ادارتی کالم

کشمیری اور صدر اوبامہ


امام جعفر کا قول ہے جسکے قول اور فعل میں متصادم نظریات پائے جاتے ہوں وہ کبھی دوسروں کا ہمدرد نہیں ہوسکتا اور اسکے رگ و پے میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ مالک جہان رنگٍ بو نے قران پاک میں منافقین کو جہنم کی نوید سنائی ہے۔ کشمیر دنیا کے ان معدودے متنازعہ خطوں میں شامل ہے جسکے وارث 6 دہائیوں سے حق خود ارادیت کے لئے جہد مسلسل کررہے ہیں جس پر قدغن لگادی گئی ہے اور ریاستی وحشت کے بل پر کشمیریوں کو باور کروایا جاتا ہے کہ اب جنت نظیر کا یہ ٹکڑا انڈین وحدت کا اٹوٹ انگ ہے۔کشمیر میں پچھلے کئی مہینوں سے ازادی کشمیر جوبن پر ہے۔یہ تحریک کشت و قتال کی بجائے سیاسی تحریک کا روپ دھار چکی ہے۔۔ صدر اوبامہ نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا توزخم خوردہ کشمیری توقع کر رہے تھے کہ اوبامہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اقرار کریں گے ہوسکتا ہے کہ زخموں کا اندمال ممکن بن جائے ا۔ اوبامہ نے 2008 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کے غصب شدہ حقوق کی بحالی کو یقینی بنائیں گے مگر وائٹ ہاوس کے پردھان منتری سب کچھ فراموش کربیٹھے۔ امریکی صدر نے میزبانوں کو فرط انبساط میں مبتلا کرنے کے لئے کہاکہ وہ تنازعہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت پر دباو ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں۔علاوہ ازیں اوبامہ نے سلامتی کونسل میں بھارتی نشست کے لئے امریکہ کی حمایت کا اعادہ کیا۔ عالمی مسند انصاف کی واحد سیٹ گریٹ پاور اف دی ورلڈ پر فروکش اوبامہ کی انصاف کشی ملا حظہ ہو کہ ایک طرف اس نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا تو دوسری طرف ریاستی دہشت گردی کے جبڑوں میں پھنسی ہوئی کشمیری قوم کی اخلاقی و انسانی دستگیری کا ایک شبد تک نہ کہا۔ اوبامہ نے تو جھوٹے منہ کشمیر کا زکر کرنے کی زحمت نہیں کی جہاں شیر خوار بچوں کی کھوپڑیوں اور نوخیز نظر لڑکوں کے سینے میں گولیاں پیوست ہورہی ہیں اور جنت نظیر وادی کشمیر میں خون کے چشمے ابل رہے ہیں۔ اوبامہ کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کا انحصار کابل میں جنگی نتائج میں پیوستہ ہے۔امریکہ پاکستان کے بغیر وہاں اندھے پن کا شکار ہے جبکہ امریکہ کی لرزتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے تجارتی معاہدے ناگزیر ہیں۔دہلی 10رب ڈالر کے دفاعی سودوں کے علاوہ بھارت امریکہ سے کھربوں کی مالیت کے جنگی جہاز خرید رہا ہے۔اوبامہ اس ڈیل کو ہر صورت میں کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتے تھے ۔اوبامہ نے بھارت کو رام کرنے کی خاطر الفاظوں کے استعمال میں احتیا ط برسی۔ مگر اس سب کے باوجود امریکہ بھارت اور ساری دنیا کو یہ بات گوش نشین کرلینی چاہیے کہ اوبامہ کی خاموشی ملت اسلامیہ کی بے حسی اور اقوام عالم کی عدم دلچسپی کے باوجود کوئی عنصر پتھر اٹھائے کشمیریوں کے ہاتھ نیچے نہیں کرواسکتا۔ دور حاظر کی حریت پسند انہ افکار کی علمبردار ارون دھتی رائے نے نیویارک ٹائمز میں اپنے کالم( کشمیر پر ثالثی سے انکار) میں لکھا ہے کہ یہ وادی تین تہذیبوں مسلم، ہندو اور بدھ مت کا گہواراہ ہے۔وادی روحانیت اسا طیر اور تواریخ کی ائینہ دار ہے۔کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ االسلام کی پیدائش اسی وادی میں ہوئی کچھ کہتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام گمشدہ قبیلے کی تلاش میں ادھر ائے تھے۔ حضرت بل کی عظیم الشان درگاہ لاکھوں لوگوں کی عقیدت کا گہوارہ ہے۔ کشمیر پاکستان افغانستان سے ائے ہوئے شدت پسندوں علاقے میں امریکی مفادات اور انڈین قومیت کے حصار میں پھنس چکا ہے اور اب اسکے اپنے اندر جارہیت پیدا ہورہی ہے۔ اسی پوائنٹ کو ایٹمی فلیش پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے اگر برصغیر میں ایٹمی جنگ کا ا ٹاکراہوا تو ابتدا اسی فلیش پوائنٹ سے ہوگی۔اسی پوائنٹ اور گرد و نواح میں 5 لاکھ انڈین افواج تعینات ہیں۔ اسی جگہ کو دنیا کے سب سے بڑے فوج زدہ علاقے کا اعزاز حاصل ہے۔ کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی فوج نے جبریت قائم کی ہوئی ہے ر گلی محلوں کھیت کھلیانوں شہروں پہاڑوں بازاروں سرکاری دفاتر میں کرفیو نافذ ہے مگر فورسز اور کشمیری جوانوں کے مابین پتھر اور گولیوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ ازادی کے نہتے طلبگار حماس کی تحریک انتفاضہ کے دیوانے ہیں۔ وادی میں پتھر استعمال کرنے والے بچوں پر ریاستی بہیمت کی مثال ملاحظہ کریں کہ تین لڑکوں کے کے ناخن اکھیڑ لئے گئے۔ کشمیری سڑکوں پر تین سالوں سے سراپا احتجاج ہیں۔وہ بھارتی تسلط سے ازاد ی کو زیست حیات بنا چکے ہیں۔20 سال پہلے پاکستانی حمایت سے شروع ہونے والی عسکریت پسندی اب دھیمی پڑ چکی ہے۔ارمی کا اندازہ ہے کہ وادی میں جنگجووں کی تعداد400 کے لگ بھگ ہیں۔ تحریک ازادی 90 ہزار کشمیریوں کا خون پی چکی ہے۔2لاکھ کشمیری ہندو وادی سے ہجرت کرگئے۔ اگر چہ عسکریت پسندوں کی تعداد کم ہوگئی ہے مگر بھارتی فوج کی تعداد میں کمی نہیں ہوئی۔ عام لوگ جنکے پاس بندوق نہیں ہوتی وہ بھی انڈین ارمی کے سامنے مورچہ زن ہے۔ وہ نوجوان جنہوں نے بچپن میں مارو پکڑو اور گولیاں چلاو ایسی دل اندوھ باتیں سنی تھیں وہ حالیہ تحریک کا اہم حصہ ہیں کیونکہ انکے دل موت کے خوف سے خالی ہیں۔پچھلے ایک ماہ میں 100 لڑکے گولیوں کی بھینٹ چڑھ گئے جبکہ 1000 پایہ زنجیر ہیں۔جری لڑکوں کا کوئی لیڈر نہیں۔وہ چھلاوے کی طرح کسی گلی یا چھت سے نمودار ہوتے ہیں،فورسز پر پتھروں کی برسات کرکے غائب ہوجاتے ہیں۔کم عمر جوانوں کی تحریک نے انڈین فورسز کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں۔ ارون دھتی کہتی ہیں کہ بھارت کو سیاسی طور پر کم عمر لڑکوں کے لشکر نے سیاسی شکست دی ہے۔ باضمیر انڈین لوگوں پر سچ اہستہ اہستہ عیاں ہورہا ہے۔انہیں بتدریج احساس زیاں ہوچلا ہے کہ انہیں جو کچھ میڈیاوار کے نابغے بتاتے رہے وہ درست نہیں اور انکے ساتھ مسلسل جھوٹ بولا گیا اور کشمیر پر جو ٹھوس موقف اپنایا گیا تھا وہ یکلخت کمزور ہوچکا۔کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والوں کو زمینی حقائق دیکھر تنازعے کا حل تلاش کرنا چاہیے ورنہ پتھر مارنے والے بچے جوان ہوکر اودھم مچا کر رکھ دیں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ ازادی وطن کا مقصد حاصل کرلیں ۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ اٹوٹ انگ کی رٹ چھوڑ کر کشمیریوں کی ازادی واپس لٹا دی جائے۔ امریکہ نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ دو رخی سے کام چلایا۔اوبامہ نے بھی اپنے پیش رو امریکی صدور کی طرح بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں۔ اوبامہ اور ہمنوا حضرت امام جعفر کے محولہ بالہ قول کی تعریف پر پورا اترتے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button