ادارتی کالم

علماءومزارات پر حملے،عالمی گریٹ گیم کی کڑیاں

علماءومزارات پر حملے،عالمی گریٹ گیم کی کڑیاں
دہشت گردوں نے ایک بار پھر ملک کی معاشی شاہ رگ پر حملہ کیا اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جمعرات کے روز عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر ہونے والے دو خودکش حملوں میں اب تک 15 افراد جاں بحق جبکہ 85 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ جن میں درجنوں افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے
آج سے تین ماہ قبل یکم جولائی کو داتا دربار پر بھی دہشت گردوں نے حملے کیے تھے۔ کراچی کے حالیہ خودکش حملوں اور داتا دربار پر ہونے والے بم دھماکوں میں خاصی مماثلث پائی جاتی ہے۔ داتا دربار پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں واقع اہم ترین مزار ہے، جبکہ عبداللہ شاہ غازی کا مزار ملک کے سب سے بڑے شہر میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ ان دونوں واقعات میں دہشت گردوں نے جمعرات کے دن کا انتخاب کیا۔دونوں مقامات پر دو خودکش حملے کیے گئے۔ جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ مزار پر ہونے والے دھماکے ہمارے دور کا پہلا خودکش حملہ ہیں۔ قائم علی شاہ کا مذکورہ دعویٰ اپنی جگہ، مگر ان حملوں نے سیکورٹی کے حوالے سے حکومتی دعوﺅں کی قلعی ضرور کھول دی ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے شہر بھر میں کروڑوں روپے کی لاگت سے کلوز سرکٹ کیمروں کا جال بچھایا تو اس اہم مقام کو کیوں نظر انداز کردیا گیا۔ مزار پر سیکورٹی کیمروں کے نظام کی عدم موجودگی کے باعث حملوں کی فوٹیج نہیں بن سکی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب مزار کی سیکورٹی کے لیے نصب تین واک تھرو گیٹ کئی ماہ سے خراب تھے تو حکومتی اور سیکورٹی اداروں نے اس جانب توجہ کیوں نہیں دی۔ ہمارے حکمرانوں کی ”سنجیدگی“ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے لگائے جانے والے کلوز سرکٹ کیمرے جگہ جگہ خراب پڑے ہیں، مگر کوئی بھی نوٹس نہیں لے رہا۔ حالانکہ میڈیا اس کی نشاندہی کرچکا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران امن و امان کی بحالی اور حکومتی رٹ قائم کرنے میں کتنے مخلص ہیں۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ جب کلوز سرکٹ فعال تھے تب بھی دہشت گردوں کے حملے جاری تھے اور اگر اب وہ خراب پڑے ہیں تب بھی حسب معمول حملے ہورہے ہیں۔لہٰذا یہ کیمرے بجائے خود ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
ملک کے صنعتی ہب میں ہونے والے خودکش حملے کوئی اتفاقیہ یا اچانک نہیں ہیں۔ اگر گہرائی میں جاکر جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت اور انتشار کو ہوا دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد انار کی اور بے چینی پھیلانا ہے۔ ان حملوں کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب مدارس کی نمایندہ تنظیموں اور حکومت کے مابین مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخلے ہورہے تھے۔ لہٰذا اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان سے مدارس اور حکومت کے مابین غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا کی جائیں۔دوسری طرف ان حملوںکے ساتھ ساتھ علماءکرام کو مسلسل ہدفی قتل کا نشانہ بنانے سے بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ جامعہ بنوریہ کے استاذ الحدیث مولانا محمد امین کی شہادت کا واقعہ ان حملوں سے صرف دو روز قبل ہوا۔ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاﺅن کے مشفق اور درویش صفت استاذ مولانا انعام اللہ (جو کہ راقم کے استاد بھی تھے) کو بھی شہید کردیا گیا۔ کراچی ہی کی سڑکوں پر کئی اکابر علماءکرام کو شہید کیا جاچکا ہے۔ وفاق المدارس کی انتظامیہ علماءکرام کی سیکورٹی فول پروف بنانے کے حوالے سے بارہا حکومت سے مطالبہ کرچکی ہے، مگر افسوس تو اس بات پر ہے کہ حکمران اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ اہلسنت و الجماعت کے علماءکرام اور کارکنان مسلسل ہدفی قتل کی زد میں ہیں مگر نہ تو مذہبی رہنماﺅں کو سیکورٹی دی جارہی ہے اور نہ ہی ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں اور وہ مسلسل اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس پورے منظر نامے سے محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں مسلک کے نام پر لڑوانے کے لیے اسٹیج سجایا جارہا ہے۔ کیونکہ ایک طرف علماءکرام کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف مزارات پر حملے کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ گویا یہ مسلکی لڑائی ہے۔ اس لڑائی میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث سمیت کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بخشا نہیں جارہا۔ باالفاظ دیگر کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد محفوظ نہیں ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ عالمی پائے کے رہنما اور غیر جانبدار حضرات کو بھی میدان میں لانے اور اس کھیل کا حصہ بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس کی ایک مثال گزشتہ دنوں اس وقت سامنے آئی جب وزارت داخلہ نے تبلیغی جماعت کے بزرگ حاجی عبدالوہاب صاحب اور مولانا طارق جمیل صاحب کو دہشت گردوں سے خطرات لاحق ہونے کی وارننگ جاری کی۔ جبکہ بلاشبہہ یہ حضرات فرقہ واریت اور مسلکی باتوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔ اگر ان جیسے بزرگ بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں جن سے کسی کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں تو اس کا اس کے سوا اور کیا مطلب ہے کہ یہ بھی عالمی گریٹ گیم کا ایک اہم حصہ ہے۔ سیکورٹی ادارے کے ایک اہم ذمہ دار فرد گزشتہ دنوں بیان دے چکے ہیں کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عالمی سازش کا حصہ ہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی کراچی میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں ہیں۔ ملک کا معاشی ہب گزشتہ دو سالوں سے مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔ حکومت اس سلسلے کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ کراچی کے باسیوں میں خوف و ہراس کی فضا پنپ رہی ہے۔ لوگوں کے کاروبار ٹھپ اور ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ کوئی صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے یقین نہیں ہوتا کہ صحت و سلامتی کی حالت میں لوٹ سکے گا یا نہیں۔ ملکی سلامتی کے لاتعداد ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں اور دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور انہیں کٹہرے میں لاکھڑا کرنے میں تاحال ناکامی سے دوچار ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کے باسیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال بجا طور پر اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس گریٹ گیم کے لیے دہشت گردوں نے کراچی کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ شہر قائد ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر طبقے، ہر رنگ اور ہرزبان کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ ملک کو 70 فیصد ریونیو دینے والا اہم ترین شہر ہے جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوں کراچی میں بدامنی پھیلنے سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ پورے ملک کا سیاسی نظام تتر بتر ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت بھی غیر مستحکم ہوجاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور عالمی بازیگروں نے ملک کے اہم ترین شہر کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ خوف و ہراس کی فضا میں اینٹی پاکستان طاقتیں پوری طرح متحرک ہوجاتی ہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی بیرونی طاقت کھل کر مداخلت کرنے اور اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی پوزیشن میں آجاتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کا یہ بیان میڈیا میں شائع ہوچکا ہے کہ کراچی ٹارگٹ کلنگ میں تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔ کبھی لسانیت کے نام پر لوگوں کو تقسیم کیا جاتا ہے تو کبھی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ایک دوسرے کے مد مقابل لانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کبھی علماءکرام اور مزارات پر حملے کرکے اسے مذہبی رنگ دینے کی سازش کی جاتی ہے۔ ورنہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام، بے ضرر اور نہتے لوگوں کو دھماکوں میں اڑانے سے کسی کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان حالات سے محسوس ہوتا ہے کہ اینٹی پاکستان گروہ پوری طرح متحرک اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوچکے ہیں۔ اگر ہم بروقت نہ سنبھل سکے تو معاملات ہاتھوں سے نکلتے چلے جائیں گے۔ کیونکہ شاید اب یہ لوکل سطح کا مسئلہ نہیں رہا۔
ان حالات میں حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہمارے مذہبی رہنماﺅں کی اہمیت، ضرورت اور ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ راہنمایان قوم کو آگے بڑھ کر ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینا اور خفیہ ہاتھ کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ جہاں تک ملک میں پے درپے ہونے والے خودکش حملوں کی بات ہے تو یہ بات تو یقینی ہے کہ خودکش حملہ آوروں کو ان کے عزائم سے روکنے کے لیے تاحال کوئی ایسی ٹیکنالوجی ایجاد نہیں ہوئی جس سے ان کے حملوں کا توڑ کیا جاسکے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ دوم، جو لوگ اس عمل کے ماسٹر مائنڈ ہیں انہیں تلاش کرکے کیفر کردار کو پہنچانا ہوگا۔ اس کے لیے ہماری ایجنسیوں کو فعال ادا کرنا ہوگا۔ حکمران بھی اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر ملکی سلامتی اور خودمختاری کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ملک کے نامی گرامی سیاست دان حکمرانوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔
علاوہ ازیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھے۔ اگر ہم آپس کے اختلافات میں الجھ گئے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنے سے باز نہ آئے تو دشمنوں کے مقاصد پورے ہونے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ لہٰذا اس وقت ہمیں ایک قوم بن کر بھائی چارگی اور اتحاد سے اپنی بقا کی جنگ لڑنا ہوگی۔

