ادارتی کالم

ناکام مرد حضرات کے پیچھے بھی خواتین کا ہاتھ؟

ناکام مرد حضرات کے پیچھے بھی خواتین کا ہاتھ؟

تحرےر: ارفع رشید عاربی
یہ مقولہ تو مشہور ہے کہ کسی بھی کامےاب مردکے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ تو اس بات سے بھی انکار نہیں کہ کسی کامےاب عورت کے پیچھے بھی کسی مرد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دراصل مرد اور عورت خصوصاً مےاں بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہےے ہوتے ہیں جن کا ایک ساتھ چلنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ ایک پہےے کو کوئی مسئلہ در پیش آئے تو دوسرا بھی اپنی صحیح کارکردگی پیش نہیں کر پائے گا۔اسی لےے کامےاب زندگی گزارنے کے لےے مےاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے بہتر ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یعنی دونوں میں ہم آہنگی ہو، اےک دوسرے پر اعتبار ہو، ایک دوسرے کی کامےابےوں پر خوش ہونے کا حوصلہ ہو اور ناکامی پر ایک دوسرے کی ہمت بندھائیں۔ یہی کامےاب زندگی گزارنے کے طریقے ہیں لیکن اس میں توازن ہونا ضروری ہے۔یہ نہیں کہ عورت تو اپنے تمام فرائض سے عہدہ برآ ہو لیکن مرد اس میں کوتاہی کر جائے یا پھر مرد اپنے تمام فرائض ادا کرے لیکن عورت کوتاہی کر جائے۔لہٰذا جب تک توازن نہ ہو اسے کامےاب زندگی نہیں صرف ”گزارہ کرنا“ کا نام ہی دےا جا سکتا ہے۔حسد، جلن اور شک جیسی بیمارےاں دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دےتی ہیں اور معاشرہ انگلی صرف عورت پر ہی اٹھاتا ہے، لیکن یہ بات تو ماننے کی ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، دونوں کی کوتاہےاں ہی انھیں اس آخری صورتحال تک پہنچاتی ہیں۔
غرض جہاں تک کامےابی کی بات ہے تو تقریباً دنےا کے ہر کامےاب مرد نے اپنی کامےابی کا سہرا ایک عورت کے سر ڈالا۔ مثلاً بانی¿ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒنے بھی ہمیشہ اپنی کامےابی کا ذمہ دار اپنی بہن فاطمہ جناحؒ کو ٹھہراےا۔ ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چئیرمین محترم مجید نظامی کا کہنا ہے ” حضرت فاطمہ جناحؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قائدِاعظم ؒ کو بانی¿ پاکستان بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا“
لہٰذا عورت ماں ، بہن ،بےوی، بیٹی اور بہو ہر روپ میں مرد کو سہارا دےتی رہی ہے۔کیونکہ عورت کی بنےادی ذمہ داری گھر گرہستی کے ساتھ ساتھ قوموں کی بہترین پرورش رہی ہے اسی لےے وہ زےادہ جذباتی اور حساس طبیعت کی مالک ہوتی ہے ایک طرف وہ بچے کی پیدائش سے لے کر جوانی تک اس کی پرےشانیوں میں اسے سہارا دےتی ہے تو دوسری طرف اسے یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی بھی دوسروں کی مشکلات میں ان کے کام آئیںاور ےوں وہ انہیں ان کی ذمہ دارےوں کا احساس دلاتی رہتی ہے۔اگر عورت اپنی یہ ذمہ دارےاں صحیح طریقے سے نہیں نبھاتی تو افراد میں ذاتی برتری اور دوسروں کو کم تر سمجھنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔یہی حال ہمارے پاکستانی معاشرے کا ہے اور اسے مردوں کا معاشرہ کہا جاتا ہے ۔ آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ پاکستان کے آغاز سے ہی مردوں کی سوسائٹی غالب آ گئی اور عورتیں ان کے زےرنگہیں؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہماری اکثر ماﺅں نے ہمیشہ لڑکی پر لڑکے کو فوقیت دی۔کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے تک ،لڑکی کو بات بات پر ٹوکا گےا اور لڑکے کو کھلی چھٹی دے دی گئی کہ وہ تو خاندان کا وارث اور کماﺅبنے گا۔ ان روےوں کو دےکھتے ہوئے لڑکے نے بھی اپنے آپ کو لڑکی کے مقابلے میں اعلٰی اور بر تر گرداننا شروع کر دےا۔
