ادارتی کالم

فیصلہ میاں نواز شریف کے ہاتھ میں

(عثمان حسن زئی)
[email protected]
سابق وزیراعظم اور نواز لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندی 10دسمبر کو ختم ہوجائے گی اور وہ سیاست سمیت تمام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف نے دسمبر 2000ءکو رضا کارانہ جلاوطنی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے لیے انہوں نے سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ کو ایک معافی نامہ بھی ارسال کیا تھا۔جس کے بعد اس وقت کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے صدر تارڑ کو ایڈوائس دی تھی کہ وہ اس رضا کارانہ جلاوطنی کے معاہدے کو منظور کرلیں۔ معاہدے کی ضمانت سعودی حکومت نے دی تھی۔
جب پیپلزپارٹی نے میاں شہباز شریف کی پنجاب حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا تو نوازشریف نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک جلسہ عام سے خطاب کیا تھا جس پر سعودی حکومت نے ان کو طلب کر کے معاہدہ یاد دلایا تو نوازشریف صاحب لندن میں خاموشی سے قیام پذیر ہو گئے تھے ۔ بعد میں واپس آکر 10دسمبر 2010ءکا انتظار کرنے لگے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر ”فرینڈلی اپوزیشن“ کا کردار ادا کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور انہی مجبوریوں کے باعث وہ حکمران اتحاد کے خلاف کھل کر میدان میں آنے سے کتراتے رہے ہیں۔ اب میاں صاحب کی سیاسی روپوشی کا وقت اختتام کی سمت بڑھ رہا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق دسمبر اور جنوری میں سرد موسم کے باوجود سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہاں فطری طور پر اس مبینہ معاہدے کے حوالے سے ذہن کے کینوس پر چند سوالات ابھرتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس معاہدے کا جواز اور اخلاقی حیثیت کیا تھی؟ اگر خود کو منتخب اور جمہوری حکومت کہلوانے والی حکومت کا انجام یہی ہونا ہے کہ اس کا وزیراعظم اپنے ماتحت جنرل سے معافیاں مانگتا پھرے تو ایسی جمہوریت پاکستان کے عوام کے کسی کام کی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ رفیق تارڑ تو نوازشریف کی مہربانیوں سے صدر بنے تھے اور آئینی اعتبار سے صدر پاکستان مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے جنرل مشرف سے کسی قسم کی جواب طلبی نہیں کی تو آخرکیوں؟ اس سوال کا جواب آج تک کسی بھی طرف سے نہیں ملا۔ پھر مشرف صاحب نے جس طرح ملک کا بیڑا غرق کیا اس کے اثرات سے تاحال ہم نکل نہیں سکے۔ بیرونی آقاﺅں کے ایک ٹیلیفون کال پر ڈھیر ہونے والا قوم کو ”مکا“ دکھاتا رہا۔مشرف پورے 10سال تک من مانیاں کرنے کے بعد اقتدار سے علیحدہ ہوئے اور 10,10بار وردی میں منتخب کرانے کادعویٰ کرنے والوں نے بھی اپنے جنرل کا ساتھ چھوڑ دیا۔ خیر بات کہیں اور نکل جائے گی۔
الغرض اس پس منظر میں رفیق تارڑ کو نواز شریف کا معافی نامہ بھیجنا ہی عجیب معاملہ ہے۔ بالفرض اگر میاں صاحب نے کوئی غیر آئینی اقدام کیا تھا تو اس کے حل کا بھی آئینی طریقہ کار موجود ہے۔ لیکن یہ کام بھی اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہمارے ہاں آئین کو آئین سمجھا بھی جائے۔
جب ایک فوجی سربراہ یہ کہے کہ میں آئین کو پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں تو پھر اس کے تذکرے کی بھی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔ رفیق تارڑ خود قانون دان رہے ہیں کیا ان کو ملک کے اہم ترین منصب پر فائز ہوتے ہوئے اس بات کا علم نہیں تھا؟
