URDUSKY || NETWORK

کیاسیاستدان ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کو سمجھ گئے ہیں..؟

130

سیاستدان طیش میں نہ آئیں……؟؟حقیقت کا ادراک کریں !!….
جب قومیں جمہوریت سے مایوس ہوجائیں……؟؟؟؟

تحریر: محمداعظم عظیم اعظم
یہ حقیقت ہے کہ جب قومیں ایسی جمہوریت سے مایوس ہوجائیں جس سے متعلق شاعربشیر فاروق کہتے ہیں کہ:-
سلطانی جمہور کا آیا ہے زمانہ جو کار نظر آئے نئی اُس کو چُرا لو
ٹوکے کوئی شخص اگر راہزنی سے اُس شخص کو پستول کی گولی سے اُڑا دو
توایسے میں کوئی خواہ کتنا ہی بڑا جمہوریت کا علمبردار کیوں نہ ہووہ بھی زبان سے نہیں تو دل میں ضرور ایسی جمہوریت کو کوس رہا ہوتاہے جس میں قانون اور ضابطوں کی دھجیاں بکھیری جارہی ہوتی ہیں اور وہی کچھ اِس جمہوریت میں ہورہاہوتاہے جس کی جانب شاعر نے مندرجہ بالا سطور میں اپنے شعر میں ایک معاشرتی بُرائی کا تذکرہ کیا ہے تو ایسے میں یقیناً ہر شخص یہ چاہت اہے کہ ایسی جمہوریت سے جان چھوٹے اور جرنیل ہی ملک پر مسلط ہوجائے جو ایسے جمہوریت پسندوں کو اپنے طریقے سے چلائے جیسے ہمارے ملک میں سابقہ چار جرنیلوں نے اپنے اپنے طورطریقوں سے اپنی حکمرانی کی اور پھر جیسے تیسے چلے بھی گئے یہ اور بات ہے کہ ملک میں آنے والے گزشتہ چار جرنیلوںکی طرزِ حکمرانی سے ملک کو کن نقصانات کا سامناکرناپڑا وہ ایک الگ مسلہ ہے یہاں مجھے اِس بحث میں جانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں بلکہ اِس موقع پر میں یہ بتاناضروری سمجھتاہوں کہ جب جب ہمارے یہاں کرپٹ سیاستدانوں،جاگیرداروں اور لُٹیروں نے جمہور ی حکومت کے سہانے خوابوں کے سہارے جمہوریت کی دیوی کی آڑ میں اِس کا دامن او ر پلّو تھامے عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنی چاہی اور عوام کے حقوق کھلم کھلا غضب کرکے یہ جمہوری حکومتیں عوامی توقعات پر پوری نہیں اتریں توتب کسی نہ کسی جرنیل نے ملک میں مارشل لا جیسے اقدام کرکے جمہوری حکومت کا دھنرن تختہ کردیا اور ملک پر قابض ہوگیااور آج بھی ملک میں قائم جمہوری حکومت کے اقدامات کچھ ایسے بھی تسلی بخش نہیں کہ عوام اِس جمہوری حکومت کے حکمرانو!سیاستدانو اور اِس کے کرتادھرتاوں سے مطمئن ہے۔میں یہاں یہ بھی واضح کرتاچلوں کہ میراتعلق نہ تو کسی سیاسی ومذہبی جماعت سے ہے اور نہ ہی کسی گروہ سے میںصرف ایک محب وطن پاکستانی ہوں اور ہر ملکی معاملے پر پاکستانی بن کر سوچتااور لکھتا ہوں اور میںایک ایسا پاکستانی ہوںجس کو اپنی افواج پر فخر ہے اُس افواج پر جس نے ہر مشکل وقت میں ملک کی حفاظت اور اِس کی ترقی اور خوشخالی اور اپنے عوام کی بقاوسا لمیت کے لئے ہر وہ قدم اٹھایاہے جس کو اِس نے بہتر جانااور سمجھایہ اور بات ہے کہ فوج کو اپنے ہر اچھے اقدام کے پیچھے سیاستدانوں کی جانب سے ہر دور میں تنقیدوں کا سامناکرناپڑا ہے مگر اِس کے باوجود بھی آج یہ حقیقت ہے کہ ملک کے عوام آج بھی اِس مشکل گھڑی میں فوج کی جانب ہی دیکھ رہے ہیں اور یہ اَب تک فوج کے کردار سے خوش ہیں اور اُمید رکھتے ہیں کہ فوج عوام کو ملک کی موجودہ درپیش گھمبیرسیاسی ،مذہبی و سماجی اور سیلاب جیسی خطرناک صورت حال سے نکالنے میں بھی اپنا کردار اداکرے گی ۔
