فن و فنکارمنظر نامہ

زالسبرگ فیسٹیول اور قذافی: سوئس دانشور کا خطاب منسوخ

زالسبرگ فیسٹیول اور قذافی: سوئس دانشور کا خطاب منسوخ  

آسٹریا کے صوبے زالسبرگ میں ہر سال ہونے والے مشہور زمانہ ثقافتی میلے کے شرکاء سے سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے دانشور ژاں سیگلر کا امسالہ خطاب ان کے لیبیا کے رہنماؤں سے قریبی روابط کی بنا پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

 

ویانا سے آمدہ رپورٹوں میں جرمن خبر ایجنسی ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ زالسبرگ کی صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے تصدیق کر دی ہے کہ اس سال کے زالسبرگ کلچرل فیسٹیول سے ژاں سیگلر کا خطاب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ان الزامات کے بعد کہ سیگلر کے لیبیا کے رہنما معمر قذافی اور وہاں کے حکمران طبقے کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اس خطاب کی منسوخی کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ جولائی میں شروع ہونے والے اس میلے سے سیگلر کے خطاب پر ممکنہ طور پر لیبیا اور قذافی دونوں چھائے رہتے۔ژاں سیگلر ایک سوئس ماہر سماجیات ہیں

ژاں سیگلر ایک سوئس ماہر سماجیات ہیں، جن کی شہرت کی ایک بڑی وجہ نہ صرف عالمی سطح پر بھوک کے موضوع پر ان کی تحریریں ہیں بلکہ ان کی وہ خدمات بھی، جو انہوں نے عام انسانوں کے خوراک سے متعلق بنیادی حق کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نامہ نگار کے طور پر انجام دیں۔

زالسبرگ فیسٹیول کے حوالے سے آسٹریا کے متعلقہ وفاقی صوبے کی حکومت کے دعووں کے برعکس خود سیگلر نے آسٹرین نشریاتی ادارے او آر ایف کے ساتھ ایک انٹرویو  میں کہا کہ حقیقت میں ان کی تقریر زالسبرگ فیسٹیول کے لیے تعاون کرنے والے ان سوئس اداروں کی طرف سے اعتراضات کے بعد منسوخ کی گئی ہے، جن میں اشیائے خوراک تیار کرنے والے گروپ نیسلے اور کریڈٹ سوئس نامی بینک کے نام بھی شامل ہیں۔

ژاں سیگلر ماضی میں نیسلے اور کئی سوئس بینکوں پر شدید تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔ اسی دوران اس سوئس دانشور نے امریکی یہودیوں کی کمیٹی کے ان الزامات کو رد کر دیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایک ایسی تنظیم کی طرف سے دیا گیا انسانی حقوق کا ایک انعام وصول کیا تھا، جو معمر قذافی کی قائم کردہ ہے۔ تاہم سیگلر نے ماضی میں یہ اعتراف ضرور کیا کہ لیبیا کے رہنما کی طرف سے سن 1989 میں قائم کیے جانے والے اس انعام کے اجراء کی انہوں نے بھی حمایت کی تھی۔

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button