تبصرےمنظر نامہ

آہ !جلتاکراچی اور سسکتے بلکتے لوگ……..

آہ !جلتاکراچی اور سسکتے بلکتے لوگ……..

محمداعظم عظیم اعظم
سندہ کی صوبائی اور وفاقی حکومت اِس نقطے پر متفق نظر آتی ہیں کہ کراچی میں بڑھتی ہوئی قتل وغارت گری کی کارروائیوں کی روک تھام کے لئے شہرکراچی میں سرجیکل آپریشن کی فوری ضرورت ہے اور اِس کام کے لئے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ جلد ہی باقاعدہ طور پر اِسے عمل جامہ پہنانے کے لئے کراچی کے شورش زدہ علاقوں میںکرفیولگا کرٹارگٹ کلنگ میں ملوث جراتم پیشہ افراد اور ناجائز اسلحہ کی بازیابی کے لئے گھر گھر تلاشی لی جائی گی اگرچہ یہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا ایک اچھا اقدام ضرور کہاجاسکتاہے مگر کیاہی اچھاہوتاکہ حکمران یہ اچھا عمل بہت پہلے کرلیتے تواِس قدر ہلاکتوں سے میراشہر کراچی محفوظ رہتا جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری ٹارگٹ کلنگ کی زدمیں آتے رہے ہیں جس کاموازنہ کرتے ہوئے ”گلف نیوز“نے لکھاہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعدارواں سال پاکستان بھر میں خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد سے کہیں زیادہ ہے اخبار نے مزیدلکھاہے کہ رواں سال پاکستان میں335ٍٍٍٍٍٍٍٍٍخودکش دھماکوں کے واقعات میں1208افرادجان بحق ہوچکے ہیں جبکہ صرف کراچی میں اسی عرصے میں 1233افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایاگیاہے میں یہاں پر حکومتِ وقت سے صرف اتناکہناچاہوں گا کہ اگر حکومت نے واقعی شہرِکراچی کو جرائم پیشہ دہشت گردوں اور ناجائزہ اسلحہ مافیایہ سے پاک ہی کرنا ہے تو یہ ساراکام پاک فوج کی نگرانی میں کرائے تو اِس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے ورنہ حکومت نے اگر پولیس اور رینجرز کے حوالے یہ کام سونپاتو ممکن ہے کہ سیاسی جانبداری برتی جائے اور نتائج اتنے اچھے سامنے نہ آسکیں جن کی اُمید کی جارہی ہے۔
منگل19 اکتوبرکی صبح سے شام تک شہر کراچی میں کھیلی جانے والی آگ و خون کی ہولی کی نظر ہونے والے نہتے اور معصوم انسانوں کی ہلاکتوں کی تعداد 32تک پہنچ چکی تھی اِن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جواِسی روز شام کے وقت شیر شاہ کی کباڑ مارکیٹ میںپیش آنے والے سانحہ میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے اگر چہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کا امن و سکون ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور عالمی سازش کے تحت تباہ اور برباد کیاجارہاہے مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے حکمران یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیارکیوں کئے ہوئے ہیں …..؟؟وہ کراچی میں قتل و غارت گری کے گرم ہوتے بازار کو ٹھنڈاکرنے کے لئے کیوں سنجیدہ نہیںہیں اور کوئی ایسا سخت قدم کیوں نہیں اٹھارہے ہیں کہ جس سے شہر کراچی کا امن بحال ہوسکے اور یہاں کی رونقیں دوبالا ہوجائیں ۔
مسلماں کا مُسلماں خوں بہائے  یہ دینِ حق کی تربیت نہیں ہے
