URDUSKY || NETWORK

امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ نے روسی صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کردیں

یوکرائن پر حملے کی وجہ سے برطانیہ اور یورپی یونین کے بعد اب امریکا نے بھی روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پر پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔ ماسکو نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

50

مغربی ملکوں کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے خلاف پابندیوں کے اعلانات کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا کہ ان پابندیوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مغربی ملکوں کی خارجہ پالیسی کس قدر کمزور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے مغرب کے ساتھ روس کے تعلقات اب تقریباً "ناقابل واپسی” کے مقام تک پہنچ گئے ہیں.

امریکا کا اعلان

امریکا نے جمعے کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ امریکا کی جانب سے کسی سربراہ مملکت پر پابندیوں کا یہ غیر معمولی اقدام ہے جس کا مقصد یوکرائن پر حملے کو روکنے کے لیے ماسکو پر دباؤ بڑھانا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا،”صدر پوٹن اور وزیر خارجہ لاوروف ایک جمہوری اور خود مختار ریاست یوکرائن پر روس کے بلااشتعال اور غیرقانونی حملو ں کے لیے براہ راست ذمہ دار ہیں۔”  بیان میں مزید کہا گیا ہے،” کسی سربراہ مملکت کے خلاف یہ پابندیاں انتہائی غیر معمولی ہیں اور پوٹن کا نام ایک ایسی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے جس میں شمالی کوریا، شام اور بیلا روس کے رہنما شامل ہیں۔ ان کے خلاف مزید کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔ ”

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے جمعے کو یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیئر لائن سے فون پر بات کرنے کے بعد پوٹن، لاوروف اور دیگر حکام پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں پر سفری پابندیاں ان پابندیوں کا حصہ ہوگا۔

حالات حاضرہ

امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ نے روسی صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کردیں

یوکرائن پر حملے کی وجہ سے برطانیہ اور یورپی یونین کے بعد اب امریکا نے بھی روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پر پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔ ماسکو نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

 

مغربی ملکوں کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے خلاف پابندیوں کے اعلانات کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا کہ ان پابندیوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مغربی ملکوں کی خارجہ پالیسی کس قدر کمزور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے مغرب کے ساتھ روس کے تعلقات اب تقریباً "ناقابل واپسی” کے مقام تک پہنچ گئے ہیں۔

جین ساکی نے بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے یورپی کمیشن کی صدر سے بات کرنے کے بعد پوٹن اور لاوروف پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا

امریکا کا اعلان

امریکا نے جمعے کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ امریکا کی جانب سے کسی سربراہ مملکت پر پابندیوں کا یہ غیر معمولی اقدام ہے جس کا مقصد یوکرائن پر حملے کو روکنے کے لیے ماسکو پر دباؤ بڑھانا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا،”صدر پوٹن اور وزیر خارجہ لاوروف ایک جمہوری اور خود مختار ریاست یوکرائن پر روس کے بلااشتعال اور غیرقانونی حملو ں کے لیے براہ راست ذمہ دار ہیں۔”  بیان میں مزید کہا گیا ہے،” کسی سربراہ مملکت کے خلاف یہ پابندیاں انتہائی غیر معمولی ہیں اور پوٹن کا نام ایک ایسی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے جس میں شمالی کوریا، شام اور بیلا روس کے رہنما شامل ہیں۔ ان کے خلاف مزید کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔ ”

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے جمعے کو یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیئر لائن سے فون پر بات کرنے کے بعد پوٹن، لاوروف اور دیگر حکام پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں پر سفری پابندیاں ان پابندیوں کا حصہ ہوگا۔

یورپی یونین کا اعلان

یورپی یونین نے بھی روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پر پابندیاں عائد کرنے کا جمعے کے روز اعلان کردیا۔

یورپی یونین خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،” صدر پوٹن اور وزیر خارجہ لاوروف بھی روسی پارلیمان(ڈوما) کے ان دیگر اراکین کے ساتھ پابندیاں عائد کیے جانے والے افراد کی فہرست میں شامل ہیں جو یوکرائن پر جارحیت کی حمایت کررہے ہیں۔”

انہوں نے کہا، "میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یورپی یونین نے دنیا کے جن رہنماؤں پر پا بندیاں عائد کررکھی ہیں ان میں شام کے بشارالاسد، بیلاروس کے لوکاشنیکواور اب روس کے پوٹن ہیں۔”

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئر بوک کا کہنا تھا کہ یہ دونوں روسی رہنما یوکرائن میں لوگوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔

بوریل نے کہا کہ روس کے خلاف تیسرے دور کی پابندیاں فی الحال ناگزیر نہیں ہیں تاہم اگر ضرورت محسوس کی گئی تو ایسا کیا جاسکتا ہے۔

یورپی یونین نے پوٹن اور لاوروف پر سفری پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔ آسٹریا کے وزیر خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا، "چونکہ ہم یوکرائن میں تشدد کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے امکانات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اس لیے ان دونوں رہنماؤں کے خلاف سفری پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہیں۔”

برطانوی وزیر اعظم کا بیان

یوکرائن کے خلاف روس کی فوجی کارروائی میں مسلسل اضافہ کے پس منظر میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے شمالی یورپ کے اپنے متعدد اتحادیوں کے ساتھ جمعے کے روز فون پر بات کی۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق یہ رہنما "پوٹن کے قریبی ساتھیوں” کو نشانہ بنانے کے لیے مزید پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت سے متفق تھے۔

برطانیہ نے اپنے ملک میں پوٹن اور لاوروف کے تمام اثاثوں کو منجمد کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ یورپی یونین، امریکا اور کئی دیگر ملکوں نے پہلے ہی روس کے خلاف متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

ج ا/ب ج (اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز)

بشکریہ : ڈی ڈبلیو