About the author

Related Articles

7 Comments

  1. 1

    arifkarim

    جدت پسندی تو ظاہر ہے انسانی فطرت کا نتیجہ ہے۔ اب کیا تمام انسان ۱۴۰۰ پرانے نظام میں اٹکے رہیں

  2. 2

    افتخار اجمل بھوپال

    زبردست تحریر ہے

    عارف کریم صاحب کا تبصرہ پڑھ کر خیال آیا ۔ جب انسان خالق کی بجائے مخلوق سے مسخر ہو جاتا ہے تو وہ ناپائیدار انسانی کاوش کو دوام بخشنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کی وخہ تاریخ سے ناواقفیت ہوتی ہے ۔ لکھی ہوئی تاریخ سے پہلے کے دور میں کسی نے سمندر مین ایک کلو میٹڑ سے زیادہ گہرانی می ایک منارہ بنا کر اس کے اندر خالص سونے کے خوسنما ہاتھوں مین کوارٹز کا 50 مل میٹر قطر کا کُرّہ رکھ کر اس پر ایک زنجیر لٹکا رکھی تھی ۔ یہ ایک معمل تھی ۔ ان تیں چیذوں کو سمندر کی تہہ سے باہر لا کر امریکہ کی بہترین معمل میں وہی چیز پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکامی ہوئی ۔

    چلئے یہ واقعہ تو بہت کم لوگوں کے علم میں ہے ۔ اہرامِ مصر تو سب جانتے ہیں ۔ ایک ہرم کو توڑ کر اس کا مطالعہ کیا گیا مگر پھر نہ بنایا جا سکا
    اور سنیں فرعون کے زمانے کی ہنوط شدہ لاش اب لندن کے عجائب مین ہے اور اب بھی اسی شکل میں ہے ۔ کیا آج کی سائنس ایسا مصالحہ تیار کر پائی ہے جو لاش کو محفوظ رکھے ؟

    آج کا انسان پھر بھی کہتا ہے کہ آج سے پہلے سائنس ترقی یافتہ نہ تھی اور سمجھتا ہے کہ اللہ کو نعوذ باللہ من ذالک معلوم نہ تھا کہ قڑاں نازل ہونے کے بعد کیا ہونے والا ہ

  3. 3

    افتخار اجمل بھوپال

    محمد الطاف گوہر صاحب
    کچھ الفاظ غلط ٹائپ ہو گئے ہیں ۔ از راہِ کرم انہیں درست کر دیجئے

    1. 3.1

      altafgohar

      جناب نشاندہی بھی کر دیں؛ جلد ہی درست کر دونگا

  4. 4

    arifkarim

    بھائی یہ بات غلط ہے کہ آج سے پہلے انسان سائنس کے میدان میں ماہر نہ تھے۔ پرانے وقتوں کی ایٹلانٹس اور راما تہذزیبیں یقینا ہم سے زیادہ زہین تھیں، مگر اب سب ناپید ہو چکی ہیں یہی حال ہمارا بھی ہوگا، چاہے جتنی مرضی نام نہاد ترقی کر لیں۔

  5. 5

    aniqa naz

    نہیں معلوم کہ پرانے وقتوں کو بہتر، پرانے انسان کو زیادہ ذہین، پرانی سلطنتوں کو زیادہ عظیم کہہ کر کس احساس ناقدری کی تشفی کی جاتی ہے۔ لیکن کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اہرام مصر آجکے انسان کی ضرورت نہیں۔ آجکے کمپیوٹر مشین کو اہرام مصر بنانے والے کے سامنے رکھ دیا جاءے تو وہ بھی اچنبھے میں پڑ جائے گا کہ یہ کیا بلا ہے۔ خردبین ایجاد کرنے والے نے جب پہلی دفعہ پانی کے قطرے کو عدسے کے نیچے رکھا تو وہ حیران رہ گیا کہ جس قطرے میں کچھ نہ تھا اسن میں عدسے کے نیچے تڑپتی ایک مخلوق نظر آئ۔ اگر آج دوربین کا موءجد ان جدید ترین دوربینوں کو دیکھے تو خود حیران رہ جائے گا یہ کیسے بنا لی گئ ہے۔
    اب سے چند سو سالوں پہلے تک بیماریوں کو آسیب سمجھا جاتا تھا اور سورج اور چاند گرہن کو خدا کے قہر کی علامت۔ اسی طرح ستاروں کا ٹوٹنا اسے بھی کسی آنیوالےخطرے کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ دور کیوں جائیں ہیضے کی وجہ سے یوروپ کی ایک بڑی آبادی ختم ہو گئ تھی۔ کولمبس امریکہ پہنچ کر یہ سمجھے کہ یہ انڈیا ہے۔ دنیا بھر میں انسان کی اوسط عمر تیس چالیس سال کے قریب ہوتی تھی۔ٹی بی ایک لاعلاج مرض سمجھا جاتا تھا۔
    ہر زمانے کے اپنے انداز اور مسائل ہوتے ہیں جنہیں اس زمانے میں رہتے ہوئے اور اس میں میسر وسائل سے حل کیا جتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ موسی کو تو ایک عصا عظا کر دیا جاتا ہے جو وقت ضرورت اژدحا بن جاتا تھا، عیسی کو قم کے لفظ سے مردوں کو زندہ کرنے کی طاقت دی گئ اور محمد صلی اللہ وسلم کو ایک کتاب۔
    اس میں بڑی حکمت ہے اور آنیوالے انسانوں کے لئے بڑا فخر کہ بالآخر خالق کائنات نے انہیں اس کائنات کے علم آشکار کرنے کے مرتبے پہ پہنچا دیا ہے۔ یہ الگ بات کہ اللہ نے اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئ شرط نہیں رکھی اور اسکی ذات جل جلالہ کو یہی بات زیب دیتی ہے۔ خدا ہمیں علم کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق دے۔

    1. 5.1

      altafgohar

      ماشاءاللہ

Leave a Reply

2020 Powered By Urdusky Urdusky Network