ادارتی کالم

صدر آصف علی زرداری کے لیے تاریخ میں امر ہونے کا نسخہ کیمیا

writer-urdusky

وطن عزیز پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر شدید مشکلات سے دو چار ہے ۔ جہاں ایک طرف آئے روز کے مصنو عی بحرانوں کے باعث شدید معاشی مشکلات سے دوچار اعوام مہنگائی بیروز گاری ، ڈاکوں، ناکوں ، فاقوں کے ہاتھوں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا نزاع کی حالت میں اُن سیاسی پہلوانوں سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں جو آئے روز اپنے سیاسی دنگلوں سے اعوام کا دل بہلانے کی کوشش کرتے تو نظر آتے ہیں ۔ لیکن عوام مسائل شاید اُن کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ۔ دوسری جانب بیرونی سازشوں کا یہ عالم ہے کہ شیطانی اتحاد ثلاثہ کا امریکہ ، بھارت اور اسرائیل ہمہ وقت پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے قوم میں انتشار اور سرحدوں کو غیر محفوظ کر کے ہمیں ایک ناکام ریاست ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہا؛اسلامی بم ؛کا کانٹا نکالنے میں آسانی رہے ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ہر طرح کی مصالحت اور مفاہمت کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف ملکی مفاد اور مفاد عامہ کے پیش نظر ٹھوس اور جامع اقدامات کرے اور بے شک یہی وہ وقت ہے جب صدر آصف علی زرداری کے چند جراتمندانہ فیصلے پاکستان کے اعوام کے نہ صرف دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں ۔ بلکہ پاکستان ان فیصلوں سے حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوری اور ایٹمی پاکستان کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے گا ۔ جو کہ اس کا اصل مقام ہے ۔ درج ذیل میں اُن فیصلوں کاذکر کیا جاتا ہے ۔جو وطن عزیز کو انشاءاللہ خوشحالی اور آصف علی زرداری کو تاریخ میں امر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہاں پر اگر کسی کو اعتراض ہو کہ 18ترمیم کے بعد اختیارات وزیر اعظم کو منتقل ہو چکے ہیں توا ےسے شخص کی سادگی پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے بہرحال وہ فیصلے مختصراً یہ ہیں ۔
کالا باغ ڈیم کی تعمیر : کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ایک عظیم پروجیکٹ ہے جس پر قوم کے تقریباً85ارب روپے صرف بھی ہو چکے ہیں لیکن چند نام نہاد عوامی نمائندوں لیکن در حقیقت بھارت امریکہ اور IMFکے گمائشتے اس کی مخالفت کرتے رہتے ہیں کہ اس ڈیم کی تعمیر سے نہ تو ہمیں آئے رو ز IMFسے بجلی مہنگی کرنے کا حکم صادر ہوگا اور نہ ہی بھارت کاہماری زمینوں کو بنجر کرنے کا خواب پورا ہو سکے گا خصوصا حالیہ سیلاب کے بعد تو اس عظیم ڈیم کی تعمیر میں غفلت ایک سنگین جرم سے کم نہیں ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آصف علی زرداری تمام صوبوں کو اس پروجیکٹ پر متفق کرنے کی ٹھان لیں تو یہ اُ ن کے لیے کچھ خاص مشکل نہیں ہوگا اور اُن کا یہ کارنامہ نہ صرف ملک سے توانائی کے بحران کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیگا بلکہ اس سے ملک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے باب کا آغاز ہو گا ۔