اسی طرح جب لڑکی جوان ہو تو اس کی شادی کے وقت اسے بے شمار نصیحتیںکی جاتی ہیں کہ سسرال ہی تےرا اپنا گھر ہے،اب وہاں سے تےرا جنازہ ہی اٹھے گا، شوہر کی ہر بات کو ماننا وغےرہ وغےرہ۔ لہٰذا لڑکی ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش میں انتہائی تابعدار اور فرمانبردار بن جاتی ہے کہ شوہر اور سسرالیوں کی ہر جائز و نا جائز بات کو ماننا اپنا فرض سمجھتی ہے۔اسی احساس برتری کی بدولت مردوں نے عورتوں کی صحیح بات کو بھی ماننے سے انکار کیایا اسے اپنی توہین سمجھا۔ یوں برتری اور کمتری کے روےوں نے معاشرے میں مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ لےے ۔
مندرجہ بالا صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی یہ بات بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ناکام مرد حضرات کے پیچھے بھی خواتین کا ہاتھ ہوتا ہے۔ خصوصاً وہ گھر جہاں پر خواتین نوکرےاں کرتی ہیں یا ان کا کوئی اور ذرےعہ معاش ہے وہاں پر مرد حضرات اپنی ذمہ دارےوں سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں کیونکہ انھیں کوئی معاشی پریشانی نہیں ہوتی تو دوسری طرف وہ اپنے احساسِ برتری کی بدولت گھرےلو امور کی انجام دہی میں بھی عورت کا ہاتھ نہیں بٹاتے اور کاہل بنے رہتے ہیں ۔ یوں عورت خود ہی ساری ذمہ دارےاںاپنے سر لے لےتی ہے اورشوہر پر بھی کام کرنے کے لےے دباﺅ نہیں ڈال سکتی ۔کیونکہ وہ اسے اپنا مجازی خدا جو سمجھتی ہے۔برطانوی سروے کے مطابق بھی پچاس سے ساٹھ فیصدناکام مردوں کے پیچھے خواتین کا ھاتھ ہوتا ہے کہ وہ گھر جہاں عورتےں ملازمت کرتی ہیں اور جہاں پر عورتیں مردوں پر بے جا تنقےد کرتی ہیں وہاں مرد اپنے شعبے میں کامےاب نہیں ہوتے۔
ہمارے یہاںیہ رویہ بھی عام ہے کہ اگر مرد نوکری کر کے یا کام کر کے گھر واپس لوٹے تو اس کی خوب آﺅ بھگت کی جاتی ہے ، لیکن عورت نوکری کر کے واپس لوٹے تو اسے عےاشی گردانا جاتا ہے اور زور دےا جاتا ہے کہ وہ آتے ساتھ ہی پورے گھر کی ذمہ دارےاں سنبھال لے۔ لہٰذا خواتین کے انھی روےوں کی بدولت مرد حضرات ناکامی کا منہ دےکھتے ہیں ۔
دوسری طرف یہ تمام باتیں اور معاشرتی روےے دین اسلام کے خلاف جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآنِ کریم نے انسان ہونے کے ناطے مردوں اور عورتوں کو یکساں مقام پر رکھا ہے۔قرآن کریم مصاف زندگی کے ہر گوشے اور ہر شعبے میں مردوں اور عورتوں کو ہم دوش اور ہم قدم قرار دےتا ہے سورة احزاب کی آےت نمبر 35 میں ہے ©©”بے شک مسلمان مرداور مسلمان عورتیں، فرمانبردار مرداور فرمانبردار عورتیںاور راست باز مرد اور راست باز عورتیںاور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور اﷲ کے آگے جھکنے والے مرد اور اﷲ کے آگے جھکنے والی عورتیںاور صدقہ دےنے والے مرد اور صدقہ دےنے والی عورتیںاور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اﷲ کو کثرت سے ےاد کرنے والے مرد اور اﷲ کو کثرت سے ےاد کرنے والی عورتیں، مہیا کر رکھی ہے اﷲ نے ان سب کے لےے مغفرت اور اجرِ عظیم۔“  ( قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آےات سے مزید راہنمائی لی جا سکتی ہے سورة النساءآےت نمبر124 ، سورة توبہ آےت نمبر 71، سورة آل عمران آےت نمبر 194، سورة الحج آےت نمبر 41)
