ادارتی کالماسلام

کیا صفر کا مہینہ منحوس ہوتا ہے؟

کیا صفر کا مہینہ منحوس ہوتا ہے؟
ماہِ صفر و توھمات

اللہ کریم جل شانہ نے اپنے مقدس کلام قرآن کریم میں مہینو ں کی گنتی بارہ (12)بیا ن فرمائی ہے ۔ یہ ذکر سورة توبہ کی آےت نمبر 26میں ہے ۔ بارہ ماہ کے مجموعے کو برس ےا سال کہتے ہیں ۔ اور ےہ چاند کے حساب سے شمار ہوتے ہیں ۔ اسی لیے اسے قمری تقویم (کیلنڈر ) کہا جاتا ہے ۔ چاند کے حوالے سے شمار کابیان سورةبقرة کی آیت نمبر119میں ہے ۔ اسلام میں یہ قمری تقویم ہی رائج ہے اور ا س کے باقاعدہ رواج اور ترتیب و نفا ذ کا سلسلہ امیر المﺅمنین سید نا عمر فاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے اہم واقعہ سے اس تقو یم کوشمارکیا ، اس لیے اسے ہجری تقویم کہا جاتا ہے ۔ اس تقویم میں مہینو ں کے نام عربی میں ہیں اور ہر ایک مہینے کی وجہ تسمیہ (نام رکھنے کی وجہ )الگ ہے ۔ جودینی عبادات واحکام کی ادائیگی ، موسم یا اہل عرب کی روایات وغیر ہ کے حوالے سے ہے ۔ اس تقویم میں پہلا مہینہ محرم ہے ۔ اور آخری یعنی بارہواںذی لحج یاذوالحجہ ہے ۔ زیر نظرتحریر ماہ صفر کے بارے میں ہے کیو ں کہ اس ماہ کے نام اور ایام کے حوالے سے کچھ نامناسب اور غلط باتیں عوام میں پھیلادی گئی ہیں اور عوام پوری طرح علم نہ ہونے کی وجہ سے توہمات کا شکار ہے ۔
ماہِ صفر کی وجہ تسمیہ:اسلامی دوسرے مہینہ کا نام صفر ہے ۔یہ صفر بالکسر سے ماخوذ ہے ۔جس کا معنی خالی ہے ۔چونکہ یہ مہینہ ماہ محرم کے بعد آتا ہے ۔محبوب رب العالمین ﷺ کی بعثت سے قبل ماہ محرم میں جنگ حرام تھی ۔مگر صفر کا مہینہ آتا تو عرب جنگ کے لئے چلے جاتے اور گھرو ںکو خالی چھوڑ جاتے تھے ۔اس لئے اس کو صفر کہتے ہیں۔
صفر کے ایک معنیٰ لغت میں پیٹ کے اندر ایک بیماری ہوتی ہے ،جس سے درد ہوتا ہے ۔اس بیماری میں پیٹ کے اندر کوئی کانٹا یا کیڑا ہوتا ہے ۔جو کاٹتا ہے ۔شاید اسی حوالے سے لوگوں نے صفر کو بیماری کا مہینہ کہنا شروع کر دیا ۔جبکہ احادیث میں اس کی ممانعت بیان ہوئی ہے ۔ برصغیرمیں اہل علم کے سرتاج شیخ محقق حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ نے بارہ مہینوں کے بارے میں ایک عمدہ تحقیقی کتاب۔”ماثبت بالسنة“ عربی میں تحریر فرمائی۔جس میں حضرت شیخ محقق رحمة اللہ علیہ ماہ صفر کے بیان میں بحوالہ مسلم شریف پہلی حدیث نقل فرماتے ہیں جس کے راوی حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ وہ فرماتے تھے ۔
”عدوٰی (ایک کی بیماری کا دوسرے کو لگ جانا)، صفر (براشگوں لینا) ،غول(دیوی ،بھوت)نہیں ہے۔“
یعنی یہ باتیں مسلم و مومن کو ماننی اور کرنی نہیں چاہئیں۔بخاری و مسلم کے حوالے سے ایک اور حدیث میں ہے جس کی روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں ۔ ”نہ بیماری کا کسی اور کو لگنا اور نہ نحوست ہے اور نہ ہی الو کی نحوست ہے۔ایک اعرابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ !پھر یہ کیا ہے کہ دوڑتا جھپٹتا خارش زدہ اونٹ دوسرے اونٹوںمیں آگھستا ہے تو سب کو خارش میں مبتلا کر دیتا ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی؟“
