Ultimate magazine theme for WordPress.

ناموس رسالت، نواز شریف گزیز پا کیوں؟

55

عثمان حسن زئی
[email protected]
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں ملک بھر کی دینی، مذہبی، سیاسی جماعتوں اور مشائخ عظام کی شرکت دینی حلقوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت اور ہوا کا خوشگوار جھونکا ہے۔ کافی عرصے سے ملک کی دینی اور مذہبی جماعتوں میں باہمی اعتماد کا فقدان نظر آرہا تھا۔ بہت سے حلقے قانون ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے دینی جماعتوں کے اتحاد اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس کانفرنس میں ملک کی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کی شرکت سے اب مستقبل کی دھندلی نہیں بلکہ واضح تصویر ابھر کر نظر آنے لگی ہے۔ ناموس رسالت ایکٹ کے حوالے سے سیکولر اور روشن خیال لابیوں کی سازشوں کے تناظر میں قوم نے کانفرنس میں شریک دینی اور سیاسی جماعتوں سے امیدیں اور توقعات وابستہ کرلی ہیں۔ اجلاس کے دوران مجلس احرام اسلام کے مولانا عطاءالمومن شاہ بخاری نے مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ دعوت کے باوجود میاں نواز شریف اور راجہ ظفر الحق نے شرکت نہیں کی تاہم اسلام آباد سے مسلم لیگ ن کی نمایندگی کے لیے ڈاکٹر فضل طارق آئے تھے۔
قانون تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں اور یہ ملک میں خانہ جنگی اور بدامنی پیدا کرنے کے لیے استعماری سازشوں کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اس کے تحفظ کے لیے میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ لیکن دوسری طرف سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب تمام جماعتیں ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوکر احتجاجی تحریک چلانے کے لیے اکٹھی ہورہی ہیں تو ن لیگی قیادت نے پر اسرار خاموشی کیوں اختیار کی ہوئی ہے۔ آپ اس سارے معاملے کا بنظر غائر جائزہ لیں تو محسوس کرلیں گے کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے قائد میاں نواز شریف توہین رسالت ایکٹ کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنے اور اس قانون کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مذمت کرنے سے کتراتے رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ میاں صاحب اپنی جماعت اور کارکنوں پر انحصار کرتے ہوئے حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہیں کہ وہ تن تنہا پرواز کے موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ نواز شریف اس کل جماعتی کانفرنس کی اہمیت کو سمجھ ہی نہیں سکے یا انہوں نے اسے اہمیت ہی نہیں دی۔ لیکن اس سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کانفرس میں شرکت کے لیے اہمیت کی حامل کسی بھی قابل ذکر شخصیت کو نہ بھیج کر تمام جماعتوں کو پیغام دے دیا ہے کہ انہیں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اسی باعث وہ مسلم لیگ ق سمیت ملک کی چھوٹی جماعتوں کو لفٹ نہیں کرارہے کیونکہ وہ آیندہ انتخابات میں کلین سوئپ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
میاں نواز شریف ناموس رسالت پر اپنا موقف واضح کرنے سے گریز پا کیوں ہیں؟ اس سے ان کے متعلق شکوک و شبہات میں اضافہ ہورہا ہے۔ حالانکہ ان کے والد کے حکم پر ہی تو توہین رسالت کے انسدادی قوانین کا بل پاس ہوا لیکن آج جب سیکولر طبقے اس کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہیں تو میاں صاحب اس کے تحفظ کے لیے کچھ کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ مسلم لیگ ن ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اس کے کارکن اور عہدیدار وں کی غالب ترین اکثریت قانون ناموس رسالت کے تحفظ کی حامی ہے اس کے باوجود میاں صاحب کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر موصوف قوم کی امنگوں، امیدوں، توقعات اور خواہشات کا لحاظ نہیں کرسکتے تو کم از کم اپنی ہی جماعت کے کارکنان کا خیال کریں۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ نواز شریف نے خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے بلکہ اس سے قبل بھی ایسے کئی مرحلے آئے جب موصوف نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ جولائی 2007ءلندن میں اے پی سی میں شریک متعدد قائدین نے ملکہ برطانیہ کی جانب سے سلمان رشدی کو ”سر“ کا خطاب دینے پر شدید تنقید کی اور قاضی حسین احمد نے مذمتی قرار داد پاس کرنے کی تجویز دی لیکن میاں نواز شریف نے رسید تک نہ دی مگر یہ میاں نواز شریف ہی تھے جنہوں نے قادیانیوں کو اپنا بھائی قرار دیا۔ حالانکہ قادیانی کبھی بھی مسلمان کا بھائی نہیں ہوسکتا۔ لیکن آج تک انہوں نے اپنے بیان پر معذرت یا وضاحت نہیں کی۔ میاں نواز شریف نے 18 فروری 2008ءکی انتخابی مہم کے دوران سانحہ لال مسجد کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے نعرے تو لگائے،بعض مبصرین کا خیال ہے کہ لال مسجد کے ایشو پر انہیں زیادہ سیٹیں ملیں۔ لیکن جب موصوف پیپلزپارٹی کے ساتھ شریک اقتدار ہوئے تو پاکستان کی تاریخ کے اس سیاہ سانحے کے ذمہ داروں کا تعین اور انہیں گرفتار کرنا تو کجا موصوف تو سرے سے اس واقعہ اور اس کے شہداءکے لواحقین کے ذکر اور ان سے کیے گئے وعدوں کو بھلا بیٹھے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب ملک کے ایک اہم اور ذمہ دار سیاست دان ہیں انہیں اپنے وعدوں سے مکرنا یا پھرنا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے عوام مزید متنفر ہوں گے۔ میاں صاحب کی جلاوطنی کے 10سال پورے ہوگئے ہیں۔ اس پورے عرصے میں مذہبی حلقے نواز شریف صاحب کے رویے اور ان کے روشن خیال طبقے کی طرف جھکاﺅ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ موصوف کے اقدامات محب وطن اور محب دین حلقوں کے لیے زیادہ خوش کن اور حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ قوم یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے اور آیندہ انتخابت بھی اب زیادہ دور نہیں ۔اگر میاں صاحب مستقبل میں اقتدار کے حصول کے خواہشمند ہیں تو انہیں سب سے پہلے قوم سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرکے دکھانا ہوگا۔ دوم، ناموس رسالت کے مسئلے پر اپنی پر اسرار خاموشی کو توڑتے ہوئے نئے دینی قوتوں کا بھر پور ساتھ دینا ہوگا۔ سوم، ہر دینی اور مذہبی معاملے پر اپنی آئینی، دینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانا ہوگا تب ہی وہ ملک کے معتبر سیاست دان بن سکتے ہیں۔ اگر میاں صاحب نے ناموس رسالت ایکٹ پر میدان عمل میں جلد اترنے کا فیصلہ نہ کیا اور وہ قوم کی امیدوں پر پورا نہ اترے تو انہیں سیاسی طور پر بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.