ادارتی کالم

واہ ..وہ !کتنی سادگی سے کہہ گئے وزیراعظم ..؟کرپٹ وزراکو نکال دوں تو کابینہ میں کِسے رکھوں ..؟

خصوصی کالم: تمثیلِ سیاست
واہ ..وہ !کتنی سادگی سے کہہ گئے وزیراعظم ..؟کرپٹ وزرا¿کو نکال دوں تو کابینہ میں کِسے رکھوں ..؟
کیاحکومت جانے والی ہے….؟؟؟ یا یوں ہی دن مہینے سال گزرتے جائیں گے
وزیراعظم کی…..کہی اَن کہی…..
محمداعظم عظیم اعظم[email protected]
ایک طرف توگزشتہ کئی ماہ سے ملک میں یہ افواہ بڑی گرم ہے کہ حکومت اپنی ناقص پالیسیوں اور غیر مناسب حکمت ِ عملیوںکے باعث عوام میں اپنا اعتماد بحال نہیں کراسکی ہے جوبڑی حد تک حقیقت پر مبنی ہے ا ور مگردوسری طرف ہمارے حکمران اِسے افواہ قرار دے کر اپنی اپنی مستیوں میں مگن ہیں جبکہ یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کو ماننے اور تسلیم کرنے سے حکمران توانکارکررہے ہیں مگر حکمرانوں کی اِسی غلطی کوعوام اور دانشوران ِاہل وطن سب سے بڑی کمزوری سمجھ رہے ہیں اوروہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوام کسی بھی حال میں ملک کے موجودہ حکمرانوں کو اِن کی حکومت کی مدت پوری کرنے کی مہلت نہیں دیں گے اور اِس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ ملک میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے توملک میں پہلے سے موجود مہنگائی کے سیلاب سے پریشان حال عوام کا پوری طرح کچومر نکال کر اِس کاستیاناس کرکے رکھ دیاہے اور اِس حال میں حکومتی سطح پر کوئی عوامی دُکھ اور در کا مداواکرنے والا نہیں رہاہے کیونکہ ہمارے حکمرانوں کو تو اپنی کُرسی بچانے کی پڑی ہے تواُدھر ہی اپوزیشن کو اپنی سیاست چمکانے اور سیاسی گھوڑے دوڑانے کی لگی ہے اور اِدھر عوام ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوںاور منہ توڑ سینہ زور بے لگام مہنگائی کے ہاتھوں پریشانی اور مفلسی کے عالم میں مری جارہی ہے۔
اِس ساری صورتِ حال کے بعد جو منظر سامنے آیاہے وہ ایک افواہ ہی کی شکل میں صحیح مگر سچ تو یہی ہے کہ موجودہ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بری طرح سے ناکام ہوگئی ہے جس کی وجہ سے اَب اِس کے چل چلوµے کے دن قریب آتے جارہے ہیں ۔اور ملک کے سترہ کروڑ عوام اِس انتظار میں ہیں کہ کب اِس کے کانوں میں تبدیلی کی صدائیں آئیں گی اور پھر کوئی نیا حاکم اِس پر مسلط ہوگا جو اِس کے دکھ اور درد کا مداواکرے گا۔عوام ہے کہ بیچاری اِسی انتظار میں سُوکھی جارہی ہے کہ کب اِس کو ایسے حکمرانوں سے چھٹکارہ نصیب ہوگاجو عوام کو خالی وعدوں اور اپنے جھوٹے دعوو¿ںپر تڑخارہے ہیں اور خداجانے کب تک یوں ہی تڑخاتے رہیں گے…..؟؟؟آج عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اَب ایسی جمہوری حکومت کا کیا فائدہ جس میں جمہوریت کو تو پوجاجائے اور عوام کو مہنگائی کے سیلاب کے آگے ڈال کر اِسے زندہ درگورکردیاجائے جیساکہ ہمارے موجودہ حکمران اِن دنوں کررہے ہیں۔اِن سے اچھا تو کوئی آمر ہی اِن پر مسلط رہتاتواچھا تھا وہ کم ازکم اِنہیں مہنگائی کے رحم وکرم پر تو نہ چھوڑتا…..جیساکہ موجودہ جمہوری حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی کے سامنے ڈال کر اِنہیںخودکشیاں کرنے پر مجبورکررکھاہے۔