علماءومزارات پر حملے،عالمی گریٹ گیم کی کڑیاںعثمان حسن زئی[email protected]دہشت گردوں نے ایک بار پھر ملک کی معاشی شاہ رگ پر حملہ کیا اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جمعرات کے روز عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر ہونے والے دو خودکش حملوں میں اب تک 15 افراد جاں بحق جبکہ 85 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ جن میں درجنوں افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہےآج سے تین ماہ قبل یکم جولائی کو داتا دربار پر بھی دہشت گردوں نے حملے کیے تھے۔ کراچی کے حالیہ خودکش حملوں اور داتا دربار پر ہونے والے بم دھماکوں میں خاصی مماثلث پائی جاتی ہے۔ داتا دربار پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں واقع اہم ترین مزار ہے، جبکہ عبداللہ شاہ غازی کا مزار ملک کے سب سے بڑے شہر میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ ان دونوں واقعات میں دہشت گردوں نے جمعرات کے دن کا انتخاب کیا۔دونوں مقامات پر دو خودکش حملے کیے گئے۔ جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ مزار پر ہونے والے دھماکے ہمارے دور کا پہلا خودکش حملہ ہیں۔ قائم علی شاہ کا مذکورہ دعویٰ اپنی جگہ، مگر ان حملوں نے سیکورٹی کے حوالے سے حکومتی دعوﺅں کی قلعی ضرور کھول دی ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے شہر بھر میں کروڑوں روپے کی لاگت سے کلوز سرکٹ کیمروں کا جال بچھایا تو اس اہم مقام کو کیوں نظر انداز کردیا گیا۔ مزار پر سیکورٹی کیمروں کے نظام کی عدم موجودگی کے باعث حملوں کی فوٹیج نہیں بن سکی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب مزار کی سیکورٹی کے لیے نصب تین واک تھرو گیٹ کئی ماہ سے خراب تھے تو حکومتی اور سیکورٹی اداروں نے اس جانب توجہ کیوں نہیں دی۔ ہمارے حکمرانوں کی ”سنجیدگی“ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے لگائے جانے والے کلوز سرکٹ کیمرے جگہ جگہ خراب پڑے ہیں، مگر کوئی بھی نوٹس نہیں لے رہا۔ حالانکہ میڈیا اس کی نشاندہی کرچکا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران امن و امان کی بحالی اور حکومتی رٹ قائم کرنے میں کتنے مخلص ہیں۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ جب کلوز سرکٹ فعال تھے تب بھی دہشت گردوں کے حملے جاری تھے اور اگر اب وہ خراب پڑے ہیں تب بھی حسب معمول حملے ہورہے ہیں۔لہٰذا یہ کیمرے بجائے خود ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ملک کے صنعتی ہب میں ہونے والے خودکش حملے کوئی اتفاقیہ یا اچانک نہیں ہیں۔ اگر گہرائی میں جاکر جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت اور انتشار کو ہوا دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد انار کی اور بے چینی پھیلانا ہے۔ ان حملوں کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب مدارس کی نمایندہ تنظیموں اور حکومت کے مابین مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخلے ہورہے تھے۔ لہٰذا اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان سے مدارس اور حکومت کے مابین غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا کی جائیں۔دوسری طرف ان حملوںکے ساتھ ساتھ علماءکرام کو مسلسل ہدفی قتل کا نشانہ بنانے سے بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ جامعہ بنوریہ کے استاذ الحدیث مولانا محمد امین کی شہادت کا واقعہ ان حملوں سے صرف دو روز قبل ہوا۔ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاﺅن کے مشفق اور درویش صفت استاذ مولانا انعام اللہ (جو کہ راقم کے استاد بھی تھے) کو بھی شہید کردیا گیا۔ کراچی ہی کی سڑکوں پر کئی اکابر علماءکرام کو شہید کیا جاچکا ہے۔ وفاق المدارس کی انتظامیہ علماءکرام کی سیکورٹی فول پروف بنانے کے حوالے سے بارہا حکومت سے مطالبہ کرچکی ہے، مگر افسوس تو اس بات پر ہے کہ حکمران اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ اہلسنت و الجماعت کے علماءکرام اور کارکنان مسلسل ہدفی قتل کی زد میں ہیں مگر نہ تو مذہبی رہنماﺅں کو سیکورٹی دی جارہی ہے اور نہ ہی ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں اور وہ مسلسل اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس پورے منظر نامے سے محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں مسلک کے نام پر لڑوانے کے لیے اسٹیج سجایا جارہا ہے۔ کیونکہ ایک طرف علماءکرام کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف مزارات پر حملے کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ گویا یہ مسلکی لڑائی ہے۔ اس لڑائی میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث سمیت کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بخشا نہیں جارہا۔ باالفاظ دیگر کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد محفوظ نہیں ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ عالمی پائے کے رہنما اور غیر جانبدار حضرات کو بھی میدان میں لانے اور اس کھیل کا حصہ بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس کی ایک مثال گزشتہ دنوں اس وقت سامنے آئی جب وزارت داخلہ نے تبلیغی جماعت کے بزرگ حاجی عبدالوہاب صاحب اور مولانا طارق جمیل صاحب کو دہشت گردوں سے خطرات لاحق ہونے کی وارننگ جاری کی۔ جبکہ بلاشبہہ یہ حضرات فرقہ واریت اور مسلکی باتوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔ اگر ان جیسے بزرگ بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں جن سے کسی کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں تو اس کا اس کے سوا اور کیا مطلب ہے کہ یہ بھی عالمی گریٹ گیم کا ایک اہم حصہ ہے۔ سیکورٹی ادارے کے ایک اہم ذمہ دار فرد گزشتہ دنوں بیان دے چکے ہیں کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عالمی سازش کا حصہ ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی کراچی میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں ہیں۔ ملک کا معاشی ہب گزشتہ دو سالوں سے مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔ حکومت اس سلسلے کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ کراچی کے باسیوں میں خوف و ہراس کی فضا پنپ رہی ہے۔ لوگوں کے کاروبار ٹھپ اور ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ کوئی صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے یقین نہیں ہوتا کہ صحت و سلامتی کی حالت میں لوٹ سکے گا یا نہیں۔ ملکی سلامتی کے لاتعداد ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں اور دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور انہیں کٹہرے میں لاکھڑا کرنے میں تاحال ناکامی سے دوچار ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کے باسیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال بجا طور پر اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس گریٹ گیم کے لیے دہشت گردوں نے کراچی کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ شہر قائد ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر طبقے، ہر رنگ اور ہرزبان کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ ملک کو 70 فیصد ریونیو دینے والا اہم ترین شہر ہے جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوں کراچی میں بدامنی پھیلنے سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ پورے ملک کا سیاسی نظام تتر بتر ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت بھی غیر مستحکم ہوجاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور عالمی بازیگروں نے ملک کے اہم ترین شہر کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ خوف و ہراس کی فضا میں اینٹی پاکستان طاقتیں پوری طرح متحرک ہوجاتی ہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی بیرونی طاقت کھل کر مداخلت کرنے اور اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی پوزیشن میں آجاتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کا یہ بیان میڈیا میں شائع ہوچکا ہے کہ کراچی ٹارگٹ کلنگ میں تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔ کبھی لسانیت کے نام پر لوگوں کو تقسیم کیا جاتا ہے تو کبھی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ایک دوسرے کے مد مقابل لانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کبھی علماءکرام اور مزارات پر حملے کرکے اسے مذہبی رنگ دینے کی سازش کی جاتی ہے۔ ورنہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام، بے ضرر اور نہتے لوگوں کو دھماکوں میں اڑانے سے کسی کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان حالات سے محسوس ہوتا ہے کہ اینٹی پاکستان گروہ پوری طرح متحرک اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوچکے ہیں۔ اگر ہم بروقت نہ سنبھل سکے تو معاملات ہاتھوں سے نکلتے چلے جائیں گے۔ کیونکہ شاید اب یہ لوکل سطح کا مسئلہ نہیں رہا۔ ان حالات میں حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہمارے مذہبی رہنماﺅں کی اہمیت، ضرورت اور ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ راہنمایان قوم کو آگے بڑھ کر ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینا اور خفیہ ہاتھ کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ جہاں تک ملک میں پے درپے ہونے والے خودکش حملوں کی بات ہے تو یہ بات تو یقینی ہے کہ خودکش حملہ آوروں کو ان کے عزائم سے روکنے کے لیے تاحال کوئی ایسی ٹیکنالوجی ایجاد نہیں ہوئی جس سے ان کے حملوں کا توڑ کیا جاسکے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ دوم، جو لوگ اس عمل کے ماسٹر مائنڈ ہیں انہیں تلاش کرکے کیفر کردار کو پہنچانا ہوگا۔ اس کے لیے ہماری ایجنسیوں کو فعال ادا کرنا ہوگا۔ حکمران بھی اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر ملکی سلامتی اور خودمختاری کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ملک کے نامی گرامی سیاست دان حکمرانوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ علاوہ ازیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھے۔ اگر ہم آپس کے اختلافات میں الجھ گئے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنے سے باز نہ آئے تو دشمنوں کے مقاصد پورے ہونے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ لہٰذا اس وقت ہمیں ایک قوم بن کر بھائی چارگی اور اتحاد سے اپنی بقا کی جنگ لڑنا ہوگی۔

عثمان حسن زئی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button