اس سے معلوم ہوا کہ صفر کے ایک معنیٰ بد شگونی ، بدفالی کے کئے گئے ہیں ۔مگر جو لوگ ماہِ صفر کو بیماری یا نحوست وغیرہ کا مہینہ سمجھتے ہیں وہ غلط ہیں ۔واضح رہے کہ جہاں کہیں کوڑھ یا شدید مرض کے مریض سے اجتناب کی تعلیم ہے وہ صرف اس لئے کہ دوسروں کو کراہت اور تکلیف نہ ہو۔ چنانچہ شیخ محقق حضرت علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ نے مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:”کوئی شے کسی دوسری شے کو بیماری نہیں لگاتی ورنہ پہلی کو کس نے بیماری لگائی؟(یعنی یہ اعتقاد نہ رکھے۔)، نہ بیماری لگنا ہے ،یعنی نہ تعدی(وائرس ،پھیلنے والی وبائ) ہے جو ایک سے دوسرے کو لگے اور نہ صفر ،اللہ نے ہر جان کو پیدا کیا پھر اس کی عمر اور روزی اور اس کو پہنچنے والی آفتیں لکھ دیں۔“
کرمانی نے بخاری کی شرح میں اور علامہ ابن اثیر نے نہایہ میں لکھا ہے کہ عرب کے لوگوں کے گمان میں صفر سے مراد یہ ہے کہ پیٹ کے اندر سانپ ہوتا ہے ۔جو انسان کو بھوک کی حالت میں کاٹتا ہے اور ستاتا ہے اور یہ مرض میں تجاوز کرتا ہے یعنی مرض بڑھاتا اور پھیلاتا ہے اور کہتے ہیں کہ صفر وہ مہینہ ہے کہ اس میں آفتیں ۔ مصیبتیں اور فتنے بہت ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صفر سے مراد پیٹ کے وہ کیڑے ہیں جو بھوک کے وقت پھد کتے ہیں اور بعض وقت مارڈالتے ہیں ،یا صفر وہ کیڑا ہے جو جگر اور پسلیوں کی ہڈیوں کے کنارے میں پیدا ہوتا ہے تو اُس سے آدمی نہایت زرد ہو جاتا ہے اور بعض وقت اس کو مارڈالتا ہے ۔پس اسلام نے ان باتوں کو باطل یعنی بالکل غلط قرار دیا ہے اور مومن و مسلم وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ پر یقین رکھے اور ماہِ صفر کو بیماری لگنے ، بدشگونی یا نحوست وغیرہ کے حوالے سے نہ جانے اور یہی یقین رکھے کہ میرے لئے وہی ہے جو میرے رب نے لکھا ہے اور توبہ کرتا رہے ۔
عدویٰ (تعدی)یعنی وبائی بیماریاں طبیبوں کے گمان میں 7ہیں۔ ان کا بیان مصابیح کی شرح میں ہے ۔وہ لکھتے ہیں کہ عدوٰی کا معنیٰ بیماری اور عادت کا کسی اور میں اثر کر دینا ہے ۔طبیبوں کے مطابق جذام (کوڑھ)،خارش ،چیچک ،سرخ بخار، دہن کی گندگی ، آشوب چشم اور تمام وبائی امراض میں ایسا ہوتا ہے ،لیکن اہل ایمان کو یہ اعتقاد نہیں کرنا چاہےے ۔تعدی اللہ کی قضا سے ہوسکتی ہے یعنی خیال کرے اور یہ اعتقاد رکھے کہ متعدی بیماریاں اسی وقت موثر ہو سکتی ہیں جب اللہ کی مشیت ہو ۔ورنہ نہیں ۔یعنی امراض بالطبع متعدی نہیں ہوتے ۔خلاصہ یہ ہے کہ ماہِ صفر کو بد شگونی کرتے ہوئے بیماری اور لاگت کا مہینہ نہ جانے ،نہ ہی ایسا اعتقاد رکھے اور ہر حال میں اللہ کی رضا چاہےے اور اپنے معاصی سے توبہ کرتا رہے اور گھر کے بوڑھوں یا عورتوں کی غلط کہاوتوں کو حقائق پر ترجیح نہ دے۔بر صغیر میں ماہ صفر کو تیرہ تیزی کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے ۔ایسا کہنے والوں کو گمان یا خیال ہے کہ اس ماہ کے پہلے 13دن بہت منحوس ہوتے ہیں ۔ان دنوں میں جادو گر ۔
