Ultimate magazine theme for WordPress.

کیا آپ کے بچے کا رونا معمول کی بات ہے؟

40

کیا آپ کے بچے کا رونا معمول کی بات ہے؟

 crying baby

اگرچہ نومولود بچوں کا معمول کے مطابق رونا جسمانی نشوونما کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر جرمن ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بظاہر صحت مند بچے کا مسلسل چیخ چیخ کر رونا ’کولک‘ کے سبب ہوسکتا ہے ۔

والدین کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے رونے کا نہایت پرسکون انداز سے مشاہدہ کریں کہ کہیں وہ ’کولک‘  تو نہیں۔ کولک کی تین بنیادی علامات ہیں اور انہیں ’تین کا قانون‘  بھی کہا جاتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ تین ماہ سے کم عمر کا ہے، دن میں تین گھنٹے سے زیادہ روتا ہے، مسلسل تین ہفتوں تک ہر ہفتے کم از کم تین دن روتا رہتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ آپ کا بچہ ’کولک‘ ہے۔

جرمن ماہرین کے بقول ہر پانچواں نومولود پیدائش کے ابتدائی تین ہفتوں میں مسلسل روتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے محض پیٹ میں تکلیف ہورہی ہے۔

دارالحکومت برلن میں کام کرنے والی ماہر نفسیات پاؤلا ڈیڈیرش کے بقول پرتناؤ زچگی کے سبب بھی بعض خواتین کے بچوں تک تناؤ والے ہارمونز منتقل ہوسکتے ہیں یا پھر زچگی سے قبل کے پر تناؤ حالات مثال کے طور پر علیحدگی یا اسی قسم کے دوسرے مسائل بھی اس کا سبب ہوسکتے ہیں۔

جرمن شہر ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والی ماہر نفسیات زابینے یُلرک کہتی ہے کہ اگرچہ ایسے بچے جو کبھی کبھی روتے ہیں وہ بھی والدین کی پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں تاہم اس معاملے کی نوعیت اتنی سنگین نہیں۔ یُلرک گزشتہ آٹھ سال سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین جب روایتی طریقوں سے کولک بچے کدنیا بھر میں ہر پانچواں نومولود پیدائش کے ابتدائی تین ہفتوں میں مسلسل روتا ہےو خاموش کرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو انجانے میں وہ اپنا اندرونی تناؤ بھی بچے کو منتقل کردیتے ہیں جو معاملے کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔

جرمن شہر میونخ میں ماہر امراض اطفال مارگریٹ سیگلر بچوں میں تناؤ کی کیفیت کو کولک کا سبب قرار دیتی ہیں اور مشورہ دیتی ہیں کہ اگر والدین سے بچے نہ سنبھالے جائیں تو انہیں ماہرین سے رجوع کرنا چاہئے۔ سیگلر کہتی ہیں کہ ایسے بچوں کے والدین بچوں کو زور زور سے ہلانے جلانے سے باز رہیں۔ سیگلر کہتی ہیں کہ نومولود کی زندگی کے ابتدائی چند ہفتے ہر لحاظ سے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔

بات جب کولک بچپیشہ ور خواتین کو  بچوں کی دیکھ بھال میں زیادہ مشکلات وقت کی کمی کے باعث پیش آتی ہیںے کی زندگی میں سکون لانے کی ہوتی ہے تو جرمن ماہرین کہتے ہیں کہ ان کی کوشش رہتی ہے کہ والدین کو پرسکون کیا جائے، ان کے روزمرہ کے معمولات میں تفریح کے مواقع بڑھائے جائیں۔ اس کے ساتھ بچے کو گود میں رکھنے کے آرام دہ طریقے، مالش اور بچے کو دھیمی آواز میں گانے سنانے سے بھی اس کے تناؤ میں کمی ہوتی ہے۔

اس سارے عمل میں ایک بات کو دھیان میں رکھنے کی سختی سے تلقین کی جاتی ہے کہ کسی بھی صورت، ’جلدی نہ کی جائے‘۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو ڈی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.