ادارتی کالم

جاسوس کا فرار

تحریر: شہزاد اقبال

[email protected]

وکی لیکس کی تہلکہ خیز تاروں کے بعد اب سی آئی اے کے پاکستان میں سربراہ جوناتھن بینکس کے پراسرار طور پر فرار کی خبروں نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے اس سے قبل پشاور میں تعینات امریکی خاتون قونصل جنرل الزبتھ روڈ جسے پشتو زبان پر بھی خاصا عبور حاصل تھا جان بچا کر پاکستان سے چلی گئیں جس کے بعد امریکی قونصلیٹ پشاور کی پولیٹکل سیکرٹری آروز کا نسٹن کو عارضی طور پر قونصل جنرل کی اضافی ذمہ داریاں دے دی گئی تھیں لیکن ان کو بھی موبائل پر طالبان کی جانب سے دھمکیاں ملیں جس پر آبروز کانسٹن نے طویل چھٹی لے لی اور وہ بھی 16 دسمبر کو امریکہ چلی گئیں ،یوں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی جاسوسوں خواہ وہ پیشہ ور تھے یا سفیر کی صورت میں ( کہ وکی لیکس کے تاروں نے ثابت کر دیا کہ این ڈبلیو پیٹرسن نے پاکستان میں سفیر سے زیادہ جاسوسی کے فرائض سرانجام دئیے) پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
ادھر امریکی انٹیلی جنس حکام نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں تعینات سی آئی اے کے اعلیٰ ترین اہلکار کی زندگی کو لاحق خطرات کی بناءپر انہیں واپس بلا لیا گیا ہے واپس بلانے کا فیصلہ اس لئے بھی کیا گیا کہ پاکستان میں ان کو اس قدر سخت قسم کے خطرات تھے کہ کوئی قدم نہ اٹھانا خلاف عقل ہوتا ،اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سی آئی اے کا مشن اور ایجنسی کی دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر جنگ بلا تخصیص جاری رہے گی ،واضح رہے کہ 29 نومبر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران شمالی وزیرستان کے صحافی کریم خان نے پاکستان میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف جوناتھن بینکس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے کا علان کیا تھا انہوں نے 31 دسمبر2009 ءکو ڈرون حملے میں اپنے عزیزوں بھائی،بھتیجے اور ایک مستری کی ہلاکت پر امریکہ کے خلاف پچاس کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا ،کریم خان کے مطابق انہوں نے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس،سی آئی اے کے سربراہ لیون ایڈورڈ پینٹا اور ا سلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو قانونی نوٹس بھیجا ہے ،دسمبر میں کریم خان نے اپنے وکیل مرزا شہزاد اکبر کے توسط سے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں بینکس کے خلاف ایک درخواست(نمبر 25 ) بھی دائر کی جس میں جوناتھن کا نام ای سی ایل(ایگزٹ کنٹرول لسٹ) میں ڈالنے کی استدعا کی گئی تھی ۔ ادھر نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کے سربراہ کانام افشاءکئے جانے کے پیچھے مشتبہ طور پر آ ئی ایس آئی کا ہاتھ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان میں امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے خلاف فوجداری فریاد نیو یارک کی ایک وفاقی عدالت میں آئی ایس آئی کے خلاف دائر مقدمے کے جواب میں کی گئی ہو بروکلین کی عدالت میں
ممبئی حملے میں نیویارک کے یہودی سمیت ہلاک ہونے والے چار افراد کے اہلخانہ کی طرف سے دائر مقدمے میں آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل شجاع پاشا کو فریق بنا یا گیا ہے ادھر آئی ایس آئی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس قسم کے الزامات سے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے جو پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں ۔
دریں اثناء امریکی سینٹ کی فارن کمیٹی کے سربراہ جان کیری نے کہا ہے کہ بینکس کی واپسی کوئی”سیٹ بیک“ نہیں ہے اور طالبان کے خلاف کارروائیاں اسی شدت سے جاری رہیں گی جیسے کہ یہ ہو رہی ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے پیچھے سی آئی اے کارفر ما ہے اور وہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ناصرف پاکستان بلکہ امریکہ میں بیٹھ کر اس سارے عمل کی نگرانی کر رہی ہے لیکن اس جارحانہ عمل کی ناصرف پاکستان بلکہ امریکہ میں بھی سخت مخالفت کی جا رہی ہے اور گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں جہاں شدت آئی ہے وہاں خیبر پختونخواہ اور ملحقہ خیبر ایجنسی میں بھی ڈرون پہنچ گئے ہیں اور امسال مئی کے بعد گزشتہ دنوںیہاں لگاتار حملوں میں درجنوں معصوم شہری جان کی بازی ہار گئے لیکن پاکستان کی جمہوری حکومت اور سیاست دان ”سیاست سیاست “ کھیلنے میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اپنے شہریوں کی غیر ملکی جارحیت کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی جانب دھیان ہی نہیں جاتا جو نہایت پریشان کن امر ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کے گزشرہ دنوں کے انتقال،پشاور کے امریکی قونصلیٹ کے اہم عہدیداروں کی وطن واپسی اور سی آئی اے کی ملکی سربراہ کا پراسرار فرار سے اگرچہ خطے میں امریکی مفادات کو شدید دھچکا لگا ہے اور اس کی نئی افپاک پالیسی بھی شائد اس نقصان کو پورا نہیں کر سکی لیکن اس سب کے باوجود امریکی مفادات اسی صورت میں محفوظ رہ سکتے ہیں اگر وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے وہ حکمت عملی اپنائے جس میں یہاں لے عوام کی جان ومال محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے ریاستی سربراہ کو افغانستان کے خفیہ دوروں کی ضرورت پیش نہ آئے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button