کتابِ دیں وفاکی ہے پیامی  کتابِ دیں میں عصبیت نہیں ہے
اِس شعر کے معنی اور مفہوم کو ہم سب اچھی طرح سے سمجھتے ہوئے بھی مگر معلوم نہیں کیوں اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی مسلمان بھائی کا خونِ ناحق بہانے میںآج فخر محسوس کررہے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں کسی کے گھر کا چراغ گُل کر کے ہم ا پنے سینے پر کونساکاتمغہ لگارہے ہیں یہ تو ہمیں خود بھی نہیں معلوم کہ ہم ایساکیوں کررہے ہیں بس کسی کو مار نااور اذیتیں دینا اَب ہمارا مشغلہ بن گیاہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں رتی برابر بھی کمی کا احساس نہیں ہوپایاہے جوں جوں وقت گزرتاجارہاہے اِس میں مزیدشدت آتی جارہی ہے اِن سطور کے رقم کرنے تک اور خبروں کے مطابق کراچی میں جاری حالیہ قتل و غارت گری اور پُرتشدت کارروائیوںکے دوران90سے زائد نہتے اور بے گناہ معصوم انسانوں کی ہلاکت عمل میں آچکی ہے اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کے اطلاعات اور واقعات سمیت نجی اور سرکاری املاک کو جلاو ¿ اور گھیراو ¿کے سبب کروڑوںروپے کے ہونے والے نقصانات سے نہ صرف کراچی میں بسنے والا ہر فرد غمگین ہے بلکہ اِن سانحات پر پوراپاکستان افسردہ ہے اور یہ کہنے اور سوچنے پر مجبور ہے کہ کیاشہرکراچی میںحکومت اور قانون نام کی کوئی چیزنہیں ..!!!جو اِن درندوں کو لگام دے سکے، جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے سبب شہرکراچی کے معصوم انسانوں کو بے دردی سے گولیوں کا نشان بناکر اِنہیں موت کی نیدسُلاکر قبر کی آغوش میں دے رہے ہیںاور کراچی کے محب وطن شہریوں کے خونِ مقدس سے سرزمینِ پاک کے زرے زرے کو رنگ رہے ہیں ۔
جبکہ اِس سے بھی شائد کسی کوانکار ممکن نہ ہوکہ اِس ساری صُورت حال پر ہمارے حکمران اپنی اپنی سیاسی مصالحتوں کا شکار ہیں اوراِسی وجہ سے شہرکراچی کی گلی کوچوں بازاروں اور چھوٹی بڑی شاہراہوں پر قاتل اپناسینہ چوڑاکئے دندناتے پھررہے ہیں اور اِنہیں پکڑنے اور سزادینے والا کوئی نہیںہے اور ہمارے حکمران دانستہ طور پر اِن ٹارگٹ کلنگ کرنے والے عناصر کے آگے بے بس اور مجبور ہوکر اپناسرکھجاتے اور سینہ کوبی کرنے کے سوااور کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔
جبکہ ہوناتویہ چاہئے تھا کہ حکمران سب سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے شہرکراچی کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صُورتِ حال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے اور پاکستان کے اِس بڑے صنعتی اور تجارتی مرکزکراچی میں بڑھتی ہوئی قتل وغارت گری کو قابوکرنے اور اِسے ختم کرنے کے لئے اقدامات کرتے تو ممکن ہے کہ آج حالات اتنے بُرے تو نہ ہوتے جتنے اِن دنوں ہوچکے ہیں۔