اَب اگر ایسے میں گزشتہ دنوںملک کے محب وطن نوجوان لیڈر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لال قلعہ گراونڈ عزیزآباد کراچی میں ایم کیو ایم کے جنرل ورکر اجلاس میں ٹیلیفون پر خطاب کے دوران ملک اور عوام کو درپیش جن اہم مسائل کا برملا اظہار کیا ہے میں اِن نکات کو یہاں بیان کرتے ہوئے آگے بڑھوں گا تاکہ وہ بات واضح ہوسکے جو میں مندرجہ ذیل سطور میں اپنے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور عوام سے کہنااور اِنہیں سمجھاناچاہتاہوں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہاکہ آج پورے ملک کے محب وطن عوام کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ گزشتہ 63برسوں کے دوران غریب متوسط طبقے کے ایماندار لوگوں کو حق حکمرانی نہیں دیاگیااور بڑے بڑے جاگیرداراور وڈیرے میوزیکل چیئر کے کھیل کی طرح اقتدار پر براجمان ہوتے رہے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹاجاتا رہااور ہمارے ارباب اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ یہ سب کچھ دیکھتی رہی ہے اور اِس کے ساتھ ہی الطاف حسین نے کہاکہ جب 2005میں تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا اُس وقت ہیلی کاپٹرز کا رونارویاجاتاتھا آخراُس وقت پاکستان کو اربوں کھربوں کی جوغیر ملکی امداد ملی تھی وہ کہاں گئی؟اِ س امداد سے قدرتی آسمانی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لئے آلات، حفاظتی مشینیں، ہیلی کاپٹراور امدادی سامان کیوں نہ خریداگیا؟ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کیوں قائم نہ کیا گیا؟اور اُنہوں نے کہاکہ آج ہمیں فیصلہ کرناہوگا کہ کیا ہمیں اِنہی جاگیرداروں،اور وڈیروں کے لئے کام کرناہے جونہ صرف غریبوں کا خون چوستے ہیںبلکہ قدرتی آفات کو بھی غریبوں کے متھے لگاکر جاگیردار زمینیں بچالیتے ہیںکیا ہم زندہ باد کے نعرے لگاکر انہی کی سپورٹ کرتے رہیں گے جو ملک اور ملک کے عوام کو لوٹتے رہے ہیں اور ملک کو دولخت کرنے کے ذمہ دار ہیں اور آج باقی ماندہ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر بضد ہیںاور اِس کے علاوہ اُنہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی آزاداور خودمختار نہیں بلکہ بیرونی قوتوں کے زیراثرہے اُس کے برعکس بھارت کی خارجہ پالیسی 99فیصدپاکستان کی خارجہ پالیسی سے زیادہ موثرہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ارکان بیرون ملک دوروں پر پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کے بجائے وہاں بڑے بڑے شاپنگ سینڑوں کی سیر کرتے رہتے ہیںجبکہ انڈیا کے سفارتکار اپنے ملک کے مقدمے کو موثر انداز میں پیش کرتے ہیں ملک کی ناقص خارجہ پالیسی جاگیردار وڈیرے، سرمایہ کار اور کرپت فوجی جرنیلوں کے ذریعے تبدیل نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کا کہ فوج پاکستان میں بہت منظم اور برکڑے اور مشکل وقت میں قربانیاں دینے والا ادارہ ہے۔