، حیرت ہوئی کہ اتنی گہری نیند بھک سے کیسے اڑ گئی؟ اندھیرے کمرے میں اک روشنی کا احساس ہوا، اور آنکھیں ملتا ہو ا بستر پر بیٹھ گیا۔
اچانک جیسے اک بجلی سی کوند گئی ہو اور اک روشن ، حسن و جمال کا پیکر چہرہ آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا ، اس حسن کی تمازت نا قابل برداشت لگ رہی تھی ، ہمت کرکے پوچھا کون ہو؟ تو صرف اک مسکراہٹ نے مجھے مبہوت کر دیا، “خود ہی بلاتے ہو اور خود ہی پہچانتے نہیں؟” بے تکلف سا جواب ملا، اہ ، یہ تو ہی آواز ہے جس نے میری زندگی کو محو رقص کر رکھا ہے، اور والہانہ انداز میں گویا ہوا، ” تم وہی ہو جو ہر شام کو میرے ساتھ ہوتی ہو؟ ” ہاں ” میں “وہی ہوں”، ؛ “تیری شاموں کی گہنانے والی ، تیرے دل میں اترنے والے لب لہجے کی دیوانی ، تیری گہری آنکھوں کی مستی کے اس پار جانے کی تمنا رکھنے والی ” ، میں گم سم حیرت کے سمندر میں ڈوبا سن رہا تھا اور اس حسن کے پیکر کے سامنے قوت گویائی جیسے جواب دی گئی تھی، اس مدھر آواز کا جادو تو پہلے سے ہی مجھے غلام کر چکا تھا اور اس جلوے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی کہ زبان گنگ سی ہو گئی۔
وصل کی ہوائیں چلنے لگیں اور الفتوں نے سارے جام انڈیل دئے، دھڑکنیں تھمنے لگیں ، دنیا و مافیا سے بیگانگی نے باہیں پھیلا دیں اور قربتوں کی گھٹائیں برسنے لگیں، سانسیں خوشبو سے معطر ہوگئیں ، مگر کیا ہوا؟ ہم کہاں ہیں ؟ حواس کو بحال کرکے دیکھا تو پاوں کے نیچے زمین نظر نہ آئی، نہ خواب تھا نہ خیال تھا، فضاؤں میں معلق کسی نئی دنیا کی آغوش میں محو سفر ۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