فن و فنکارمنظر نامہ

بھارتی فلم ساز کے لیے فیس بک کا کامیاب سہارا

بھارتی فلم ساز کے لیے فیس بک کا کامیاب سہارا

انٹرنیٹ پر سماجی رابطے کی جدید شکل، فیس بُک کی مدد سے ایک بھارتی فلم ساز نےکثیر رقم جمع کرکے معاشرے میں پائی جانے والی ہم جنس پرستی کے حساس پہلو پر فلم مکمل کر لی ہے۔

 

اونیر نامی فلم ساز کی یہ فلم پولیس کے ہاتھوں ہم جنس پرستوں کے استحصال، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جسے امدادی طور پر سپرم دینے والے کی تلاش ہے۔ چونکہ یہ موضوع محبت کی روایتی بھارتی کہانیوں کے مقابلے میں زیادہ ’خشک‘، حساس اور غیر شائستہ ہے اسی لیے بہت سے سٹوڈیو مالکان اونیر کی معاونت پر تیار نہیں تھے۔ ایسے میں اونیر نے فیس بک  کا سہارا لیا، لوگوں سے امداد کی اپیل کی اور جواب میں چار سو افراد نے انہیں لگ بھگ سات لاکھ امریکی ڈالر کے برابر کی رقم جمع کرنے میں مدد دی۔ اونیر کی اس فلم کا نام، I Am ہے جو رواں ہفتے جمعہ کو ریلیز کی جارہی ہے۔

روایتی طور پر بالی ووڈ میں ڈانس اور گانوں سے سجی جذباتی و رومانی نوعیت کی فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں البتہ فلم سازوں کا ایک نیا ٹولہ دیکھا جا رہا ہے جو زندگی کے تلخ حقائق کو حقیقت کے قریب تر کا روپ دے کر سینما کے پردے پر پیش کر رہا ہے۔ اونیر انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کی ایک سابقہ فلم، My Brother Nikhil ایسے نوجوان کے بارے میں تھی جسے ایڈز لاحق ہے اور معاشرہ اسے دھتکار چکا ہے۔

ناقدین کی رائے کے مطابق ایسے موضوعات کے بارے میں بالی ووڈ قدرے قدامت پسند فلمی صنعت ہے جہاں نئے اداکاروں کو لے کر اس قسم کی تجرباتی فلمیں شاذ و نادر ہی بنتی ہیں۔بھارت میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے نکالی گئی ایک ریلی

فیس بک پر اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے اونیر کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی بے بسی فیس بُک کے ذریعے عام کی تو لوگوں نے ان تک رسائی حاصل کرکے پوچھا کہ آخر وہ کیسے ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ ’’ میں نے ان سے کہا کہ وہ خود یا دوسروں کو اس بات کی ترغیب دیں کہ میری مالی مدد کی جائے۔‘‘ اونیر کا کہنا ہے کہ سب سے کم امدادی رقم ایک ہزار بھارتی روپے کی شکل میں تھی۔ ان کے مطابق ایک لاکھ روپے یا اس سے زائد کی رقم دینے والے 55 امداد دہندگان کا نام معاون فلم سازوں کے طور پر لیا جائے گا اور انہیں فلم سے حاصل شدہ منافع میں بھی حصہ ملے گا۔

اونیر کو امداد دینے والے بھارت تک محدود نہیں تھے بلکہ امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ملکوں سے بھی انہیں رقم ملی۔ امریکی ماہر نفسیات سارہ لوپر سین گپتا اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تنظیم ہم سفر ٹرسٹ ان کے دو سر فہرست مالی معاون رہے۔ اونیر بتاتے ہیں، ’’ کچھ لوگوں کو فلم کا موضوع اچھا لگا، کچھ فلم سازی کا ہنر جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے جبکہ بعض تو محض اینڈ کریڈٹس میں اپنا نام دیکھنا چاہتے تھے۔‘‘

اونیر کا کہنا ہے کہ ہمت کرکے انہوں نے فلم تو بنا ڈالی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام اسے کتنا پسند کرتے ہیں۔

DWD

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button