یہ یقیناہمارے حکمرانوں کی بے حسی اور لاپرواہی توہے کہ جس کی وجہ سے آہ !آج ایک بار پھر میرااور ہم سب کا جلتابلکتااور سسکتاکراچی اپنے باسیوں کے سامنے ہاتھ جوڑے فریادکررہاہے کہ خدارا اپنے آپ کو پہچانوتمہیں کیاہوگیاہے…..؟؟ کیونکہ تم کسی کا آلہ ¿ کار بن کراپنے مسلمان بھائیوں کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہو……؟؟کیاتمہیں اِس کاکوئی احساس نہیں کہ تم آپسمیں اِس طرح سے لڑ جھگڑ کراور ایک دوسرے کا گلاکاٹ کرناحق خون بہاکر اپنی ہی قوت کاشیرازہ بکھیررہے ہو……؟؟اور دشمن کو اِسے بغیر کچھ کئے اِس کے اپنے عزائم کی تکمیل میں تقویت دے رہے ہو……؟؟؟
یادرکھوکہ اگر تم نے اَب بھی اپنی بندآنکھیںنہ کھولیںتو ایک وقت ایسابھی جلد آن پہنچے گا کہ جب تم محلوں،گلی کوچوںاور ٹولیوں میںبٹ کررہ جاو ¿ گے اورتمہارادشمن اِس کا فائدہ اٹھاکر تم پر ٹوٹ پڑے گااور تمہاری ہوااُکھڑ جائی گی اور تم سب کو ایک ایک کرکے مار ڈالے گا اور تم اِس کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے….. قبل اِس کے کہ کوئی ایسا بُراوقت آجائے تم سب اہلِ کراچی کوباہم متحداور منظم ہوکراپنے دشمن کا مقابلہ کرناہوگا اورہاں !اُس دشمن کا جو تاک لگائے بیٹھاہے اور تم کو آپسمیں لڑواکر اپنے عزائم کی تکمیل کے خواب دیکھ رہاہے ۔اور اُس ہی کراچی کے دُشمن نے کراچی کا امن اور سکون تباہ کرنے کے لئے تم سب کو آپسمیں دست گریبان کررکھاہے ۔
اورکراچی کے دن بدن ابتر ہوتے حالات اور بگڑتی ہوئی صُورت حال نے کراچی کی رونقیں ماندکردی ہیں ڈھیڑکروڑ سے بھی زائد آبادی والے اِس شہر کراچی کو جِسے منی پاکستان کہاجاتاہے اور جو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے بھی بین الاقوامی حیثیت کا حامل شہر ہے پاکستان کا معاشی حب ہے اِس شہر کا امن ملک کے مجموعی امن و امان سے تعبیر کیاجاتاہے اور جب یہاں کی امن و امان کی صُورت حال کو ملک دشمن عناصر اپنی گھناو ¿نی کاررواﺅں سے نقصان پہنچاتے ہیں تو اِس سے پوراپاکستان متاثر ہوجاتاہے اِس شہر کی ایک دن کی بندش سے ملک کو اربوں کھربوں کا نقصان ہوتاہے۔یہاں مجھے کہنے دیجئے کہ بدقسمتی سے اِس شہر ِعظیم کے امن و امان کو ملک دشمن عناصر سپوتازتوکرہی رہے ہیں مگر اِن کی پست پناہی کے سبب ہمارے چندناسمجھ لوگ بھی شہرکراچی کے امن اور سکون کو خراب کرنے کے درپے ہیں یہ وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ناانصافی کا شکار ہوئے ہوں گے
….؟؟یاکراچی کا امن اور سکون برباد کرنے میں وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے آنکھ ہی جرائم اور کرائم کی گود میں کھولی ہے ……؟؟ یا پھر ممکن ہے کہ پاکستان کے مرکزی صنعتی و تجاتی شہر کراچی کو کھندربنانے اور اِس کی عالمی حیثیت کو تباہ اور بربادکرنے والے وہ لوگ ہوں جو اِس شہرپر زبردستی اپناقبضہ جمانے اور اِس پر اپنا حق جتنانے میں سیاسی اور اخلاقی طور پر بُری طرح سے ناکامی محسوس کررہے ہوں اور اِن میں شدید نوعیت کی احساس محرومی اور کمتری پیداہوگئی ہوجس کی وجہ سے یہ لوگ اپنی جارحانہ کارروائیوں سے اِس شہر میں قتل وغارت گری کرکے شہر کا امن اور سکون تباہ کرناچاہ رہے ہیں۔


محمداعظم عظیم اعظم[email protected]

Related Articles

جواب دیں

Back to top button