جنات اور بد روحیں کھلے عام آفات مچاتی ہیں اور کام بگاڑتی ہیں ۔ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ ان دنوں میں کوئی بیماری ہو جائے تو وہ مریض مشکل سے بچتا ہے یا اس ماہ میں لگنے والی بیماری مہلک یا شدید ثابت ہوتی ہے ۔کہتے ہےں کہ اس ماہ میں شادی بیاہ کرنا، کوئی کاروبار ،یا نیاکام کرنا یا سفر شروع کرنا راس نہیں آتا ۔یہ سب محض تو ہمات ہیں اور گھڑی ہوئی غلط باتیں ہیں ،جنہیں کچھ لوگوں نے اعتقاد کا سادرجہ دے دیا ہے ۔تین تیرہ کا عدد بھی لوگ اچھا نہیں سمجھتے حالانکہ یہ محض اسلام دشمن پروپیگنڈا ہے ۔کیونکہ تین سو تیرہ اصحاب بدر کی تعداد ہے جنہوں نے حق و باطل کے پہلے معرکے میں فتح پائی تھی ۔
علاوہ ازیں کچھ یہی تعداد رسولوں کی بتائی جاتی ہے ۔اس طرح دیکھا جائے تو جانے کتنی غلط باتیں رائج ہو چکی ہیں ۔ضروری ہے کہ اہل علم اس بارے میں لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں۔
نیک فال:نیک فال لینی محمود ہے اور سنت ہے ۔سید دو عالمﷺ نیک فال بہت لیا کرتے تھے ۔خصوصاً لوگوں کے ناموں سے جگہوں سے اور بدفالی (بدشگونی)ایک جاہلانہ رسم اور باطل ہے ۔ان دونوں کے متعلق احادیث مبارکہ نظر قارئین ہیں ۔
سیدنا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بدشگونی شرک ہے ۔تین دفعہ فرمایا ۔(مشکوٰة صفحہ392)
مطلب یہ ہے کہ بد شگونی مشرکوں کے رسموں سے ہے اور موجب شرک خفی ہے اور اگر جزعاً اعتقاد کر لے کہ یوں ہی ہوگا تو بد شگونی بیشک کفر ہے ۔
سیدنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب کسی کام کےلئے نکلتے تو یہ بات حضور ﷺ کو پسند تھی کہ یاراشدیا یانجیح سنیں۔(مشکوٰة صفحہ392)
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس وقت ان ناموں سے کسی کو پکار تاتو یہ حضور اقدس ﷺ کو اچھا معلوم ہوتا ۔کہ یہ کامیابی اور فلاح کی نیک فال ہے۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیتے تھے ۔جب کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام دریافت کرتے اگر نام پسند ہوتا تو خوش ہوتے اور خوشی کے آثار چہر ہ انور پر ظاہر ہوتے اور اگر اس کا نام پسند نہ ہوتا تو اس کے آثار حضور اقدس ﷺ کے چہرہ میں دکھائی دیتے ۔اور جب کسی بستی میں جاتے تو اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام پسند ہوتا تو خوش ہوتے اور خوشی کے آثار چہرہ انور پر دکھائی دیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو کراہت کے آثار چہرہ انورپر دکھائی دیتے۔(مشکوٰة صفحہ392)
فائدہ :اس حدیث شریف کا یہ مطلب نہیں کہ ناموں سے آپ بدشگونی لیتے تھے بلکہ یہ کہ اچھے نام حضور اقدس ﷺ کو پسند تھے اور برے نام ناپسند تھے ۔ان مبارک حدیثوں سے معلوم ہوا کہ نیک فال لینی کامیابی کی دلیل ہے اور بدفال (بد شگونی)رسم کفار ہے ۔ اس سے مسلمانوں کو پچناچاہےے۔