اِس کے جوانوں کی اکثریت کا تعلق غریب، محنت کش یا متوسط طبقے سے ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو، فوج کے جوان اِس میں قربانیاں دیتے ہیں اور اُنہوں نے کہاکہ پاکستان میں فوجی جرنیلوںنے63برس میں آدھی سے زیادہ مدت تک بالواسطہ یا بلاواسطہ مارشل لا کے زریعے پاکستان پرحکومت کی ،کروڑوں عوام کے مینڈیٹ کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کرکے پارلیمنٹ اور بنیادی انسانی حقوق پر قدغن لگائی اگر فوجی جرنیل حکومتیں تبدیل کرسکتے ہیں ، سیاسی اور جمہوری حکومتوں کا تختہ اُلٹ سکتے ہیںتو اُنہوں نے آج تک ملک سے جاگیردارنہ، وڈیرانہ اور کرپت کلچر کے خاتمہ کے لئے مارشل لا جیسا اقدام کیوں نہیں اٹھایا؟اِس موقع پر اُنہو ں نے والہانہ انداز سے محب وطن جرنیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر محب وطن جرنیل اِس ظالمانہ جاگیردارنہ نظام کے خاتمہ اور کرپت اور لُٹیرے سیاستدانوں سے ملک کو نجات دلانے کے لئے مارشل لا طرز کا کوئی قدم اُٹھاتے ہیں تو ہم اَن کا ساتھ دیں گے ہم نے مارشل لا کے بہت ا دوار دیکھے ہیں جو جرنیلوں نے اپنے اقدار اور ذاتی مفادات کے لئے نافذ کئے اگر فوج کے جرنیل ملک کو جوراچکوں، ڈاکووں،ملکی دولت لُوٹنے والوں سے نجات اور معاشرے کی اصلاح کے لئے کوئی قدم اُٹھاتے ہیںتو بڑی بُرائی کے خاتمہ کے لئے ہمیں چھوٹی بُرائی قبول ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خطاب کے اہم نکات تحریر کرنے کے بعد میں اِس نکتے پر پہنچاہوں اور میں یہ سمجھتاہوں کہ اُنہوں نے اپنے اِس پورے خطاب میں کوئی ایک نکتہ اورایک بات بھی ا یسی ہرگز نہیں کہی ہے کہ جس پرسیاستدانوں کی جانب سے بے مقصد بحث و تکرار کے پہاڑ کھڑے کردیئے جائیں اور یہاں مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ یہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے اِس بیان کو سمجھے بغیرملک کے بعض جمہوریت پسند سیاستدانوں نے بات کا بتنگڑ بنا کر ملک میں ایک عجیب بحث جھیڑ دی ہے جس کا نہ تو کوئی سر ہے اور نہ ہی پیر بس اِن کا مقصد اپنی سیاست چمکانا اور اپنا اپنا سیاسی قد اُونچاکرنا ہے اور اِس بحث میں الجھ کر خود کو متاثرین سیلاب کی مدد کرنے سے بچاناہے۔اگرچہ اِس سے بھی کوئی انکار نہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے اِس بیان کے بعد ملک میڈیا پر چھڑنے والی بے مقصد بحث و شورشرابے قبل ہی ایم کیوایم کے مرکز سے اِس کی واضح تردید آگئی تھی کہ قائد تحریک الطاف حسین نے کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی جس کو جواز بناکر ملک میں بحث وتکرار شروع کردی گئی ہے۔
یہاں مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ ایم کیو ایم ملک کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کی اعلیٰ قیادت سے لے کر ایک کارکن تک کا تعلق ملک کے مڈل کلاس طبقے سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ اِس کے ساتھ پاکستان کی عوام کا ایک گہراتعلق جڑاہواہے کیونکہ پاکسان کی سترہ کروڑ عوام کی اکثریت مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے اور جب کسی بھی سیاسی جماعت میں کثیر تعداد میں لوگ ہوں تو پھر اُسے ملک پر آئندہ حکمرانی سے کوئی نہیں روک سکتا اور اِس کے ساتھ ہی مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں ملک پر اِسی جماعت ایم کیو ایم کی حکمرانی ہوگئی۔
