Ultimate magazine theme for WordPress.

سلمان اور اکشےکی فلمز

16

No one calls Salman or Akshay’s movies male-centric films

Sonakshi Sinha is done with sexism in Bollywood.

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سوناکشی سنہا کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ‘میں ایک ایسی اداکارہ بننا چاہتی ہوں جسے فلم ساز کسی بھی قسم کی فلم میں کاسٹ کرسکیں اور یہی میں کرتی آرہی ہوں، اس ہی لئے مجھے اپنا کام دلچسپ لگتا ہے اور میں اس سے محبت کرتی ہوں’۔

آرہی ہوں، اس ہی لئے مجھے اپنا کام دلچسپ لگتا ہے اور میں اس سے محبت کرتی ہوں’۔

سوناکشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت بولی وڈ میں ایک اداکارہ ہونا کسی بڑے مواقع سے کم نہیں کیوں کہ اداکاراؤں کے لیے کافی شاندار اسکرپٹ تحریر کیے جارہے ہیں۔

البتہ سوناکشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بولی وڈ میں جو افراد عورتوں سے نفرت کرتے ہیں اب ان کی سوچ تبدیل ہونی چاہیے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ‘مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اگر کسی فلم میں سب سے اہم کردار ایک عورت کا ہو تو پھر اسے خواتین پر مبنی فلم کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ کیا جب اکشے کمار اور سلمان خان کوئی فلم کرتے ہیں تو اسے بھی مردوں پر مبنی فلم قرار دیا جاتا ہے؟ فلم صرف فلم ہوتی ہے، ہمیں ان کو دوسرا نام دینا بند کردینا چاہیے؟ برابری بہت ضروری ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘مرد اداکاروں کو بھی ایسی فلموں میں معاون کردار نبھانے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جن میں سب سے اہم کردار کسی اداکارہ کا ہو، ہندی سینما میں ایسی مثبت سوچ کی بےحد ضرورت ہے’۔

سوناکشی اس وقت اپنی فلم ‘خاندانی شفاخانے’ کی تشہیر میں مصروف ہیں، فلم 2 اگست کو سینما گھروں میں ریلیز ہورہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.