ماہِ صفر کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ماہ کا آخری بدھ کچھ لوگ بہت مناتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس روز آپ نے غسل صحت فرمایا تھا اور گھر سے نکل کر سیر کے لئے تشریف لے گئے تھے ۔کچھ یہ کہتے ہیں کہ اِس دن نبی پاک ﷺ کی بیماری نے شدت اختیار کر لی تھی ۔یہ بلاﺅ آفت کا دن ہے ۔ کچھ کہتے ہیں کہ ماہ صفر کا آخری عشرہ بلاﺅں اور آفتوں کا ہے ۔حضرت خواجہ خواجگان،معین بے کساں ،والی ہندوستان سیدنا معین الدین حسنی چشتی سرکار غریب نواز اجمیری رحمة اللہ علیہ سے ایک قول منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ صفر کا مہینہ بڑا بھاری اور سخت مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر سال دس لاکھ اسی ہزار بلائیں نازل فرماتا ہے۔ جس میں سے صرف ماہ صفر میں نو لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں ۔اس لئے اس ماہ کو دعا اور اطاعت میں بسر کرنا چاہےے ۔ ایک قول یہ ہے کہ ماہِ صرف میں تین لاکھ بتیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں اور آخری چہار شنبہ نہایت بھاری ہے۔ راحت القلوب میں ایک روایت یوںہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص مجھے ماہ صفر کے گزرنے کی خوش خبری دے گا میں اسے بہشت میں جانے کی نویددوں گا۔
راحت القلوب ،حضرت شیخ الاسلام و المسلمین ،سلطان الزاہدین بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے ۔ جسے سلطان المشائخ حضرت سیدنا نظام الدین اولیاءمحبوب الہٰی رحمة اللہ علیہ نے مرتب فرمایا ۔اس میں ماہ صفر کی آفات سے بچنے کی دعائیں اور اعمال بھی درج ہیں ۔ایسی مقتدر اور مقدس ہستیوں کے حوالے سے کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں رہنے دیتے کیونکہ ان ہستیوں کی عظمت و مرتبت میں کسی کو کلام نہیں۔
لیکن واضح رہے کہ اس بات کی تحقیق و تصدیق ضروری ہے کہ ان ہستیوں سے منسوب جوبات کی جا رہی ہے وہ قرآن و حدیث سے بالکل متضاد نہ ہو اور ان بزرگوں سے ثابت ہو ۔یعنی ان بزرگوں ہی کی کہی ہوئی ہو اور صحیح ہو۔ کیونکہ کچھ اقوال ایسے بھی ہیں جو اِن ہستیوں سے منسوب کر دیئے گئے ہیں لیکن تحقیقی طور پر ثابت نہیں۔
راحت القلوب میں درج اس حدیث کا مفہوم کچھ اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی ظاہری دنیوی حیات میں صفر آخری مہینہ تھا اور اس کا آخری بدھ نبی پاک ﷺ کی ظاہری حیات میں آخری تھی ۔چونکہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے معبود کریم کے لقاءکا شوق غالب تھا ،اس لئے آپ نے اس ماہ کے تمام ہونے کی خبر کو خوش خبری فرمایا ۔راحت القلوب میں درج ماہ صفر کے بارے میں فرمودات کا مفہوم شاید کچھ یہ ہو کہ وہ لو گ جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور عبادت سے غافل ہیں وہ اس ماہ میں توبہ و دعا کی کثرت کریں اور عبادت و طاعت میں بسر کرنے والے لوگ اس ماہ میں کوئی غفلت و سستی نہ کریں اور ہر مسلم و مو¿من یہی دعا کرے کہ اگر اس ماہ میں کوئی بلا نازل ہوتی ہے تو اللہ اسے اس بلا سے محفوظ رکھے ۔