پرویز مشرف کی پھانسی: وطن عزیز کی یہ بد قسمتی ہے کہ آزادی کے بعد تقریباً نصف عرصہ فوجی آمروں کی نظر ہوگیا ۔ جنہوںنے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ پرویز مشرف اِ ن سب میں بدترین ڈکٹیٹر تھا ۔ جس نے نہ صرف قوم کو ”سب سے پہلے پاکستان “ اور ”روشن خیالی “جیسے غیر اخلاقی اور غیر اسلامی نعرے دیئے ۔ بلکہ جامع حفصہ پر بماری ۔ نائن الیون کے بعد افغانستان کے خلاف نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ اکبر بگٹی کا قتل شمالی و جنوبی وزیرستان میں آپریشن بدنام زمانہ NRO دو مرتبہ آئین پر نہ صرف ڈاکہ ڈالا بلکہ ہر داڑی اور پگڑی والے کو دہشت گرد قرار دے کر امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا حال ہی میں امریکہ میں چھیاسی برس کی سزا پانے والی قوم کی غیور بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکہ حوالگی بزدل اور پردہ فروش جرنیل کی بے حمیتی اور ڈالر پرستی کی بد ترین مثال ہے ۔ اُس کے ان تباہ کن فیصلوں کے اثرات آج بھی ہمیں ڈس رہے ہیں۔ آج کل موصوف کبھی نیویارک اور واشنگٹن کی یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے اور کبھی لندن کی گلیوں میں طبلہ نوازی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ آل پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ”بلی نو ں خواب چھچھڑیاں دے “کے مصد اق ایک بار پھر عوام کی خدمت کے لیے پر تول رہے ہیں ۔ لیکن عوام انہیں تخت کی بجائے تختے پر دیکھنے کے آرزو مند ہیں کیا آصف زرداری اپنی تمام ”مجبوریوں“ کو بالائے تاق رکھتے ہوئے عوام کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو تعبیر دیں گے ۔
ذاتی اثاثوں کی وطن واپسی : ایک ایسے وقت میں جب ہماری معیشت کوئلوں کی دلالی میں حکومتی ذرائع کے مطابق تقریباً45ارب ڈالر کے خسارے اور کم و بیش اتنا ہی نقصان حالیہ سیلابی بارشوں میں اٹھانے کے بعد آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور ہم اسے آکسیجن فراہم کرنے کے لیے کشکول اُٹھائے پوری دنیا میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ۔ اس کےلئے کبھی ہم فرینڈز آف پاکستان کے در کے سوالی بنتے ہیں تو کبھی انتہائی شرمناک شرائط پر امریکہ اورIMF کے چرن چھوتے ہیں اور کبھی ورلڈ بنک اور ایشین بنک کو مائی باپ سمجھتے ہوئے اُس کی گود میں جا بیٹھتے ہیں ۔ ایسے میں میڈیا نے اسطرح کی اطلاعات کے ہمارے منتخب نمائندوں کے بیرون ممالک اکاﺅنٹس اربوں ڈالرز میں ہیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ صدر آصف علی زرداری اس موقعہ پر قرض اُتارو ملک سنوارو” طرز کی مہم کا اعلان کریں لیکن اس دفعہ یہ اپیل عوام سے نہیں بلکہ اُن غریب نوازوں سے کی جائے جن کی ”حلال“ کمائی سے امریکی اور یورپی بنک لبالب بھرے ہوئے ہیں ۔ ویسے بھی ان حضرات کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور کا وہ واقعہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جب پورے ملک میں قحط پڑ گیا تو آپ نے خزانے کے منہ کھول دیئے جب وہ بھی ختم ہوگیا تو اُن کے تاج میں انتہائی قیمتی ہیرا تھا جس کی قیمت کا کوئی اندازہ نہ تھا آپ نے وہ بھی فروخت کرنے کا حکم دے دیا ۔ وزیرنے عرض کی کہ امیر المومنین اسے فروخت نہ کریں تو آپؓ نے اس موقعہ پر یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ” کہ اللہ نے مجھے قوم کا نگہبان بنایا ہے میں یہ بات ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میں عیش میں رہوں اور میری رعایا بھوکی مرتی رہے “۔ کیا صدر صاحب جو کہ ملک کے امیر ترین شخص بھی ہیں اور ان کے ارب پتی رفقاءعمرثانی کی تقلید میں پہل فرمائیں گے ۔
