صحت و تندرستیمنظر نامہ

’کافی اور سیکس سے فالج کا خطرہ‘

coffee 

کافی دیگر ’رسک فیکٹرز‘ کے مقابلے میں سب سے عام ہے۔

ہالینڈ میں محققین کا کہنا ہے زیادہ کافی پینے، سیکس اور ناک صاف کرنے سے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈھائی سو مریضوں پر کی جانے والی اس تحقیق میں دماغ سے خون جاری ہونے کے آٹھ ’رسک فیکٹرز‘ کی نشاندہی ہوئی ہے۔

سٹروک نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ تمام چیزیں یا عوامل خون کے دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خون کے خلیے پھٹ سکتے ہیں۔

سٹروک ایسوسی ایشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق ضروری ہے۔

برطانیہ میں ہر برس ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے انتیس ہزار کے اس سے متاثر ہونے کی وجہ دماغ سے خون کا اخراج ہوتا ہے۔

خون کے خلیے پھٹنے کی وجہ

  • کافی ، دس اعشاریہ چھ فیصد
  • زیادہ جسمانی ورزش، سات اعشاریہ نو فیصد
  • ناک صاف کرنا، پانچ اعشاریہ چار فیصد
  • سیکس، چار اعشاریہ تین فیصد
  • ذہنی دباؤ، تین اعشاریہ چھ فیصد
  • کولا ڈرنکس، تین اعشاریہ پانچ فیصد
  • غصہ آنا، ایک اعشاریہ تین فیصد

خون کے اس اخراج کی وجہ خون کے کمزور خلیے ہوتے ہیں جن کے پھٹنے کی وجہ سے نہ صرف دماغ کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

اترخت کے یونیورسٹی میڈیکل سنٹر میں محققین نے تین سال تک ڈھائی سو مریضوں پر یہ جاننے کے لیے نظر رکھی کہ خلیے پھٹنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق سے پتہ چلا کہ کافی ہر دس میں سے ایک شخص میں دماغ کے خلیے متاثر ہونے کی وجہ بنی۔ محققین کے مطابق اگرچہ کافی پینے سے خطرہ دوگنا ہی ہوتا ہے لیکن یہ دیگر ’رسک فیکٹرز‘ کے مقابلے میں سب سے عام ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر مونیق ولیک کا کہنا ہے کہ ’فالج کی وجہ بننے والے یہ تمام عوامل فشاِر خون میں اچانک اور تیزی سے اضافے کا سبب بنتے ہیں جو کہ خلیے پھٹنے کی عام اور ممکنہ وجہ ہے‘۔

تاہم اس تحقیق میں صرف خلیے پھٹنے کی فوری وجہ بننے والے عوامل کا ذکر ہے لیکن ان خلیوں کو کمزور کرنے کی وجہ بلند فشارِ خون ہے جو کہ فربہ ہونے، سگریٹ نوشی اور جسمانی ورزش کی کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

سٹروک ایسوسی ایشن کی ریسرچ افسر ڈاکٹر شارلین احمد کا کہنا ہے کہ ’فشارِ خون میں اچانک اضافہ فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے لیکن یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس تحقیق میں جن عوامل کا تذکرہ ہے وہ حتمی طور پر ہی فالج کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں اور یا یہ صرف ایک اتفاق ہے‘۔

ان کے مطابق ’اس سلسلے میں مزید تحقیق کی جانی چاہیے کہ یہ عوامل براہِ راست خون کے خلیوں کے پھٹنے کی وجہ ہیں یا نہیں‘۔

BBCبشکریہ

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button