اِس ساری صُورتِ حال میں مجھے کبھی کبھی تو ایسامحسوس ہوتاہے کہ جیسے ایوانِ صدر اور وزیر اعظم ہاو¿س سے لے کراپوزیشن جماعتوں کے سازشی دفاتر سمیت کسی غریب کے چھوٹے سے چائے کے ہوٹل تک بیٹھے جتنے بھی لوگ ہیں سب کے سب مفروضات کے غلام ہیںاور جن کی ذمہ داریاں بس ملکی سیاست اور حالات و اقعات کے تناظر میںصرف زبردستی اپنااپنا سیاسی قد اونچاکرنے کے اور کچھ نہیں رہ گئی ہیں جس کے لئے یہ سب محض مفروضوں اور طرح طرح کی قیاس آرائیوں کی ہی بنا پر اُلٹے سیدھے اپنے خیالات کا اظہار کرکے اپنے بیانات کے تیر چلاتے رہتے ہیں اوریہی وہ لوگ ہیں جو روز نت نئے اور مخمصے دار اپنے بیانات کے انبار لئے میڈیا میں اِنہیں داغتے نظر آتے ہیں اور اِن کے اِس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ بیانات کی وجہ سے ہی آج یہ لگنے لگاہے کہ جیسے ملک کے اِن کو چ وانوں کا کام اَب کسی نہ کسی بہانے خود کوصرف خبروں کی زینت بنانارہ گیاہے اور اِن کے اِسی شوق اور مشغلے سے ملکی اور عالمی سطح پر یہ تاثر عام ہوتاجارہاہے کہ موجودہ حکمران اور اپوزیشن سب کے سب عدم اعتماد کے شکار ہیں۔جس سے ملکی سیاست سمیت ملک کی معاشی اور اقتصادی ڈھانچہ دگرگوںہوکررہ گیاہے ۔
اور واہ…وہ ! اَب میں اِسے اپنے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی کوئی سادگی کہوں….؟ یا اَن کی کوئی مصلحت پسندی…. جب سے میں نے اِن کا یہ غیر سنجیدہ بیان پڑھاہے جس میں اُنہوں نے کہاہے کہ ”کرپٹ وزرا¿کو نکال دوں توکابینہ میں کِسے رکھوں“ میںاِس اُلجھن میں گرفتار ہوں کہ وزیراعظم کے منہ سے ایسے غیر سنجیدہ اور غیر پارلیمانی الفاظ اداکیسے ہوگئے …..؟جو اِنہیں کسی بھی طور پر زیب نہیں دیتے یہ اور بات ہے کہ وہ اِس سے قبل بھی اپنے متعدت خطابات اور بہت سے مواقعوںپر ایسے الفاظ کہہ چکے ہیں جنہیں میڈیا سے لیکر عوامی سطح تک ہدفِ تنقید بنایاگیااور اِس بار بھی اسلام آباد میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی حسبِ روایت پھر وہی غلطی دہراگئے جیسی یہ اکثر و بیشتر کیاکرتے ہیں یعنی یہ کہ ہمارے ملک کے ایک جمہوری حکومت کے جمہوری وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ہیں جنہوںنے گزشتہ دنوں سینہ تان کر سر اٹھاکراور اپنی پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھاڑتے ہوئے سینہ ٹھونک کرکہاکہ”کرپٹ وزرا¿کو نکال دوں توکابینہ میں کِسے رکھوں“ ……؟وزیراعظم کی یہ کیسی کہی اَن کہی ہے۔