کامیاب خارجہ پالیسی: پاکستان ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری اور ایٹمی ریاست ہے جس کے باصلاحیت اور پرجوش اعوام اور انتہائی تربیت یافتہ اور جذبہ جہاد سے سرشارافواج صحیح معنوں میں اسلام پاکستان کو اسلام کا قلعہ ثابت کرتی ہے ۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ وطن عزیز کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اغیار کے اشارہ ابرو کی محتاج ہی نظر آتی ہے ۔ خصوصاً آج کل تو اسے” کاسہ پالیسی“کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں دنیا کے بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیس میں انقلابی تبدیلیاں کرنی ہونگی ۔ جو حقیقی معنوں میں ایٹمی پاکستان کے شایان شان نظر آئیں ۔ خصوصاً ہمیں پاکستان کی شہ رگ کشمیر ، فلسطین، اپنے درینہ اور باوفا ہمسایہ افغانستان اور دیگر اہم اور عالمی امور کے معاملے میں یہودونصاریٰ کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کو دیکھتے ہوئے ٹھوس اور جراتمندانہ موقف اختیار کرنا ہوگا ۔ خصوصاً دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے فوراً علیحدہ ہونا ہوگا ۔ جس میں شمولیت کے فیصلے میں ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ کیا ۔ ہماری معیشت کا جنازہ نکال دیا ۔ کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی اور بات یہاں تک آپہنچی کہ ایٹمی اثاثوں کو مشترکہ کنٹرول میں دینے کی باتیں ہونے لگیں ۔ لیکن ان سب قربانیوں اور مسلسل غلامی کے باوجود عوام کو ڈرون اور حکمرانوں کو ڈراوے ہی ملے اور اب تو ہمیں ڈبل ایجنٹ قرار دے کر براءراست ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزیاں شروع کر دیں گئیں ۔ لعنت ہے ایسے اتحاد پر صدر زرداری کو چاہیے کہ فوراً اس نام نہاد سپر پاور کو خدا حافظ کہہ دیں کہ اس خطے میں اس عفریت کی موجودگی بھی تمام مسائل کی جڑ ہے ۔ بلکہ ہمیں اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے یورپی یونین طرز کا ایک اسلامی بلاک تشکیل دینا ہوگا۔ جو پاکستان ، ایران، افغانستان اور ترکی پر مشتمل ہو سکتا ہے ۔ صدر زرداری کو چاہیے کہ وہ اپنے بابو وزیر خارجہ کوسرجوڑ اور معازرت خواہانہ پالیسی کی بجائے عوامی اور ملکی فلاح و بہبود اور عالم اسلامی تناظر کے مطابق اپنی پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت کرےں خصوصا آج کل پاکستان کی شہ رگ کشمیر میں برپا ہونے والی آزادی کی تازہ ولولہ انگیز تحریک کو نہ صرف بھر پور سپورٹ کرے بلکہ بھارتی مظالم کو پوری دنیا میں ایک منظم لابنگ کے زریعے Hilight کرے خصوصا اقوام متحدہ جو کہ خود کشمیر میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کی متفقہ قرار دایں منظور کر چکی ہے پر اس مسلے کو فوری حل کرنے کیلئے دباﺅ ڈالے بصورت دیگر اقوام متحدہ کی اس دوغلی اور منا فقانہ پالیسی پر احتجاجی طور پر اس سے علیحدگی اختیار کر کے جہا د کا اعلان کرے ۔ آخر میں زرداری صاحب سے گزارش ہے کہ یہ تمام کام اگرچہ خاصے مشکل ہیں لیکن ناممکن نہیں ۔ آپ ابتداءکریں کہ نیک کام میں اللہ بندے کی مدد ضرورکرتا ہے ۔

قاسم علی دیپالپور

E-mail [email protected]

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Back to top button