لہٰذا مرد اور عورت دونوں ہی صالح اعمال کے نتیجہ میں جنت کے حقدار قرار دئےے گئے ہیں ۔اس میں شبہ نہیں کے تقسیمِ کار کے اصول کے مطابق زندگی کے کچھ وضائف ایسے ہیں جو عورتوں کے لےے مختص ہیں ( مثلاًافزائش نسل، بچہ کی پرورش اور تربےت) اور ان طبیعی فرائض کی سر انجام دہی میں وہ اکتساب رزق سے معذور ہو جاتی ہے۔ لہٰذا مردوں کے پاس اس کے لےے زیادہ وقت ہوتا ہے اسی لےے ان کی ذمہ داری اپنے اہل و عےال کے اکتساب رزق کی ٹھہرائی گئی ہے۔ لیکن مرد اور عورت کے باہمی رفاقت کے تعلق میں ایک کی حکومت اور ایک کی فرمانبرداری کسی بھی طور درست نہیں ۔
چنانچہ اگر ہم اپنی اخلاقےات اور تمام امور زندگی سے متعلق قرآن پاک سے راہنمائی حاصل کریں تو اس طرح کے انتہا پسند معاشرتی روےوں سے بچ سکتے ہیں ۔ خصوصاً خواتےن ہی ان روےوں کو جنم دیتی ہیں اور وہ خود اپنے اُس اصل مقام کو بھول جاتی ہیں جو قرآن کرےم نے انھیں دےا ہے۔لہٰذا کوئی بھی معاشرہ تبھی کامےابی کی منزل پاتا ہے جب اس کی خواتین افراد کی صحیح طریقے سے تربےت کریں۔ اگر خواتےن کمتری اور برتری کے روےوں کو ترک کر کے متوازن رویہ اپنائیں تو مرد اور عورت دونوں اپنے اپنے میدانوں میں کامےابی حاصل کریں گے۔
منصفانہ اور مثبت روےوں کی ترویج کے لےے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ والدین بچپن سے ہی بیٹا اور بیٹی کے ساتھ متوازن سلوک روا رکھیں ۔ تبھی یہ بچے بھی بڑے ہو کر ان روےوں پر عمل پیرا ہوں گے اور کبھی ناکامی کا سامنا نہیں کریں گے۔اس سلسلے میں مرد حضرات سے صرف اتنی گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ بھی خواتین پر اعتبار کرےں اور زندگی گزارنے کے لےے قرآنی قوانین پر عمل پیرا ہوں تو زندگی جنت بن جائے گی جہاں کامےابےاں ان کے قدم چومیں گی۔
تحرےر: ارفع رشےد عاربی

ناکام مرد حضرات کے پیچھے بھی خواتین کا ہاتھ؟ تحرےر: ارفع رشید عاربی یہ مقولہ تو مشہور ہے کہ کسی بھی کامےاب مردکے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ تو اس بات سے بھی انکار نہیں کہ کسی کامےاب عورت کے پیچھے بھی کسی مرد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دراصل مرد اور عورت خصوصاً مےاں بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہےے ہوتے ہیں جن کا ایک ساتھ چلنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ ایک پہےے کو کوئی مسئلہ در پیش آئے تو دوسرا بھی اپنی صحیح کارکردگی پیش نہیں کر پائے گا۔اسی لےے کامےاب زندگی گزارنے کے لےے مےاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے بہتر ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یعنی دونوں میں ہم آہنگی ہو، اےک دوسرے پر اعتبار ہو، ایک دوسرے کی کامےابےوں پر خوش ہونے کا حوصلہ ہو اور ناکامی پر ایک دوسرے کی ہمت بندھائیں۔ یہی کامےاب زندگی گزارنے کے طریقے ہیں لیکن اس میں توازن ہونا ضروری ہے۔یہ نہیں کہ عورت تو اپنے تمام فرائض سے عہدہ برآ ہو لیکن مرد اس میں کوتاہی کر جائے یا پھر مرد اپنے تمام فرائض ادا کرے لیکن عورت کوتاہی کر جائے۔لہٰذا جب تک توازن نہ ہو اسے کامےاب زندگی نہیں صرف ”گزارہ کرنا“ کا نام ہی دےا جا سکتا ہے۔حسد، جلن اور شک جیسی بیمارےاں دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دےتی ہیں اور معاشرہ انگلی صرف عورت پر ہی اٹھاتا ہے، لیکن یہ بات تو ماننے کی ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، دونوں کی کوتاہےاں ہی انھیں اس آخری صورتحال تک پہنچاتی ہیں۔  غرض جہاں تک کامےابی کی بات ہے تو تقریباً دنےا کے ہر کامےاب مرد نے اپنی کامےابی کا سہرا ایک عورت کے سر ڈالا۔ مثلاً بانی¿ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒنے بھی ہمیشہ اپنی کامےابی کا ذمہ دار اپنی بہن فاطمہ جناحؒ کو ٹھہراےا۔ ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چئیرمین محترم مجید نظامی کا کہنا ہے ” حضرت فاطمہ جناحؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قائدِاعظم ؒ کو بانی¿ پاکستان بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا“ لہٰذا عورت ماں ، بہن ،بےوی، بیٹی اور بہو ہر روپ میں مرد کو سہارا دےتی رہی ہے۔کیونکہ عورت کی بنےادی ذمہ داری گھر گرہستی کے ساتھ ساتھ قوموں کی بہترین پرورش رہی ہے اسی لےے وہ زےادہ جذباتی اور حساس طبیعت کی مالک ہوتی ہے ایک طرف وہ بچے کی پیدائش سے لے کر جوانی تک اس کی پرےشانیوں میں اسے سہارا دےتی ہے تو دوسری طرف اسے یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی بھی دوسروں کی مشکلات میں ان کے کام آئیںاور ےوں وہ انہیں ان کی ذمہ دارےوں کا احساس دلاتی رہتی ہے۔اگر عورت اپنی یہ ذمہ دارےاں صحیح طریقے سے نہیں نبھاتی تو افراد میں ذاتی برتری اور دوسروں کو کم تر سمجھنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔یہی حال ہمارے پاکستانی معاشرے کا ہے اور اسے مردوں کا معاشرہ کہا جاتا ہے ۔ آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ پاکستان کے آغاز سے ہی مردوں کی سوسائٹی غالب آ گئی اور عورتیں ان کے زےرنگہیں؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہماری اکثر ماﺅں نے ہمیشہ لڑکی پر لڑکے کو فوقیت دی۔کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے تک ،لڑکی کو بات بات پر ٹوکا گےا اور لڑکے کو کھلی چھٹی دے دی گئی کہ وہ تو خاندان کا وارث اور کماﺅبنے گا۔ ان روےوں کو دےکھتے ہوئے لڑکے نے بھی اپنے آپ کو لڑکی کے مقابلے میں اعلٰی اور بر تر گرداننا شروع کر دےا۔اسی طرح جب لڑکی جوان ہو تو اس کی شادی کے وقت اسے بے شمار نصیحتیںکی جاتی ہیں کہ سسرال ہی تےرا اپنا گھر ہے،اب وہاں سے تےرا جنازہ ہی اٹھے گا، شوہر کی ہر بات کو ماننا وغےرہ وغےرہ۔ لہٰذا لڑکی ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش میں انتہائی تابعدار اور فرمانبردار بن جاتی ہے کہ شوہر اور سسرالیوں کی ہر جائز و نا جائز بات کو ماننا اپنا فرض سمجھتی ہے۔اسی احساس برتری کی بدولت مردوں نے عورتوں کی صحیح بات کو بھی ماننے سے انکار کیایا اسے اپنی توہین سمجھا۔ یوں برتری اور کمتری کے روےوں نے معاشرے میں مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ لےے ۔ مندرجہ بالا صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی یہ بات بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ناکام مرد حضرات کے پیچھے بھی خواتین کا ہاتھ ہوتا ہے۔ خصوصاً وہ گھر جہاں پر خواتین نوکرےاں کرتی ہیں یا ان کا کوئی اور ذرےعہ معاش ہے وہاں پر مرد حضرات اپنی ذمہ دارےوں سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں کیونکہ انھیں کوئی معاشی پریشانی نہیں ہوتی تو دوسری طرف وہ اپنے احساسِ برتری کی بدولت گھرےلو امور کی انجام دہی میں بھی عورت کا ہاتھ نہیں بٹاتے اور کاہل بنے رہتے ہیں ۔ یوں عورت خود ہی ساری ذمہ دارےاںاپنے سر لے لےتی ہے اورشوہر پر بھی کام کرنے کے لےے دباﺅ نہیں ڈال سکتی ۔کیونکہ وہ اسے اپنا مجازی خدا جو سمجھتی ہے۔برطانوی سروے کے مطابق بھی پچاس سے ساٹھ فیصدناکام مردوں کے پیچھے خواتین کا ھاتھ ہوتا ہے کہ وہ گھر جہاں عورتےں ملازمت کرتی ہیں اور جہاں پر عورتیں مردوں پر بے جا تنقےد کرتی ہیں وہاں مرد اپنے شعبے میں کامےاب نہیں ہوتے۔