یہاں میرا مسٹر وزیر اعظم سے سوال یہ ہے کہ اُنہوں نے یہ بات کیا سوچ کر کہی ہے….؟؟اور اِن کا اشارہ کس طرف تھا….؟؟وزیراعظم یہ بھی واضح کردیتے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجاتاتو اچھاتھا اور میرااِن سے دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی پارٹی میں سارے ہی کرپٹ لوگ ہیں….؟؟ اگر آپ کی حکومت کے موجودہ وزرا¿ کرپٹ ہیں تو اِنہیں ہٹاکر اپنی ہی پارٹی سے دوسرے لوگوں کو اِن کی جگہہ دے دی جائے ….اوراگر ایسانہیں کرسکتے ہیں تو پھر کرپٹ لوگوں کو اِس وطن عزیزجس کا نام پاکستان ہے اِس پر حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اِس کے ساتھ ہی اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ عدلیہ اور حکومت کے درمیان کوئی تصادم نہیں، عدلیہ ملک میںجمہوری نظام کو آگے بڑھانااور کامیاب دیکھناچاہتی ہے وزیراعظم کا ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہناانتہائی معنی خیز لگاکہ حکومت کو جانے کی پیش گوئیاں کرنے والوںکو مایوسی ہوگی جب کہ یہ حقیقت ہے کہ حکومتی اراکین سمیت خود صدر اور وزیراعظم یہ بات متعدت بارکہہ چکے ہیں کہ ہماری حکومت سے بہت سی کوتاہیاں ہوئی ہیں مگر اِس کے باوجود بھی ہم اپنی مدت پوری کریں گے کیونکہ عوام نے ہمیں اِس کا مینڈیٹ دیاہے تو صدر ، وزیراعظم اور حکومتی اراکین یہ بات بھی سُن لیں عوام نے آپ لوگوں کو جو میڈیٹ دیاہے وہ صرف حکومتی مدت پوری کرنے کے لئے ہی نہیں دیابلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے بھی آپ لوگوں کو مسندِ اقتدار سونپاتھامگر آپ تو عوام اور اِس کے مسائل کو بھول چکے ہیں اور آپ لوگوں کو صرف عوام کا اپنے لئے دیاگیا مینڈیٹ ہی یاد رہ گیاہے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام نے آپ کو اقتدار کے لئے مینڈیٹ دیاتھا تو اَب یہی عوام آپ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ لوگ اَب جس قدر جلد ممکن ہوسکے اقتدار سے ہٹ جائیں اور اقتدار کو فی الفور چھوڑ دیں کیونکہ عوام کو آپ کے چہرے سے کوئی مطلب نہیں ….اِسے تو وہ حکمران چاہئے جو اِس کے مسائل حل کرسکے وہ حکمران کوئی آمر ہو یاجمہوری مگر آپ لوگوں جیساکوئی نہ ہو۔جو عوام کو روزانہ مہنگائی کی دلدل میں دھکیل کر جشن بنائے اور عوام مہنگائی بھوک و افلاس اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہوکرروزمرتے رہیں اور تم جیسا کوئی حکمران جمہوریت کی بانسری بجاتے عیش کرتے رہے۔اِس پر حکمران پارٹی نے حکومت جانے سے متعلق اُن تمام پیش گوئیوں کو مستردکرتے ہوئے یہ کہناشروع کردیاہے یہ دن مہینے سال گزرتے جائیںگے دیکھ لینا …… مگر ہماری حکومت نہیں جائے گی اِن کا کہناہے کہ اِن کی حکومت کو عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہے اور کیونکہ ہماری حکومت نے جہاں ملک میں مہنگائی کو قابو نہیں کیاہے تووہیں ہماری حکومت نے عوام کو اِس بابت ا ور دوسرے بہت سے ریلیف بھی تو دیئے ہیں جن میںمثلاََ آسانی سے مرنے اور مارنے سمیت لوٹ مار کرنے جیسے وہ ریلیف شامل ہیں جو اِس ملک کے کسی بھی حکمران نے کبھی بھی اپنی عوام کو نہیں دیئے ہیں۔
محمداعظم عظیم اعظم[email protected]

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button