بچوں کی دنیاتحقیقاتسائنس و ٹیکنالوجیصحت و تندرستینوجوان

بچوں کو بولنے میں مشکل

بچوں کو بولنے میں مشکل

سائنس و ٹیکنالوجی

ایک چوتھائی لڑکوں کو بولنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بات کا اندازہ یو گوو آن لائن سروے میں ایک ہزار پندرہ والدین کا انٹرویو کرنے پر معلوم ہوا کہ نصف بچوں کو کم عمری میں بولنے میں مسئلہ درپیش ہوتا ہے جس کے لیے ماہرین کی خدمات لی جاتی ہیں۔ یہ سروے برطانیہ کے پہلی ’کمیونیکشن مہم‘ کا حصہ تھا جس میں معلوم ہوا کہ کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو تین سال کی عمر تک پہنچنے تک ایک لفظ بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ سروے ٹیم کی مس جین گروس کا کہنا ہے کہ بچوں میں یہ مسئلہ بہت زیادہ ہے اور ان کی جلد مدد کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ کسی سے رابط کرنے کی صلاحیت بنیادی اہلیت اور اس میں دوسری چیزیں نیچے رہ جاتی ہیں۔ بول چال سیکھنا سب سے اہم مہارت ہے اور اکیسویں صدی میں بچوں کو اس میں مہارت حاصل کرنا ہو گی۔ ایسے بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے جو بولنے کے عمل کو سیکھنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اورخاص طور لڑکوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔یہ لازمی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے ایسے بچوں کو پیشہ وار ماہرین کی مدد فراہم کی جائے ۔ سروے میں شامل دس میں سے چھ لوگوں نے کہا کہ شروع کے سالوں میں بچوں میں بولنے کی صلاحیت، سننا اور چیزوں کو سمجھنا سب سے اہم مہارت ہے۔ سروے میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ تصویری کتابیں دیکھتے ہیں اور انھیں کہانیاں اور نرسری کے معیار کی نظمیں سنائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے زبان( بولنا) بہتر ہوتی ہے۔ سروے کے مطابق بچوں کی اکثریت جو اکیاون فیصد بنتی ہے چھ ماہ کی عمر سے پہلے اپنے والدین کے ساتھ تصویری کتابوں کو دیکھنے سے لطف اندوز نہیں ہوتے ہیں لیکن تین ماہ یا اس سے بڑی عمر کے اٹھارہ فیصد بچے ایسے عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سروے میں پچانوے فیصد والدین کو اپنے بچوں کا پہلا لفظ یاد تھا۔ پندرہ فیصد بچوں کا پہلا لفظ ڈاڈا، تیرہ فیصد ڈیڈی، دس فیصد ماما، آٹھ فیصد ممی کہتے ہیں۔اس کے علاوہ کیٹ دو فیصد اور ڈوگ ایک فیصد ادا کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بچوں کو ما کے مقابلے میں لفظ ڈا ادا کرنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے۔ سروے میں شامل والدین کے مطابق اوسطً دس سے گیارہ ماہ کی عمر میں جا کر بچے پہلا لفظ بولتے ہیں۔ ایسے بچوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے جو نو ماہ تک پہلا لفظ بولتی ہیں جبکہ چار فیصد بچے ایسے ہیں جو تین سال تک پہلا لفظ نہیں بولتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button