واضح رہے کہ ان مقدس اولیائے کرام نے ماہ صفر کو ہرگز منحوس یا برا نہیں کہا ہے اس لئے ان بزرگوں کا کلام کسی حدیث شریف سے متصادم نہیں ہے ۔وہ لوگ جو اس ماہ میں خوشی کی کوئی تقریب نہیں کرتے ،نہ ہی کوئی ایسی تقریب منعقد کرنا اچھا گردانتے ہیں وہ اگر اس ماہ میں کوئی تقریب منعقد نہ کریں تو یہ ان کی صوابدید پر ہے ۔لیکن وہ اس ماہ کو منحوس یا برا خیال نہ کریں ۔البتہ کچھ لوگ اہل بیت رسول رضوان اللہ علیہم سے محبت و عقیدت کا یہ بھی تقاضا سمجھتے ہیں کہ شہدائے کربلا کے چہلم تک کوئی خوشی کی تقریب نہ کی جائے ۔ اُن لوگوں کا ایسا کرنا یا سمجھنا شرعی طور پر نہیں ،یہ محض انکی اپنی عقیدت و محبت ہے ۔اور ایسی صورت میں انہیں کسی طعن و تشنیع وغیرہ کا ہدف نہیں بنایا جائے گا۔تاہم ان لوگوں کو اہل بیت رسول رضی اللہ عنہم سے محبت و عقیدت کے ان تقاضوں کو بھی پورا کرنا چاہئےے جو بہت اہم ہیں ۔
آخری چہار شنبہ کے دن چھٹی کرنا اور کام نہ کرنا یہ غلط روایت ہے ۔البتہ اس دن صدقہ و خیرات کرنا اور عبادت و دعا کرنا چاہئےے اور بزرگوں نے جو نوافل اور دعائیں وغیرہ تعلیم کی ہیں وہ کرنا چاہئیں اور اللہ کی عبادت سے کسی لمحے بھی رو گردانی نہیں کرنی چاہئے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اپنے خالق و مالک اللہ کریم کو اس صورت میں راضی کر سکتے ہیں کہ جب ہم اللہ کریم کی فرماں برداری کریں ۔ اس کے ارشادات اور تعلیمات کی پابندی و پیروی کریں اور شریعت و سنت کے مقابلے میں اپنی نفسی خواہشات یا طبیعت کو ترجیح نہ دیں ۔ ہمیں اللہ کے فرامین اور نبی کریمﷺ کی سنت کی پیروی ہی میں فوز و فلاح حاصل ہو سکتی ہے۔
ماہِ صفر کے نفل:ماہِ صفر میں نمازِعشاءکے بعد مسلمان کوچاہئے کہ چار رکعت نماز پڑھے ۔پہلی ۔رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد قل یایھالکٰفرون۔”پندرہ دفعہ پڑھے اور دوسری رکعت میںسورت فاتحہ کے بعد قل ھو اللّٰہ احد ۔پندرہ مرتبہ پڑھے اور تیسری رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد سورة فلق پندرہ مرتبہ پڑھے اور چوتھی رکعت میں سورة الناس پندرہ مرتبہ پڑھے سلام کے بعد چند بار ایا ک نعبد و ایاک نستعین ۔پڑھے پھر ستر مرتبہ درود شریف پڑھے ۔تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑا ثواب عطا کرے گا اور اسے ہر بلا سے محفوظ رکھے گا۔(راحة القلوب)
اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت و سنت کے مطابق زندگی بسر کر کے صحیح مومن مسلمان بننے کی توفیق عطا فرماتے ہوئے تو ہمات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین!

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button