اگر وہ اس سلسلے میں بروقت مناسب آئینی اقدامات کرتے تو قوم ان لاتعداد مسائل اور مشکلات سے بچ سکتی تھی جن سے اب تک دوچار ہے۔ برسبیل تذکرہ، تارڑ صاحب آج کل ہیںکہاں؟ بہر حال اس سارے معاملے سے جو صورت حال سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی کیا ضمانت ہے کہ آیندہ ایسے واقعات نہیں ہوسکیں گے۔ بات تکلیف دہ ہے لیکن پاکستان کے 63ءمیں سے 40 سال ایسے ہی المیوں کی داستانوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب کی رضا کارانہ جلاوطنی اور معافی نامے کی اپنی حیثیت کیا ہے؟ کیا کسی قومی جرم کا اعتراف؟ اگر ہاں ہے تو اس صورت میں جلا وطنی سرے سے کوئی سزا ہی نہیں۔ میاں صاحب پر باقاعدہ مقدمہ چلنا چاہیے۔ مگر اصل میں تو معاملہ یہ ہے ہی نہیں بلکہ بالکل الٹا ہے۔ وہ یوں کہ اگر میاں صاحب نے کوئی غیر آئینی اقدام نہیں کیا اور بحیثیت وزیراعظم اپنا آئینی اختیار استعمال کیا (چاہے اس سلسلے میں ان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو) تو اس میں اعتراض کیسا؟اور اگر انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا تو پھر آئین کے مطابق اقدام ہوناچاہیے تھا۔ جلاوطنی کا معاہدہ بجائے خود ایک معمہ ہے۔ حالانکہ میاں برادران ایسے کسی بھی معاہدے سے انکار کرتے رہے ہیں جبکہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اگر دونوں بھائی ذرا جرا¿ت سے کام لے کر کہہ دیتے کہ ہم عمر بھر جیل میں رہنا پسند کریں گے لیکن ایسے ذلیل معاہدے پر ہر گز راضی نہیں ہوں گے تو ان دونوں کا سیاسی اور اخلاقی قد اس حد تک بلند ہوجاتا کہ پھر ساری عالمی برادری کادباﺅ مشرف پر پڑجاتا اور اسے میاں برادران کو باعزت طور پر رہا کرنا پڑتا اور شاید آج قومی منظرنامہ کچھ اور ہی ہوتا۔
بہر حال اب قدرت نے دونوں بھائیوں کے لیے راستہ کھول دیا ہے تو اس نے اپنی قدرت بھی ظاہر کردی ہے کہ کل تک جو مشرف ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنا ہوا تھا اور میاں برادران کو پاکستانی ہوائی اڈے سے جبراً ہی ملک بدر کردیتا تھا۔ آج وہ خود ملک بدر اور دربدرہے اور میاں برادران حکومت پر فائز ۔یہ ان کے لیے مقام شکر بھی ہے اور مقام فکر بھی۔ قدرت ہی کا فرمان ہے کہ یہ تو دنوں کی گردش ہے جو ہم لوگوں کے درمیان کرتے رہتے ہیں۔
اب یہاں دونوں بھائیوں کی سب سے پہلی اور سب سے اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک کے عوام کے لیے امن وامان، رہائش، روزگار، تعلیم اور سوشل سیکورٹی جیسی بنیادی سہولیات پر توجہ دیں اور دوسرے صوبوں کے ذمہ داران کی توجہ بھی اس طرف مبذول کروائیں۔ اس سلسلے میں ہر صوبے کی سطح پر اپنی پارٹی کے منصب داران اور کارکنان کو نگران بنائیں۔ کیونکہ اب روایتی جلسے جلوس کی سیاست قوم کو زیادہ متاثر نہیں کرسکے گی۔ عوامی مسائل اور مشکلات میں حد درجہ اضافہ ہوتا جارہا ہے اس طرف عدم توجہ سے ایسی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے جس پر قابو پانا حکمرانوں کے لیے آسان نہ ہوگا۔ اس سلسلے میں حکمرانوں کو چاہیے کہ آرجی ایس ٹی اور فلڈٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پرواپس لیں۔ کیونکہ اس اقدام سے غریب عوام پر منفی اثرات پڑیں گے۔
آخر میں میاں نوازشریف سے صاف گوئی اور سنجیدگی سے عرض کریں گے کہ انہوں نے قادیانی ملعونوں کو بغیر سوچے سمجھے اپنا بھائی کہہ ڈالا ہے۔ اس پر وہ کسی قیل وقال کے بغیر اپنے رب کے حضور تو بہ استغفار کریں ۔ تاکہ نبی آخر والزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق بھی بن سکیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قادیانیت ایسی بدترین لعنت اور نحوست ہے کہ ہر مسلمان کو اس کے سائے سے بھی دور رہنا چاہیے کیونکہ حضرت نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وعظمت کے ڈاکوﺅں سے کسی مسلمان کا کسی بھی طور اور کسی بھی سطح پر واسطہ ممکن ہی نہیں۔ فیصلہ اب میاں نوازشریف کے ہاتھ میں ہے۔!

Related Articles

جواب دیں

Back to top button