اور آج شائد یہی وجہ ہے کہ ملک کے جاگیردار ، وڈیرے، لٹیرے ، سرمایہ کار سیاستدان اِس جماعت کی ملک بھر میں ہونے والی کامیابی سے خوفزدہ ہیں اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سب اپنے لاکھ سیاسی اور ذاتی اختلافات کے باوجود اپنے مفادات کے خاطر کسی بھی موقع پر متحد اور منظم ہوکر اِس پر انگلی اٹھانے کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جیسے اِن سب نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے گزشتہ دنوں ہونے والے خطاب پر اِس کی مخالفت میں اپنی اپنی کمریں کس لی ہیں اور اِس کی کھلم کھلا مخالفت کرنے اور اپنی اپنی سیاست چمکانے میں لگے پڑے ہیں۔
ہاں البتہ ! ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خطاب کو سمجھنے کے بعد سائیںپیرپگاڑا اور عمران خان کی جانب سے اِس کی تائید اور حمایت کرنا ایک حوصلہ افزا امر ہے کہ ملک کے اِن دونوں سیاستدانوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کی روح کو اچھی طرح سے سوچنے اور سمجھنے کے بعد جس طرح بروقت اِن کے بیان کی حمایت کی وہ اِن دونوں سیاستدانوں کی اعلی ٰ فہم وفراست کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ملک کے اُن جذباتی اور طیش میں آئے ہوئے اُن سیاستدانوں کے لئے ایک آئینہ ہے جو الطاف حسین کے بیان کو بغیر سوچے سمجھے لے اڑے ہیں اور اِن جمہوریت کے ٹھیکیداروں نے الطاف حسین کے اِس رائی جتنے بیان پر فضول کی تکتہ چینی کرکے اِسے رائی کا پہاڑ بناڈالاہے۔
اور اِس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حسب روایت اِس بار بھی ملک کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے ڈنکے کی چوٹ پرایم کیوایم کے قائدالطاف حسین نے جتنا کہاوہ آنے والے وقتوں کے لئے الارمنگ صورت ضرور ہوسکتی ہے کیونکہ آج بھی ہم اگر اپنے انتہائی باریک بینی سے ماضی کو دیکھیں تو ایسی ہی صورت حال سے جب جب ہمارا ملک اور ہماری قوم دوچار ہوئی ہے تو فوج نے ہی ہر بار سول حکمرانوں سے اقتدار اپنے ہاتھوں منتقل کرکے ملک کی باگ ڈور خود سنبھال لی ہے۔ اور ملک کی ایسی صورت حال میں ملک اور قوم کو کسی مڈٹرم الیکشن کی نہیں بلکہ فوج کو ہی اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی اصل ضرورت محسوس کی جارہی ہے اِس لئے کہ مڈ ٹرم انتخابا ت کی صورت میں بھی یہی سیاستدان دوبارہ اقتدار پر قابض ہوجائیں گے فرق صرف یہ ہوگا کہ جو آج صاحبِ اقتدار ہیں وہ حزبِ اقتدار میں بیٹھ جائیں گے اور جو اپوزیشن میں ہیں وہ اقتداد کی مسند پر اپنے قدم رنجافرمائیں گے۔ سو سیاستدانوں کے اِس چیئر گیم کا خاتمہ فوج کے اقتدار میں آنے سے ہی ممکن ہوسکتاہے۔اور قوم اَب ہر صورت میں فوج کو اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ موجودہ جمہوری حکمرانوں اورجمہوریت پسند سیاستدانوں کے قول و فعل میں تضادات کے باعث قوم کولگائے گئے زخموں کا مداواصرف فوج ہی کرسکتی ہے۔