ہمارے یہاںیہ رویہ بھی عام ہے کہ اگر مرد نوکری کر کے یا کام کر کے گھر واپس لوٹے تو اس کی خوب آﺅ بھگت کی جاتی ہے ، لیکن عورت نوکری کر کے واپس لوٹے تو اسے عےاشی گردانا جاتا ہے اور زور دےا جاتا ہے کہ وہ آتے ساتھ ہی پورے گھر کی ذمہ دارےاں سنبھال لے۔ لہٰذا خواتین کے انھی روےوں کی بدولت مرد حضرات ناکامی کا منہ دےکھتے ہیں ۔دوسری طرف یہ تمام باتیں اور معاشرتی روےے دین اسلام کے خلاف جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآنِ کریم نے انسان ہونے کے ناطے مردوں اور عورتوں کو یکساں مقام پر رکھا ہے۔قرآن کریم مصاف زندگی کے ہر گوشے اور ہر شعبے میں مردوں اور عورتوں کو ہم دوش اور ہم قدم قرار دےتا ہے سورة احزاب کی آےت نمبر 35 میں ہے ©©”بے شک مسلمان مرداور مسلمان عورتیں، فرمانبردار مرداور فرمانبردار عورتیںاور راست باز مرد اور راست باز عورتیںاور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور اﷲ کے آگے جھکنے والے مرد اور اﷲ کے آگے جھکنے والی عورتیںاور صدقہ دےنے والے مرد اور صدقہ دےنے والی عورتیںاور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اﷲ کو کثرت سے ےاد کرنے والے مرد اور اﷲ کو کثرت سے ےاد کرنے والی عورتیں، مہیا کر رکھی ہے اﷲ نے ان سب کے لےے مغفرت اور اجرِ عظیم۔“  ( قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آےات سے مزید راہنمائی لی جا سکتی ہے سورة النساءآےت نمبر124 ، سورة توبہ آےت نمبر 71، سورة آل عمران آےت نمبر 194، سورة الحج آےت نمبر 41)لہٰذا مرد اور عورت دونوں ہی صالح اعمال کے نتیجہ میں جنت کے حقدار قرار دئےے گئے ہیں ۔اس میں شبہ نہیں کے تقسیمِ کار کے اصول کے مطابق زندگی کے کچھ وضائف ایسے ہیں جو عورتوں کے لےے مختص ہیں ( مثلاًافزائش نسل، بچہ کی پرورش اور تربےت) اور ان طبیعی فرائض کی سر انجام دہی میں وہ اکتساب رزق سے معذور ہو جاتی ہے۔ لہٰذا مردوں کے پاس اس کے لےے زیادہ وقت ہوتا ہے اسی لےے ان کی ذمہ داری اپنے اہل و عےال کے اکتساب رزق کی ٹھہرائی گئی ہے۔ لیکن مرد اور عورت کے باہمی رفاقت کے تعلق میں ایک کی حکومت اور ایک کی فرمانبرداری کسی بھی طور درست نہیں ۔ چنانچہ اگر ہم اپنی اخلاقےات اور تمام امور زندگی سے متعلق قرآن پاک سے راہنمائی حاصل کریں تو اس طرح کے انتہا پسند معاشرتی روےوں سے بچ سکتے ہیں ۔ خصوصاً خواتےن ہی ان روےوں کو جنم دیتی ہیں اور وہ خود اپنے اُس اصل مقام کو بھول جاتی ہیں جو قرآن کرےم نے انھیں دےا ہے۔لہٰذا کوئی بھی معاشرہ تبھی کامےابی کی منزل پاتا ہے جب اس کی خواتین افراد کی صحیح طریقے سے تربےت کریں۔ اگر خواتےن کمتری اور برتری کے روےوں کو ترک کر کے متوازن رویہ اپنائیں تو مرد اور عورت دونوں اپنے اپنے میدانوں میں کامےابی حاصل کریں گے۔ منصفانہ اور مثبت روےوں کی ترویج کے لےے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ والدین بچپن سے ہی بیٹا اور بیٹی کے ساتھ متوازن سلوک روا رکھیں ۔ تبھی یہ بچے بھی بڑے ہو کر ان روےوں پر عمل پیرا ہوں گے اور کبھی ناکامی کا سامنا نہیں کریں گے۔اس سلسلے میں مرد حضرات سے صرف اتنی گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ بھی خواتین پر اعتبار کرےں اور زندگی گزارنے کے لےے قرآنی قوانین پر عمل پیرا ہوں تو زندگی جنت بن جائے گی جہاں کامےابےاں ان کے قدم چومیں گی۔                               تحرےر: ارفع رشےد عاربی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button